رسائل و مسائل

کیا بغیر کسی عذر کے سواری پر سعی جائز ہے؟

سوال:عمرہ یا حج کے موقع پر خانۂ کعبہ کا طواف ، اس کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔آج کل کچھ پیشہ وَر لوگ معذوروں کو ٹھیلے پر بٹھاکر سعی کراتے ہیں۔ بیٹری سے چلنے والی وہیل چیئربھی آگئی ہیں۔اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے ،محض تکان کی وجہ سے یا سستی میں یا آرام پسندی میں، پیدل کے بجائے ان میں سے کسی چیز کا استعمال کرلے اور ان پر بیٹھ کر سعی کرے تو کیا اس کی سعی مانی جائے گی یا اس میں کچھ نقص رہ جائے گا، جس کی بنا پر اسے دم دینا ہوگا۔

جواب:حج یا عمرہ میں سعی پیدل کرنا مسنون ہے، کیوں کہ یہی عمل اللہ کے رسولﷺ سے ثابت ہے۔ آپؐ نے سعی اور طواف دونوں پیدل کیا ہے۔اسی لیے فقہا نے اسے افضل قرار دیا ہے۔علامہ ابن قدامہؒ نے لکھا ہے:

ولا خلاف في أنّ الطواف راجلاً ۔أي ماشیاً۔ أفضل، لأنّ أصحابَ النبي ﷺ طافوا مشیاً، والنبي ﷺ في غیر حجّة الوداع طاف مَشیاً ( المغني:۵؍۲۵۰)

’’ اس میں فقہا کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ طواف پیدل کرنا افضل ہے۔ اس لیے کہ صحابہ نے پیدل طواف کیا ہے اور نبیﷺ نے حجۃ الوداع کے علاوہ دوسرے موقع پر پیدل طواف کیا ہے۔‘‘

البتہ اگر کوئی عذر ہو ، مثلاً بیماری ہو، یا بڑھاپا ہو،یا بہت زیادہ بھیڑ ہو،یا کوئی اور عذر ہو تو سواری پر بیٹھ کر طواف و سعی کرنے کی اجازت ہے۔حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ نے رسول اللہﷺ سے اپنا ایک عذر بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا:

طُوفِي مِن وَراءِ النّاسِ وأنتِ راکبةٌ (بخاری: ۱۶۱۹، مسلم: ۱۲۷۶)

’’ لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے سواری پر بیٹھ کر طواف کرلو۔‘‘

اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کےسواری پر بیٹھ کر سعی کرے تواس کے حکم کے سلسلے میں فقہا کا کچھ اختلاف ہے۔امام شافعی ؒکہتے ہیں کہ بغیر عذر بھی سعی درست ہے۔اس لیے کہ اصل مقصود سعی ہے ،چاہے جیسے کی جائے ۔ ان کی دلیل حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت ہے کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا تھا۔(بخاری: ۱۵۳۰، مسلم: ۱۲۷۲) دیگر فقہا کے نزدیک بلا عذر طواف و سعی کے لیے سواری کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اس صورت میں امام احمدؒ کا ایک قول طواف یا سعی کے بطلان کا ہے ، دوسرا قول فدیہ کا ہے۔ امام   ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک بلا عذر سواری پر بیٹھ کر طواف یا سعی کرنے کی صورت میں دم دینا ہوگا۔

کوشش کرنی چاہیے کہ کوئی خاص عذر نہ ہو تو پیدل ہی سعی کی جائے۔

کیا قربانی ہونے تک منی میں ٹھہرنا ضروری ہے؟

سوال:حج میں عرفات سے واپس آنے اور مزدلفہ ہوتے ہوئےمنیٰ پہنچنے کے بعد حاجیوں کے لیے تین کام ضروری ہوتے ہیں:رمی جمار، قربانی،پھر حلق یا قصر۔ اس کے بعدوہ طواف افاضہ کے لیے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا قربانی ہونے تک حاجی کے لیے منیٰ میں ٹھہرنا ضروری ہے؟

جواب:حاجی کے لیے ایامِ تشریق( ۱۱؍ ۱۲؍۱۳؍ ذی الحجہ) میں منیٰ میں رات گزارنا واجب قرار دیا گیا ہے۔ اسے ’مَبِیت‘ کہتے ہیں ۔ قربانی منیٰ میں ہی کرنی ضروری نہیں ہے، بلکہ حدودِ حرم میں کہیں بھی ہوسکتی ہے،اس لیےجب تک قربانی نہ ہو، منیٰ میں ٹھہرنا ضروری نہیں ہے ۔ اصل واجب چیز ایامِ تشریق کی راتوں میں منیٰ میں قیام کرنا ہے۔

اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کےمنیٰ میں نہ ٹھہرے تو واجب ترک کردینے کی وجہ سے اس پر دم (قربانی) لازم آئے گا۔

اگر کوئی شخص زوال سے پہلے رمی کرلے

سوال:حج میں ایام تشریق میں رمی کا وقت زوال کے بعد ہے۔اگر کوئی شخص صبح میں رمی کرلے تو کیا اسے دم دینا ہوگا ؟

جواب:عام حالات میں ایام تشریق میں رمی کا وقت زوال کے بعدہے۔ اس سے پہلے بلا عذررمی کرناجمہور فقہاء (احناف، مالکیہ، شافعیہ) کے نزدیک  درست نہیں ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد رمی کی ہے اور فرمایا ہے: خُذُوا عَنِّي مَنَاسِکَکُمْ (مسلم: ۱۲۹۷) ’’ مجھ سے اپنے مناسک ِ حج سیکھ لو۔‘‘

اگر کسی نے زوال سے پہلے رمی کرلی تورمی ادا نہیں ہوگی۔اس کے لیے زوال کے بعد دوبارہ رمی کرنا ضروری ہوگا۔اگر اس نے دوبارہ رمی نہیں کی تو اس پردم (قربانی) واجب ہوگا۔

البتہ عذر کی صورت  میں فقہا کے نزدیک زوال سے پہلے رمی کی گنجائش ہے۔

طلاق کی ایک مخصوص صورت کا حکم

سوال:ایک شخص نے اپنی بیوی سے تنازع کے بعد ایک تحریر تیار کی، جس میں بیوی کو مخاطب کرکے لکھا کہ میں نے تین الگ الگ مہینوں میں تم کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور تمام واجبات : مہر ، نفقۂ عدّت وغیرہ ادا کردیے ہیں۔لیکن اس نے بیوی کو نہ طلاق دی، نہ یہ تحریر اس کے پاس بھیجی ۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ یہ تحریر میں نے احتیاطاً تیار کرلی تھی کہ اگر بیوی کی طرف سے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی تو اس طرح وہ اپنا تحفظ کرسکے گا۔ کیا اس صورت میں طلاق واقع سمجھی جائےگی یا نہیں؟

جواب:اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔فقہ میں طلاق واقع ہونے کے لیے عام طور پر یہ امور ضروری ہوتے ہیں:

شوہر کی طرف سے صریح یا کنایہ الفاظ کا استعمال۔

قصدِ طلاق (نیت، خاص طور پر کنایہ کے الفاظ میں طلاق دینے کی صورت میں)۔

اظہار / تلفظ یا تحریر کا بیوی تک پہنچنا ،یا کم از کم اس کا اجرا (execution)۔

آپ کے بیان کے مطابق شوہر نے صرف ایک تحریر تیار کی،نہ بیوی کو زبان سے طلاق دی ،نہ وہ تحریر اسے بھیجی، بلکہ یہ بتایا کہ وہ تحریر اس نے صرف احتیاطی/قانونی دفاع کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تحریر طلاق دینے (Actual Issuance) کے لیے نہیں تیار کی گئی تھی،بلکہ ایک فرضی یا ممکنہ صورت کے طور پر بنائی گئی تھی۔

علامہ ابن قدامہؒ فرماتے ہیں:

وان کتب بلا نیة الطلاق لم یقع عند الجمھور( المغنی:۷؍۳۷۳)

’’ اگر کسی تحریر میں طلاق لکھ دی ،لیکن اس وقت اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو جمہور فقہا کے نزدیک طلاق نہیں واقع ہوگی۔‘‘

لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ ایسی صورت اختیار کرنے سے بچا جائے،کیوں کہ اگر نیت بدل جائے، یا الفاظ صریح ہوں اور تحریر ظاہر کردی جائے تو طلاق واقع ہوسکتی ہے ۔

کیا مَردوں کے لیے وہائٹ گولڈ کی انگوٹھی پہننا جائز ہے؟

سوال:میرا نکاح ہونے والا ہے ۔ اس سے پہلےمنگنی کی تقریب منعقد کرنا طے ہوا۔لڑکی کے لیے سونے کی انگوٹھی بنوائی گئی۔ لڑکی والوں نے میرے لیے وہائٹ گولڈ(White Gold)کی انگوٹھی بنوائی۔  میں نے اعتراض کیا کہ مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے تو ان لوگوں کی طرف سے کہا گیا کہ بس تقریب ِ نکاح میں تھوڑی دیر کے لیے پہن لیجیے گا۔  میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مردوں کے لیے وہائٹ گولڈ کی انگوٹھی پہننا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو کیا میں لڑکی والوں کا دل رکھنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے اسے پہن سکتا ہوں؟ مجھے اندیشہ ہے کہ بالکلیہ انکار کرنے کی صورت میں کہیں بات بگڑ نہ جائے اور اسے رشتہ سے انکار کے مترادف نہ سمجھ لیا جائے۔

جواب:پہلی بات یہ واضح ہونی چاہیےکہ اسلام میں منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اس کا تعلّق سماج میں رائج رسوم سے ہے۔ اس لیے نکاح کاانعقاد مسنون اور آسان طریقے سے کرنا چاہیے اور مسرفانہ اور بے جا رسوم سے بچنا چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ مردوں کے لیے’ وہائٹ گولڈ‘ کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے۔وہائٹ گولڈ دراصل سونا ہی ہوتا ہے، جس میں نکل (nickel) یا دیگر دھاتیں ملا کر اس کا رنگ سفید کر دیا جاتا ہے۔

شریعت میں مردوں کے لیے سونا پہننا مطلقاً حرام ہے، چاہے وہ اپنی اصل شکل میں ہو، یا کسی اور چیز کی آمیزش کرکے اس کا رنگ تبدیل کر دیا گیا ہو۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ صحابہ کے سامنے اس حال میں نکلے کہ آپ کے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشم کا ایک کپڑا تھا ۔ آپؐ نے فرمایا :

انّ ھٰذین مُحرّمٌ علیٰ ذُکورِ اُمَّتی حِلٌّ لِاناثِھِم  (ابن ماجہ:۳۵۹۷)

’’یہ دونوں چیزیں میری امّت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔‘‘

اس بنا پر تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سونے کی ہر قسم (خواہ اس کا رنگ بدلا ہوا ہو) مردوں کے لیے ناجائز ہے۔ وہ چاندی ،اسٹیل ،لوہا،پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں ،لیکن سونے کی انگوٹھی پہننا ان کے لیے جائز نہیں ہے۔

کوئی کام ناجائز ہو تو اس سے ہر حال میں بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خیال کہ ذرا دیر کے لیے ناجائز کام کرلینے کی گنجائش ہے ، درست نہیں ہے۔

بچوں کو کالا دھاگا باندھنا اور کاجل لگانا

سوال:بعض لوگ چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں کالا دھاگا باندھتے اور آنکھوں میں کاجل لگاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچوں کو نظر نہیں لگتی۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟کیاشریعت میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے؟

جواب:اس مسئلے کا تعلّق  نیت اور عقیدہ سےہے۔

اگر یہ عقیدہ ہو کہ بچوں کوکالا دھاگا باندھنا انھیں نظرِ بد،جنّات یا کسی آفت سے محفوظ رکھتا ہے تو یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں،کیوں کہ حفاظت کا اصل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

لیکن اگر ایسا محض بہ طور علامت یا زینت کےکیا جائے تو گنجائش ہوسکتی ہے،البتہ بہتر ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے، کیوں کہ یہ عمل غیر اسلامی رسموں سے مشابہت رکھتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

من علّقَ تمیمةً فقد أشرك(مسند احمد: ۱۷۴۲۲)

’’جس نے کوئی تعویذ لٹکایا   اس نے گویاشرک کیا۔‘‘

اسی طرح اگر کاجل لگانے کے پیچھے یہ عقیدہ ہو کہ ایسا کرنے سے نظر بد لازماً ٹل جاتی ہے تو یہ عقیدہ درست نہیں۔لیکن اگر آنکھوں کی صفائی، حفاظت یا زینت کے لیے لگایا جائے تو جائز ہے۔نبی کریم ﷺ سے اثمد (سرمہ) لگانا ثابت ہے، جو آنکھوں کے لیے مفید ہے۔البتہ بہت زیادہ یا غیر معیاری کاجل بچوں کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس لیے اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223