۱۲، ۱۳اپریل ۲۰۲۶ کو دہلی میں انڈین ہسٹری فورم کی طرف سے دو روزہ ہسٹری کانفرنس ہوئی، جس میں ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کے کردار کے تاریخی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ملک کے معروف دانش ور اور سیاست داں ڈاکٹر ششی تھرور نے خصوصی مقالہ پیش کیا۔ اس مقالے میں پیش کیے گئے خیالات مقالہ نگار کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان پرتنقید و تبصرے کے لیے زندگی نو کے صفحات میں پوری گنجائش ہے۔ادارہ)
آج یہاں جمع تمام معزز احباب، مقررین اور حاضرین کو میرا آداب۔ مجھے ’ہمارا ماضی کون لکھتا ہے؟‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے اور واقعتاً اس نیشنل ہسٹری کانفرنس میں شرکت میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ آپ حضرات ایک ایسے وقت میں یہاں اکٹھے ہوئے ہیں جب تاریخ کے سوالات محض تعلیمی حلقوں تک محدود نہیں رہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بیشتر ریسرچ اسکالر اور ماہرینِ تعلیم ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ سوالات اب عوامی مباحثوں کا ایک ایسا حصہ بن چکے ہیں جو نمایاں بھی ہیں اور انتہائی اہم بھی۔ ماضی کے حوالے سے یہ بحثیں اب نہ صرف سیمیناروں، کانفرنسوں اور تاریخ کی کلاسوں میں ہو رہی ہیں، بلکہ علمی جرائد اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اسمبلیوں، عدالتوں، ٹیلی وژن کی اسکرینوں اور یقیناً ان بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بھی ہو رہی ہیں جو رائے عامہ ہم وار کرنے کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا، یہ سوال کہ ’ہمارا ماضی کون لکھتا ہے‘ دراصل کلاس روم کے باہر بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ کلاس روم کے اندر۔
چناں چہ جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں، تو درحقیقت ہم کچھ بنیادی باتیں پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ماضی کی تعبیر کا اختیار کس کے پاس ہے، اس تعبیر میں کن کی آوازوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور یہ تعبیرات کس طرح اس زاویے کو تشکیل دیتی ہیں جس سے ہماری قوم خود کو سمجھتی ہے۔ اکثر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ تاریخ علم کا کوئی ایسا حتمی ذخیرہ ہے، جسے بس کھول کر دیکھنے کی دیر ہے اور شاید یہ ایک انتہائی سادہ خیال ہے، لیکن ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا بیان نہیں، بلکہ یہ مسلسل تحقیق و تعبیر کا میدان ہے۔ ہر نئی نسل اس کی جانب پلٹتی ہے، اس کا ازسرِ نو جائزہ لیتی ہے اور کسی حد تک اسے نئی شکل بھی دیتی ہے۔ نصابی کتب پر نظرثانی کی جاتی ہے، تاریخی شخصیات کی نئی تعبیرات سامنے آتی ہیں، واقعات کو نئے زاویوں سے پرکھا جاتا ہے اور موروثی بیانیوں کو یا تو تسلیم کر لیا جاتا ہے یا انھیں چیلنج کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں جو چیز بدلتی ہے وہ بذاتِ خود ماضی نہیں، بلکہ وہ معنی ہیں جو ہم ماضی سے اخذ کرتے ہیں۔
تو اس لحاظ سے ماضی کبھی بھی مکمل طور پر ماضی نہیں ہوتا۔ اور تاریخ، تعبیر اور طاقت کے درمیان یہی رشتہ ہے جس پر میں آج غور کرنا چاہوں گا۔ ہمارے ماضی پر کشمکش کو سمجھنے کے لیے، ایک ایسا فرق کھینچنا ضروری ہے جسے اکثر عوامی بحث میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تاریخ اور تاریخ نویسی کے درمیان فرق۔ تاریخ، سادہ ترین معنوں میں، وہ ہے جو ہوا، وہ واقعات جو رونما ہوئے، وہ عمل جنھوں نے معاشروں کو تشکیل دیا، وہ زندگیاں جو گزاری گئیں، وہ سب کچھ۔ تاہم تاریخ نویسی، زیادہ تہہ دار ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے ان واقعات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، تعبیر کی جاتی ہے، پیش کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخ خود ماضی ہے، تو تاریخ نویسی وہ کہانی ہے جو ہم اس ماضی کے بارے میں بناتے ہیں۔
اور وہ کہانی کبھی مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ کیوں کہ تاریخ کا لکھا جانا صرف شواہد ہی سے تشکیل نہیں پاتا، بلکہ نقطہ نظر، وہ سوالات جو ہم پوچھتے ہیں، وہ ذرائع جنھیں ہم ترجیح دیتے ہیں اور وہ خاموشیاں بھی جو ہمیں بعض اوقات ورثے میں ملتی ہیں، اس کی تشکیل میں حصہ ڈالتی ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر، یہ طاقت سے تشکیل پاتی ہے۔ تاریخ پر کشمکش بہت سے حوالوں سے شناخت اور وابستگی پر ایک کشمکش ہے، اس بات پر کہ ایک قوم خود کو کیسے سمجھتی ہے، وہ وقت میں خود کو کیسے رکھتی ہے اور وہ دنیا میں اپنی جگہ کا تعین کیسے کرتی ہے۔
ہم اسے نوآبادیاتی تاریخ نویسی کے معاملے میں واضح طور پر دیکھتے ہیں، شاید اس سے بھی زیادہ واضح طور پر جو مسائل آپ آج زیرِ بحث لا رہے ہیں۔ ہندوستان کے بارے میں برطانوی بیانات نے محض برصغیر کو دستاویزی شکل نہیں دی، انھوں نے اسے بہت حد تک سلطنت کے مفادات اور اس کے زاویے سے تعبیر دی۔ انھوں نے ہماری ثقافت کے تسلسل کے بجائے ہماری تقسیم پر زور دیا، ہماری حرکیت کے کسی بھی ثبوت کے بجائے ہمارے جمود پر زور دیا اور ایسا کرتے ہوئے، انھوں نے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس نے سامراجی حکم رانی کو ضروری اور حق بجانب ظاہر کیا۔ ہندوستان کو ایسی افراتفری والی وحشی قوم کے طور پر پیش کیا گیا جسے ’مہذب‘ بنانے اور اس کو گورننس دینے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت، بعض نے تو ہمیں تہذیب کے طور پر بھی پیش نہیں کیا، بلکہ ایسے وحشی کے طور پر پیش کیا جسے تہذیب سکھانے کی ضرورت تھی، بجائے اس کے کہ اسے ایک ایسی تہذیب مانا جاتا جس کی اپنی سیاسی، سماجی اور فکری زندگی کی ایک طویل اور ارتقائی روایت تھی۔ اب، ایسے سامراجی بیانیے نوآبادیاتی منصوبے کے لیے اتفاقی نہیں تھے، وہ ایک مقصد کی تکمیل کرتے تھے۔ انھوں نے برطانوی غلبے کو حق بجانب قرار دیا، انھوں نے ہماری محکومی کو عقلی جواز فراہم کیا اور انھوں نے اس محکوم اور کولونائزڈ قوم کو سکھایا کہ وہ خود کو اپنے حکم رانوں کے وضع کردہ طبقات کے طور پر دیکھیں۔ یہی بالآخر، نوآبادیاتی دور کے بچے ہوئے اسباق میں سے ایک ہے۔ سیاسی غلبے کو بیانیے کے غلبے سے تقویت ملتی ہے۔
اب، جب آپ ان سب چیزوں کو دیکھ رہے ہیں، تو ہم آزادی کے ساتھ اس کا ردعمل کیسے پاتے ہیں؟ اور یہاں تک کہ تحریک آزادی کے ساتھ بھی، ایسی آوازیں اٹھیں جو تہذیبی اعتماد کا احساس بحال کرنے کے لیے بے تاب تھیں۔ تب اس لمحے میں تاریخ محض اس بات کا ریکارڈ نہیں رہی کہ کیا ہوا تھا، بلکہ اس بات کا تصور کرنے کا ایک وسیلہ بن گئی کہ کیا ہو سکتا ہے۔ چناں چہ دادا بھائی نوروجی، آر سی دت، انیسویں صدی کے اواخر کے بہت سے اور بعد کے بھی بہت سے مصنفین، مفکرین جیسے گوکھلے، تلک جو انڈین نیشنل کانگریس کے سیاسی طیف کے مخالف کناروں پر تھے، بعد میں گاندھی، نہرو، جناح اور لاتعداد دیگر مورخین و مفکرین۔ وہ محض سیاسی میدان میں سامراجی حکم رانی کی مزاحمت نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ اپنے فکری میدان میں سامراجی تعبیرات کی مزاحمت بھی کر رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی قوم کی خود مختاری کے احساس کو بحال کرنے کے لیے، ایک تاریخی انفرادیت کا احساس بھی بحال کرنا ضروری ہے۔
اور یہ عمل وہیں ختم نہیں ہوا۔ ہمارے اپنے وقت میں، تاریخ کو دوبارہ دیکھنے، غلط تعبیر کرنے اور بعض اوقات نئی شدت کے ساتھ متنازعہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی کو سیاسی بحث، ثقافتی گفتگو، عوامی زندگی میں، اکثر موجودہ دور کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیانیوں پر زور دیا جاتا ہے یا انھیں سادہ بنایا جاتا ہے، بعض اوقات منتخب انداز میں، ایسے طریقوں سے جو عصری خدشات کی اتنی ہی عکاسی کرتے ہیں جتنا تاریخی حقائق کی۔ یہ ہمیں کچھ بنیادی بات بتاتا ہے۔ تاریخ کوئی طے شدہ ورثہ نہیں ہے، بلکہ ایک جاری مکالمہ ہے۔ اور جس طریقے سے وہ مکالمہ کیا جاتا ہے اس کے گہرے مضمرات ہیں، نہ صرف اس لیے کہ ہم ماضی کو کیسے سمجھتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ہم حال میں خود کو کیسے متعین کرتے ہیں۔
یہی تعبیر، تفہیم اور شناخت کے درمیان یہی باہمی تعامل ہے ہمیں قومی تاریخ کے تصور کی طرف لاتا ہے۔ اگر تاریخ نویسی ہمیں بتاتی ہے کہ ماضی کی محض ریکارڈنگ کے بجائے تعبیر کی جاتی ہے، تو قومی تاریخ کا نظریہ بتاتاہے کہ وہ تعبیرات اتنی گہری اہمیت کیوں رکھتی ہیں۔
ہر قوم، کسی نہ کسی طریقے سے، اپنے ماضی کے بارے میں ایک بیانیہ تعمیر کرتی ہے۔ وہ ایسا محض یاد رکھنے کے لیے نہیں کرتی، بلکہ تسلسل کا احساس پیدا کرنے، نسلوں سے ربط پیدا کرنے، شناخت متعین کرنے اور حال کو معنی دینے کے لیے کرتی ہے۔ اس لیے قومی تاریخ کبھی بھی واقعات کا محض ایک تسلسل نہیں ہوتا۔ یہ وہ کہانی ہے جو ایک معاشرہ خود کو سنانا پسند کرتا ہے کہ وہ کون ہے، ہم کون ہیں۔ لیکن ایسی کہانی مختلف طریقوں سے سنائی جا سکتی ہے۔
یہ طویل تر ہو سکتی ہے، پیچیدگی کو جگہ دے سکتی ہے، ان متعدد کڑیوں کو تسلیم کر سکتی ہے جنھوں نے قوم کے ارتقا میں حصہ ڈالا ہے۔ یا یہ منتخب (selective)ہو سکتی ہے، جو ماضی کو ایک زیادہ سادہ بیان میں سمیٹتی ہے جو کچھ تجربات کو ترجیح دیتی ہے، جب کہ دیگر کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق محض علمی نہیں ہے۔ یہ اس بات کی تشکیل کرتا ہے کہ شہری قوم کے اندر اپنے مقام کو کیسے سمجھتے ہیں۔ یہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا قوم کا تصور ایک مشترکہ ورثے کے طور پر کیا جاتا ہے یا چند مراعات یافتہ لوگوں کی ملکیت کے طور پر۔
ہمارے ملک میں یہ خاص طور پر اہم کیوں ہے، اس لیے کہ ہندوستان کا ماضی آسانی سے اک خطی بیانیے میں نہیں ڈھلتا۔ یہ محض کسی ایک قوم، ایک زبان، یا ایک عقیدے کی تنہائی میں پروان چڑھنے والی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے بجائے، یہ ایک ایسی تہذیب کی کہانی ہے جو صدیوں کے دوران تعاملات، میل جول، تبادلوں اور موافقت کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگ جواہر لعل نہرو کے ’پالیمپسسٹ‘ (palimpsest)(وہ لوح جس پر ایک کے اوپر ایک تحریریں لکھی گئی ہوں) کے استعارے سے واقف نہ ہوں۔ایک پالیمپسسٹ کچھ اس طرح ہوگا، مثال کے طور پر، اگر میں اس دیوار پر کچھ لکھتا ہوں ، پھر مجیب صاحب آتے ہیں اور اس کے اوپر لکھ دیتے ہیں، پھر ادیب صاحب کی لکھائی کے اوپر اپنے خیالات درج کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن کوئی بھی نئی تحریر پہلے والی کو یکسر نہیں مٹاتی۔ سب کچھ وہیں موجود ہے، ایک دوسرے میں ضم، ایک دوسرے کا حصہ۔ جو پہلے لکھا گیا وہ نیچے سے جھانکتا رہتا ہے، نئی تحریر کو رنگ اور معنی دیتا ہے۔ بہت سے حوالوں سے، ہندوستانی تاریخ کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے۔یہ وہی مرکزی فہم ہے جسے ٹیگور نے ’ہندوستان کا تصور ‘ قرار دیا تھا۔
یہ خیال کہ ہندوستان کی تعریف یکسانیت نہیں، بلکہ اختلافات کے باہم موجود (coexistence) رہنے سے ہوتی ہے۔ یہ وہ خیال ہے جو تکثیریت کو تسلیم کرتا ہے، نہ کہ ہندوستان کی شناخت کے لیے ایک چیلنج جس سے نمٹنے کی ضرورت ہو، نہیں، بلکہ ایک ایسی شرط کے طور پر جسے ہمارے وجود کی حقیقت کے طور پر گلے لگایا جائے۔ اس لحاظ سے، ہندوستان کا تصور کبھی بھی ایک جذباتی نعرہ نہیں تھا۔ یہ ایک گہری سنجیدہ تجویز تھی اور ہے کہ کس طرح بے پناہ تنوع کی حامل تہذیب ایک مشترکہ شہری زندگی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو ایک یک سنگی ثقافتی یا مذہبی بیانیے تک محدود کر دینا محض تاریخی طور پر ہی غیر معقول نہیں ہے۔ یہ اس بنیاد کا ہی غلط فہم ہے جس پر ہندوستان نے جدید دور میں اپنا تصور قائم کیا ہے۔
اس روشنی میں دیکھا جائے تو، تاریخ نویسی تعلیمی بحث سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس بات کے مرکز میں آ جاتی ہے کہ ہم خود اپنی قوم کا تصور کیسے کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم جس طرح اپنے ماضی کو بیان کرتے ہیں وہ حال میں کھینچی جانے والی ہماری حدود کو متاثر کرتا ہے، شمولیت اور اخراج کے درمیان، وابستگی اور غیریت کے درمیان کی لکیروں کو۔ اگر ماضی کو یک سنگی اور متجانس دکھایا جائے، تو قوم کا تصور بھی انہی اصطلاحات میں ہونے لگتا ہے۔ تاہم، اگر ماضی کو تہہ در تہہ اور متنوع سمجھا جائے، تو قوم کوبھی وسیع الظرف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو بغیر کسی پریشانی کے متعدد شناختوں کو اپنے اندر سمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور اسی لیے قومی تاریخ کو لکھنا اتنی اہمیت رکھتاہے۔ تاریخ نویسی صرف یہ نہیں ہے کہ کیا یاد رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ یاد کیسے منظم کی جائے اور کس اختتام، کس مقصد کے لیے۔ یہ یا تو مشترکہ ورثے کے بارے میں ہماری تفہیم کو گہرا کر سکتی ہے، یا یہ اسے ایسے تنگ بیانیے تک محدود کر سکتی ہے جو دورِ حاضر کی سیاست اور موجودہ دور کے خدشات سے تشکیل پاتا ہے۔ چناں چہ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا ہم ایک قومی کہانی سنانے کی کوشش کرتے ہیں یا بہت سی قومی کہانیاں۔ ساری قومیں ہی کہانیاں سناتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کی کہانی سنانے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور اس سوال کا جواب دینے میں ہی تاریخ نویسی کے گہرے مضمرات سامنے آتے ہیں۔ کیوں کہ اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان کا تصور تکثیریت پر قائم ہے، تو اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ اس کی تاریخ کو بھی انہی اصطلاحات میں سمجھا جانا چاہیے۔ ایک یک سنگی، بلاتعطل بیانیے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے تسلسل کے طور پر جو وقت کے ساتھ ساتھ متعدد دھاروں سے تشکیل پایا ہے۔
ہندوستان تاریخی طور پر کبھی بھی یک سنگی نہیں رہا۔ اس کے ارتقا کی شناخت تنہائی سے نہیں، بلکہ تعامل سے ہوئی ہے۔ صدیوں کے دوران، مختلف روایات، عقائد کے نظام اور ثقافتی طرزِ عمل ایک ساتھ موجود رہے ہیں اور بہت سے معاملات میں انھوں نے ایک دوسرے کو ایسے طریقوں سے متاثر کیا ہے جنھیں الگ کرنا مشکل ہے۔
ہماری تہذیب کے ابتدائی رجحانات ویدک فکر اور عمل سے تشکیل پائے تھے۔ لیکن یہ بھی یک سنگی نہیں تھا۔ ہندو فلسفے کے چھ مسابقتی مکاتب فکر تھے، جن کے ساتھ پورانک اور اپنیشدی روایات بھی تھیں۔ انھیں بعد میں بدھ مت اور جین فلسفوں کے ابھرنے سے مزید تقویت ملی اور چیلنج بھی کیا گیا، جنھوں نے نئے اخلاقی فریم ورک اور تحقیق کے رنگ، نیز تحقیق کے طریقے متعارف کرائے۔ آنے والی صدیوں نے بھکتی تحریک کا عروج دیکھا، جس نے ذاتی عقیدت پر زور دیا جو کہ سخت اور طبقاتی درجہ بندیوں سے بالاتر تھی۔ اور پھر، یقیناً، ان سب کے ساتھ ساتھ دیگر دھارے بھی آئے۔
اسلام ایک بہت دل چسپ کہانی ہے۔ شمالی ہند میں تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام کی آمد 712 میں محمد بن قاسم کے ساتھ تلوار کے زور پر ہوئی۔ ہم جنوب والوں کی یادداشت اس سے بہت مختلف ہے۔ میں اپنی ریاست (کیرالہ) کی بات کروں گا۔ ہم ان لوگوں کے عادی تھے جنھیں آج ہم عرب کہتے ہیں، جو اسلام سے ایک ہزار سال پہلے بھی ہر سال کیرالہ کا سفر کرتے تھے۔ وہ اس وقت سفر کرتے تھے جب بحیرہ عرب میں ہوائیں موافق ہوتیں۔ وہ آتے، کیرالہ کے مغربی ساحل پر آباد ہوتے، تجارت کرتے، مقامی برادریوں میں شادیاں کرتے، چند ماہ گزارتے اور جب ہوائیں بدلتیں تو واپس چلے جاتے۔ ہر سال، سال در سال، صدیوں تک۔
لہٰذا، اسلام ہمارے پاس تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ خبر کے طور پر آیا، خبر ان لوگوں سے جو سفر کرتے رہے تھے، جو ہمارے لیے مانوس تھے، ہزاروں برسوں سے کئی حوالوں سے ہمارا حصہ تھے۔ اور وہ ہمارے پاس آئے، وہ لوگ جنھیں ہم جانتے تھے، ہمارے ساتھ تجارت کر رہے تھے، ہمارے ساتھ رہ رہے تھے، انھوں نے بتایا، ’’ارے، تمھیں معلوم ہے ہمارے جزیرہ نما میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے پاس ایک پیغمبر آئے ہیں اور وہ ایسی ایسی باتیں بتا رہے ہیں۔‘‘ یہاں تک کہ ایک مقامی ہندو بادشاہ، چیرامن پیرومل، پیغمبر کے بارے میں سن کر اتنا پُرجوش ہوا کہ اس نے 22 یا 23 بحری جہازوں کا ایک بیڑہ تیار کر لیا تاکہ جزیرہ نما عرب جا کر پیغمبر اسلام سے مل سکے۔ ان میں سے زیادہ تر جہاز عرب نہیں پہنچ سکے۔ وہ اس جگہ پھنس گئے جسے آج ہم لکشدیپ یا مالدیپ کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ عرب پہنچے ۔ اور جو بات حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ آپ آج بھی چیرامن کے سفر کے شواہد دیکھ سکتے ہیں۔ عمان میں صلالہ کے جنوب میں، کیرالہ کے ناریل کے درخت ان ناریلوں سے اگ رہے ہیں جو وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، جو کہ جزیرہ نما عرب کی مقامی پیداوار نہیں ہیں۔ ہم اس طرح تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔
اور جب کالی کٹ اور کوچی میں، مغربی ساحل کے اس علاقے میں بنیادی طور پر، مسلم کمیونٹی اتنی بڑی تعداد میں ہو گئی کہ انھیں عبادت کے لیے جگہ کی ضرورت پڑی، تو وہ زامورن، مقامی بادشاہ کے پاس گئے، بادشاہ نے کہا، ’’کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ایک متروک مندر ہے۔ آپ اسے لے سکتے ہیں۔‘‘ اور اس طرح، کیرالہ کے کوڈونگلور میں عرب دنیا سے باہر کی قدیم ترین مسجد کے باہر آج بھی ایک قدیم ہندو چراغ روشن ہے۔ یہ مسجد صدیوں کے دوران پانچ یا چھ بڑی تعمیرات سے گزر چکی ہے۔ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ ہندوستان میں ایک مسجد ایسی ہے جس کا تعلق پیغمبر اسلام کی زندگی (نبوی دور) سے ہے۔ اب، یہ وہ کہانیاں ہیں جو شاید شمال میں لوگوں کو نہیں بتائی جاتیں، یا وہ نہیں جانتے، یا یاد نہ رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن یہی وجہ ہے کہ جب میں متعدد تاریخوں کے بارے میں بات کرتا ہوں، تو ہندوستان میں اسلام کی کہانی کی بھی متعدد تاریخیں اور اسے سنانے کے متعدد طریقے اور متعدد تصورات ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اور یقیناً، ہندوستان تاریخی طور پر کبھی یک سنگی نہیں رہا۔ اس کا ارتقا، جیسا کہ میں نے کہا، بہت سے تعاملات سے عبارت رہا ہے۔ اور جب آپ ان سب کو دیکھتے ہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی روایات کی آمد اور پھیلاؤ اپنے ساتھ فلسفے، افکار، سیاسی تنظیم، فن کارانہ اظہار اور فکری تبادلے کی نئی شکلیں لایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اثرات الگ تھلگ نہیں رہے۔ انھوں نے ہندوستان میں موجود روایات کے ساتھ تعامل کر کے ایسی شکلیں پیدا کیں جو واضح طور پر ہندوستانی تھیں۔ اور ان میں سے کوئی بھی یک سنگی نہیں تھا۔ ویدک فکر کے اندر، بدھ مت کی فکر کے اندر، جین فکر کے اندر، پورانک فکر کے اندر تنوع اور تکثیریت موجود تھی، ہندو فلسفے کے چھ مکاتب فکر کے درمیان بحثیں تھیں اور اسی طرح، مختلف اسلامی اسکالر اور مبلغین کے درمیان بھی اختلافات رہے۔ ہم اسے واضح طور پر ثقافتی طور پر دیکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر کبیر کی شاعری، بھکتی اور صوفی دونوں روایات سے ماخوذ تھی، جو سماجی طبقہ واریت کے خلاف مزاحمت تھی۔ نظام الدین اولیاء جیسی شخصیات کی روحانی میراث اثرات کے ایک ایسے ہی امتزاج کی عکاسی کرتی تھی جس کی جڑیں مقامی تھیں، یہاں تک کہ انھوں نے وسیع تر روایات سے بھی فیض پایا۔ زبان بھی اسی تناظر میں پروان چڑھی۔ اور سچ پوچھیں تو، ہندوستانی زبان، جو تعامل کے نتیجے میں ابھری، سنسکرت اور فارسی دونوں اثرات کے ساتھ ساتھ شمالی ہندوستان کے فوجی کیمپوں میں عربی اور ترکی زبانوں کی آمیزش سے تشکیل پائی۔ یہاں تک کہ موسیقی میں بھی، قوالی کی روایات سے لے کر ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے ارتقا تک، جو چیز باقی رہی وہ علیحدگی نہیں، بلکہ ترکیب تھی۔
فنِ تعمیر آپ کو اس امتزاج کی ایک اور مثال پیش کرتا ہے۔ جسے ہم اب ہند-اسلامی فنِ تعمیر کے طور پر بیان کرتے ہیں، اس نے پہلے سے موجود چیزوں کی جگہ نہیں لی، اس نے اسی پر تعمیر کی، مقامی مواد، تکنیک، جمالیات کو معماروں اور مجسمہ سازوں نے، جو پہلے سے ہندوستان میں موجود تھے، نئی شکلوں میں ڈھالا۔ اس کا نتیجہ توڑ پھوڑ نہیں ، بلکہ ہندوستانی فنِ تعمیر کی ایک نئی تہہ تھی۔ کوئی قطب کمپلیکس، فتح پور سیکری، ہمایوں کا مقبرہ، تاج محل کے بارے میں محض مختلف خاندانوں کی یادگاروں کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب کے ثبوت کے طور پر سوچ سکتا ہے جو خود اپنے ساتھ محوِ گفتگو تھی۔
تعامل کا یہی نمونہ نوآبادیاتی دور میں بھی جاری رہا جب قانون، طرزِ حکم رانی اور جدید سیاسی تنظیم کے نئے تصورات برصغیر میں داخل ہوئے۔ ان پر بھی اسے زبردستی مسلط نہیں کیا گیا یا غیر متحرک طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ انھیں ایک موجودتہذیبی فریم ورک کے اندر ڈھالا گیا، چیلنج کیا گیا اور ان کی ازسرنو تعبیر کی گئی۔
اس طویل تاریخ سے جو کچھ سامنے آتا ہے وہ متوازی چلنے والے الگ الگ دھاروں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ مسلسل روابط کی کہانی ہے۔ روایات محض ایک ساتھ موجود نہیں رہیں، انھوں نے ایک دوسرے کو تشکیل دیا۔ اثرات محض شامل نہیں کیے گئے، وہ جذب ہوئے، تبدیل ہوئے اور ایک بڑے کل کا حصہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے ماضی کو ایک واحد بیانیے تک محدود کرنے کی کوئی بھی کوشش، چاہے وہ ثقافتی، مذہبی، یا سیاسی ہو، لامحالہ کم زور پڑ جاتی ہے۔ یہ ان سلسلوں کو ہی نظر انداز کر دیتی ہے جن کے ذریعے یہ تہذیب پروان چڑھی۔ ہندوستان اثرات کو خارج کر کے نہیں بڑھا، بلکہ انھیں جذب کر کے پروان چڑھا ہے۔ اس بات کو تسلیم کرنے کا مطلب تنازعات سے انکار کرنا، یا ماضی کو رومانوی بنانا نہیں ہے۔ یہ محض اس بات کا اعتراف ہے کہ پیچیدگی ہندوستان کے تاریخی تجربے کا داخلی حصہ ہے۔ اور یہ بالکل وہی پیچیدگی ہے جسے اکثر اس وقت سادہ بنا دیا جاتا ہے جب حال میں تاریخ کی منتخب تعبیر کی جاتی ہے۔
اگر ہندوستان کی تاریخ متعدد باہم مربوط اثرات سے تشکیل پائی ہے، تو اس ماضی کے کسی بھی سنجیدہ بیان کو ان قوتوں کے وسیع تر دائرے کو تسلیم کرنا چاہیے جنھوں نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان میں سے، اسلامی روایات اور مسلمانوں کا کردار، جو یقیناً آپ کی کانفرنس کا مرکزی موضوع ہے، نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ثانوی۔ صدیوں کے دوران، وہ ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے، ثقافتی زندگی، شہری ترقی کی تشکیل میں سرگرمی سے شریک رہے ہیں، طرز حکم رانی کے نظام کو دہلی، آگرہ، لاہور جیسے شہروں میں نکھارا گیا، جو طاقت اور تبادلے کے مراکز کے طور پر ابھرے اور موسیقی، فن تعمیر اور ادب کی روایات ایسی شکلوں میں پروان چڑھیں جو ہندوستان کے ثقافتی منظر نامے کا اٹوٹ حصہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ متنوع بھی تھا۔ ہندوستانی اور اردو جیسی زبانوں کا ارتقا بذات خود کمیونٹیوں کے درمیان مسلسل تعامل کا ثبوت ہے۔
یہ پیش رفت الگ تھلگ کارفرما، بیرونی طور پر مسلط کردہ عناصر نہیں تھی۔ یہ ہمارے ملک کے اندر، ہمارے برصغیر کے اندر رونما ہوئی اور اس کے زندہ تجربے کا حصہ بن گئی۔ جو کچھ ابھر کر سامنے آیا وہ متوازی تاریخوں کا سلسلہ نہیں تھا، بلکہ ایک بدلی ہوئی، مشترکہ، آپس میں گندھی ہوئی تاریخ تھی۔ یہ ایک اہم فرق ہے کیوں کہ غلبے کو تسلیم کرنے اور ایک پورے دور کو محض غلبہ سمجھ لینے کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، تصادم کے واقعات کو تسلیم کرنے اور صدیوں کے سماجی، فن کارانہ، لسانی اور انتظامی تعاملات اور تبدیلیوں کو صرف تصادم تک محدود کر دینے کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ماضی کو وضاحت کے ساتھ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ تنازعات کے ادوار ضرور رہے، جیسا کہ تاریخ کے ہر دور میں رہے ہیں، لیکن کسی پورے دور کو صرف اس تنازعے کی عینک سے دیکھنا ان بہت بڑے عوامل کو نظر انداز کرنا ہے جو صدیوں کے دوران معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔
اسی طرح، تحریک آزادی کے دوران مسلم سیاست کو صرف مسلم لیگ کے تناظر میں دیکھنا خود مسلمانوں کی طرف سے تاریخ کی مختلف تعبیرات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
آئیے اس حقیقت کو تسلیم کریں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کوئی یک سنگی مذہب نہیں تھا اور اسلامی افکار صرف ایک قسم کے نہیں تھے۔ تقسیم کے لمحے تک مختلف تعاملات موجود تھے۔ کیا آپ یہ کہیں گے کہ ہندوستان کی تاریخ میں اسلام اور اس کے کردار کے بارے میں جناح کے خیالات ویسے ہی تھے جیسے مولانا آزاد کے تھے، یا افسوس ناک طور پر فراموش کر دہ ہستی سندھ کے وزیر اعلیٰ اللہ بخش کے تھے، جنھوں نے جب 1943 میں دہلی میں تقریر کی تو ان کے سامعین کی تعداد جناح کے سامعین سے تین گنا زیادہ تھی؟ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہر کمیونٹی کے اندر بھی دوسرے نظریات موجود ہوتے ہیں۔ اور میں یہ خاص طور پر اس لیے کہہ رہا ہوں کیوں کہ منتخب تعبیر (selective interpretation)اب ہماری تاریخ نویسی میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں، ہندوستان کے ماضی کے اس حصے کو اکثر تنگ نظری سے پیش کیا گیا ہے۔ نام نہاد مسلم دور میں فتح یا تباہی کے واقعات کو تو اجاگر کیا جاتا ہے، جب کہ تعامل، موافقت اور بقائے باہمی کی طویل تاریخ پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ تہذیبی عمل کی پیچیدگی کو الگ تھلگ واقعات کے تسلسل تک محدود کر دیا گیا ہے۔ وہ چیز جو کبھی تہہ در تہہ تاریخ سمجھی جاتی تھی، اب ایک انتہائی سادہ بیانیے میں ڈھلنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ وہ آئے، انھوں نے ہم پر ظلم کیا، ہم نے اپنی عظمت پا لی۔ یہ کافی نہیں ہے۔ یہ محض زور دینے کا سوال نہیں ہے۔ یہ ماضی کو سمجھنے کے طریقے کو بدل دیتا ہے۔ جب تاریخ کو منتخب انداز میں پیش کیا جاتا ہے، تو حال میں دیواریں اٹھانا آسان ہو جاتا ہے۔ جو کمیونٹیاں کبھی آپس میں میل جول رکھتی تھیں ، اب انھیں ایک دوسرے سے الگ کھڑا تصور کیا جاتا ہے۔ ایک مشترکہ ماضی کو متنازعہ ماضی میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ تاریخی وضاحت (historical clarity)کا بڑھنا نہیں، بلکہ نقطہ نظر کا تنگ ہونا ہے۔ انسان ایک ایسے ماضی کے ساتھ رہ جاتا ہے جو باریک بینی سے خالی ہو اور ایک ایسے حال کے ساتھ جو کشادہ ظرفی سے محروم ہو۔
مثال کے طور پر، ہلدی گھاٹی کی جنگ کو اکثر شریر مغل حملہ آور بمقابلہ بہادر راجپوت مزاحمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں، اکبر وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ مغل افواج کی قیادت ایک راجپوت راجہ مان سنگھ کر رہا تھا، جب کہ مہارانا پرتاپ ذاتی طور پر اپنی فوج کی قیادت کر رہے تھے، جس میں حکیم خان سوری جیسے کمانڈر شامل تھے۔
ان تمام اثرات کو تسلیم کرنا جنھوں نے ہندوستان کو تشکیل دیا ہے، تاریخ کو رومانوی بنانا نہیں ہے، نہ ہی اس کی کشیدگیوں سے انکار کرنا ہے۔ یہ ہماری تاریخ کو سپاٹ کر دینے کی آزمائش کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔ تاریخ کے سنجیدہ مطالعے کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے تضادات کو یکجا رکھیں اور اسے الگ تھلگ واقعات کے تسلسل کے بجائے تعاملات کے ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھیں۔ اور یہ عین اسی وقت ہوتا ہے جب اس تسلسل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ تاریخ حال کے سیاسی مقاصد کے لیے تعبیر یا ازسرنو تعبیر کا زیادہ شکار ہو جاتی ہے۔ اگر تاریخ کی تشکیل تعبیر سے ہوتی ہے اور تعبیر کی تشکیل طاقت سے ہوتی ہے، تو دورِ حاضر ہی میں یہ رشتہ سب سے زیادہ واضح ہوا ہے۔
چوں کہ ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں تاریخ آرکائیو سے نکل کر فیصلہ کن طور پر عوامی دائرے میں آ گئی ہے، جیسا کہ میں نے اپنی گفتگو کے بالکل آغاز میں کہا تھا، اس لیے اب تاریخ کو بنیادی طور پر مؤرخین کے توسط سے نہیں بلکہ عناصر، سیاسی اداروں، عدالتوں، میڈیا پلیٹ فارموں کے ایک وسیع تر حلقے اور تیزی سے نام نہاد عوامی رائے کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں ماضی کا نہ صرف مطالعہ کیا جاتا ہے، بلکہ اسے سرگرمی سے استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، تاریخ کشمکش کا وسیلہ بن چکی ہے۔ مجیب الرحمٰن یہ بات جانتے ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ان میں سے کچھ چیزوں پر بات کی گئی ہے۔ ان تنازعات میں جو چیز داؤں پر لگی ہے وہ محض تاریخی تفصیلات کی درستی نہیں، بلکہ تعبیر متعین کرنے کا اختیار ہے۔ ماضی کے مسابقتی بیانیوں کو محض واقعات کی تعبیر کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ حال میں قانونی جواز قائم کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ کیا ہوا تھا، بلکہ یہ ہے کہ اس ماضی کو آج کیا معنی دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وضاحت سے معنی کی طرف یہ تبدیلی اپنے آپ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ معاشروں نے ہمیشہ اپنے ماضی کی تعبیر موجودہ دور کے خدشات کی روشنی میں کی ہے۔
تاہم، آج جو چیز منفرد ہے وہ رفتار اور پیمانہ ہے جس پر یہ تعبیرات گردش کر رہی ہیں اور وہ شدت جس حد تک تاریخی طریقہ کار کے معتدل اثر کے بغیر انھیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دلائل سے زیادہ دعوے تیزی سے سفر کرتے ہیں۔ باریک بینی کے مقابلے میں سہولت پسندیاں زیادہ آسانی سے مقبولیت حاصل کر لیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں، مورخ کے اختیار کو اکثر بہتر شواہد سے نہیں، بلکہ اونچی آواز والے عقیدے کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ ایک عجیب و غریب الٹ پھیر کی صورت میں نکلتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ماضی ، حال کو بصیرت فراہم کرے، حال ماضی کو متاثر کرنے، ماضی کو ہدایت دینے، عصری پریشانیوں اور عصری خواہشات کے مطابق اسے نئی شکل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے، یہ تاریخ کے فہم کو تاریخی دعووں سے بدلنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تاریخ پر ہونے والی بحثیں ایک مختلف قسم کی شدت رکھتی ہیں۔ انھیں اکثر تلافی، اعتراف اور ازالے کی اصطلاحات میں وضع کیا جاتا ہے۔ ماضی کی بازدید، موروثی بیانیوں کا ازسر نو جائزہ لینے اور صرف تعبیرات پر سوال اٹھانے کی ایک قابلِ فہم خواہش موجود ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایسا ازسرنو جائزہ اپنے آپ میں تاریخ کے ساتھ کسی بھی سنجیدہ وابستگی کا ایک ضروری حصہ ہے۔ لیکن اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ جب ماضی تک بنیادی طور پر حال اور موجودہ دور کی شکایات کی عینک سے رسائی حاصل کی جاتی ہے، تو اسے پہلے کی نسبت زیادہ یک خطی اور سادہ بیانیے میں از سر نو ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ پیچیدہ تاریخی عمل اخلاقی ثنویت اور اکثر سیاسی ثنویتوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ تعامل کے طویل ادوار کو تنازعے کے الگ تھلگ لمحات میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ تاریخی کرداروں کا فیصلہ ان کے اپنے وقت کے تناظر کے بجائے ہمارے وقت کی توقعات سے کیا جاتا ہے۔ حال میں اخلاقی وضاحت کی خواہش ماضی کی طرف مڑ کر دیکھنے میں تاریخی تحریف کو جنم دے سکتی ہے۔ ایسے فریم ورک میں، تاریخ تحقیق سے دعوے کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان علامتوں اور مقامات کے برتاؤ میں نمایاں ہے جو تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ یادگاریں، عبادت گاہیں اور عوامی یادداشت عصری بحثوں کے مرکز بن جاتے ہیں۔ وہ جس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں وہ صرف ماضی کا ریکارڈ نہیں، بلکہ حال کے بارے میں دعویٰ ہے۔ ان کی ازسرنو تعبیر یا ان کی بازیابی کی کوشش اکثر اس مفروضے پر استوار ہوتی ہے کہ تاریخ کو ماضی میں جا کر طے کیا جا سکتا ہے۔ پھر بھی تاریخ اتنی آسانی سے اس طرح کے اختتام کو قبول نہیں کرتی۔ یہ کوئی کھاتہ نہیں ہے جسے برابر کیا جا سکے۔ یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے جس پر ریویو بینچ عواقب کے بغیر نظرثانی کر سکے۔ ماضی کو درست کرنے کی کوششیں، جب تاریخی پیچیدگی کو نظر انداز کر کے کی جاتی ہیں، تو وہ پرانی کشیدگیوں کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی کشیدگیوں کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔ اس عمل میں، ہم تاریخ کو فہم کے وسیلے کے بجائے محض شکایات کی فرہنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
عمیق تر سطح پر، ہم تاریخ کے اپنے فعل میں ہی ایک تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے ارتقا کو سمجھنے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرنے کے بجائے، ہماری تاریخ کو تیزی سے شناخت کی تعریف کرنے کے منصوبے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کا استعمال سرحدوں کی حد بندی کرنے، کمیونٹیوں کو الگ کرنے، بیانیوں کو الگ کرنے اور قوم کے مسابقتی تصورات کو الگ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے، یہ ایک ایسے ماضی کو محدود کرنے کا خطرہ مول لیتی ہے جو حقیقت میں کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ شمولیت پر مبنی تھا۔ اس کا نتیجہ محض تعبیر کا فرق نہیں ہے، بلکہ ماضی کے ساتھ مشغول ہونے کے طریقے میں ایک تبدیلی ہے۔ تاریخ تحقیق کا میدان نہیں رہتی بلکہ اکسانے اور بھڑکانے کا ایک وسیلہ بن جاتی ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے، تو خطرہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم ماضی کو غلط سمجھتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے حال کے امکانات کو محدود اور مقید کر دیتے ہیں۔
تو، ایک ذمہ دارانہ تاریخ نویسی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے اور اہم ترین فکری سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ یہ شواہد کے ساتھ وفاداری، سیاق و سباق کے احترام اور ماضی کو حال کے پہلے سے طے شدہ نتائج اور ایجنڈے کی خدمت میں جھونکنے سے انکار کی متقاضی ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق اور وکالت کے درمیان، تعبیر اور آلہ کار بنانے کے درمیان فرق کریں۔ اس کے لیے عجز (humility) کی بھی ضرورت ہے، کیوں کہ ماضی ہمیشہ ان بیانیوں سے بڑا ہوتا ہے جو ہم اس کے بارے میں بناتے ہیں۔ ہندوستانی تناظر میں، ذمہ دارانہ تاریخ نویسی کو بھی اس تہذیب کے حجم اور تنوع کے برابر ہونا چاہیے جسے وہ بیان کرنا چاہتی ہے۔ اس میں بلا تردد متعدد دھاروں کو ایک ساتھ جوڑے رکھنے، تنازعات کو مٹائے بغیر تسلسل کو پہچاننے اور تسلسل سے انکار کیے بغیر تنازعات کو تسلیم کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اسے پرانی جذباتی یادوں اور فرقہ وارانہ سادگی دونوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی۔ یقیناً ہندوستانی فکر کی بہترین روایات نے ہم سے یہی تقاضا کیا ہے۔ نہرو جی نے ہندوستان کو ایک تہہ در تہہ اور مجموعی تہذیب کے طور پر دیکھا، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، ایک پالیمپسسٹ (palimpsest)جو کسی ایک جوہر کے بجائے یکے بعد دیگرے اضافوں سے عبارت ہے۔ گاندھی جی کے اخلاقی تصور نے، ایک مختلف پیرائے میں، بقائے باہمی کو ایک اخلاقی اصول کے طور پر زور دیا۔ انھوں نے ہندوستان کو اخراج سے برقرار رکھی جانے والی کوئی نازک شناخت نہیں سمجھا، بلکہ ایک مشترکہ ورثہ سمجھا جو گنجائش دینے سے ممکن ہوا۔ ایک پراعتماد قوم اپنے ماضی کی پیچیدگیوں سے نہیں ڈرتی۔ اس میں تاریخ کو اس کی مکمل شکل میں دیکھنے کا حوصلہ ہوتا ہے، جو نہ تو سینٹائزڈ (sanitised)ہو اور نہ ہی ہتھیار کے طور پر (weaponised)استعمال کی جائے۔ وہ تاریخ سے اتفاق رائے کا سکون نہیں مانگتی، بلکہ تفہیم کا نظم و ضبط چاہتی ہے۔
ہم واپس لوٹتے ہیں اور مجھے اب گفتگو کو سمیٹناہے، اسی سوال کی طرف جس سے ہم نے آغاز کیا تھا۔ ہمارا ماضی کون لکھتا ہے؟ اس کا جواب، جیسا کہ ہم نے دیکھا، صرف مورخین تک محدود نہیں ہے۔ یہ اداروں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، عوامی بیانیے کو تشکیل دینے والوں اور وسیع تر معنوں میں، ہم سب کے پاس ہے۔ کیوں کہ جس طرح ایک معاشرہ ماضی کو یاد رکھتا ہے وہ کبھی بھی اس طرح سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوتا جس طرح وہ حال میں خود کو سمجھتا ہے۔ تاریخ صرف ورثے میں نہیں ملتی۔ اس کی تعبیر کی جاتی ہے۔ اس پر بحث کی جاتی ہے اور بعض اوقات اس کو علمی طور پر چیلنج (contested)کیا جاتا ہے۔ لیکن جس طریقے سے ہم اس کے ساتھ جڑتے ہیں، اس کے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ وہ ماضی جو تنگ ہو جائے وہ ایک منقسم حال بن جاتا ہے۔ وہ ماضی جس تک کھلے پن کے ساتھ رسائی حاصل کی جائے، وہ ہمارے موجودہ دور کی وابستگی کی زیادہ وسیع تفہیم کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہندوستان جیسی تہہ دار تہذیب میں، یہ انتخاب خاص اہمیت کا متقاضی ہے اور خاصی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔
ہندوستان کی کہانی کو اس چیز سے صرف نظر کیے بغیر ایک دھاگے تک محدود نہیں کیا جا سکتا جو اسے ممتاز بناتا ہے۔ یہ ہمیشہ اثرات کا سنگم رہا ہے اور ہے، ان تعاملات کا ریکارڈ جس نے ایک مشترکہ اور پیچیدہ ورثہ تشکیل دیا ہے جو ہم سب کے لیے ہے۔ اس کو تسلیم کرنا اختلافات سے انکار کرنا نہیں، بلکہ اسے ایک وسیع تر تسلسل کے اندر رکھنا ہے۔ لہٰذا، ہمارے سامنے کام ماضی کی کسی ایک حتمی کہانی تک پہنچنا نہیں ہے، بلکہ ان حالات کو محفوظ رکھنا ہے جن کے تحت متعدد کہانیاں ایک ساتھ موجود رہ سکیں۔ آپ کی تاریخ، میری تاریخ، اس کی تاریخ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ان سب کو موجود رہنے دیں اور ان سب کا جائزہ لیا جائے اور، جہاں ضروری ہو، چیلنج کیا جائے۔ لیکن جب تاریخ سے سنجیدگی کے ساتھ رجوع کیا جاتا ہے، تو وہ کسی بھی صورت میں حتمی یقین دہانیاں پیش نہیں کرتی۔ وہ تفہیم پیش کرتی ہے۔ یہ سوال کرنے کا حق سلب نہیں کرتی، یہ سوالات کو نکھارتی ہے۔
اور اس لحاظ سے، تاریخ نویسی نہ صرف ایک فکری مشق ہے، بلکہ یہ ایک شہری مشق بھی ہے۔ یہ ان شرائط کو تشکیل دیتی ہے جن پر ہم ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ سرحدیں جو ہم کھینچتے ہیں اور وہ امکانات جو ہم بحیثیت معاشرہ اپنے لیے تصور کرتے ہیں۔ اور شاید یہیں گہری ذمہ داری مضمر ہے، محض ماضی کو درست کرنے میں نہیں، کیوں کہ شاید کوئی ایک درستی موجود ہی نہ ہو۔
بہت سی پیچیدہ تعبیرات ہو سکتی ہیں۔ مجھے ایک مثال یاد آ رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ میں سے کوئی اس پر بحث پیش کر رہا ہے یا نہیں، 1920 کی دہائی میں کیرالہ میں موپلا بغاوت پر۔ جب اتنے ڈرامائی طور پر متنازعہ بیانیے موجود ہیں۔ ایک سیکولر مسلم نوآبادیاتی مخالف بغاوت کی لبرل مسلم تعبیر موجود ہے۔ جاگیردار وں کے خلاف کسانوں کی بغاوت کی ایک مارکسی یا طبقاتی بنیاد پر مبنی تعبیر موجود ہے۔ جاگیردار اتفاق سے ہندو تھے، کسان اتفاق سے مسلمان تھے، اس لیے مارکسیوں کے مطابق یہ تنازعہ فرقہ وارانہ نہیں تھا۔
ایک نئی نام نہاد ہندو قوم پرست تعبیر بھی ہے، جو اسے خالصتاً فرقہ وارانہ رنگ میں دیکھتی ہے۔ کچھ اور بھی پیچیدہ تعبیرات ہیں جو ان سب کے عناصر کو اس میں دیکھتی ہیں جو پیش آیا تھا۔ اور ہر تعبیر کی حمایت کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ آپ کہانی کیسے بیان کرتے ہیں؟ آپ اسے کیسے سلجھاتے ہیں؟ یہی تو عین نکتہ ہے۔ یہ ان امکانات کا حصہ ہے جو ہم بحیثیت معاشرہ اپنے لیے تصور کرتے ہیں کہ ہم ان تمام پہلوؤں کو ایک ہی وقت میں دیکھیں۔
لہٰذا، جیسا کہ میں نے عرض کیا ، یہ صرف ماضی کو درست کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ اس کے ساتھ ہماری وابستگی موجودہ دور کے افق کو تنگ کرنے کے بجائے وسیع کرے۔ کیوں کہ ایک قوم کا اپنی تاریخ کے ساتھ رشتہ بالآخر خود پر اس کے اعتماد کا عکاس ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو خود میں محفوظ ہو، اپنی شناخت میں محفوظ ہو، ہم پیچیدگی کو برداشت کر سکتے ہیں۔ جو محفوظ نہیں ہوگا وہ سادگی میں پناہ ڈھونڈے گا۔ لہٰذا سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ہمارا ماضی کون لکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے پاس اتنی فکری ایمانداری اور شہری جرات ہے کہ ہم اس ماضی کو اتنا ہی ثروت مند، تہہ در تہہ اور کھلا رہنے دیں جتنا کہ وہ حقیقت میں ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ کی پیچیدگیوں کے ساتھ پرسکون ہوتی ہے وہ نہ صرف اپنے حال کے تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوتی ہے، بلکہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کرنے کے لیے بھی بہتر ہوتی ہے جو اس ورثے کے شایانِ شان ہو۔
میں اس سمع خراشی کے لیے آپ سب کا مشکور ہوں۔ معذرت خواہ ہوں کہ مجھے ایک اور کام سے یہاں سے رخصت لینی ہوگی۔ میں دیگر مقررین کو سننے سے محروم رہوں گا، لیکن میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کی اس کانفرنس کی کام یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ جے ہند۔







