ایک دن میں غازی آباد سے دہلی جانے کے لیے لوکل ٹرین میں سوار ہوا۔ غالباً اس دن کوئی چھٹی تھی، اس لیے ٹرین بالکل خالی تھی۔ میں جس ڈبے میں سوار ہوا اس میں صرف دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں باہم محو گفتگو تھے۔ دراصل وہ دونوں آپس میں دوست تھے۔ میں ان دونوں کے پاس ہی خالی جگہ پر بیٹھ گیا۔
وہ دونوں اپنے کسی تیسرے دوست کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ شاید اس تیسرے دوست کے معاشی حالات خراب تھے۔ اسی کے سلسلے میں یہ لوگ تبصرہ کررہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:’’بھائی! فلاں کے حالات اس لیے خراب ہوگئے ہیں، کیونکہ اس نے پچھلے جنم میں برے کام کیے ہوں گے۔ اب تو اسے اپنی کرنی کے پھل بھوگنے ہی ہوں گے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اگر اس نے پچھلے جنم میں اچھے کام کیے ہوتے تو کاہے کو آج بدحال اور برباد ہوتا۔‘‘ (اس عقیدے کو عقیدہ تناسخ یا آواگمن کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔)
دوسرے دوست نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے پرُ زور انداز میں کہا کہ بھائی! کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے کہ آدمی اس دنیا میں پچھلے جنم کے کرموں (اعمال) کو بھوگ رہا ہے۔ آج جو لوگ خوش حال، سکھی، آرام اور چین سے ہیں، وہ اس لیے ہیں کہ ان کے پچھلے اعمال اچھے تھے۔ جو لوگ دکھی اور بدحال اور پریشانیوں میں گرفتار ہیں، وہ اسی لیے ہیں کہ ان کے پچھلے جنم کے اعمال برے تھے۔
وہ دونوں دوست آپس میں اسی موضوع پر گفتگو کرتے رہے اور اپنے دعوے کی تائید میں کچھ مثالیں بھی دیتے رہے۔میں خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہا تھا۔ کئی بار میرے دل میں خیال آیا کہ میں بھی ان کی گفتگو میں حصہ لوں اور ان کے اس غلط خیال اور عقیدے کی تردید کروں، لیکن میں نے اس میں دخل دینا مناسب نہ سمجھا۔
تھوڑی دیر کے بعد ان دونوں دوستوں نے اس موضوع پر گفتگو ختم کردی اور باہم ایک دوسرے کے حال چال معلوم کرنے لگے اور ایک دوسرے کے بچوں کی تعلیم اور پڑھائی کے سلسلے میں دریافت کرنے لگے۔
پہلے دوست نے دوسرے کو بتایا کہ آج کل میں بہت پریشان ہوں۔ میرے ساتھ پریشان کن مسئلہ یہ ہے کہ میرے پڑوس میں اسٹیل کی الماریوں اور فرنیچر بنانے کا ایک کارخانہ قائم ہوگیا ہے۔ اس کارخانے میں دن رات کام ہوتا رہتا ہے، جس سے اس قدر شور ہوتا ہے کہ دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ بچوں کی تعلیم اور پڑھائی پر بھی بہت برا اثر پڑرہا ہے۔ کارخانے کے کاریگر بلند آواز سے ٹرانسسٹر پر گانے سنتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے گھر میں کانوں آواز سنائی نہیں پڑتی۔ جب اسپرے مشین سے الماریوں اور فرنیچر کی رنگائی کی جاتی ہے تو کیمکلس کی بو سے پورا گھر بھرجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے میری بیوی کو الٹیاں بھی ہونے لگتی ہیں۔
دوسرا دوست پہلے دوست کی بات بڑے غور سے سن رہا تھا۔ اس نے بڑے ہی ہمدردانہ لہجے میں پوچھا: ’’آپ نے اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔‘‘
پہلے دوست نے آہ بھرتے ہوئے جواب دیا:’’کوشش تو بہت کی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پولیس میں شکایت کی مگر لاحاصل، اس لیے کہ کارخانہ دار اثر و رسوخ والا آدمی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کچھ دے دلا کر معاملہ ختم کرادیتا ہو۔ آج کل رشوت کا بول بالا ہے۔ قانون اور ضابطے کمزوروں کے لیے ہیں، طاقتوروں کے لیے نہیں۔ آج شریفوں کی سننے والا کوئی نہیں۔ پھر کارخانہ دار کی کھل کر مخالفت کرنے سے اندیشہ ہے کہ وہ دشمنی میں کوئی بڑا نقصان ہمیں پہنچادے۔ اپنی عزت بھی بچانی پڑتی ہے۔‘‘
یہ درد بھری داستان سن کر دوسرا دوست اظہارِ افسوس کرتے ہوئے خاموش ہوگیا۔
مجھے اب اپنی بات کہنے کا اچھا موقع مل گیا۔ میں نے ان لوگوں کی خاموشی کو توڑتے ہوئے بڑے ہی نرم انداز میں عرض کیا:
’’میں آپ لوگوں کی گفتگو بڑے غور سے سن رہا تھا۔ اگر اجازت دیں اور برا نہ محسوس کریں تو کچھ باتیں میں بھی عرض کروں۔‘‘
وہ دونوں فوراً ہی میری طرف متوجہ ہوگئے اور بولے، ہاں ہاں، ضرور۔ غالباً وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں ان کے مسئلے کا کوئی مناسب حل بتانے والا ہوں۔ میں نے عرض کیا: ’’ابھی آپ نے اپنا جو مسئلہ تفصیل سے رکھا ہے اور اپنی جو پریشانی بیان کی ہے، تو بھائی یہ تو آپ کے پچھلے جنم کی کرنی کے پھل ہیں۔ پچھلے جنم میں آپ نے اس کارخانہ دار کے مکان کے پاس فرنیچر کا کارخانہ قائم کیا تھا اور اس کی وجہ سے اس کا اور اس کے بال بچوں کا جینا مشکل ہوگیا تھا۔ اب وہ اس جنم میں آپ سے بدلہ لے رہا ہے۔ اب آپ کو شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ نے یہ بھی بہت غلط کیا کہ اس کی شکایت پولیس میں کی۔ اب آپ کو یہ کرنا چاہیے اور یہی انصاف کا تقاضا بھی ہے کہ اس کارخانہ دار سے درخواست کریں کہ وہ خوب الماریاں اور فرنیچر بنائے اور آپ سے پچھلے کرموں کا بدلہ لے۔ اس پر آپ کسی سے اس کی شکایت نہ کریں۔ بلکہ اس کے شکر گزار ہوں اور اپنی پچھلے جنم کی غلطیوں کے لیے اس سے معافی کے طلب گار ہوں۔‘‘
دونوں دوست پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ جیسے کہ میں نے کوئی انوکھا انکشاف کردیا ہو۔ میں نے آگے کہا:’’آپ لوگ میری بات پر حیرت زدہ کیوں ہیں؟ابھی تھوڑی دیر پہلےجب آپ دونوں اپنے کسی پریشان اور بدحال دوست کا تذکرہ کررہے تھے تو آپ لوگوں نے یہی بات بتائی تھی کہ دنیا میں آدمی اپنے پچھلے کرموں (اعمال) کا پھل بھوگ رہا ہے۔ مگرآپ کا یہ ردِّ عمل آپ کے نظریے اور عقیدے کے خلاف ہے۔ اب تو آپ اپنے کو مجرم سمجھنے کے بجائے کارخانہ دار کو قصوروار ٹھہرارہے ہیں۔‘‘
وہ دونوں میرے طنز کو سمجھ چکے تھے۔ لیکن ان کے پاس اپنے بچاؤ میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے، ناقابلِ فہم اور ناقابلِ عمل ہے کہ دنیا میں جو پریشانی یا آرام ہے وہ پچھلے اعمال کا پھل ہے۔ اگر اس نظریے کو تسلیم کرلیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ یہ پولیس، یہ انتظامیہ اور یہ عدالتیں سب بے کار اور بے سود ہوجائیں گے۔ کسی جرم پر کوئی مقدمہ نہیں بنے گا اور نہ اس پر کوئی سزا دی جاسکے گی۔ جب بھی کوئی مظلوم پولیس اور عدالت سے رجوع کرے گا تو پولیس یا عدالت اس مظلوم سے صاف صاف کہہ دے گی کہ یہ تو تمہارے پچھلے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم اس میں تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں۔ چونکہ تم پچھلے جنم کے مجرم ہو، اس لیے مجرم کی کوئی مدد کرنا قانون کی نظر میں جرم ہے۔
اس نظریۂ تناسخ کو تسلیم کرنے کے بعد کسی ظالم کو ظلم سے باز رکھنے اور کسی مظلوم کو مظلومیت سے نکالنے والا اور اس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ صورت حال پیدا ہوجائے تو دنیا کا کیا حشر ہوگا۔ آپ تو صرف ایک کارخانے کی اذیت سے پریشان ہیں۔ اس وقت نہ جانے کتنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وہ دونوں کہنے لگے، آپ نے تو بڑے پتے کی بات بتائی، ہم نے تو کبھی اس پہلو سے غور ہی نہیں کیا تھا۔ بس ایک سنی سنائی بات بے سوچے سمجھے کہتے رہے۔ پھر انھوں نے دریافت کیا کہ یہ دنیا کے سکھ دکھ کیوں ہوتے ہیں، امیر غریب کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے اس سلسلے میں مختصراً اسلام کا نظریہ ان کے سامنے پیش کیا اور انہیں بتایا کہ یہ سب چیزیں دنیا میں ہمارے امتحان کے لیے ہیں۔ مرنے کے بعد ہم سب کو اپنے خالق و مالک خدا کے سامنے قیامت کے دن حاضر ہونا ہے۔ وہاں ہم دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ پائیں گے۔میں نے ان سے یہ بھی عرض کیا کہ یہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ معلوم کرے کہ اسے دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے اور مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ کھانا، کپڑا اور مکان سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن انسان اس مسئلہ پر کبھی بات نہیں کرتا اور نہ اس پر غور کرتا ہے۔ اسلام نے تو اس مسئلہ پر بھر پور روشنی ڈالی ہے اور اس کی حقیقت بتائی ہے۔ ہندو دھرم کی اصل مذہبی کتابیں ، وید اور اپنشد وغیرہ میں بھی اس کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد خالق کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ کہ ہندو بھائی ویدوں کو نہیں پڑھتے اور نہ ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔آپ لوگ کچھ وقت اس مسئلہ پر غور کرنے کے لیے ضرور نکالیں۔
اب دہلی کا اسٹیشن آچکا تھا۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔ افسوس کہ عجلت کی وجہ سے ان لوگوں کا پتا نوٹ نہ کیا جاسکا کہ ان سے ربط رکھا جاتا اور ان کے مطالعے کے لیے مفید کتابیں ان کو بھجوائی جاتیں۔







