رسائل و مسائل

کیا زکوٰة کسی ایک مد میں صرف کی جا سکتی ہے؟

سوال: ہمارے شہر میں اجتماعی نظامِ زکوٰة کا ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ اچھی طرح کام کر رہا ہے۔ جتنی رقم جمع ہوتی ہے اس کا نوّے فی صد (90%) ایسے ضرورت مند افراد کو دیا جاتا ہے جو کسی کاروبار کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار نہ کر پا رہے ہوں۔ ایسے لوگوں کو زکوٰة کی مد سے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے، انہیں کاروبار سے لگایا جاتا ہے اور ان کے کاروبار کی نگرانی بھی کی جاتی ہے ۔ باقی دس فی صد(10%) زکوٰة کی رقم دوسری مدوں میں صرف کی جاتی ہے۔

کیا زکوٰة کی رقم کو اس طرح کسی ایک مد میں خرچ کرنا درست اور شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں، ہم شکر گزار ہوں گے ۔

جواب : قرآن مجید میں زکوٰة کے آٹھ(8) مصارف بیان کیے گئے ہیں۔( التوبة: 60) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زکوٰة لازماً آٹھوں مصارف میں خرچ کی جائے اور برابر خرچ کی جائے، بلکہ حسبِ ضرورت چند مصارف میں خرچ کی جاسکتی ہے۔ کسی ایک مصرف میں بھی اس کا استعمال جائز ہے۔

کتبِ فقہ میں اس کی صراحت ملتی ہے۔ علامہ کاسانی حنفی نے لکھا ہے:

ولو صرف الزکوٰۃَ الیٰ صنفٍ واحدٍ من الأصنافِ الثمانیۃِ جاز، ولا یجبُ استیعابُ الأصنافِ (بدائع الصنائع، دار الکتب العلمیة، بیروت:۲؍۴۵)

’’ اگر زکوٰة کو اس کی آٹھوں اصناف میں سے کسی ایک صنف میں خرچ کر دیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ تمام اصناف میں خرچ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ‘‘

علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں :

ولا یجبُ تعمیمُ الأصنافِ ، بل یجوزُ الدفعُ الیٰ صنفٍ واحدٍ، والیٰ شخصٍ واحدٍ ( الدُرّ المختار، دار الفکر، ۲؍۳۴۴)

’’زکوٰة تمام اصناف میں خرچ کرنی ضروری نہیں ہے، کسی ایک صنف میں خرچ کی جاسکتی ہے، بلکہ کسی ایک شخص کو دی جا سکتی ہے ۔ ‘‘

علامہ ابن عابدینؒ نے اس کی شرح میں لکھا ہے :

لأنّ المقصودَ دفعُ حاجۃِ الفقیرِ، ولا دلیلَ علیٰ وجوبِ التعمیمِ (ردّالمحتار:۲؍۳۴۴)

’’ اس لیے کہ مقصود غریب کی ضرورت کو رفع کرنا ہے۔ تمام اصناف میں خرچ کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ‘‘

علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ نے لکھا ہے : ولا یجبُ استیعابُ الأصنافِ، ویجوزُ الاقتصارُ علیٰ صنفٍ واحدٍ (المغنی، دار عالم الکتب، ۲؍۵۰۹)

’’ زکوٰة کو تمام اصناف میں خرچ کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ ایک صنف پر اکتفا کرنا جائز ہے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اگر غریب مسلمانوں کو روزگار سے لگانے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے ان میں زکوٰة تقسیم کی جائے اور دیگر مدّات میں کم خرچ کیا جائے، یا بالکل نہ خرچ کیا جائے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

میوچول فنڈ سے ہونے والی کمائی

سوال :میرے والد کا چند ماہ پہلے انتقال ہوا ہے۔ ان کی وراثت تقسیم ہوئی تو ہم دو بہنوں کو بھی حصہ دیا گیا۔ مجھےدس لاکھ روپے ملے تھے۔ میں نے اسے ایک میوچول فنڈ میں لگا دیا۔ اس سے مجھے ہر مہینے دس ہزار روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ آمدنی میرے لیے جائز ہے؟

جواب: میوچول فنڈ سے ہونے والی کمائی کا حکم اس کی نوعیت پر موقوف ہے۔ موجودہ دَور میں میوچول فنڈ کی کئی قسمیں ہیں۔ اس لیے سب پر ایک ہی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

اگر میوچول فنڈ کی سرمایہ کاری سودی معاملات پر مشتمل ہو، یعنی اس کا سرمایہ سودی بینکوں، بانڈز، انشورنس یا ایسی کمپنیوں میں لگایا گیا ہو تو اس سے ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہوگی،کیوں کہ اس میں سود شامل ہے، جسے اسلامی شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔

اگر میوچول فنڈ کا سرمایہ صرف جائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں لگایا گیا ہو، سودی لین دین سے حتی الامکان اجتناب کیا گیا ہو اور کاروبار شریعہ بورڈ کی نگرانی میں کیا گیا ہو تو ایسے مطابقِ شریعت میوچول فنڈ میں سرمایہ کاری کی گنجائش ہے اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی جائز ہوگا۔

عام میوچول فنڈ میں اکثر سودی اور غیر شرعی عناصر شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے بغیر تحقیق کے ان میں سرمایہ کاری سے بچنا چاہیے۔ میوچول فنڈ سے ہر ماہ دس ہزار روپے متعین طور پر بہ طور منافع دیے جا رہے ہیں، اس سے شبہ ہوتا ہے کہ اس کی سرمایہ کاری سودی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس لیے تحقیق کر لی جائے۔ اگر ایسا ہے تو اس سے اپنا سرمایہ نکال لینا چاہیے۔

کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟

سوال : ایک صاحب بیرونِ ملک جاب کرتے تھے۔ وہیں ایک سڑک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی۔ ان کے وارثین میں اہلیہ، تین لڑکیاں (شادی شدہ) اور ایک لڑکا ہے۔ ان کا صرف ایک چھوٹا سا مکان ہے۔ حادثہ کے بعد بیرونِ ملک سے کچھ معاوضہ (Compensation) کی رقم ملی تھی۔ اس سے ایک نیا مکان تعمیر کیا گیا اور ایک آٹو رکشہ خریدا گیا۔ مکان کی ایک منزل کرایے پر اٹھا دی گئی اور آٹو رکشہ کو کرائے پر لگا دیا گیا۔ دونوں کی آمدنی سے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کا گزر بسر ہو رہا ہے ۔

اب وراثت کی تقسیم پیشِ نظر ہے۔ کیا مکان (جس کی قیمت بارہ لاکھ روپے لگ رہی ہے) کو فروخت کر کے اس کی رقم تمام ورثہ میں تقسیم کر دی جائے یا اسے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کے قبضے میں رہنے دیا جائے اور اسے فروخت کر کے ان کے لیے مزید آمدنی کے کسی ذریعے میں خرچ کر دیا جائے؟ مرحوم کی تینوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں اور خوش حال زندگی گزار رہی ہیں، جب کہ ان کی بیوہ اور لڑکے کو رقم کی ضرورت ہے۔

جواب: 1۔ ایکسیڈنٹ کے بعد ملنے والی رقم بہ طور معاوضہ دی گئی ہے تو اس میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا، لیکن اگر وہ بہ طور امداد بیوہ یا لڑکے کے نام سے جاری کی گئی ہے تو وہ صرف اسی کی سمجھی جائے گی جس کے نام سے جاری کی گئی ہے۔

2۔ موروثی مکان میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا، جو درج ذیل تفصیل کے مطابق دیا جائے گا :

بیوہ کو آٹھواں حصہ(1/8) ملے گا۔ باقی لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر ملے گا۔(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیینِ) دوسرے الفاظ میں بیوہ کو 12.5%، لڑکے کو35% اور ہر لڑکی کو17.5%ملے گا۔

3۔ تقسیمِ وراثت کی بنیاد ’ضرورت‘نہیں ہے کہ جس کو ضرورت ہو اسے دے دیا جائے اور جس کو ضرورت نہ ہو اسے نہ دیا جائے، بلکہ اس کی بنیاد مرنے والے سے قریبی تعلق ہے۔ اس بنا پر لڑکیاں چاہے فارغ البال ہوں، لیکن ان کا بھی حصہ لگایا جائے گا۔ البتہ وہ اپنی ماں اور بھائی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی آزاد مرضی سے چاہیں تو اپنا حصہ چھوڑ سکتی ہیں۔ اگرچہ فقہا کہتے ہیں کہ پہلے ہر  صاحبِ حق کو اس کا حصہ دے دیا جائے، پھر وہ چاہے تو اپنی پوری رضامندی سے اپنا پورا حصہ یا کچھ حصہ کسی دوسرے وارث کو یا جسے وہ چاہے اسے دے دے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223