رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

سوال : آج کل مولانا مودودیؒ کی تفسیر تفہیم القرآن میرے زیرمطالعہ ہے۔ مطالعے کے دوران سورۂ یوسف اور سورۂ نمل سے متعلق کچھ سوالات ذہن میں ابھرے ہیں۔ بہ راہِ کرم ان کا تحقیقی، مدلّل اور تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیے۔ نوازش ہوگی۔

﴿۱﴾ سورۂ یوسف کی ایک آیت : ‘‘جب یوسف اپنے بھائیوں کا سامان لدوانے لگاتو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں خود پیالہ رکھوادیا اور پھر چوری کے الزام میں اسے اپنے پاس روک لیا۔ کیا یہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں ہوا؟ کیاایک شخص نبی ہوتے ہوئے جھوٹ بول سکتا ہے؟ اس بات کو سرسری طورپر نہ لیں۔ کیوں کہ ہم ایک نبی پر ایمان ہی اس بنیاد پر لاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کسی معاملے میں کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔

﴿۲﴾ سورۂ نمل میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کا شاہی تخت، اس وقت جب وہ اپنے محل میں موجود نہیں تھی، اٹھواکر اپنے یہاں منگوالیا۔ اس فعل کو آپ کیوں کر جائز ٹھہرائیں گے؟ بھلا بتائیے، اگر آپ اپنے گھر میں موجود نہ ہوں اور کوئی شخص آپ کی غیرموجودگی میں آپ کے گھر سے آپ کا سامان اٹھالے جائے تو آپ اس عمل کو کیا کہیں گے؟

ظہیراحمد غوری

۵۳،سلونا کالونی، جودھ پور، راجستھان

جواب: آپ کے دونوں سوالات آیاتِ قرآنی کی تاویل و توجیہہ سے متعلق ہیں۔ میں اپنے فہم کے مطابق انھیں حل کرنے کی کوشش کررہاہوں۔

﴿۱﴾ سورۂ یوسف کی متعلقہ آیات کی جو تشریح و تفسیر عام طور سے مفسرین کرام نے کی ہے، اس سے وہ اشکال پیداہونا فطری ہے، جس کاآپ نے تذکرہ کیاہے۔ انھوںنے اسے حضرت یوسف علیہ السلام کا ‘توریہ’ قراردیاہے۔ توریہ اسے کہتے ہیں کہ ایک شخض کوئی ایسی بات کہے ، جو ظاہر میں خلافِ واقعہ معلوم ہو، لیکن حقیقت میں وہ واقعے کے عین مطابق ہو۔ مولانا مودودیؒ کی تشریح بھی دوسرے مفسرین کے مطابق ہے۔ مفسرین نے واقعے کی جو جزئیات بیان کی ہیں، ان پر متعدد اشکالات پیداہوتے ہیں اور الفاظِ قرآنی سے بھی ان کی تائید نہیں ہوتی ہے۔

﴿۱﴾ وہ کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک اسکیم تیار کی اور کامیابی کے ساتھ اس پر عمل کیا۔ جب کہ قرآن مجید اس خفیہ تدبیر کو حضرت یوسفؑ کی طرف نہیں ، بل کہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کَذلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ ﴿اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی﴾

﴿۲﴾ وہ کہتے ہیں کہ بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی حضرت یوسف علیہ السلام نے خود لی اور چوں کہ انھیں معلوم تھاکہ گم شدہ پیالہ ان کے بھائی بنیامین کے تھیلے میں ہے، اس لیے کہ انھوں نے خود رکھا یا رکھوایاتھا، اس لیے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلے کھول کر دیکھے اور سب سے آخر میں بنیامین کاتھیلا کھولا اور اس میں سے پیالہ نکال کر اس پر چوری کا الزام لگادیا۔ جب کہ قرآن مجیدمیں اس کی صراحت نہیں ہے۔ فَبَدَأبِاَوْعِیَتِھِمْ ﴿تب اس نے ان کے تھیلوں کی تلاشی لینی شروع کی﴾ میں ضمیر کامرجع مُؤذِّنٌ ﴿پکارنے والے﴾ کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔بل کہ وہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ وہی قریب ترین اسم ظاہر ہے۔

﴿۳﴾ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی کے سامان میں سِقَایَۃ ﴿پانی پینے کا برتن، پیالہ﴾ رکھاتھا۔ جب کہ سرکاری کارندوں نے بتایاکہ صُوَاع ﴿ناپنے کا برتن، پیمانہ﴾ غائب ہوگیا ہے۔ دونوں موقعوں کے لیے قرآن میں الگ الگ الفاظ کا استعمال ہواہے۔ لیکن مفسرین نے دونوں کو ایک کردیا اور تاویل یہ کی کہ اس برتن کو پہلے پانی پینے کے لیے استعمال کیاجاتاتھا۔ بعد میں اسی کو ناپنے کے لیے استعمال کیاجانے لگا۔ یہ بات نہ عقلی طورپر ہضم ہوتی ہے اور نہ الفاظ قرآنی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ  ایک بڑی مملکت کے سربراہ تھے۔ قحط کے زمانے میں اطراف و اکناف کے ہزاروں ضرورت مندوں کو غلّہ سپلائی کیاجارہاتھا۔ اس لیے یہ بات بالکل بعید ازعقل معلوم ہوتی ہے کہ غلّہ ناپنے کے لیے سرکاری طورپر متعین کردہ کوئی پیمانہ نہ ہو، بل کہ پانی پینے والے ایک کٹورے ہی سے غلّہ ناپ ناپ کر دیاجاتاہو۔ سِقَایَۃ عربی زبان میں اس برتن کو کہتے ہیں، جسے پانی پینے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ مؤنث ہے اور صُواع کا اطلاق اس برتن پر ہوتا ہے، جسے ناپنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ مذکر ہے۔ اسی معنی میں لفظ صاع بھی مستعمل ہے۔ آگے کی آیات میںصواع کے لیے مذکر کی ضمیر ﴿وَلِمَنْ جَآئَ بِہٰ﴾ اور سقایۃ کے لیے مؤنث کی ضمیر ﴿ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا﴾ آئی ہے۔ سرکاری کارندوں کے بیان کے مطابق ان کا صواع غائب ہواتھا، لیکن بنیامین کے تھیلے سے صواع نہیں، بل کہ سقایۃ نکلاتھا۔

قرآنی بیانات پر غور کرنے سے پیش آمدہ واقعات کی درج ذیل ترتیب سمجھ میں آتی ہے:

۱  ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے اصرار پر جب ان کے بھائی اگلے سفر میں ان کے ماں جائے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لائے تو حضرت یوسفؑ نے انھیں اپنے پاس ٹھہرایا، ان کی خوب خاطر مدارات کی اور ان پر ظاہر کردیاکہ میں ہی تمھارا وہ بھائی ہوں، جو کھوگیاتھا اور انھیں تسلّی دی کہ وہ بھائیوں کے جورو ستم پر دل گرفتہ نہ ہوں۔ اس موقع پر اگرچہ حضرت یوسفؑ کی دلی خواہش تھی کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیں، لیکن وہ مصلحتاً ابھی اپنے دوسرے بھائیوں پر خود کو ظاہر نہیںکرنا چاہتے تھے۔ اس لیے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ واپس جانے دیا۔ کیوں کہ بغیر خود کو ظاہر کیے انھیں اپنے پاس روکنا ممکن نہ تھا

۲ ۔ بھائیوں کے قافلے کی واپسی کے وقت انھوںنے ایک پیالہ اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں رکھوادیا۔ تاکہ طویل سفر کے دوران راستے میں پانی پینے کے لیے اسے استعمال کیاجاسکے۔ اِس کی خبر صرف حضرت یوسف ؑ کو تھی یا اس شخص کو جس کے ذریعے انھوںنے اسے رکھوایاتھا۔ بنیامین کو بھی بتانے کی انھوںنے ضرورت نہیں سمجھی کہ راستے میں جب وہ اپنے سامان میںاسے دیکھے گا تو سمجھ جائے گاکہ بھائی نے دیاہے۔ حضرت یوسفؑ کا یہ عمل اسی طرح کاتھا، جس طرح انھوںنے اپنے بھائیوں کے پہلے سفر میں ان کی نقدی کو ﴿جو انھوںنے غلّہ کے عوض دی تھی﴾ ان کے سامان میں رکھوادیاتھا اور سامان کھولنے پر جب انھوںنے اپنی نقدی دیکھی تھی تو سمجھ گئے تھے کہ یہ ‘عزیزمصر’ کی نوازش ہے۔

۳۔ برادرانِ یوسف کے قافلے کے رخصت ہونے کے بعد وہ سرکاری پیمانہ،جس سے غلّہ ناپاجاتا تھا، کہیں کھوگیا۔ کارندے پریشان ہوئے کہ دوسرے قافلے آتے ہوںگے، انھیں کیسے غلّہ ناپ کردیاجائے گا؟ معاً ان کے ذہن میں یہ خیال گزرا کہ ہوسکتاہے کہ جو لوگ ابھی یہاں سے گئے ہیں وہی اٹھالے گئے ہوں۔ فوراً ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو دوڑایاگیا۔

۴۔ ارکانِ قافلہ اور سرکاری کارندوں کے درمیان دو بہ بدو ہونے والی جو گفتگو قرآن نے نقل کی ہے، اس سے سرکاری کارندوں کی پریشانی کا بہ خوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ ان کا یہ غالب گمان تھا کہ اسے انھی قافلہ والوں میں سے کسی نے غائب کیاہے۔انھوںنے پیمانے کو برآمد کرنے کے لیے لالچ سے بھی کام لیا اور دھمکایابھی۔ لالچ یہ دیاکہ ‘‘جو شخص بھی اسے لاکر دے گا اسے ایک شترغلّہ انعام دیاجائے گا۔ اس کا پکّا وعدہ ہے’’ جب ارکانِ قافلہ نے اپنی برأت ظاہر کی تو دھمکی آمیز لہجے میں دریافت کیاکہ اگر کسی کے سامان میں سے نکل آیاتو اس کی کیا سزا ہوگی؟

۵۔جرائم کی سزائیں ہر ملک میں متعین ہوتی ہیں۔ کسی ملک میں جس جرم کا ارتکاب ہوتاہے، اس کی سزا اس ملک کے قوانین کے مطابق دی جاتی ہے۔ چوری کی جو سزا اُس زمانے میں مصر میں دی جاتی تھی، اسی کے مطابق معاملہ کیاجاتا، لیکن سرکاری ملازموں نے خلافِ معمول خودمشتبہ ملزموں سے اس کی سزا پوچھی۔ انھوںنے کہا: ‘اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ غائب چیز نکلے اسے روک لیاجائے’۔ یہی ہے وہ ‘تدبیر ’جو اللہ کی طرف سے حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میںظاہر ہوئی تھی۔ آگے کی آیت  کَذلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ﴿اس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی﴾سے اس کا اشارہ ملتاہے۔

۶۔ برادرانِ یوسف کے تھیلوں کی تلاشی سرکاری کارندوں کے اسی سرغنہ نے لی، جسے گزشتہ آیت میں موذن ﴿پکارنے والا﴾ کہاگیاتھا۔پہلے حضرت یوسفؑ کے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی اور آخر میں بنیامین کے تھیلے کی تلاشی لینا محض اتفاقیہ تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ تلاشی لینے والے کو پہلے سے معلوم ہوتاہے کہ کس تھیلے میں پیالہ رکھاہواہے۔ اس لیے جان بوجھ کر اس نے اس کی تلاشی سب سے آخر میں لی۔

۷۔تلاشی لینے پر کھویا ہوا پیمانہ ﴿صُواع﴾ تو برآمد نہ ہوا، لیکن ایک دوسری چیز ﴿سقایۃ﴾ مل گئی۔ چنانچہ ارکان قافلہ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے پیش کیاگیا اور ان کے سامنے پوری تفصیل بتائی گئی کہ سرکاری پیمانہ کہیں کھوگیاتھا، ان لوگوں پر شبہ ہوا، ان کی تلاشی لینے پر پیمانہ تو نہیں ملا، البتہ یہ پیالہ ان کے سامان میں ملا ہے۔ حضرت یوسفؑ کو یہ بھی بتادیاگیاکہ ان لوگوں سے پوچھاگیاتھاکہ اگر کھوئی ہوئی چیز ان کے سامان میں مل گئی تو اس کی کیا سزا ہوگی؟ انھوں نے کہاتھا کہ جس کے سامان میں سے پیالہ نکل آئے اسے روک لیاجائے۔

۸۔ بنیامین کے سامان میں پیالہ نکل آیاتو برادرانِ یوسفؑ کھسیاگئے۔ اپنی خفّت مٹانے کے لیے وہ فوراً بول پڑے: ‘‘یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا بھائی ﴿یوسف﴾ بھی چوری کرچکا ہے’’۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: فَاَسَرَّھَا یُوْسُفُ فِی نَفْسِہٰ وَلَمْ یُبْدِھَالَھُمْ ﴿آیت: ۷۷﴾ ﴿یوسف ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی﴾۔ مفسرین نے  عام طورپر اس جملے کو پہلے جملے سے متعلق مانا ہے۔ یعنی بھائیوں نے جب چوری کے معاملے میں بنیامین کے ساتھ یوسفؑ  کو بھی لپیٹ لیاتو یوسفؑ کو غصّہ تو بہت آیا، مگر وہ اسے پی گئے اور کوئی ایسی بات نہیں کہی، جس سے حقیقت ظاہر ہوجائے، لیکن صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کا تعلق پورے واقعے سے ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے جب ان کے بھائیوں کا مقدمہ آیاتو اگرچہ انھیں بہ خوبی معلوم تھا کہ پیالے ﴿سقایۃ﴾ کی چوری بنیامین نے نہیں کی ہے، اسے تو انھوں نے خود رکھوایاتھا، لیکن وہ خاموش رہے اور بھائیوں کے سامنے حقیقت حال کا اظہار نہیں کیا۔ اس لیے کہ انھوںنے محسوس کیاکہ مشیّتِ الٰہی سے بنیامین کو اپنے پاس روکنے کی ایک سبیل نکل آئی ہے، جس پر ان کے بھائی بھی چار وناچار تیار ہیں۔ اسی لیے جب ان کے بھائیوں نے منت سماجت کی کہ بنیامین کو چھوڑدیجیے اور اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے تو حضرت یوسفؑ اس پر تیار نہیں ہوئے اور کہاکہ اسی کو روکیں گے، جس کے پاس اپنا سامان پایا ہے۔

اس تفصیل سے واضح ہوجاتاہے کہ حضرت یوسفؑ نے نہ اپنے بھائی پر چوری کاالزام لگایا اور نہ کسی موقعے پر دروغ گوئی سے کام لیا۔ بل کہ واقعات مشیت الٰہی سے خود بخود حضرت یوسفؑ کے حق میں سازگار ہوتے گئے۔

قصہ یوسف کی جو تاویل اوپر کی سطروں میں بیان کی گئی ہے، وہ میرے ذہن کی اپج نہیں ہے، بل کہ بعض قدیم اور جدید مفسرین نے اس کی جانب اشارے کیے ہیں۔ مشہور مفسر امام رازیؒ نے پہلے یہ اشکال قائم کیاہے: ‘‘اگر یہ کہاجائے کہ جو کچھ کیاگیااس کا حضرت یوسفؑ نے حکم دیاتھا یا اس کی انجام دہی بغیر ان کے حکم کے کی گئی تھی؟ اگر وہ ان کے حکم سے ہواتھا تو یہ ایک پیغمبر برحق کے شایانِ شان کیوں کر ہوسکتاہے کہ وہ غلط طور سے کچھ لوگوں پر الزام لگائے، انھیں چور کہے،ان کے بارے میں جھوٹ بولے اور ان پر بہتان لگائے؟ اور اگر دوسری بات ہے، یعنی انھوں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا تو انھوں نے کیوں ان پر لگائے جانے والے الزام کی تردید نہیں کی اور کیوں اس سے ان کی برأت کااظہار نہیں کیا؟ ‘‘پھر اس اشکال کے جواب میں انھوں نے علمائ کی چار توجیہیں نقل کی ہیں۔ان میں سے ایک توجہیہ یہ ہے کہ قرآن میں یہ مذکورنہیں ہے کہ سرکاری ملازموں نے حضرت یوسف ؑکے کہنے پر چوری کا الزام لگایاتھا’’۔ ﴿تفسیر کبیر، المکتبۃ المتوفیقیۃ، قاہرہ، ۸۱/۷۴۱﴾ مولانا اختر احسن اصلاحیؒ نے مذکورہ آیات کی یہی تاویل اختیار کی ہے۔ ﴿ملاحظہ کیجیے مولانا جلیل احسن ندوی، نقوش و تاثرات، دائرہ علمیہ جامعتہ الفلاح بلریاگنج، اعظم گڑھ، مقدمہ﴾ یہ تحقیق نہیں ہوسکی کہ یہ ان کی اپنی رائے تھی یا ان کے استاذ مولانا فراہی کی رائے سے استفادہ تھا۔

﴿۲﴾ قصہ سلیمان ؑو ملکۂ سباکے بارے میں جواشکال آپ نے ظاہر کیا ہے، وہ بھی واقعہ کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اس پر غور کرنے کا نتیجہ ہے۔ کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا دارو مدار اس کے موقع و محل پر ہوتاہے۔ عام حالات میں ایک عمل ناجائز ہوتاہے، مگر وہی عمل بعض مخصوص حالات میں جائز ہوجاتاہے۔ ان مخصوص حالات میں سے ایک حالت جنگ کی ہے۔ مثال کے طورپر عام حالات میں کسی شخص کو قتل کرنا، اس کی مملوکہ چیزوں پر قبضہ کرنا جائز نہیں، مگر حالت ِ جنگ میں دشمن کے تعلق سے یہ دونوں کام جائز ہوجاتے ہیں۔ عام حالات میں پڑوسی مملکتوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر تسلّط جمانا جائز نہیں، مگر حالتِ جنگ میں اس کی اجازت ہے۔ مذکورہ واقعے میں حضرت سلیمان ؑکے ذریعے ملکہ سبا کا تخت شاہی اٹھوالینا عام حالات کا نہیں، بل کہ حالتِ جنگ کا واقعہ ہے۔ قرآن میں اس کی صراحت موجود ہے۔ قرآنی بیان کے مطابق واقعات کی ترتیب درج ذیل ہے:

۱۔مملکتِ سبا میں جو قوم بستی تھی، وہ سیدھے راستے سے بھٹکی ہوئی تھی،سورج کی پرستش کرتی تھی، اللہ کو بھولی ہوئی تھی، شیطان کے بہکاوے میں آکر گندے اور غلط کاموں میں مبتلاتھی۔ وَجَدْتُّھَاوَقَوْمَھَایَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیّنَ لَھُمْ الشَّیْطٰٰنُ اَعْمٰلَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَھُمْ لَایَھْتَدُونَ﴿النّمل:۴۲﴾ ان پر ایک عورت حکم رانی کررہی تھی، وہ بھی گم راہی اور شرک وبت پرستی میں اپنی قوم کے ساتھ شریک تھی۔

وَصَدَّھَا مَاکَانَتْ تَعْبُدُمِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنَّھَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ ﴿النّمل:۳۴

۲۔ حضرت سلیمانؑ علیہ السلام نے انھیں سرکشی کی روش سے بازآنے اور سرِ اطاعت خم کرنے کی دعوت دی: اَلَّاتَعْلُوا عَلَیَّ وَاْتُوْنِی مُسْلِمِیْنَ﴿النّمل:۱۳﴾

۳۔ ملکۂ سبا نے حضرت سلیمانؑکا پیغام ملنے کے بعد اپنے درباریوں اور مملکت کے اعیان و وزرائ سے مشورہ کیا۔ انھوںنے کہاکہ ہم زورآور اور جنگ جو، لوگ ہیں، جنگ کیے بغیر اطاعت نہیں کریں گے :نَحْنُ اُولُوا قُوَّۃٍ وَاُولُوا بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴿النّمل:۳۳﴾

۴۔ ملکہ نے جنگ کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اس کے بُرے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے مصالحانہ روش اختیار کرنے کو ترجیح دی اور حضرت سلیمانؑکی خدمت میں تحائف بھیجنے کاارادہ ظاہرکیا: اِنِّی مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِھَدِیَّۃٍ ﴿النّمل:۵۳﴾

۵۔ حضرت سلیمانؑ نے تحائف قبول نہیں کیے اور فرمایاکہ انھیںاسلام یا اطاعت کے علاوہ اور کوئی چیز منظور نہیں ۔ ساتھ ہی انھوںنے تحائف لانے والے کو واپس کرتے ہوئے جنگ کا اعلان کردیا: اِرْجِعْ اِلَیْھِمْ فَلَنَاْ تِیَنَّھُمْ بِجُنْودٍ لَّاقِبَلَ لَھُمْ بِھَاوَلَتُخْرِجَنَّھُمْ مِّنْھَآاَذِلَّۃً وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ﴿النّمل:۷۳﴾

ملکہ کا تخت شاہی منگوانے کا واقعہ اس کے بعدکا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اس کا تعلق عام حالات سے نہیں، بل کہ حالتِ جنگ سے ہے۔

واقعے کے سیاق میں اس پر بھی غورکرنا چاہیے کہ ملکہ کا تخت شاہی اٹھواکر حضرت سلیمانؑ نے کیا مقصد حاصل کرناچاہاتھا؟ اور کیا اس میں کامیاب ہوئے؟ اس کا مقصدیہ نہیں تھا کہ اس تخت کی تعریف سن کر ان کے منہ میں پانی بھرآیاتھا اور وہ اسے اپنے یہاں اٹھواکر خود استعمال کرناچاہتے تھے۔ اگر ان میں کسی طرح کا لالچ ہوتا تو وہ ملکہ کی جانب سے بھیجے گئے قیمتی تحائف کو واپس نہ کرتے۔ انھیںاللہ تعالیٰ کی جانب سے جو نعمتیں حاصل تھیں، وہ ملکہ سبا کو حاصل آسائشوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ فَمَآ اٰتٰنِی اللّٰہُ خَیْرٌمِمَّآ اٰتٰکُمْ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے شیش محل کو دیکھ کر ملکہ مبہوت ہوکر رہ گئی اور اس کے انتہائی صاف و شفاف اور بلوریں فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔ملکہ کے تخت شاہی کو آناً فاناً اس کے دربار ِ سلیمانی میں پہنچنے سے پہلے منگوانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت سلمانؑ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی طاقتوں کاایسا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے، جسے دیکھ کر وہ محض مطیع اور باج گزار بن کر نہ رہ جائے، بل کہ نعمتِ ایمانی سے بہرہ ور ہوجائے اور ایسا ہی ہوا۔ ملکہ کے پہنچنے پر اس کا تخت بالکل انجان بن کر اسے دکھایاگیاتو وہ فوراً پہچان گئی کہ یہ تو اسی کا تخت ہے۔ اس حیرت انگیز مظاہرے نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایمان جو حضرت سلیمان ؑکی پہلی دعوت پر اسے اپنی رمق دکھاگیاتھا، اس کے دل میں پوری طرح جاگزیں ہوگیا۔ چنانچہ جب اس سے پوچھاگیاکہ کیا یہ آپ کا تخت ہے؟ تووہ بول پڑی : کَاَنَّہ’ ھُوَ وَاُوْتِیْنَاالعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ﴿النّمل:۲۴﴾ ’’یہ تو گویا وہی ہے‘‘۔ ہم تم پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھکادیاتھا’’۔ پھر جب اس نے شیش محل کی حیرت انگیز تعمیر کا مشاہدہ کیاتو بے اختیار اپنے قبول اسلام کا اعلان کردیا۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿النّمل:۴۴﴾

نوٹ :مولانا مودودیؒنے اس واقعے کے سلسلے کے بعض اشکالات کا جواب اپنے ایک مضمون میں دیاہے، اسے تفہیمات جلد دوم ﴿ص: ۹۵۔۱۷﴾ میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau