رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

کیا حج سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟

سوال:عام طورپریہ بات مشہور ہے کہ حج کے بعد حاجی گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے گویاوہ آج ہی ماں کے پیٹ سے پیداہواہے۔ بہ طوردلیل یہ حدیث پیش کی جاتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:‘جو شخص اللہ کی خوش نودی کے لیے حج کرے اور ﴿اثناے حج﴾ فحش گوئی سے بچے اور نافرمانی نہ کرے تو وہ ایسا بے گناہ ہوکر لوٹتاہے جیسے اُس دن بے گناہ تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جناتھا۔ لیکن بعض کتابوں میں میں نے یہ لکھاہوا پایاہے کہ حج ادا کرنے سے کبیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے، ان کی سزا بہرحال مل کر رہے گی۔

اس تضاد کی وجہ سے میں الجھن کاشکارہوگیا ہوں۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں۔

عبدالصمد

فردوس گارڈن، اورنگ آباد ﴿مہاراشٹر﴾

جواب:آپ نے جو حدیث درج کی ہے وہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ اس کا متن یہ ہے:

مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہ’

یہ حدیث سنن ابی دائود کے علاوہ صحاح ستّہ کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ ﴿ملاحظہ کیجیے: بخاری:۱۵۲۱، ۱۸۹۱،۱۸۲۹،مسلم:۱۳۵۰،ترمذی:۸۱۰، نسائی:۲۶۲۸، ابن ماجہ:۲۸۸۹﴾ امام احمدؒ  نے اپنی مسند میں اسے متعدد مقامات پر روایت کیاہے۔ ﴿۲/۹۲۲،۲۴۸، ۴۱۰،۴۸۴، ۴۹۴﴾ امام طبریؒ  نے بھی اپنی تفسیر میں مختلف سندوں سے اس کی روایت کی ہے ﴿تفسیرطبری، دارالمعارف مصر، ۴/۱۵۰-۱۵۲﴾ بعض روایتوں میں حدیث کے آخری حصے کے الفاظ کچھ مختلف ہیں’ مثلاً رَجَعَ کَمَاوَلَدَتْہُ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہٰ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہ‘ وغیرہ۔ اس حدیث کا ظاہری مفہوم جیساکہ حافظ ابن حجرؒ  نے بھی لکھاہے، یہ ہے کہ ‘حج سے انسان کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ یا ان کا تعلق حقوق سے ہو’ ﴿فتح الباری بشرح صحیح البخاری، دارالمعارف مصر، ۳/۳۸۲﴾ لیکن دیگر احادیث بھی پیش نظررہیں تو یہ مفہوم صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اس حدیث کو امام ترمذیؒ  نے جس سند سے روایت کیاہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ غُفِرَلَہ’ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٰ ﴿ترمذی، ابواب الحج عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب ماجائ فی ثواب الحج والعمرۃ،۸۱۰﴾

غفرلہ ماتقدم منہ ذنبہ ﴿اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے﴾ کی بشارت دین کے دوسرے بہت سے کاموں پر بھی دی گئی ہے۔ ان میں سے بعض کام عظیم الشان ہیں تو بعض معمولی درجے کے۔ مثلاً اذان سن کر کلمۂ شہادت پڑھنا، خوب اچھی طرح وضو کرکے حضور قلب کے ساتھ دورکعت نمازپڑھنا، نماز چاشت ادا کرنا، نماز باجماعت میں امام سورۂ فاتحہ پڑھ چکے تو اس کے ساتھ آمین کہنا اور وہ رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے تو رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہنا، ماہ رمضان میں دن میں روزہ رکھنا اور شب میں قیام کرنا، شب قدر میں عبادتوں کا اہتمام کرنا وغیرہ۔ علمائ نے ان احادیث کی تشریح میں لکھاہے کہ ان میں جن گناہوں کی معافی کا تذکرہ ہے، ان سے مراد صغائر ہیں نہ کہ کبائر ﴿المراد بالغفران الصغائر دون الکبائر﴾ ﴿شرح مسلم للنوی، دارالریان القاھرۃ ، ۳/۸۰۱﴾

بعض دیگر احادیث میں اس کی صراحت بھی ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

الصَّلَوَاتُ الخَمْسُ وَالجُمُعَۃُ اِلٰی الجُمُعَۃِ وَرَمَضَاَنَ اِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتُ مَابَیْنَھُنَّ اِذَا اجْتَنَبَ الکَبَائِر َ       ﴿مسلم:۲۳۳﴾

’’کوئی شخص روزانہ پنج وقتہ نمازیں ادا کرے، ہر جمعہ کی نمازپڑھے اور ہر رمضان کے روزے رکھے تو ان کی بہ دولت ان عبادات کے درمیانی عرصے کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اگر وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔‘‘

اسی بناپر علماءنے لکھاہے کہ جن احادیث میں غَفَرَلَہ’ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٰ کے الفاظ آے ہیں ان میں صغائر سے معافی مراد ہے نہ کہ کبائر سے۔ اسی مضمون کی ایک حدیث کی تشریح میں حدیث بالا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالرحمن مبارک پوریؒ  فرماتے ہیں:

’’اس حدیث سے بہ ظاہر معلوم ہوتاہے کہ تمام پچھلے گناہ معاف ہوجائیںگے، لیکن علمائ نے انھیں صرف صغائر پر محمول کیاہے، اس لیے کہ بعض دیگر احادیث میں کبائر کا استثنائ کیاگیاہے۔‘‘ ﴿تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، مکتبہ اشرفیہ دیوبند، ۲/۷۰﴾

شارح صحیح بخاری علامہ قسطلانیؒ  ﴿م۹۲۳ھ﴾ نے زیر بحث حدیث کی شرح میں لکھا ہے:

’’رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہ’کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوجائے گا جس طرح اُس دن اس پر کوئی گناہ نہیں تھا، جب وہ پیداہواتھا۔ اس میں صغائر کبائر اور حقوق سب شامل ہیں۔ یہ بات حافظ ابن حجرؒ  نے کہی ہے۔ تائید میں انھوںنے بعض دیگر احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن طبریؒ  فرماتے ہیں کہ حقوق کی پامالی کے سلسلے میں اسے اس شخص پر محمول کیاجائے گا، جو اس کی تلافی پر قادر نہ ہو، لیکن اسے توبہ کی توفیق مل گئی ہو۔ ترمذیؒ  نے لکھا ہے کہ یہ بشارت مخصوص ہے، ان گناہوں کے سلسلے میں جو خاص طورپر حقوق اللہ سے متعلق ہیں۔ اس سے حقوق العباد ساقط نہیں ہوںگے، بلکہ ان اعمال سے تو حقوق اللہ بھی ساقط نہیں ہوںگے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کے ذمے نمازیا کسی چیز کا کفّارہ یا حقوق اللہ میں سے کوئی دوسرا حق باقی ہوتو وہ اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ معافی کی بات گناہوں کے سلسلے میں کہی گئی ہے نہ کہ حقوق کے سلسلے میں۔ گناہ ان حقوق کی ادائی میں تاخیر کرنے سے لازم آتاہے۔ مثلاً اگر کسی شخص نے حج واجب ہوجانے کے باوجود اس کی ادائی میں تاخیر کی توگناہ گار ہوگا۔ یہ گناہ اداے حج سے ساقط ہوجائے گا۔ یہی معاملہ دیگر حقوق کا ہے کہ ایک بار ان کی ادائی کے بعد اگر بعد میں پھر ان کی ادائی میں تاخیر اور کوتاہی کی گئی تو اس کا گناہ لازم ہوگا۔ پس حج مبرور سے مخالفت کا گناہ ساقط ہوتاہے، نہ کہ حقوق کی عدم ادائی کا’’ ﴿ارشاد الباری شرح صحیح البخاری، مطبع نول کشور کان پور۳۰/۷۹﴾

کبیرہ گناہوں سے معافی کے لیے توبہ ضروری ہے۔ امام نوویؒ  نے لکھاہے:

’’علمائ فرماتے ہیں: توبہ ہرگناہ کے سلسلے میں لازم ہے۔ اگر معصیت کامعاملہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہو اور اس کاتعلق کسی انسان کے حق سے نہ ہو تو اس سے توبہ کی تین شرائط ہیں: ﴿۱﴾گناہ کرنے والا اس معصیت سے بازآجائے۔ ﴿۲﴾اس کے ارتکاب پر نادم ہو۔ ﴿۳﴾عزم کرے کہ پھر کبھی اس کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ اگران تین شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو توبہ صحیح نہیںہوگی اور اگر معصیت کا تعلق کسی انسان سے ہوتو مذکورہ شرائط کے ساتھ ایک چوتھی شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ اس نے صاحبِ حق کا جو حق پامال کیاہے اس کی تلافی کرے۔ اگر مال یا کسی دوسری چیز پر ناحق قبضہ جمایا ہے تو اسے واپس کرے۔ کسی پر کوئی بے جا الزام یا تہمت لگائی ہوتو اسے اختیاردے کہ اس سے بدلہ لے لے یا اسے معاف کردے۔ غیبت کی ہوتو اس سے معافی مانگ لے۔ ضروری ہے کہ آدمی تمام گناہوں پر توبہ کرے۔ اگر وہ اپنے صرف بعض گناہوں کے سلسلے میں توبہ کرتاہے تو اہل حق کے نزدیک صرف انھی گناہوں پر اس کی توبہ مقبول ہوگی اور دیگر گناہ اس کے ذمے باقی رہیں گے۔ وجوب توبہ پر کتاب و سنت میں بہ کثرت دلائل موجود ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ ﴿ریاض الصالحین، دارالکتاب العربی، بیروت، ۱۹۷۳،ص:۱۰-۱۱، باب التوبۃ﴾

اس تفصیل سے معلوم ہواکہ حج سے انسان کے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں سے معافی کے لیے توبہ ضروری ہے اور اگر حاجی نے پہلے کسی انسان کا حق پامال کررکھاہوتو اس کی معافی کے لیے اس کی تلافی بھی ضروری ہے۔ زیربحث حدیث کی تشریح میں علامہ ابن العربی مالکیؒ  نے یہی بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’ہم نے متعدد مقامات پر یہ بات لکھی ہے کہ طاعات صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں، نہ کہ کبیرہ گناہو ں کا۔ جب نماز کبائر کاکفارہ نہیں بنتی تو عمرہ، حج اور قیام رمضان کیسے کبائر کا کفارہ بن سکتے ہیں؟ ہاں یہ عبادات بسااوقات دل پر اس طرح اثرانداز ہوتی ہیں کہ ان سے انسان کو سچی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے اور یہ توبہ اس کے ہرگناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔‘‘ ﴿عارضۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، دارالاحیائ التّراث العربی بیروت ۱۹۹۵جلد چہارم ص:۲۶﴾

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau