رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

عورتوں کے لیے سونے کا استعمال

سوال:نکاح کی ایک مجلس میں ایک بزرگ نے وعظ و نصیحت کی چند باتیں کہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے درمیان رواج پانے والے اسراف اور فضول خرچی پرتنقید کی اور فرمایاکہ ہم اپنی بیٹیوں کارشتہ طے کرتے ہیں تو سب سے پہلے سناروںکی دوکانوں پر پہنچ کر اپنی جیب خالی کردیتے ہیں۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیاکہ کیابیٹیوں کو زیورات نہ دیے جائیں؟ اس کاانھوں نے جواب دیاکہ اگر دینا ہے تو چاندی کے زیورات دیے جائیں۔ اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو ناپسند کیاہے اور ان کے بجائے چاندی کے زیورات استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔ دوسرے صاحب نے اس مضمون کی حدیث کی صحت پر شبہ ظاہر کیاتو تیسرے صاحب نے بتایاکہ یہ حدیث شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کی کتاب ’فضائل صدقات‘میں موجود ہے۔ اس بحثابحثی سے میں کنفیوژن کا شکار ہوگیا ہوں۔ بہ راہ کرام اس مسئلے میں شریعت کی روشنی میں ہماری رہ نمائی فرمائیں۔

محمد سلمان صدیقی

اقرا کالونی، سول لائنس علی گڑھ

جواب: متعدد صحیح احادیث میں صراحت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے زیورات کا استعمال مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال قرار دیاہے۔ مثلاً حضرت ابوموسیؓ ٰسے روایت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہیں۔‘ ﴿نسائی :۵۱۴۴ تا ۵۱۷۴﴾ علامہ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’تم میں سے کوئی شخص جان بوجھ کر آگ کا انگارا اپنے ہاتھ میں پہن لیتاہے۔‘ ﴿مسلم:۲۰۹۰﴾ ایک موقع پر شاہِ حبشہ نجاشی نے آپﷺ کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجے، جن میں سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی۔ آپﷺ نے اسے اپنی نواسی کو دے دیا اور فرمایا: ’بیٹی! لو اسے پہنو‘ ﴿ابوداؤد:۴۲۳۵﴾ علامہ البانیؒ نے اسے حسن الاسنادکہاہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ، بہ حوالہ فتح الباری، شرح صحیح البخاری، ابن حجرعسقلانی، دارالمفرفۃ، بیروت، ۱۰/۳۱۷﴾

اسی کے عین مطابق صحابہ و صحابیات کا عمل تھا۔ چنانچہ صحابیات سونے کے زیورات کا استعمال کرتی تھیں اور صحابہ اپنے گھروالوں اور ماتحتوں کو سونے کے زیورات پہناتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو اتباع سنت کے معاملے میں بہت سخت تھے، اپنی بیٹیوںاور لونڈیوں کو سونے کے زیورات پہناتے تھے۔ ﴿موطا:۱۰۵۰﴾ ام المومنین حضرت عائشہؓ خود سونے کی انگوٹھی پہنا کرتی تھیں۔ امام بخاریؒ نے اس کاتذکرہ اپنی صحیح، کتاب اللباس، باب الخاتم للنساء میں تعلیقاً اور ابن سعد نے الطبقات میں موصولاً کیاہے۔اور وہ اپنی بھانجیوں کو بھی سونے کے زیورات پہنایاکرتی تھیں۔ ﴿احمد فی مسائل عبداللہ ص :۱۴۵﴾ علامہ البانی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیاہے۔

ایک مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عیدکے موقع پر عورتوں کے مجمع میں تقریر فرمائی تو انھیں صدقہ و خیرات پر ابھارا۔ اس وقت حضرت بلالؓ بھی آپﷺ کے ساتھ تھے۔ آپﷺ کا وعظ سن کر عورتیں اپنے زیورات اتارکر حضرت بلالؓ کے حوالے کرنے لگیں۔ ﴿بخاری ۹۸، ۹۷۸، ۹۷۹،۱۴۳۱، ۸۸۰، ۵۸۸۱، ۵۸۸۳، مسلم:۸۸۴، ۸۸۵، ابوداؤد:۱۱۴۱، ۱۱۴۳، ۱۱۴۴، ۱۱۵۹﴾ اس حدیث کی مختلف روایتوں میں عورتوں کے زیورات کے لیے جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں: فتخ ﴿پازیب﴾، خواتیم ﴿انگوٹھیاں﴾، قرط ﴿بالیاں﴾، قُلب ﴿کنگن﴾، خرص ﴿کڑے﴾ اورسخاب ﴿ہار﴾۔ اسی بناپر جمہور علمائ نے عورتوں کے لیے سونے کے ہر طرح کے زیورات کا استعمال جائز قرار دیاہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے لکھاہے: ’جن احادیث میںسونے کی انگوٹھی پہننے کی مخالفت آئی ہے، ان کا تعلق مردوں سے ہے، عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس بات پر اجماع نقل کیاگیاہے کہ اس کا استعمال عورتوں کے لیے جائز ہے۔‘ ﴿فتح الباری،۱۰/۳۱۷﴾

اس کے بالمقابل کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں سونے کی مطلق حرمت مذکور ہے یا ان میں سونے کے زیورات استعمال کرنے والی عورتوں کو عذاب جہنم کی وعید سنائی گئی ہے اور ان کے بجائے چاندی کے زیورات پہننے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسی طرح بعض احادیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والیوںکو زیورات استعمال کرنے سے روکا ہے۔ ان احادیث میں کچھ ضعیف ہیں اور جو صحیح یا حسن ہیں۔ وہ چوں کہ درج بالا احادیث سے ٹکراتی ہیں، اس لیے ان کی صحیح توجیہہ اور دونوں کے درمیان تطبیق دینے کی ضرورت ہے۔

جن احادیث میں سونے کی مطلق حرمت بیان کی گئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

’برباد ی ہو سونے چاندی کے لیے‘﴿احمد، ۵/۳۶۶﴾

’جس نے سونے کا زیور پہنا، اس پر اللہ جنت میں سونے کا زیور حرام کردے گا‘

﴿احمد، ۲/۱۶۶، ۲۰۸،۲۰۹﴾

’کاش! میری امت سونے کے زیورات کااستعمال نہ کرتی‘ ﴿احمد،۳/۲۰۹، ۵/۱۵۳، ۱۵۵، ۱۷۸،۳۶۸﴾،’جو شخص اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتاہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے‘ ﴿حاکم:۴/۱۹۱، احمداور طبرانی نے بھی روایت کیاہے۔ علامہ البانیؒ نے حسن قرار دیاہے﴾، ’جس شخص نے سونے کا چمک دار زیور پہنا یا کسی کو پہنایا اسے روز قیامت اس کے ذریعے داغاجائے گا۔‘ ﴿احمد:۴/۲۲۷﴾،’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونے کا استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔‘ ﴿نسائی:۵۱۵۱ تا ۵۱۶۰ احمد:۴/۱۳۲﴾، ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیاہے۔‘ ﴿بخاری: ۵۸۶۴، مسلم:۲۰۸۹﴾

ان احادیث کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ ان کا خطاب مردوں سے ہے۔ ان میں مردوںکا حکم بیان کیاگیاہے۔ عورتیں اِن سے مستثنیٰ ہیں۔

کچھ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بھی سونے کا زیور استعمال کرنے سے منع کیاہے۔ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

‘تباہی وبربادی ہے عورتوں کے لیے دو سرخ چیزوں کی وجہ سے: سونا اور زعفرانی کپڑا۔ ‘ ﴿ابن حبان، بیہقی، شعب الایمان﴾ علامہ البانیؒ نے اس کی سند کو جیّد کہاہے اور اس حدیث کو اپنی کتاب سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں درج کیاہے۔ انھوں نے علامہ منادیؒ کے حوالے سے اس کی تشریح میں لکھاہے کہ اس سے مراد تمام عورتیں نہیں ہیں، بل کہ یہ بات ان عورتوں کے بارے میں کہی گئی ہے جو سونے کے زیورات اور زعفرانی کپڑے پہن کر اور خوب بناؤ سنگار کرکے بے پردہ ہوکر اور مٹکتی اتراتی ہوئی گھر سے باہر نکلتی ہیں اور فتنے پھیلاتی ہیں۔‘ ﴿سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، مکتبۃ المعارف الریاض، ۱۹۹۵/۵۱۴ھ،۱/۶۶۴﴾

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیںکہ میں ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھا۔ ایک عورت آئی اور اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! سونے کے کنگنوں کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ آگ کے کنگن ہیں۔ اس نے پھر دریافت کیا: اور سونے کاہار؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ آگ کاہارہے۔ اس نے پھردریافت کیا: اور سونے کی بالیاں؟ فرمایا: وہ آگ کی بالیاں ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس وقت وہ عورت سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھی، یہ سن کر اس نے انھیں اتارڈالا۔ اس موقع پر اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! عورت اگر اپنے شوہر کے لیے زیب وزینت اختیار نہ کرے تو وہ اسے ناپسند کرنے لگے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں نہیںکرتی کہ چاندنی کی بالیاں بنالے، پھر انھیں زعفرانی یا عبیر سے رنگ لے۔‘

یہ حدیث سنن نسائی ﴿۵۱۴۲﴾ اور مسند احمد ﴿۲/۴۴۰﴾ میں آئی ہے، لیکن اس کے ایک راوی ابوزید مجہول ہیں، جیساکہ التقریب میں مذکور ہے۔ اس لیے یہ ضعیف ہے۔ ﴿آداب الزفاف فی السنۃ المطہرۃ، محمد ناصرالدین الالبانی، المکتب الاسلامی، بیروت ۱۹۹۴؁ء، ص:۱۶۵﴾

ایک حدیث حضرت اسمائ بنت یزید ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جو عورت سونے کاہار پہنے گی اللہ عزوجل روز قیامت اس کے گلے میں آگ کاہار پہنائے گا اور جو عورت اپنے کان میں سونے کی بالی پہنے گی، اللہ اس کے کان میں آگ کی بالی پہنائے گا۔‘یہ حدیث سنن ابوداؤد ﴿۴۴۳۸﴾ اور سنن نسائی ﴿۵۳۹۱﴾ میں مروی ہے۔ لیکن اس کے ایک راوی محمود بن عمر مجہول ہیں، جیساکہ ذھبی نے بیان کیاہے، اس لیے یہ ضعیف ہے۔ ﴿آداب الزفاف، حوالہ سابق﴾

بعض احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات اور بنات طاہرات کو سونے کے زیورات پہننے سے منع کرتے تھے اور ان کے بجائے چاندی کے زیورات استعمال کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو فرمایا: ’ان کو اتاردو اور ان کی جگہ چاندی کے کنگن استعمال کرو اور انھیں زعفران سے رنگ لو۔‘ ﴿نسائی:۵۱۴۳﴾ اسے خطیب بزار، طبرانی اور سرقسطی نے بھی روایت کیاہے۔ علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیاہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے ایک مرتبہ سونے کا ایک زیور ﴿شعائر﴾ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپﷺ نے منہ پھیر لیا۔ حضرت ام سلمہؓ نے توجہ دلائی کہ دیکھیے، کتنا اچھا لگ رہاہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اسی سے تو منہ پھیر رہاہوں۔ یہ سن کر ام المومنین نے اسے توڑڈالا۔ تب آپؓ نے ان کی طرف رخ کیا۔ اس موقع پر آپﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’تم میں سے کسی کا کیا بگڑجائے گا، اگر وہ چاندی کے بُندے استعمال کرے اور انھیں زعفران سے رنگ لے۔‘ ﴿احمد:۶/۳۱۵﴾ طبرانی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے ملاقات کے لیے ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گلے میں سونے کی ایک زنجیر پڑی ہوئی تھی۔ انھوںنے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: اسے حسن کے ابو ﴿مراد حضرت علیؓ ﴾ نے مجھے تحفے میں دیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اے فاطمہ! کیا تمھیں اس بات سے خوشی ہوگی کہ لوگ کہیں کہ محمد کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے۔‘ یہ فرماکر آپﷺ رکے نہیں اور واپس چلے آئے۔ حضرت فاطمہؓ نے وہ زنجیر بیچ دی اور جو پیسے ملے اس سے ایک غلام خریدکر آزاد کردیا۔ آپﷺ کو پتاچلاتو فرمایا: ’اللہ کاشکر ہے جس نے فاطمہ کو آگ سے بچالیا۔‘

یہ حدیث سنن نسائی ﴿۵۱۴۰﴾ اور مسند احمد ﴿۵/۳۷۸﴾ میں آئی ہے۔ طیالسی، حاکم، طبرانی اور ابن راہویہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ شیخ اسماعیل انصاری ، علامہ شعیب الارناؤوط اور مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے اسے ضعیف قرار دیاہے۔ لیکن علامہ البانیؒ اسے صحیح کہتے ہیں۔ ﴿سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، ۱/۷۷۲﴾ انھوں نے اپنی کتاب آداب الزفاف کے نئے ایڈیشن کے مقدمے میں اسے ضعیف قرار دینے والوں کارد کیاہے۔

ایک روایت میں حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو زیور اور ریشم کے استعمال سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے: ’اگرتم لوگ جنت کا زیور اور ریشم چاہتے ہوتو دنیا میں انھیں نہ پہنو۔‘

اس حدیث کو نسائی ﴿۵۱۳۶﴾ ابن حبان ﴿۱۴۶۳﴾ حاکم ﴿۴/۱۹۱﴾ اور احمد ﴿۴/۱۴۵﴾ نے روایت کیا ہے۔ علامہ البانیؒ نے اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ﴿۱/۶۶۳﴾ میں درج کیاہے۔

درج بالا احادیث کی توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااپنے گھر والوں ﴿ازواج وبنات﴾ کو سونے کے زیورات استعمال کرنے سے منع کرنا اور ان کے بجائے چاندی کے زیورات استعمال کرنے کی ہدایت کرنا ان کے لیے سونے کی حرمت کے سبب نہیں تھا، بل کہ آپﷺ نے جس طرح اپنے لیے فقرو درویشی کو خود اختیاری طورپر پسند فرمایاتھا، اسی طرح آپﷺ کی شدید خواہش تھی کہ آپﷺ کے قریبی افراد بھی مال ودولت کی چمک دمک سے دور رہیں۔ علامہ سندیؒ نے حاشیۂ نسائی میں لکھاہے: ’اس حدیث کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو مطلق زیور سے منع کرتے تھے، چاہے وہ سونے کا ہو یا چاندی کا۔ شاید یہ ان کے ساتھ مخصوص ہے۔﴿بہ حوالہسلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، البانیؒ ، ۱/۶۶۳﴾ کچھ اور احادیث ہیں جن میں مطلق سونے کے زیورات استعمال کرنے پر عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’جو شخص اپنے محبوب کو آگ کا کڑا ﴿حلقہ﴾پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کڑا پہنادے،جو شخص اُسے آگ کا ہار ﴿طوق﴾ پہنانا چاہے وہ اسے سونے کاہار پہنادے اور جو شخص اُسے آگ کا کنگن ﴿سوار﴾ پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنادے، اس کے بجائے تمھیں چاہیے کہ چاندی کا زیور پہناؤ۔‘ ﴿ابوداؤد:۲۴۳۶، احمد:۳۷۸﴾

اس حدیث کو علامہ البانیؒ نے حسن قرار دیاہے اور اس کی بنا پر اور اس مضمون کی دیگر احادیث کے پیش نظر ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کامطلق استعمال جائز نہیں ہے۔ بل کہ بعض مخصوص طرح کے سونے کے زیورات ﴿حلقہ، طوق اور سوار﴾ ان کے لیے بھی حرام ہیں۔

کہاگیاہے کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے، اس لیے کہ اس کے ایک راوی ﴿اُسید﴾ میں ضبط کے معاملے میں کمی تھی۔ علامہ البانیؒ کہتے ہیں کہ اس کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ جو کچھ کمی ہے وہ متعدد شواہد ومتابعات سے دور ہوجاتی ہے۔ اس لیے یہ حدیث حسن ہے۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ اس حدیث کاخطاب مردوں سے ہے۔ لیکن البانیؒ نے اس کی بھی تردید کی ہے اور کہاہے کہ حدیث کا خطاب عورتوں سے ظاہر ہے، اس لیے کہ اس میں چاندی کے زیور استعمال کرنے کا حکم ہے اور چاندی کا زیور مردوں کے لیے جائز نہیں ہے۔ انھوںنے اپنی کتاب آداب الزفاف میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے اور ان لوگوں پر نقد کیاہے جو سونے کے زیورات کو عورتوں کے لیے مطلق حلال قرار دیتے ہیں۔

﴿آداب الزفاف، ص:۱۵۱ – ۱۵۷، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ،۱/۶۶۲﴾

اس معاملے میں علامہ البانیؒ کاموقف کم زور معلوم ہوتاہے۔ ابتدا میں جو احادیث نقل کی گئی ہیں، ان کی رو سے سونے کے ہر طرح کے زیورات کا استعمال عورتوں کے لیے جائز ہے، جن احادیث میں سونے کے زیورات پرغداب کی وعید سنائی گئی ہے، ان کی ایک توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ یہ احادیث ابتدائی زمانے کی ہیں اور منسوخ ہیں۔ کیوں کہ دیگر احادیث سے عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کے استعمال کاجواز ثابت ہے۔ دوسری توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ یہ وعید ان زیورات کے بارے میں ہے جن کی زکوٰۃ نہ ادا کی گئی ہو۔ ﴿معالم السنن شرح سنن ابی داؤد، ابوسلیمان الخطابی، المطبعۃ العلمیہ حلب، ۳۳۹۱، ۴/۵۱۲-۶۱۲، الترغیب والترہیب، حافظ منذری، دارالحدیث قاھرۃ، ۱۹۸۷؁ء، ۱/۵۵۷﴾ اس توجیہہ کی تائید بعض ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیاگیاہے اور ادا نہ کرنے کی صورت میں عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

چنداحادیث درج ذیل ہیں:

حضرت اسماء بنت یزیدؓ فرماتی ہیں: ’میں اپنی خالہ کے ساتھ خدمتِ نبویﷺ میں حاضر ہوئی۔ ہم دونوں سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے ہم سے دریافت فرمایا: کیا تم اس کی زکوٰۃ نکالتی ہو؟ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تمھیں اس کاڈر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے گا۔ ان کی زکوٰۃ نکالاکرو۔ ﴿احمد، ۶/۴۶۱﴾ اس مضمون کی حدیث دیگر کتب حدیث میں بھی مروی ہے۔مثلاً:﴿ابوداؤد:۱۵۶۳، ترمذی:۶۳۷، نسائی:۲۴۸۱﴾

ام المومنین حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ سونے کے چمکیلے زیورات استعمال کرتی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ ’کنز‘ ہے ﴿جس کے رکھنے پر عذاب جہنم کی وعید سنائی گئی ہے﴾ آپﷺ نے فرمایا: اگر یہ نصابِ زکوٰۃ تک پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے تو کنزنہیں ہے۔‘ ﴿ابوداؤد :۱۵۶۴﴾ علاّمہ البانیؒ نے اسے حسن قرار دیاہے﴾ اور یہ بات صرف سونے کے زیورات کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بل کہ بعض روایات کے مطابق آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے زیورات کے سلسلے میں بھی یہی ہدایت دی ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھوں میں چاندی کے کڑے ﴿فتخات﴾ دیکھے تو فرمایا: عائشہ! یہ کیا؟ میں نے عرض کیا: انھیں میں نے آپ کے لیے زینت اختیار کرنے کے مقصد سے پہناہے۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں، یا کبھی کبھی۔ فرمایا: یہ عذاب جہنم کے لیے کافی ہیں۔ ﴿ابوداؤد:۱۵۶۵﴾

ایک توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ زیورات کے سلسلے میں اصلاً ریا کاری اور دکھاوا ممنوع ہے۔ خواہ وہ سونے کے ہوں یا چاندی کے۔ ﴿الترغیب والترہیب:۱/۵۵۸﴾ چوں کہ چاندی کے زیورات عموماً سستے ہوتے ہیں اس لیے عورتیں ان میں دکھاوا نہیںکرتیں اور سونے کے زیورات عموماً بہت مہنگے ہیں، اس لیے عورتیں عموماً اپنی شان بگھارنے کے لیے ان کا دکھاوا کرتی ہیں۔ حدیث میں اس سے منع کیاگیاہے اور اس پر عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

اس کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اے عورتوں کی جماعت! کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتاکہ چاندی کے زیورات استعمال کرو۔ تم میں سے جو عورت بھی سونے کا زیور پہنے گی اور اس کا دکھاوا کرے گی اس کو عذاب دیاجائے گا۔ ﴿ابوداؤد:۴۲۳۷، نسائی:۵۱۳۷،۵۱۳۸﴾ اس کی سند میں ایک راوی ربعی بن خراش کی بیوی مجہول ہے۔ اس لیے علامہ البانیؒ نے اسے ضعیف قرار دیاہے۔

بعض محدثین اس توجیہ کے حق میں ہیں۔ امام نسائی نے اس مضمون کی چند احادیث پر یہ ترجمۃ الباب ﴿عنوان﴾ قائم کیاہے: باب الکراہیۃ للنسائ فی اظہار الحلی و الذھب ﴿اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش مکروہ ہے﴾ اور امام دارمیؒ نے درج بالا حدیث پر یہ عنوان لگایاہے: باب فی کراہیۃ اظہار الزینۃ ﴿اس چیزکا بیان کہ عوررتوں کے لیے زینت کااظہار مکروہ ہے﴾

مولانا محمدزکریاؒ نے اپنی کتاب فضائل صدقات میں حضرت اسمائ بنت یزیدؓ سے مروی حدیث، جس میں سونے کا ہار یا بالی پہننے والی عورت کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، نقل کی ہے اور اس کی تشریح کے ضمن میں اس مضمون کی دیگر احادیث ذکر کی ہیں، جنھیں اوپر نقل کیاجاچکا ہے اور ان کی توجیہات کی ہیں۔ یہاں احادیث کو حذف کرتے ہوئے ان کی توجیہات کاخلاصہ ذیل میں درج کیاجاتاہے:

’اس حدیث شریف سے عورتوں کے لیے بھی سونے کاپہننا جائز اور حرام معلوم ہوتاہے۔ اسی وجہ سے بعض علماء نے اس کو ابتدائے اسلام پر محمول کیاہے۔ اس لیے کہ سب علماءکے نزدیک دوسری احادیث کی بنا پر عورتوں کے لیے سونے چاندی کا زیور جائز ہے، لیکن بعض علماء نے اس حدیث کو اور اس جیسی احادیث کو زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر محمول فرمایاہے۔ بعض علماء نے ان روایات کی وجہ سے جن میں زکوٰۃ کا ذکر نہیں ہے اور سونے چاندی میں فرق کیاگیاہے، یہ بھی فرمایاہے کہ اس سے تکبر، تفاخر اور اظہار مراد ہے اور یہ بات عام طور سے مشاہدے میں آتی ہے کہ عورتوں کے یہاں چاندی کا زیور، بالخصوص جو عورتیں اپنی جہالت سے اپنے کو اونچے خاندان کی سمجھتی ہیں، کچھ وقعت اور اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ چاندی کے زیور کو کوئی اظہار یا تفاخرکی چیز نہیں سمجھتیں۔ ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن ہوں تو ذرا بھی ان کو اس کے اظہار کا داعیہ پیدا نہ ہو، لیکن سونے کے کنگن ہوں تو بے وجہ پچاس مرتبہ مکھی اڑانے کے بہانے سے ہاتھ ہلائیں گی۔ بیس مرتبہ دوپٹہ درست کرنے کے واسطے ہاتھ کو پھیریں گی اور اس حرکت سے محض دوسرے پر تفاخر مقصود ہوتاہے، اپنے زیور کو دکھانا ہوتاہے۔ لہٰذا دونوں باتوں کااہتمام بہت ضروری ہے کہ زیور سے تفاخر اور تکبر اور اس کااظہار ہرگز نہ ہوناچاہیے اور اس کی زکوٰۃ بہت اہتمام سے ادا کرنی چاہیے اور دونوں میں سے اگر کوئی سی ایک بات کابھی لحاظ نہ رکھاجائے تو اپنے آپ کو عذاب کے لیے تیار رکھناچاہیے۔‘ ﴿فضائل صدقات، حصہ اول، ص:۲۵۷-۲۵۹﴾

زیورات کے مسئلے پر بہ طور خلاصہ الموسوعۃ الفقہیۃ کویت کی درج ذیل عبارت نقل کی جاتی ہے:

’فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت کے لیے سونے چاندی کے ہر طرح کے زیورات کااستعمال جائز ہے۔ مثلاً گلوبند، ہار، انگوٹھی، کنگن، پازیب، تعویذ، بازوبند، پٹّا، مالا اور ہر وہ چیز جو گلے میں پہنی جاتی ہے اور جسے عورتیں عموماً استعمال کرتی ہیں اور وہ اسراف کی حد کو نہ پہنچے یا اس میں مردوں سے مشابہت نہ ہو۔‘ ﴿الموسوعۃ:۱۸/۱۱-۱۱۲﴾

فروری 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau