رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

ایک آیت کا صحیح مفہوم

سوال:سورۃ الدھر کی ایک آیت ہے:

نَحْنُ خَلَقْنٰھُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَھُمْ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلًا۔ (آیت:۲۸)

’’ہم نے ہی ان کو پیدا کیاہے اور ان کے جوڑبند مضبوط کیے ہیں اور ہم جب چاہیں ان کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں۔‘‘

اس آیت کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے لکھا ہے:

اصل الفاظ ہیں: وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلًا۔ اس فقرے  کے کئی  معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کرکے انہی کی جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لاسکتے ہیں، جواپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اُسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں، کسی کو لقوہ مارجائے اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہوکر اپاہج ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد ان کو دوبارہ کسی اور شکل میںپیدا کرسکتے ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن، ۶؍۲۰۴-۲۰۳)

مولانا مودودیؒ نے اپنی تشریح میں آیت کے جو تیسرے معنیٰ بتائے ہیں، کیا اس سے برادرانِ وطن کے پنرجنم کے عقیدے کا اثبات نہیں ہوتا؟

جواب:اس آیت میں آخرت کا انکار کرنے والوں کو دھمکی دی گئی ہےاور اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بھرپور اظہار ہوتاہے۔ مفسرین کرام نے اس کی تشریح کرتے ہوئے توضیح مدعا کے لئے دیگر آیات بھی پیش کی ہیں۔ اس آیت کے ایک معنیٰ یہ ہوسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ چاہے تو کسی کو ہلاک کرکے اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے۔ اس مضمون کی قرآن میں متعدد آیات ہیں۔ مثلاً:

اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِآخَرِیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا ۔ (النساء: ۱۳۳)

’’اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔‘‘

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ۔ (محمّد:۳۸)

’’اگرتم منہ موڑوگے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔‘‘

اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِ کُمْ مَّا یَشَآءُ کَمَآ اَنْشَاکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ آخَرِیْنَ۔ (الانعام:۱۳۳)

’’اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دووسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے، جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے۔‘‘

اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ وَّمَا ذٰلِکَ عَلَۜی اللہِ بِعَزِیْزٍ۔ (ابراہیم،۱۹-۲۰)

’’وہ چاہےتو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایساکرنا اُس پر کچھ دشوار نہیںہے۔‘‘

فَلَااُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ عَلَی اَنْ نُبَدِّلَ خَیْراً مِّنْھُمْ وَمَانَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ (المعارج: ۴۰-۴۱)

’’پس نہیں، میں قسم کھاتاہوں ، مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اس پر قادر ہیںکہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔‘‘

اس آیت کے دوسرے معنیٰ یہ ہوسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کی صورتیں بدل دے۔ وہ جب اس بات پر قادر تھا کہ ان کو عدم سے وجود بخشے تو ایک صورت سے دوسری صورت میں ڈھال دینا اس کے لئے کیا مشکل ہے؟

اس مضمون کی بھی قرآن میں متعدد آیتیں ہیں ۔ مثلاً:

وَمَانَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ وَنُنْشِئَکُمْ فِیْ مَالَا تَعْلَمُوْنَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشَاۃَ الْاٰوْلٰی فَلَولَاتَذَکَّرُوْنَ۔(الواقعہ: ۶۰-۶۲)

’’اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیداکردیں جس کو تم نہیں جانتے۔ اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو، پھر کیوں سبق نہیںلیتے۔‘‘

وَلَوْنَشَآءُ لَمَسَخْنٰھُمْ عَلٰٓی مَکَانَتِھِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیَّاوَّ لَایَرْجِعُوْنَ۔ (یٰسٓ: ۶۷)

’’ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کرکے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں۔‘‘

صورتوں کی یہ تبدیلی مرنے سے پہلے اس دنیا میں بھی ممکن ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کے وقت بھی۔ اسی مؤخر الذکر معنیٰ کو مولانا مودودیؒ نے آیت سے مستنبط ہونے والا تیسرا معنیٰ قرار دیا ہے۔ دیگر مفسرین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، مثلاً ملاحظہ کیجئے علامہ آلوسی کی تفسیر روح المعانی۔

اِس تیسرے معنیٰ کو لیں تو بھی اس سے برادرانِ وطن کے عقیدۂ پُنرجنم یا آواگمن کااثبات نہیں ہوتا۔ پُنرجنم کا عقیدہ تو یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد پھر اِسی دنیا میں دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے اعمال اور کرموں کے مطابق اس کاظہور دوسری صورت میں ہوتا ہے۔ جب تک انسان کو موکش (نجات) نہیں مل جاتی اس وقت تک وہ اپنے اعمال کے مطابق دنیا میں آتا رہے گا۔ یہ آواگمن چوراسی لاکھ یونیوں میں ہوتا ہے۔ یعنی یہ ایسا چکر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، جب کہ  زیر بحث آیت میں عقیدۂ آخرت کا اثبات کیاگیا ہے۔ اس سےپہلے کی آیت میں ان لوگوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے جو دنیاوی زندگی میں مگن ہیں، اسی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور آخرت کی زندگی کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب اس نے پہلی بار انہیں اس دنیا میں وجود بخشا ہے اور ان کی صورت گری کی ہے تو مرنے کے بعد دوبارہ آخرت میں انہیں پیداکرنا اور دوسری شکل وصورت دینا اس کے لیے کیوں کر مشکل ہے؟ مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس آیت کی تشریح میں اسی پہلو کو نمایاںکیا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’یہ ان مخالفین کے لیے دھمکی بھی ہے اور اس میں قیامت پر ان کے سب سے بڑے شبہ کا جواب بھی ہے۔ ان کا سب سے بڑا شبہ، جو قرآن میں بار بار نقل ہوا ہے، یہی تھا کہ مرنے اور مٹی میں رَ ل مِل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں! فرمایا کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ بند اور رگ پٹھے مضبوط کیے تو جب ہم ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے اور اس سے وہ انکار نہیں کرسکتے تو ہم جب چاہیں گے پھر ان کے رگ پٹھے از سر نو مضبوط کرکے ان کو اٹھا کھڑا کریں گے۔ جب پہلی بار ہم کو اس کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو وہی کام ہمارے لئے دوبارہ کیوں مشکل ہوجائے گا۔ ‘‘ (تدبرقرآن، تاج کمپنی، دہلی ۱۹۸۹ء، ۹؍۱۲۰)

والدین کی وفات کے بعد ان کے لئے دُعائے مغفرت

سوال: میری والدہ کا پندرہ روز قبل انتقال ہوگیا۔ میں اُس وقت باہرتھا۔ ان سے اپنی کوتاہیوں کی معافی نہیں مانگ سکتا۔ اب کیاکروں؟

جواب: والدین کی زندگی میں اولاد کا فرض ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور ان کی خدمت اور خبر گیری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ قرآن وحدیث میں اس کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَقَضَی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔ (بنی اسرائیل:۲۳)

’’تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔‘‘

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی طلب میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کی بیعت کرناچاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا : ہاں، دونوں زندہ ہیں۔ آپؐ نے اس شخص سے پھر سوال کیا: کیا تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟ اس نے جواب دیا: ہاں تب آپؐ نے فرمایا: فَارْجِعْ اِلَیْھِمَا فَاَحْسِنْ صُحْبَتَھُمَا(مسلم:۲۵۴۹) ’’تب اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان کی اچھی طرح خدمت کرو۔‘‘

آدمی پوری زندگی والدین کی خدمت کرتا رہے، لیکن ان کی زندگی کے آخری لمحات میں وہ کسی وجہ سے ان کے پاس نہ ہو، اس وجہ سے ان سے اپنی کوتاہیوں کی معافی نہ مانگ سکے تو کوئی حرج نہیں، ان کی دُعائیں اس کی ترقیٔ درجات کا ذریعہ بنیںگی، لیکن اگر وہ پوری زندگی ان سے غافل رہے، ان کے حقوق ادا نہ کرے، بلکہ بات بات پر ناگواری کااظہار کرے، لیکن زندگی کے آخری لمحات میں رسم دنیا نبھانے کے لیے اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے بیٹھ جائے تو ایسی معافی تلافی کس کام کی؟

والدین کی وفات کے بعد اولاد کے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان کے لیے  برابر دُعائے مغفرت کرے اور ان کی طرف سے وقتاً فوقتاً صدقہ وخیرات کرتا رہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ: اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْعِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہِ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْلَہٗ۔‘‘(مسلم: ۴۳۱۰)

’’جب کسی انسان کا انتقال ہوجاتا ہے، تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، مگر تین کاموں کا ثواب اسے بعد میں بھی ملتا رہتا ہے۔ (۱)صدقۂ جاریہ (۲)علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے (۳)نیک اولاد، جو اس کے لئے دُعائے مغفرت کرتی رہے۔‘‘

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دریافت کیا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری ماں کاانتقال ہوگیا ہے۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کو اس کا اجر ملے گا؟ آپ نے جواب دیا: ہاں، تب انہوں نے عرض :کیا میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ گواہ رہیے کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کردیا۔‘‘ (ترمذی ۶۶۹، ابوداؤد:۲۸۸۴، نسائی:۳۶۵۵)

امام ترمذیؒ نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : ’’اس حدیث کی بنا پر اہل علم کی رائے ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اسے اجر وثواب ملنے کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے۔ ہاں ،کوئی اُس کی طرف سے صدقہ کرے  یا اس کے حق میں دُعا کرے تو اس کا اسے فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘

کیا قرض کی واپسی اضافہ کے ساتھ جائز ہے؟

سوال: ایک حدیث نظر سے گزری جس کامضمون کچھ یوں ہے:

’’حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا۔ جب آپؐ نے وہ واپس کیا تو کچھ بڑھا کر دیا۔‘‘ (ابوداؤد)

کیا اس سے سود کا جواز نہیں نکل رہا ہے؟ یا اس کامطلب یہ ہے کہ قرض کی واپسی کے وقت اگر بغیر فی صد طے کیے زیادہ دیاجائے تو وہ سود نہیں ہے ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خوشی سے حضرت جابرؓ کو کچھ ہدیہ دینا چاہتے تھے تو کیا اسے قرض کی واپسی کے وقت ہی دینا ضروری تھا؟ میں اس حدیث کو قرآن کے مطابق تسلیم کروں یا اس کے خلاف؟ بہ راہِ کرم میرے اس اشکال کو رفع فرمادیں۔

جواب:حدیثِ رسولؐ اگر صحیح ہو تو اس کے بارے میں توجیہ اور تطبیق کاذہن بنانا چاہئے، نہ کہ اس پر اعتراضـ کرنے، شبہ وارد کرنے اور اسے قرآن کے خلاف سمجھ کر رد کردینے کا۔

یہ حدیث سنن ابی داؤد (۳۳۴۸) میں جس سند سے مروی ہے، اسے علامہ البانیؒ نے صحیح قرا ر دیا ہے۔ اس کےعلاوہ یہ صحیح بخاری (۴۴۳،۲۳۹۴)، صحیح مسلم (۱۶۸۹)اور سنن بیہقی (۱۱۲۶۱، ۱۲۳۰۸)میں بھی آئی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی احادیث دیگر صحابہ سے مروی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر ایک شخص سے ایک اونٹ قرض لیا تھا۔ اس نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ آپ نے اس کی ادائی کا حکم دیا۔ آپ کو بتایاگیا کہ ویسا اونٹ تو نہیں ہے، ہاں، اس سے اچھا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی کو دے دو۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا:

فَاِنَّ خَیْرَکُمْ اَحْسَنُکُمْ قَضَاءًا (بخاری: ۲۳۹۰)

’’تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو ادائی بہتر طریقے سے کریں۔‘‘

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:

فَاِنَّ مِنْ خِیَارِ النَّاسِ اَحْسَنُھُمْ قَضَاءً ا (بخاری:۲۳۹۲)

’’بہترین لوگ وہ ہیں جو ادائی بہتر طریقے سے کرتے ہیں۔‘‘

حضرت جابرؓ سے مروی حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجرعسقلانیؒ اور علامہ شوکانیؒ دونوں نے لکھا ہے:

’’ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنا قرض لیاگیا ہو اس سے بڑھ کر واپس کرنا جائز ہے، اگر معاملہ میں اسے مشروط نہ کیاگیا ہو۔ لیکن اگر قرض لیتے وقت اس میں اضافہ کے ساتھ واپسی کی شرط لگائی گئی ہو تو یہ حرام ہے۔ اس پر جمہور علماء کا اتفاق ہے۔ (فتح الباری، شرح صحیح البخاری، دارالمعرفۃ بیروت، ۵؍۵۷، نیل الاوطار)

اس سے معلوم ہواکہ سود کا اطلاق  اس زیادتی پر ہوتا ہے جسے قرض کے لین دین کے وقت طے کرلیا گیا ہو اور اس کی ادائی قرض لینے والے پر لازم ہو۔ لیکن اگر زیادتی کے ساتھ قرض کی واپسی مشروط نہ ہو اور قرض لینے والا اپنی خوشی سے اس میں کچھ بڑھا کر واپس کرے تو یہ نہ صرف جائز ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے پسندیدہ ہے۔

عبادات اور دینی امور میں لاؤڈاسپیکر کا استعمال

سوال: لاؤڈ اسپیکر کااستعمال ان دنوں بہت عام ہوگیا ہے۔ مساجد میں نماز کے دوران امام صاحب پوری آواز کے ساتھ اس کا استعمال کرتے ہیں، چاہے چند نمازی ہوں یا بڑا مجمع ہو۔ بعض علماء وعظ ونصیحت کے لئے مسجد کے لاؤڈاسپیکر کو استعمال کرتے ہیں، جس سے مسجد کے اطراف میں رہنے والے متاثر ہوتے ہیں، جن میں امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ، شدید بیمار لوگ اور غیر مسلم حضرات بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کا استعمال نعت خوانی اور دیگر مذہبی تقریبات کے لیے پبلک مقامات پر ہوتا ہے اور اس میں دن اور رات کی کوئی قید نہیں رکھی جاتی۔ بعض دینی  جماعتیں شاہ راہوں اور چوراہوں پر اپنے کیمپ لگا کر اپنے مجوزہ اجتماعات یا مصیبت زدہ مسلمانوں کی امداد کی خاطر عطیات جمع کرنے کے لیے اعلانات کرتے وقت لاوڈاسپیکر کا پوری قوت سے استعمال کرتی ہیں۔

بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں۔ کیا دینی وشرعی اعتبار سے لاؤڈ اسپیکر کا اس طرح استعمال جائز ہے؟

جواب:لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں احتیاط ملحوظ رکھنی چاہئے۔ اگر اس کا استعمال مسجد میں باجماعت نماز کے لیے ہورہا ہو تو اسے اسی وقت لگایا جائے جب مجمع اتنا بڑا ہو کہ بغیر اس کے تمام نمازیوں تک امام صاحب کی آواز نہ پہنچ سکتی ہو۔ لیکن اگر صرف چند نمازی ہوں تو لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں۔

مسجد یا کسی ہال میں کوئی دینی اجتماع ہورہا ہو تو لاؤڈ اسپیکر کی آواز اتنی تیز رکھنی چاہئے کہ وہاں موجود لوگ اچھی طرح سن سکیں۔ وہاں ہونے والے خطبات ومواعظ کی آواز کو آبادی میں دور دور تک پہنچانے کے لئے لاؤڈاسپیکر کا Volumeتیز رکھنا مناسب نہیں۔ اس لیے کہ آبادی میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں، جن کے معمولات میں تیز آواز سے خلل ہو یا انہیں اذیت پہنچے۔ اسی طرح پبلک مقامات، شاہ راہوں اور چوراہوں پر مذہبی اجتماعات یا دیگر پروگرام منعقد کرتے وقت بھی خیال رکھنا چاہئے کہ راہ چلنے والوں یا آس پاس میں رہنے والوں کو کسی طرح کی زحمت نہ ہو اور وہ تکلیف یا پریشانی محسوس نہ کریں۔ اس سلسلے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہ۔(بخاری :۶۰۱۸، مسلم ۱۸۳)

’’جو شخص اللہ اور روز آخرت پرایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔‘‘

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ راستے میں وہ کسی اونچے مقام پر چڑھتے یا کہیں نشیبی جگہ میں اُترتے تو زور زور سے نعرۂ تکبیر بلند کرتے، اسی طرح جب وہ واپس ہوئے تو مدینہ سے قریب پہنچنے پر بھی بلند آواز سے نعرے لگانے لگے۔ اس موقع پر آپ نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:

اَیُّھَا النَّاسُ، ارْبَعُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ، اِنَّکُمْ لَیْسَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلَاغَائِبًا، اِنَّکُمْ تَدْعُوْنَ سَمِیْعًا قَرِیْبًا وَھُوَ مَعَکُمْ۔

(بخاری، ۶۲۳۶، مسلم،۷۰۳۷)

’’لوگو، ٹھہرو، تم کسی بہرے یا غیرحاضر کو نہیں پکار رہے ہو، تم جس ذات کی کبریائی بیان کررہے ہو، وہ ہر بات سننے والا اور قریب ہے اور وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے۔‘‘

اگر آبادی مخلوط ہو اور ساتھ ہی دیگر مذاہب کے ماننے والے رہتے ہوں تو اس معاملے میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لاپروائی سے بسااوقات نہ صرف دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی اور نفرت پیدا ہوتی ہے، بلکہ کبھی معاملہ اشتعال انگیزی اور تنازعہ  تک پہنچ جاتا ہے۔

ستمبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau