رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا

سوال:جو لوگ حج کے لیے جاتے ہیں وہ وہاں اپنے اعزّہ کی طرف سے عمرے کرتے ہیں۔ کیا صرف انتقال کرجانے والے اعزّہ کی طرف سے عمرہ کیاجاسکتاہے یا زندوں کی طرف سے بھی عمرہ کرنے کی اجازت ہے؟

جواب: فقہائے کرام نے فی الجملہ دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنےکو جائز قرار دیا ہے، اس لیے کہ عمرہ حج کی طرح بدنی عبادت ہونے کے ساتھ مالی عبادت بھی ہے اورشریعت میں مالی عبادت کی دوسرے کی جانب سے انجام دہی کو جائز قرار دیاگیا ہے۔ البتہ اس کی تفصیلات میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔

حنفیہ کہتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا اس وقت صحیح ہوگا جب وہ ایسا کرنے کو کہے۔ مالکیہ کے نزدیک دوسرے کی طرف سے عمرہ مکروہ ہے، لیکن اگر کرلیاجائے تو ادا ہوجائے گا۔ شوافع کہتےہیں کہ دوسرے کی طرف سےعمرہ کرنا اس وقت صحیح ہے جب اُس شخص پر عمرہ واجب رہا ہو اور اس کی ادائی سے قبل اس کا انتقال ہوگیا ہو، یا نفلی عمرہ وہ خود نہ کرسکتا ہو۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ کسی میت کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے، البتہ کسی زندہ شخص کی طرف سے عمرہ اس وقت صحیح ہوگا جب اس نے ایسا کرنے کو کہا ہو۔( تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت،  ۳۲۸/۳۰۔۲۳۹)

احرام باندھنےکاطریقہ سیکھنا

سوال:ہمارے ایک عزیز امسال حج پر جانے والے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار احترام باندھ کر دیکھ لیں، تاکہ انھیں اس کاطریقہ معلوم ہوجائے اور عین موقع پر کوئی پریشانی نہ ہو۔

کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار احرام باندھنے سے وہ کپڑا مستعمل ہوجائے گا اور دوبارہ اس سے احرام باندھنا درست نہ ہوگا۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: آج کل تقریباً ہر شہر میں حج تربیتی کیمپ منعقد ہوتاہے، جس میں مناسک حج کی ادائی کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، تاکہ دوران حج کسی عمل کی انجام دہی میں غلطی نہ ہو۔ یہ ایک اچھی خدمت ہے۔ حج پر جانے والوں کو اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

حج تربیتی کیمپ میں یا اس سے باہر کسی موقع پر احرام باندھنے کاطریقہ سیکھ لینا اچھا ہے۔ اِس موقع پر اُس کپڑے کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، جس سے دورانِ حج احرام باندھنا مقصود ہے۔ احرام کا کپڑا پاک ہو، یہ ضروری ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ بالکل نیا ہو اور اسے پہلے کبھی نہ استعمال کیاگیا ہو۔

خرید و فروخت مکمل ہونے کے بعد معاملہ کی منسوخی

سوال: ایک صاحب نے ترکے میں ایک مکان چھوڑا، جوان کے پانچ بیٹوں میں تقسیم ہوگیا اور سب اپنے اپنے حصوں پر قابض ہوگئے۔ بعد میں ایک صاحب نے اس مکان کو خریدنے کاارادہ کیا۔ چار بھائی تو اپنا اپنا حصہ فروخت کرنے پر راضی ہوگئے، لیکن ایک بھائی نے انکار کردیا۔ وہ صاحب پورا مکان خریدنے کے خواہش مند تھے۔ انھوںنے چار بھائیوں سے ان کے حصے خرید لیے اور پوری طے شدہ رقم بھی ادا کردی، لیکن نہ وہ حصے خالی کرائے نہ اپنے نام منتقل کرائے۔ انھوںنے کہاکہ ابھی آپ لوگ اپنے حصوں میں رہیے۔ میں پانچواں حصہ بھی خریدنے کی کوشش میں ہوں۔ جب میں اسے بھی خرید لوںگا تو پورے مکان کی ایک ساتھ رجسٹری کرالوں گا اور تبھی آپ لوگ اپنے حصے خالی کردیجیے گا۔

بالآخر ایک سال کے بعد وہ صاحب مکان کاپانچواں حصہ بھی خریدنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن انھیں چاروں حصے کے مقابلے میں کچھ زیادہ رقم ادا کرنی پڑی۔ اب جب انھوںنے پچھلے چاروں بھائیوں سے کہاکہ مکان خالی کردیں اور اسے میرے نام منتقل کرادیں تو ان میں سے ایک بھائی نے ایسا کرنے سے انکارکردیا۔ اس نے کہاکہ اب میں اپنا حصہ فروخت نہیں کروںگا، اپنی رقم واپس لے لیں یا جتنی زیادہ رقم پانچویں بھائی کو دی گئی ہے اتنی مجھے مزید دیں۔ بہ حالت مجبوری ان صاحب نے مزید رقم اس شخص کو دی، تب معاملہ رفع دفع ہوا۔

اس تفصیل کی روشنی میں بہ راہ کرم مطلع فرمائیں کہ کیا فروخت کنندہ کو اپنی پوری مطلوبہ رقم ملنے کے باوجود، اپنا قبضہ ہونے کی صورت میں خریدار کی مرضی کے بغیر بیع منسوخ کرنے کی اجازت ہے؟ اور کیا خریدو فروخت کا معاملہ مکمل ہوجانے کے ایک سال کے بعد مزید رقم کا مطالبہ کرنا درست ہے؟

جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

البَیِّعَانِ بِالخِیاَرِ مَالَمْ یَتَفَرَّقَا (بخاری:۲۰۷۹، مسلم: ۱۵۳۲)

’’فروخت کنندہ اور خریدار، دونوں میں سے ہر ایک کو، خریدو فروخت کامعاملہ مکمل ہونے سے پہلے معاملہ منسوخ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔‘‘

اس کامطلب یہ ہے کہ معاملہ مکمل ہونے کے بعد یہ اختیار ختم ہوجاتا ہے۔

سوال میںدرج تفصیل سے ظاہر ہے کہ چار بھائیوں سے ان کے حصے کے مکان کی خریدو فروخت کا معاملہ مکمل ہوگیاتھا۔ اس کے ایک سال بعد پانچویں بھائی سے اس کے حصے کے مکان کا معاملہ کیاگیا۔ اس معاملہ کا سابقہ معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اگر اِس موقع پر زیادہ رقم کی ادائی پر معاملہ طے ہوا ہے تو اس کی بنا پر سابقہ معاملہ کے فریق چاروں بھائیوں میں سے کسی کا مزید رقم کامطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

خلاصہ یہ کہ سابقہ معاملہ کا کوئی فریق نہ تو دوسرے فریق کی مرضی کے بغیر اس کو منسوخ کرسکتا ہے اور نہ بعد میں ہوئے معاملہ کاحوالہ دے کر مزید رقم کا مطالبہ کرنا اس کے لیے جائز ہے۔

بیوہ بہو اور یتیم پوتیوں کو ہبہ

سوال:میرے ایک رشتہ دار ہیں، جن کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے، مرحوم کی بیوہ کے علاوہ پانچ (۵) لڑکیاں ہیں۔دو (۲) لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہے اور ایک لڑکی کی شادی بقرعید کے بعد ہے، دو (۲) چھوٹی لڑکیاں ہیں۔ مرحوم کے چھ (۶) بھائی اور دو (۲) بہنیں ہیں۔ مرحوم کے والد کافی ضعیف ہوچکے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کردینا چاہتے ہیں۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا دادا اپنی بیوہ بہو اور اس کی لڑکیوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ دے سکتا ہے یا انھیں کوئی حصہ نہیں ملے گا؟

جواب: میراث، وصیت اور ہبہ کے سلسلے میں شریعت کے احکام درج ذیل ہیں:

۱۔            کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیت کی تمام چیزیں (مکان، جائیداد، نقد وغیرہ) اس کے وارثوں (بیوہ، بیٹے، بیٹیاں، باپ، ماں وغیرہ) کے درمیان تقسیم ہوںگی۔

۲۔           کسی شخص کی زندگی میں اس کے ایک بیٹے کا انتقال ہوجائے اور وہ شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم نہ کرے تو اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکے میں مرحوم بیٹے کی بیوہ اور اس کی اولاد کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔ اس پر جمہور امت کا اتفاق ہے۔

۳۔           کوئی شخص اپنےوارثوں کے علاوہ دوسروں کے حق میں وصیت کرسکتا ہے۔ لیکن یہ وصیت صرف ایک تہائی مال کی ہوسکتی ہے۔ اس سے زیادہ کسی کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔

۴۔           کوئی شخص اپنی زندگی میں حسبِ ضرورت جس کو جتنا مال دینا چاہے، دے سکتا ہے۔ اس کو شریعت میں ہبہ کہتے ہیں۔

اس تفصیل کی رَو سے آپ کے رشتہ دار اپنے مرحوم بیٹے کی بیوہ اور یتیم پوتیوںکو حسب ضرورت جتنا مناسب سمجھیں، دے سکتے ہیں۔

ریاحی مرض میںمبتلا شخص نماز کیسے پڑھے؟

سوال:ایک صاحب کو ایک ایسا مرض ہے کہ انھیں تھوڑی تھوڑی دیر میں ریاح خارج ہوتی رہتی ہے۔ وہ علاج کرارہے ہیں،مگر اب تک کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا ہے۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں کہ وہ نماز کیسے پڑھیں؟ کیا انھیں، جب بھی ریاح خارج ہو، وضوکرنا ہوگا، یا ان کے لیے کچھ رخصت ہے؟

جواب: نماز کی صحت کے لیے آدمی کا باوضو ہونا ضروری ہے۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لاَیَقْبَلُ اللہ صَلَاۃَ اَحَدِکُمْ اِذَا اَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ (بخاری:۱۳۵)

’’اللّٰہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز نہیں قبول فرماتا، اگر اس کا وضو نہ ہو، جب تک کہ وہ وضونہ کرلے۔‘‘

البتہ مریضوں اور معذوروں کے لیے اس سلسلے میں رخصت ہے۔ مرض مختلف طرح کے ہوسکتے ہیں۔مثلاً:

استحاضہ:   اس مرض میں عورت کو ماہ واری کے مخصوص ایام کے بعد بھی خون آتا رہتا ہے۔

سلس البول:اس مرض میں مثانہ کم زور ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے پیشاب کے قطرے مسلسل ٹپکتے رہتے ہیں۔

سلس الریح: اس مرض میں تھوڑی تھوڑی دیر میںریح خارج ہوتی رہتی ہے۔

عہدِ نبویؐ میں بعض خواتین کو استحاضہ کا مرض تھا۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کاحکم دیاتھا۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی جُبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا مرض ہے، میں پاک نہیں ہوپاتی ہوں۔ کیا میں اس عرصہ میں نماز نہ پڑھوں؟ آپؐ نے فرمایا: یہ زائد خون ہے، حیض نہیں ہے۔ جب حیض شروع ہوتو نماز نہ پڑھو، جب وہ ختم ہوجائے تو غسل کرلو، پھر نماز پڑھو۔‘‘ اس حدیث کو حضرت عائشہؓ سے ان کے بھتیجے عروہ بن زبیر نے اور عروہ سے ان کے بیٹے ہشام نے روایت کیا ہے۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ نے آگے یہ حصہ بھی روایت کیا ہے: ’’پھر ہر نماز کے لیے وضو کرو، جب اس کا وقت آجائے‘‘ (بخاری: ۲۲۸، مسلم:۳۳۳)

ایک دوسری خاتون ام حبیبہ بنت جحشؓ تھیں، جو ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ کی بہن تھیں۔ انھیں بھی استحاضہ کا مرض تھا اور انھیں بھی اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی مشورہ دیاتھا۔(ابودائود:۳۰۵)

فقہائے کرام نے سلس البول اور سلس الریح جیسے مریضوں کو مستحاضہ (وہ عورت جسے مدتِ حیض کے بعد بھی خون آتا ہو) پر قیاس کیا ہے۔ ان سب کےلیے حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کریںگے اور اس پورے وقت میں باوضو سمجھے جائیںگے۔ مثلاً ظہر کا وقت شروع ہوتو وضو کرلیں، اسی وضو سے وہ ظہر کی فرض نماز کے علاوہ سنن و نوافل بھی ادا کرسکتے ہیں۔ پھرعصر کا وقت شروع ہوتو انھیں دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔

غسل کے بعد پاؤں دھونا

سوال:ہمارے گھروں میں یہ ماحول ہے کہ غسل کرنے کے بعد آخر میں ٹھنڈا پانی پیروں پر ڈالاجاتا ہے۔ گھر کے بڑے بوڑھے سب کو اس کی تاکید کرتے ہیں۔ کیا یہ صحت کے لیے مفید ہے؟ کیا طبِ نبویؐ سے یہ بات ثابت ہے؟

جواب: غسل کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنے دنوں ہاتھوں کو گٹّوں سمیت دھوئے، پھر اپنی شرم گاہوں کو دھوئے، پھر جسم پر یا کپڑے پر، جہاں نجاست لگی ہو، اسے دھو ڈالے، پھر پورا وضو کرلے۔ اگر کسی تختے یا پختہ زمین پر نہارہاہےتو وضو میں پیروں کو بھی دھو ڈالے اور اگر کسی کچی جگہ پر نہارہا ہےتو پھر پیروں کو آخر میں دھوئے۔ وضو کرنے کے بعد سارے بدن پر تین بار پانی بہائے۔ پہلی بار پانی بہانے کے بعد سارے بدن پر ہاتھ پھیرے، تاکہ جسم کاکوئی حصہ سوکھا نہ رہ جائے، پھر دوبارہ اور سہ بارہ بدن پر پانی بہائے۔

(اسلامی فقہ، مولانا مجیب اللّٰہ ندوی، تاج کمپنی دہلی ۱۹۹۲، ۱۷۰/۱۔۱۷۱)

اس سے معلوم ہواکہ غسل کے بعد پیر دھونے کی ضرورت صرف اس صورت میں ہے جب وہ جگہ، جہاں آدمی غسل کررہاہے، صاف ستھری نہ ہو، مثلاً زمین کچی ہو، کیچڑ ہو اور پیر میں مٹی، کیچڑ لگا رہ جائے، لیکن اگر آدمی غسل خانے میں یاپختہ زمین پر غسل کررہاہو تو غسل کے بعد پیر دھونے کی ضرورت نہیں۔ طب نبویؐ میں اس کاذکر نہیں ملتا۔

شادی گھر غیرمسلموں کو کرایے پر دینا

سوال:میرا ایک شادی گھر ہے، جسے میںکرایے پر اٹھاتاہوں۔ بسااوقات غیرمسلم بھی اسے کرایے پر لیتے ہیں۔ وہ لوگ شادی کے موقع پر کچھ پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں۔ کیا یہ جانتے ہوئے میں انھیں شادی گھر کرایے پر دے سکتا ہوں؟

جواب: اگر غیرمسلم کسی خاص موقع پر صرف پوجا پاٹ اور دیگر شرکیہ مراسم کی ادائی کے لیے شادی گھر کرایے پر لینا چاہیں تو اس کے لیے انھیں شادی گھر فراہم کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ کفر و شرک کے معاملات میں ان کا تعاون کرنا ہے، لیکن اگر وہ شادی کے لیے اسے کرایہ پرلینا چاہیں تو انھیں دیا جاسکتا ہے، چاہے معلوم ہوکہ وہ شادی کے موقع پر کچھ پوجا پاٹ بھی کریںگے۔

تقسیمِ میراث کے بعض مسائل

سوال:میرے شوہر کا ابھی حال میں انتقال ہوا ہے۔ وہ ایک گورنمنٹ کالج میں ٹیچر تھے۔ دس سال قبل وہ ریٹائرڈ ہوگئے تھے اور انھیں پنشن مل رہی تھی۔ گورنمنٹ کے ضابطہ کے مطابق ریٹائرڈ ملازم کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ کو نصف پنشن ملتی ہے اور اس کے انتقال کے بعد اگر اس کی کوئی بیٹی غیرشادی شدہ یا بیوہ ہو تو اس کو منتقل ہوجاتی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب مجھے جوپنشن ملے گی، کیا شرعی اعتبار سے یہ پوری کی پوری میری ملکیت ہوگی یا اس میں دیگر وارثان کا بھی حصہ ہوگا؟ میرے شوہر کی پنشن کا کچھ ایریر بھی ملنے کی امید ہے۔ بہ راہ کرم بتائیں کہ کیا اس پر صرف میرا حق ہوگا یا دیگر وارثوں کابھی اس میں حصہ ہوگا؟

میرے کئی لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ سب شادی شدہ ہیں۔ اگر وہ گھر کے سامانوں میں سے اپنے اپنے لیے کچھ چیزیں پسند کرلیں تو کیا وہ انھیں لے سکتے ہیں؟ کسی شخص کے انتقال کے بعد فوراً اس کے ترکے کی تقسیم کو سماج میں پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھاجاتا۔ تو کیا تقسیمِ میراث کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیاجاسکتا ہے یا فوراً اس کی تقسیم ضروری ہے؟

جواب: تقسیمِ میراث میں وہ تمام چیزیں شامل ہوںگی جو مرنے والے کی ملکیت میں ہوں۔ چنانچہ پنشن کی وہ رقم، جو اس کے اکائونٹ میں ہو، ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی۔ اسی طرح پنشن کے ایریر کی کچھ رقم اگر ریٹائرڈ ملازم کے انتقال کے بعد اس کے اکائونٹ میں آئے تو اس میں بھی اس کے تمام ورثاء کا حصہ ہوگا۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ کو جو نصف پنشن ملتی ہے، وہ پوری کی پوری بیوہ کی ملکیت ہوگی، اس میں دیگر وارثان کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔ یہ حکومت کی طرف سے ایک سہولت ہے، جو وہ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کے انتقال کے بعد ان کی بیوائوں کو دیتی ہے۔

مالِ وراثت چاہے کم ہو یا زیادہ، اسے بہ ہرحال وارثوں کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے:

لِّلرِّجَالِ نَصیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء  نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الوَالِدٰنِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْکَثُرَ نَصِیْباً مَّفْرُوضاً     (النساء:۷)

’’مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیےبھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت۔ اور یہ حصہ (اللّٰہ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘

البتہ اگر کوئی وارث اپنی خوشی سے اپنا حصہ چھوڑدے، یا سب مل کر کسی مستحقِ وراثت یا کسی دوسرے شخص کو مالِ وراثت میں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کی اجازت ہے۔

کسی شخص کے انتقال کے بعد فوراً اس کی میراث کی تقسیم ضروری نہیں، حسبِ سہولت اسے کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیاجاسکتا ہے، لیکن محض سماج کے خوف سے تقسیم میراث میں تاخیر کرنا پسندیدہ نہیں۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے، اس لیے اس پر جتنی جلد ممکن ہو، عمل کرنا چاہیے۔ اس سے ان شاء اللّٰہ حکم الٰہی پر عمل کا ثواب بھی ملےگا اور سماج میں ایک اچھی اور قابلِ تقلید مثال بھی قائم ہوگی۔

نومبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau