رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

 تعمیر مسجد سے متعلق بعض مسائل

سوال: (۱) ایک  صاحب نے مسجد کی تعمیر کے لئے ایک پلاٹ وقف کیا تھا۔ اس پر مسجد کی تعمیر کی گئی تو کچھ جگہ باقی بچ گئی۔ کیا اس جگہ پیش امام صاحب یا مؤذن صاحب کے لیے رہائش گاہ بنائی جاسکتی ہے جس میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ سکیں، جبکہ یہ جگہ مسجد سے متصل مغربی جانب ہے۔ٕ

(۲) مسجد کے لیے جو پلاٹ وقف کیا گیا تھا اس سے متصل مشرق کی جانب کچھ کھلی جگہ اہل محلہ کے لیے چھوڑی گئی تھی۔ مسجد کی تعمیر کے وقت اس میں سے کچھ حصہ مسجد میں شامل کرلیاگیا۔ اس وقت کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ مسجد صرف اتنی جگہ پر تعمیر کی جائے جو اس کے لیے وقف ہے، لیکن تعمیری کام کے ذمے داروں نے ان کی بات کو نظرانداز کردیا اور کچھ زائد جگہ شامل کرکے اس پر مسجد تعمیر کرلی۔ کیا اس زائد جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے؟

(۳)مسجد کے سامنے مشرق کی جانب کالونی کی کھلی جگہ ہے۔ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے تو لوگ اس کھلی جگہ بھی نماز پڑھتے ہیں ۔ کیا نمازیوں کی آسانی کے لیے وہاں چبوترہ بنایا جاسکتا ہے؟

جواب:(۱) مسجد کے لیے کوئی اراضی خریدی گئی ہو یا کسی نے وقف کی ہو، اس پر مسجد کی اصل عمارت کے ساتھ دیگر متعلقہ تعمیرات (مثلاً وضو خانہ، طہارت خانہ، مؤذن کا کمرہ، امام کا کمرہ وغیرہ) کی جاسکتی ہیں۔ اس کے لیے نہ اس صراحت کی ضرورت ہے کہ اسے مسجد کی اصل عمارت کے لیے دیا گیا ہے یا دیگر کاموں کے لیے اور نہ کسی وقف کرنے والے کے لیے مسجد کی اصل عمارت کے لیے خاص کرکے وقف کرنا مناسب ہے۔ وہ اسے مسجد کے لیے وقف کرے اور  حسب ضرورت اسے مسجد سے متعلق کسی کام میں استعمال کیا جائے۔

(۲) مسجد کی تعمیر کسی مشتبہ یا نامعلوم جگہ پر کرنا شرعی و دینی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے اور سماجی اور حکومتی طور پر بھی۔ ایسا کرنے سے بعد میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بسااوقات حکومت کی طرف سے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے تو مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے مسجد کی تعمیر صرف اس جگہ پر اور اتنی ہی جگہ پر کی جائے جتنی مسجد کے لیے خریدی گئی ہے، یا اسے کسی نے وقف کیا ہے۔ کسی مشتبہ زمین پر اگر مسجد کا کوئی حصہ تعمیر کرلیاگیا ہے تو یاتو اسے جلد ازجلد  Legalizeکرلیا جائے یا اس سے دستبردار ہوجایا جائے۔

(۳) مسجد بھر جائے اور اس میں نمازیوں کے لیے جگہ باقی نہ رہے تو مسجد کے باہر سڑکوں، راستوں پر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ایسی جگہوں پر ، جو مسجد کی ملکیت میں نہ ہو، پڑھی گئی نماز درست ہے، لیکن اس جگہ چبوترہ بنانا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ یہ چیزبعد میں تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔

نکاح کا ایک مسئلہ

سوال:ایک خاتون کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اس سے ایک بچی تھی۔ خاتون نے بعد میں ایک ایسے مرد سے نکاح کرلیا، جس کی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا۔ مرحومہ سے ایک لڑکا تھا۔ کیا اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکا ح ہوسکتا ہے؟

جواب: جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کی فہرست سورہ نساء میں مذکور ہے۔ ان میں بہن بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ ……. (النساء:۲۳)

’’تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں……،،

نسبی رشتے سے بہن کی تین قسمیں ہیں:

(۱) سگی بہن (یعنی لڑکے اور لڑکی کی ماں  بھی ایک ہو اور باپ بھی)

(۲) علّاتی بہن (یعنی دونوں کا باپ ایک ہو، لیکن ماں الگ الگ ہوں)

(۳) اخیافی بہن (یعنی دونوں کی ماں ایک ہو، لیکن باپ الگ الگ ہوں)

ان تینوں قسموں پر بہن کا اطلاق ہوتا ہے اور ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔ بہ الفاظ دیگر نسبی حرمت اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب لڑکے اور لڑکی دونوں کا، والدین یا ان میں سے کسی ایک میں اشتراک ہو۔

سوال میں جو صورت ذکر کی گئی ہے اس میں لڑکے اور لڑکی کے ماں اور باپ الگ الگ ہیں ،اس لیے ان دونوں کے درمیان آپس میں نکاح ہوسکتا ہے۔

بیوی کے ترکے میں شوہر کا حصہ

سوال:ایک صاحب کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ ان سے کئی بچے تھے۔ انھوں نے بعد میں دوسری شادی کرلی۔ مرحومہ کے زیورات اور ان کی ملکیت کی دیگر چیزیں انھوں نے دوسری بیوی کو دے دیں۔ ان سے کہا گیا کہ ان میں تو مرحومہ کے بچوں کا بھی حصہ تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ تمام زیورات اور دیگرچیزیں میں نے ہی خرید کر دی تھیں اور میں ہی برابر ان کی زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہوں۔

بہ راہ کرم واضح فرمائیں، کیا ان کا یہ عمل صحیح ہے؟ اور مرحومہ کے بچوں کا ان کے ترکہ میں کوئی حق نہیں بنتا؟

جواب: عورت کا انتقال ہوجائے اور اس کے پسماندگان میں شوہر اور بچے ہوں تو ترکہ میں شوہر کا حصہ ایک چوتھائی ہے ۔ (النساء: ۱۲) بقیہ ترکہ بچوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں دوگنا ملے گا‘‘۔ (النساء: ۱۱)

زیورات خرید کر اگر شوہر بیوی کو دے اور ساتھ ہی صراحت کردے کہ ان کا مالک میں رہوں گا، تمھیں صرف استعمال کے لیے دے رہا ہوں تو اس کی بات مانی جائے گی، لیکن اگر وہ صراحت نہ کرے تو عُرف کا اعتبار کیا جائے گا۔ شوہر کا بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان پر اس کی ملکیت قائم ہے۔ بیوی کو اپنے زیورات کی زکوٰۃ خود ادا کرنی چاہئے، لیکن اگر اس کی طرف سے شوہر ادا کردے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

ہبہ اور وصیت

سوال: ایک صاحب اپنی ملکیت کا ایک تہائی حصہ وصیت کرچکے ہیں۔ ان کے کئی لڑکے ہیں۔ ایک لڑکا ان کا بڑا خیال رکھتاہے، عرصہ دس سال سے ان کی ہر طرح سے خدمت کر رہا ہے، جبکہ دیگر لڑکے ان کا اتنا خیال نہیں رکھتے۔ وہ اپنے اُس لڑکے کو، جو ان کی خدمت کرتا ہے، اپنی ملکیت کا مزید کچھ حصہ ہبہ کرناچاہتے ہیں۔ چوں کہ ہبہ کی رجسٹریشن فیس بہت زیادہ لگ جاتی ہے جبکہ وصیت کی رجسٹری کرانے میں معمولی خرچ آتا ہے۔ جب تک ہبہ نامہ رجسٹرڈ نہ ہو، عدالت اسے تسلیم نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں کیا ہبہ کی جگہ وصیت کی جاسکتی ہے۔

وہ صاحب چاہتے ہیں کہ اپنے بڑے لڑکے کو جو کچھ دینا چاہتے ہیں، اس پر اسے قبضہ دے دیں اور اس کے حق میں ہبہ نامہ بھی لکھ دیں۔ لیکن پختگی کے لیے اسے بہ شکل وصیت رجسٹرڈ کروا دیں۔ کیا ان کا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب: کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کا ایک تہائی حصہ وصیت کرسکتا ہے، لیکن یہ وصیت کسی وارث کے حق میں جائز نہیں ہے۔ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح فرمان ہے:

لَا وَصیۃَ لِوَارِثٍ۔ (ترمذی: ۲۱۲۰، نسائی: ۳۶۴)

’’کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے‘‘۔

ہبہ اور وصیت میں فرق ہے۔ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دوسرے شخص کو اپنی ملکیت کی کوئی چیز بطور تحفہ دے دے اور اسے مالک بنا دے۔ جبکہ وصیت میں وہ چیز، دینے والے کی زندگی میں اس کی ملکیت اور تصرف میں رہتی ہے اور اس کے مرنے کے بعد، وہ شخص جس کے حق میں وصیت کی گئی ہے، اس چیز کا مالک بنتا ہے۔ محض اس وجہ سے کہ ہبہ کی رجسٹریشن فیس زیادہ ہے اور وصیت کی کم، اس لیے ہبہ کو بہ شکل وصیت رجسٹرڈ کرانا صحیح نہیں ہے۔

کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کی چیزوں میں سے جو بھی چاہے دوسرے کو ہبہ کرسکتا ہے، لیکن اس معاملے میں اپنی اولاد کے درمیان تفریق کرنا، کسی کو نوازنا اور دوسروں کو محروم رکھنا درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(بخاری: ۲۵۸۶، مسلم: ۱۶۲۳)

کسی شخص کی اولادوں میں سے بعض معاشی اعتبار سے مضبوط اور بعض کمزور ہوسکتے ہیں۔ وہ کمزور اولاد کی مدد کرسکتا اور اسے سہارا دے سکتا ہے، لیکن یہ کام اگر وہ اپنے دوسرے لڑکوں کو اعتماد میں لے کر کرے تو انھیں شکایت نہیں ہوگی اور باہم اعتماد ، محبت اور ہمدردی کی فضا قائم رہے گی۔

والدین کی خدمت کرنا، ان کا خیال رکھنا اور ان کی تمام ضرورتیں پوری کرنا اولاد پر فرض ہے۔ جو اس میں کوتاہی کرتا ہے وہ گنہگار ہوگا اور جو یہ تمام کام خوش دلی سے بڑھ چڑھ کر انجام دیتا ہے وہ بارگاہ الٰہی میں اجر وانعام کا مستحق ہوگا۔ والدین کو چاہئے کہ وہ محض اس بنیاد پر کہ ان کی اولادوں میں سے کون ان کی زیادہ خدمت کرتا ہے اور کون انھیں نظرانداز کرتا ہے، ان کے درمیان تفریق نہ کریں اور سب کے ساتھ برابر کا سلوک کریں۔

جنوری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau