اسلامی دہشت گردی کی حقیقت

عبد الرشید گلو

موجودہ دور میں کچھ اسلامی ملکوں کے اندر مخصوص قسم کی لڑائیاں پیدا ہوئیں،جنھیں اب اسلامی دہشت گردی کے نام سے جانا جاتاہے۔ ان لڑائیوں کو کچھ دلائل سے بظاہر ثابت بھی کیاجاتاہے کہ یہ اسلامی دہشت گردی ہے۔ اگرچہ کثیر تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو اس کی مدافعت کے لیے کام کرتے ہیں مگر اپنی کوتاہ فکری کی وجہ سے وہ اس میں ناکام رہتے ہیں اور غالب تاثر یہی باقی رہتاہے کہ یہ لڑائیاں واقعتہً اسلامی دہشت گردی نظرآنے لگتی ہیں۔

یہ لڑائیاں کیوں کسی مسلمان ملک میں پیدا ہوتی ہیں، اس کی وجہ بالکل صاف ہے۔ وہ یہ کہ کسی مسلم ملک میں شدید قسم کی بیرونی مداخلت یا فوجی حملہ۔ مثلاً چھے سال پہلے عراق اندرونی طورپر پرامن ملک تھا جیسے ہی اس پر بیرونی حملہ ہوا، یہ دہشت گرد کارروائیوں کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔

وہ دلائل جن سے کسی مسلم قوم کی بیرونی مداخلت کے خلاف کی جانے والی مزاحمت کو اسلامی دہشت گردی قرار دیاجاتاہے،انتہائی بے وزن اور مضحکہ خیز ہیں۔ وہ یہ ہیں: ﴿۱﴾مسلمان ان لڑائیوں کو جہاد کہتے ہیں ﴿۲﴾جو یہ لڑائیاں لڑتے ہیں، انھیں‘مجاہد’ کہتے ہیں ﴿۳﴾جو ان لڑائیوں میں مرتے ہیں، انھیں ‘شہید و شہدائ’ کہتے ہیں ﴿۴﴾ان لڑائیوں میں مرنے والوں کو ‘جنتی’ بھی کہتے ہیں۔ ہمارے کچھ دانش ور ان دلیلوں کو صحیح مانتے ہیں۔ان کا نظریہ ہے کہ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ مسلمان غیرملکی قبضے کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں مگر چوںکہ مسلمان واضح طورپر ان لڑائیوں کو جہاد کہتے ہیں اور اپنے آپ کو مجاہد کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اور ان لڑائیوں کو شہید ہونے کی صورت میں جنت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بناتے ہیں، اس لیے یہ جنگجو خود اس بات کے لیے ذمے دار ہیں کہ ان کی آزادی کی جنگ اسلامی دہشت گردی قرار دی جائے۔

برصغیر میں جو انگریزوں کے خلاف ۱۸۵۷کا غدر ہوا، اس کو بھی جہاد ہی کہاگیاتھا۔ جو لوگ اس لڑائی میں مارے گئے تھے، ان کو اس وقت بھی اور آج بھی دینی یا قرآنی لفظ شہید ہی سے یاد کیاجاتا ہے۔ جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ جہاد کو جنت حاصل کرنے کاذریعہ بتانا، یہ دراصل صرف جنگجو مسلمان کا نہیں، بلکہ ہر مسلمان کا ایمان ہوتاہے کہ نیک کام سے جنت ملتی ہے۔ بُرے کام سے دوزخ ۔دوسرے مذاہب کے پیروکاربھی کسی نہ کسی طرح کی دوسری زندگی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کااظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔

ابھی تک یہاں ان چار دلائل کو پیش کیاگیا، جنھیں کچھ غیرمسلم حکومتیں استعمال کررہی ہیں۔ ان دلائل میں جہاد، مجاہد، شہید اور جنت جیسے دینی الفاظ کو ایک خاص ڈھنگ سے زیربحث لایا جاتاہے اور نتیجہ بھی برآمد کیاجاتاہے کہ ان مسلم ملکوں کے اندر واقعی اسلامی دہشت گردی ہورہی ہے۔ لیکن کچھ دلائل ایسے بھی ہیں جنھیں مسلمانوں کی ان لڑائیوںکو غیراسلامی قرار دینے کے لیے پیش کیاجاتاہے، وہ یہ ہیں: ﴿۱﴾غیرحکومتی سطح کی دفاعی لڑائی کسی بھی عذر کی بنیاد پر اسلام میں حرام ہے ﴿۲﴾جنگ میں خودکش کارروائی کرنا اسلام میں حرام ہے ﴿۳﴾درپردہ جنگ اسلام میں حرام ہے۔ انھی سے متعلق یہاں بالترتیب بات ہوگی۔

کہاجاتاہے کہ حکومتی سطح کی لڑائی کسی بھی عذر کی بنیاد پر اسلام میں حرام ہے۔ دفاعی لڑائی تو اسلام میں جائز ہے مگر اس میں یہ فرق پیدا کرنے کی کوشش کرنا کہ صرف حکومتی سطح پر دفاعی لڑائی جائز ہے، غیرحکومتی سطح پر کسی بھی عذر کی بنیاد پر جائز نہیں، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کسی مسلمان ملک میں حکومت کی موجودگی میں یہ زیادہ ترحالات میں کہاجاسکتا ہے کہ عوام اور تنظیموں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے فیصلے کی بنیاد پر کسی حریف ملک کے خلاف جنگ چھیڑیں، چاہے اس حریف ملک نے مسلمانوں کو کوئی نقصان ہی پہنچایا ہو۔ ایسا کرنے سے دراصل وہ حکومت ہی ختم ہوتی ہے، جس کی یہ عوام اور تنظیمیں رعایا ہوتی ہیں۔ لیکن کسی مسلم ملک میں بیرونی حملے سے حکومت ہونے کے بعد یہ کہنا کہ اب اس ملک کے مسلم عوام کے لیے کسی بھی عذر کی بنیاد پر عسکری مدافعت جائز نہیں، کئی بڑے سوال پیدا کرتاہے۔ اگر ہم صرف یہ عذر لیں کہ حملہ آور ملک نے عام لوگوں کو پرامن رہنے کی صورت میں بھی مارڈالنا شروع کیا، جو ماضی قریب تک جنگوں میں عام بات تھی، کیا مسلم عوام کے لیے تب بھی دفاعی جنگ ناجائز ہوگی۔ ان حالات میں تو جنگ سے کچھ مسلم آبادی بچ سکتی ہے،لیکن جنگ نہ کرنے کی صورت میں انھیں اپنے آپ کو بھیڑبکریوں کی طرح پیش کرنا ہوگاموت۔

اسلام فرد واحد کو بھی حق دیتاہے دفاعی لڑائی کا۔ یہ حق اس کو حکومت کی موجودگی میں بھی ہوتاہے، جب کسی شخص پر دشمن حملہ کرتا ہے یہ بہت کم ممکن ہوتاہے کہ وہاں پر کوئی سرکاری اہلکار موجود ہو جو اس شخص کا دفاع کرسکے۔ اس لیے اسلام نے فرد کو یہ حق دیاکہ جب اس پر کوئی چور لٹیرا حملہ کرے، وہ خود اپنے جان ومال کی خاطر لڑسکتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک گروہ بھی لٹیروں کے حملے کا شکار ہوجاتاہے تو وہ گروہ بھی حکومت سے بے نیاز ہوکر اپنا دفاع خود کرسکتا ہے۔ اب جنگ میں بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک ملک جنگ میں پسپا ہوا، حملہ آور ملک کی فوج نے اس کے علاقوں میں داخل ہوکر لوگوں کو لوٹنا، مارنا شروع کردیا تو لوگ اپنا انفرادی حق دفاع استعمال کرتے ہوئے بھی حملہ آوروں کے خلاف جنگ لڑسکتے ہیں۔ جب حکومت کی موجودگی میں صرف اس لیے فرد کو انفرادی دفاع کا حق دیاجاتاہے کہ حکومت قاصر ہوتی ہے کہ وہ ہر شخص کاخود تحفظ دے سکے۔ تو جب جنگ میں حکومت ہی ختم ہوئی ہو، ان حالات میں بھی افراد کو اپنے دفاع کاحق ہونا چاہیے۔ یہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ حکومت کی موجودگی میں تو افراد کو ایسے دشمنوں سے لڑنے کا حق حاصل ہے، جن سے ان کو حکومت بچانے سے قاصر ہے، مگر جنگ کے دوران حکومت ختم ہونے کی صورت میں یا دفاع سے قاصر رہنے کی صورت میں افراد انفرادی طورپر سرپڑے دشمنوں یا حملہ آوروں سے نہیں لڑسکتے۔

جنگوں میں ایک عام بات یہ بھی ہوجاتی ہے کہ اگر ایک جنگ قائم شدہ حکومت و باقاعدہ سرکاری انتظامیہ کے حکم سے ہی شروع ہوجاتی ہے، مگر بہت جلد جنگ کے دوران یہ ساری حکومت و سرکاری انتظامیہ حملہ آور فوج کی کارروائیوں سے بکھر کر رہ جاتاہے، اس بکھرائو کی وجہ سے فوج و رضا کار جنگجو جو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کسی مرکزی حکومت کے بجائے ایریا کمانڈروں کی سرپرستی میں جنگ جاری رکھتے ہیں۔ وہ جنگ جو قائم شدہ حکومت کے آرڈر سے شروع ہوجاتی ہے، پھر بھی عملاً ابتدا میں ہی ایک غیرحکومتی سطح کی گروہی و عوامی سطح کی جنگ ہوکر رہ جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملیںگی کہ جب ایک جنگ کاآغاز قائم شدہ حکومت کی رہ نمائی میں ہوا مگر حملہ آوروںنے اس ملک کے بڑے حصے پر غلبہ پاکر حکومت ختم کی۔ اس دوران باقی ماندہ حصے کے عوام نے اس حصے کو بچانے کے لیے پھر بھی جنگ جاری رکھی۔

صدام حسین کو کویت سے کھدیڑنے کے بعد امریکہ بارہ سال تک دھمکی دیتا رہا۔ صدام حسین بھی ان بارہ برسوں میں امریکہ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے فوج، نیم فوج اور رضاکار جنگجو تیار کرتارہا مگر پھر بھی جنگ کا آغاز ہونے کے بعد اس جنگ کی ساری سرکاری و حکومتی حیثیت ایک دن میں ختم ہوئی۔ اب اس نظریے کہ غیرحکومتی سطح کا جنگ جائز نہیں، کے مطابق صدام حسین کی فوج کو کوئی حق نہیں رہاکہ وہ جنگ جاری رکھے۔ کیونکہ اس جنگ کی حکومتی سطح کی حیثیت ختم ہوچکی تھی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس جنگ کے لیے عراق بارہ سال تک تیاری کرتا رہا، اس کا جواب ایک دن میں ختم ہوا۔

دورِ نبوتﷺ میں جو جنگیں مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسولم کی رہ نمائی میں لڑیں، ان سے بھی یہ زیرِبحث نظریہ برآمد کرنا بہت دشوار نظرآرہاہے۔ ہجرت کے وقت اگرچہ بڑی تعداد میں مدینے کے لوگ مسلمان ہوئے مگر کثیر تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو پرانے مذاہب پر برقرار تھے اور جو لوگ مسلمان ہوئے وہ بھی ابتدا میں ہر لحاظ سے مہاجرین کی بالادستی مدینے پر نہیں چاہتے تھے۔ تو یہ کہاجاسکتا ہے کہ ہجرت کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں کاآغاز کیا تو ابتدا میں آپﷺ کو دنیا کی نظروں میں مدینے کے قائم شدہ حاکم کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ اس کی تصدیق ان باتوں سے بھی ہوتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں کا آغاز سریہ سیف البحر، سریہ رابع، سریہ فرار اور غزوہ ابواء سے کیا تو ان جنگوں میں فقط مہاجرین نے حصہ لیا۔ کوئی انصار نہ شامل ہوا۔ جب مکہ کے قریشیوں کو پتا چلاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے ساتھیوں نے ان کے تجارتی قافلوں پر حملے کیے تو انھوںنے خط لکھتے وقت عبداللہ ابن ابی کو مدینے میں یا یثرب کے حاکم و بادشاہ کہہ کر مخاطب کیا۔ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں کاآغاز کیا تو مدینے کے اردگرد وہ ماحول نہیں بناتھاکہ پانچ سو میل دور سے آئے ہوئے مہاجرین کو مدینے کے ہر سطح کے سیاہ و سفیدکا مالک سمجھاجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں محض مہاجرین کے قائد کی حیثیت سے ملک شام جاتے ہوئے قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار قریشیوں نے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں مسلمانوں کو مکہ سے باہر ریگستانوں کی طرف بھگادیاتھا، جس سے مسلمانوں کو شدید قسم کی بھوک پیاس اور دوسرے مسائل کا سامنا کرناپڑا۔ لہٰذا ان حالات میں جو مہاجر گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کیے کوئی بھی انصاف پسند شخص اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔

دراصل جن لوگوں نے یہ نظریہ پیداکیاکہ غیرحکومتی سطح کا جنگ کسی بھی عذر کی بنیادپر جائزنہیں، وہ سرے سے نہیں جانتے کہ جنگ کس چیز کانام ہے۔ اس لیے یہ لوگ کہہ پاتے ہیںکہ جنگ لڑنے کاحق فقط قائم شدہ حکومت و تربیت یافتہ فوج کو حاصل ہے، باقی ماندہ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ لوگ جنگ کو کھیل کی نظر سے دیکھتے ہیں جس میں کچھ لوگوں کا کام مقابلہ کرنا ہوتاہے، باقی لوگ ہارنے پر افسوس اور جیتنے پر تالیاں بجانے کاکام کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی کھیل کا نہیں، بل کہ سب سے بڑی آفت و مصیبت کانام ہے۔ جنگ بنیادی طورپر دو حکومتوں یا دوفوجوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ بل کہ دوملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ جب بھی کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے وہ اس ملک کے سارے عوام پر ہوتاہ اور جنگ کے بُرے نتائج بھی حکومت کے ساتھ سارے عوام کو بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت و فوج کاجنگ سے خصوصی تعلق کسی اور وجہ سے ہوتا ہے۔ملک کی اصل عوام ہیں نہ کہ حکومت ۔ حکومت ملک میں اس لیے ہوتی ہے کہ عوام اس کو پسند کرتی ہے، انھیں لگتاہے کہ بعض معاملات وہ حکومت کے بغیر نہیں چلاسکتے ، جو حکومت بظاہر شاہانہ یا غیرجمہوری ہے، اس کے پیچھے بھی ان معاملات کی وجہ سے عوامی رضامندی موجود ہوتی ہے۔ کسی ملک میں حکومت کی کیا حیثیت ہوتی ہے یا عوام کاملک کے اندر کیا مقام ہوتاہے، وہ جنگ کے وقت خود بخود فطری طورپر واضح ہونے لگتاہے۔ اگرحملے کے وقت کوئی حکومت ذرا سا بھی ناکامی کا خطرہ محسوس کرتی ہے تو وہ حکومت ہی سب سے پہلے ہنگامی بنیاد پر رضاکار جنگجو بھرتی کرنے لگتی ہے، جن کی تعداد اکثر تربیت یافتہ فوج سے درجنوں گناہ زیادہ ہوتی ہے اور جنگ میں ناکامی کی صورت میں یہی رضاکار جنگجو غیرحکومتی سطح کی جنگ نہیں کرسکتی تو حکومت کے لیے رضاکار جنگجوئوں کی بھرتی بھی ایک غلط اقدام ہوگا، جو جنگ میںناکامی کی صورت میں غیرحکومتی سطح کی جنگ کے لیے عظیم سبب بنتا ہے۔ مگر کیاحکومت کے لیے اس اقدام کی ممانعت ممکن ہے؟ اگر ممکن نہیں تو س اقدام کاجو نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی ملک کاحکومتی سطح کی جنگ غیرحکومتی سطح کی ہوجاتی ہے تو اس جنگ کی ممانعت بھی ممکن نہیں۔ دوسری طرف بوقت جنگ عوام کاجو طرزعمل بنتا ہے، وہ بھی قطعاً مذکورہ نظریے کے موافق نہیں ہوتا۔ عوام ایسا کچھ سوچ ہی نہیں پاتے ہیں کہ ان کو جنگ سے کوئی سروکار نہیں۔ اس طرح عوام کا بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح جنگ میں الجھ جاتاہے۔ سب سے پہلے حکومت کا ساتھ دیاجاتاہے ، اگرحکومت جنگی تباہ کاریوں سے باقی نہ رہی تب بھی عوام کوئی بندوبست کرکے جنگ جاری رکھتے ہیں۔ لہٰذا جنگوں کے مطالعے سے یہ نظریہ قائم کرنا ناممکن نظر آرہاہے کہ جنگ لڑنے کاحق فقط قائم شدہ حکومت کو حاصل ہے اور غیرحکومتی سطح کی جنگ کسی بھی عذر کی بنیاد پر جائز نہیں۔ اس نظریے کی دھجیاں اس وقت اور بھی زیادہ اڑجاتی ہیں کہ جب جنگوں کی تاریخ سے پتاچلتاہے کہ جو جنگیں حکومتی سرپرستی میں شروع ہوجاتی ہیں، ان میں بھی آگے چل کر پچاس فیصد سے زیادہ غیرحکومتی سطح کی عوامی جنگ بن کر رہ جاتی ہیں۔

کہاجاتاہے کہ درپردہ جنگ اسلام میں حرام ہے۔ اس دلیل کو اس بات سے باوزن کیاجاتاہے کہ اسلامی جنگ باقاعدہ علانیہ جنگ ہوتی ہے۔

جنگوں کو ہمیشہ علانیہ طورپر لڑنا آسان نہیں۔ خصوصاً اس صورت میں جب دوسرے ممالک نے درپردہ جنگ چھیڑرکھی ہو۔ اگر درپردہ جنگ کا آغاز کرنا غلط ہوتو کم از کم جوابی طورپر ایسی جنگ کوجائز ہونا چاہیے۔ اگر اس کو جنگی اصول ہی مانا جائے کہ درپردہ جنگ کسی بھی صورت میں نہیں لڑی جاسکتی تو اس سے خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹی جنگیںبھی بڑی جنگوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں، جس سے یہ کوئی دانش مندانہ اصول نہیں رہتا۔

دورِ رسالت میں بھی درپردہ جنگوں کاجواب درپردہ جنگ سے دیاجاتاتھا۔ جب یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشیں کیں تو مسلمانوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جب درپردہ جاسوسی کا جواب درپردہ طورپر ہی دیاگیا۔ درپردہ جنگ ایک چھوٹی جنگ ہوتی ہے، یہ ممکن نہیں ہوتاکہ ہربار کسی چھوٹی کارروائی کے جواب میں علانیہ طورپر بڑی جنگ لڑی جائے۔ اس لیے اُس دور میں بھی درپردہ کارروائیوں کو درپردہ طورپر ہی نمٹ لیاجاتاتھا اور مطلوب نتائج کے لیے بھی یہی طریقہ درست رہتاتھا۔

دہشت گردی کی مخالفت کس طرح کی جائے؟

اب میں اس سوال پر آناچاہتاہوں کہ بعض مسلمان ملکوں کے اندر اس وقت جو تشدد ہورہاہے اس کی مخالفت کس طرح ہونی چاہیے۔ اس مذمت کے لیے جو طریقہ اس وقت عالمی سطح پر مروج ہے، وہ ان دلائل سے ظاہر ہوتاہے جن کو اوپر بیان کیاگیا۔ اس طرح اس دہشت گردی کی جو عالمی سطح پر مذمت ہورہی ہے، وہ اس دائرے میں محدود و محصور ہوتی ہے کہ یا تو اس دہشت گردی کو براہ راست اسلامی تعلیمات کا ثمرہ ماناجاتاہے یا اسلام کی غلط تشریح کی بدقسمتی۔ اب یہ اصول ہی بن گیاکہ جو شخص دہشت گردی کی مذمت کرتاہے پہلے وہ کسی نہ کسی صورت میں اس کو تسلیم ہی کرتاہے کہ اس دہشت گردی کی جڑیں دین اسلام میں موجود ہیں۔ مگر مذمت کایہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ ایسی مذمت سے دہشت گردی پر قابو نہیں پایاجاسکتا۔ مطالبہ کیاجارہاہے کہ قرآن سے وہ آیات نکال دیے جائیں جن کے اندر تشدد کا ذکر ہے اور ایسے کارٹون بنائے گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا دہشت گرد دکھایاگیا۔ بظاہر اس کے لیے خودجہادی عوام ذمے دار ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بالکل غلط ہے۔ اس کے لیے وہ مسلم دانشور ذمے دار ہیں،جنھوںنے مغربی ملکوںکے ان دلائل کو درست مانا جن کی مدد سے انھوںنے اس دہشت گردی کابنیادی سبب جارحیت پسند ملکوں کی جارحیت سے ہٹاکر دین اسلام سے جوڑدیا۔

دہشت گردی کی مذمت کرنا اور یہ تسلیم کرنا کہ دہشت گردی کا سبب دین اسلام ہے، دوالگ الگ باتیںہیں۔ لیکن اس وقت یہ باتیں ایک دوسرے سے جڑگئیں۔ اگر آپ یہ قبول نہیںکررہے ہیں کہ اس دہشت گردی کی وجہ دین اسلام ہے تو آپ کی دہشت گردی کی مذمت بھی قبول نہیں۔ یہ سب مغربی ملکوں کے اندر اوچھے دلائل سے ہوا، جنھیں اب مسلمان بھی درست مانتے ہیں۔ مغربی طاقتوں نے دہشت گردی کی مذمت کا جو طریقہ نکالاہے، وہ اس کو واقعی دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صحیح و مؤثر طریقہ نہیں سمجھتے ہیں، بل کہ ان کو جو اپنی ریاستی دہشت گردی چلانے کے لیے عالمی سطح کی عوامی مذمت کا خطرہ لاحق رہتا ہے، وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس وقت عالم گیر عوامی سطح پر ریاستی دہشت گردی اور استعماریت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جب بھی کوئی طاقتور ملک اس طرح کی کوشش کرتاہے تو ساری دنیا کے عوام اس ملک کے خلاف احتجاج اور مذمت کرتے ہیں۔ جب امریکہ نے صدام حسین کا تختہ پلٹنے کے لیے اور عراق میں اپنی موافق نظام حکومت قائم کرنے کے لیے اس ملک پر حملہ کردیا تو پوری دنیامیں امریکہ مخالف عوامی احتجاج اور مذمت ہوئی۔ امریکہ دنیا میں بدنام ملک ہوکر رہ گیا۔ مسلمان بھی یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ مسلمانوں کے کسی مسئلے پر عالمی سطح پر امریکہ کی مذمت ہورہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ مخالف مذمت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ امریکہ نے جن الزامات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیاتھا، وہ سو فیصد غلط ثابت ہوئے اور جو وہاں پہلے حکومت پھر عوام کے ساتھ لڑائیوں میں لاکھوں لوگ مارے گئے، وہ بھی اسی بیجا امریکی حملے کا نتیجہ تھا۔

مسلمانوں کو ایک دائرے میں رہ کر ہی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ جو جنگجو اپنی دہشت گردی کو دفاعی جنگ یا تحریک آزادی کہنا جائز سمجھتے ہیں، ان کی لڑائیوں کو ناجائز اور حرام کہے بغیر بھی اگر مذمت نہیں تو مخالفت کی جاسکتی ہے۔ جو لڑائی کسی صورت میں جائز ہو اس کی مذمت کرناشاید ناممکن ہے۔ موجودہ وقت میں جو کچھ خاص مسلمان قومیں بیرونی جارحیت کے خلاف لڑرہے ہیں، ان کی لڑائیاں دفاعی زمرے میں آنے کے سبب جائز بھی ہیں، لہٰذا مذمت کے قابل بھی نہیں رہتی ہے۔ البتہ مخالفت کے قابل ضرور ہیں۔ وہ دائرہ، وہ دلائل کیا کیا ہیں، جن کے حدود میں رہ کر دہشت گردی کی مخالفت ہونی چاہیے، وہ کسی سے اوجھل نہیں ہیں۔ مگر دہشت گردی کی مکمل روک تھام میں کامیابی نہ ملنے کے سبب ہمارے دانشور توازن کھوبیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے دائرے سے باہر نکل کر مغربی دانشوروں کے دائرے میں چلے جاتے ہیں، جس کے نتائج بالکل الٹے اور خطرناک سامنے آتے ہیں۔ وہ دہشت گردی جو بیرونی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، اس کی اِن دلائل کے دائرے میں رہ کرمخالفت ہونی چاہیے:

۱- مسلمان یہ لڑائیاں فوجی طاقت کے بے حد عدم توازن میں لڑرہے ہیں، ایسی لڑائیاں طویل مدت تک جاری رکھنے کے باوجود بھی نہ کہیں جیتی گئیں نہ جیتنے کا امکان ہے اور ہر طرح کا نقصان بھی مسلمان یکطرفہ طورپر اٹھارہے ہیں۔

۲- مسلمانوں کی پستی ومحکومی کی اصل وجہ ہے تمدنی ترقی کے میدان میں باقی دنیا سے بچھڑجانا۔ اس ترقی کو حاصل کیے بغیر مسلمان اپنی محکومی دور نہیں کرسکتے اور اس ترقی کی جدوجہد فقط پُرامن ماحول میں ہی ممکن ہے۔

۳-  یہ اہم دلیل بھی قائم کی جاسکتی ہے کہ ‘جس لڑائی کوجیتنے کا امکان بہت کم ہو وہ لڑائی جائز ہونے کے باوجود بھی لڑنا ضروری نہیں ہے۔’ جب مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے ساتھیوں پر حملے ہوئے تو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بروقت ہی جوابی جنگ چھیڑتے وہ اخلاقی طورپر غلط نہیں ہوتا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جماعت کو کمزور حالت میں دیکھ کر یہ نہیں کیا۔

تاریخ بہترین منصف ہے

شایدمسلم دانشوروں کی ایک تعداد کو اس میں پختگی نظرآرہی ہے کہ مسلم دہشت گردوں کے خلاف ہر وہ دلیل استعمال ہونی چاہیے، جو ان کی مذمت کے لیے ایجاد کی گئی ہے۔ وہ اس کو نادانی تصورکرتے ہیں کہ مسلم دانشوران دلائل کی خامیوں کی طرف توجہ کریں اور ان کو ظاہر کریں۔ ان کاخیال ہے کہ اس سے مسلم دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ان کی دہشت گردی میں اضافہ ہوجائے گا۔ یوں یہ دانشور حقیقت پسندی کے بجائے کسی پختگی کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی دہشت گرد مخالف مہم کے دوران ان غلط دلائل کی بوچھار کرتے ہیں، مگر ان کی یہ سوچ غلط ہے۔ صحیح دلائل ہی کسی علاقے کے دہشت گردوں کے ذہنوں پر اثر کرسکتے ہیں۔ غلط دلائل کا استعمال صحیح دلائل کو بھی بے اثر کرڈالتا ہے۔ تاریخ اس کے لیے بہترین منصف ہے کہ فوجی جارحیت کے شکار محکوم ملکوں کے عوام کو کسی طرح اس جارحیت کے خلاف لاحاصل جنگجوئی سے دور رکھاجائے۔

ایشیا اور افریقہ پر دو سو سال سے زائد وقت تک یورپی قبضہ رہا، جسے استعماریت کا زمانہ بھی کہاجاتاہے۔ شروع میں ان خطوں میں یورپی طاقتوں کے خلاف عسکریت کارجحان غالب رہا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ رہنما اور وہ جماعتیں بھی غالب آگئیں جنھوںنے یورپی طاقتوں کے ساتھ مصالحت کی۔ برصغیر میں اس کی پہلی مثال مسلمانوں کے حد تک انیسویںصدی میںسرسید احمدخان نے قائم کی، انھوںنے جو بیرونی قابض انگریزوں کے ساتھ امن وآشتی سے رہنے کے لیے مسلمانوں کو ابھارا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ، اس کے لیے ان کو صرف انگریزوں نے خطابات سے نہیں نوازا، بل کہ انھوںنے مسلمانوں کے یہاں بھی عزت حاصل کی۔جب ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ سرسید احمد خان کو کیسے ۷۵۸۱ کے غدر کرنے والوں سے، جنھیں مجاہد و غازی اورمرنے کی صورت میں شہید بھی کہاجاتاتھا، مخالف سمت میں چلنے کے باوجود عوام کے اندر عزت و مقبولیت حاصل ہوئی اور متقابض کافرد دہریہ مزاج انگریزوں کے سامنے سارے مسلمانوں کو مصالحت و سمجھوتا والے راستے پر چلانے جیسے مشکل ترین کام میں بھی کام یابی ملی، تو دراصل اس کا راز یہ تھا کہ انھوںنے صحیح دلائل و نکات کے حدود میں رہ کر کام کیاتھا۔ انھوںنے مسلم تشدد پسندی کے خلاف وہی دلائل پیش نہیں کیے جو انگریزوں نے قائم کیے تھے، انھوںنے مسلمانوں کی بیرونی جارحیت کے خلاف عسکریت سرے سے حرام نہیں قرار دی۔ انھوںنے صرف اتنا بتایاکہ مسلمان انگریزوں کے خلاف لڑائیوں کو نہیں جیت سکتے، جہالت و ناخواندگی وقت کی سب سے بڑی کمزوری ہے مسلمانوں کی اور برصغیرکی مناسبت سے یہ بھی بتایاکہ یہاں مسلمان اقلیت میں ہیںانھیں کیا فائدہ ہے کہ وہ اپنا خون بہائیں، جب کہ کام یابی کی صورت میں اقتدار ہندو اکثریت کو ملے گا۔ ان ہی جیسی باتوں کاخوبی سے استعمال کرتے ہوئے وہ آخرکار اپنی تشدد مخالف تحریک میں کام یاب ہوئے۔

پھربیسویں صدی میں مہاتماگاندھی نے عدم تشدد کی بنیادپر انگریز مخالف اورآزادی کے حق میں کام کیا۔ گاندھی جی کے اصولوں پر چلتے ہوئے بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف وہی دلائل استعمال کیے جائیں جو متقابض طاقتیںایجاد کرتی ہیں۔ انھوںنے انگریزوں کے جواب میں ہندوئوں کے تشدد کو تو غلط کہا مگراس تشدد کو کبھی ہندوئوں کی مذہبی دہشت گردی نہیں قراردیا بلکہ انگریز مخالف اس تشدد کو اپنی اصل شکل میں پیش کرکے ہی اس کی مخالفت کرتے رہے۔ عدم تشدد کی پالیسی پر چلتے ہوئے مہاتما گاندھی کو تب ہی انگریزوں سے متنفر اور آزادی کے جذبے سے سرشار ہندوستانی عوام میں عظیم رہنما کی حیثیت حاصل ہوئی جب ان کے عدم تشدد کے حق میں دلائل بالکل صاف اور واضح تھے، انھوںنے عدم تشدد کے حق میں کسی بھی اسٹیج پر غلط دلائل یا انھی دلائل کا استعمال نہیںکیا جو انگریز پیداکرتے تھے، اگر وہ ایسا کرتے تو اس سے انگریزوں سے متنفر ہندستانی عوام میں محض ذہنی الجھنیں پیدا ہوتی، جس سے عدم تشدد کی پالیسی بھی کامیاب نہ ہوپاتی۔

جتنازیادہ مطالعہ کیاجائے اس استعماری دور کی عدم تشدد پر مبنی تحریکوں کی کام یابی کا، یہ واضح ہوجاتاہے کہ ان حالات میں کچھ خاص دلائل اور نکتے عوام پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس سے وہ عدم تشدد پر مبنی تحریکوںکاحصہ بنتے ہیں۔ لہٰذاموجودہ دور میں جو امریکہ جیسے ملکوں کی جارحیت کے نتیجے میں تشدد ظاہر ہوا، اس کی مخالفت، اس تاریخی سبق کے مطابق، فقط صحیح دلائل کے حدود میں رہ کر ہی کرنی ہوگی، تب ہی اس تشدد کے خاتمے کی امید کی جاسکتی ہے۔ صحیح دلائل کو ناکافی سمجھ کر غلط دلائل ، وہ بھی انھی دلائل کا سہارا لینا جو امریکہ پسند کرتاہے، اس تاریخی سبق کے مطابق ایک نقصان دہ عمل ہے۔

خلاصہ

اس تحریر کی ابتدا ان دلائل سے ہوئی جو غیرمسلم طاقتوں نے پیدا کیے کہ مسلمانوں کاجنگ کے دوران جہاد، مجاہد، شہید اورجنت جیسے الفاظ کا استعمال ان کی ہر لڑائی کو اسلامی دہشت گردی ثابت کرتاہے۔ ان دلائل کو بے وزن ثابت کرکے بتایاگیاکہ ان الفاظ کا استعمال ایک فیصد بھی ثابت نہیں کرسکتا کہ مسلمان غیرمسلم طاقتوں کے خلاف اسلامی دہشت گردی کررہے ہیں اور ان ہی دلائل کے زیراثر کچھ دینی علما نے بھی جو جنگی اصول قائم کیے ، کہ غیرحکومتی، خودکش اور درپردہ جنگی کارروائیاں نہیں کی جاسکتی ہیں ان کے حوالے سے بھی کہاگیاکہ ان اصولوں کو نہ تو جنگ کے دوران قائم رکھنا ممکن ہوسکتاہے اور نہ ان اصولوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی زندگی سے اخذ کیاجاسکتا ہے۔ مگر پھربھی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ان دلائل اور اصولوں کو قوی مانتے ہیں اور ان ہی کے حدود میں رہ کر دہشت گردی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ نہ تو ان مسلم آبادیوں نے اپنی جنگی کارروائیاں ترک کیں جن کو ان جنگوں میں الجھایاگیا اور نہ ریاستی دہشت گردی کو ‘اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ’ (War Against Terrorism)جیسا حوصلہ افزا نام ملنے کی وجہ سے بے جا اور حیرت انگیز فروغ پانے سے روکا جاسکے۔

مسلم دانشور پچھلے بیس سال سے اٹھائے گئے اس ‘اسلامی دہشت گردی’ کے بحث کو سمجھنے میں بری طرح ناکام رہے۔ دراصل ان کی ذہن سازی، غیرمحسوس طورپر خود اس بحث کو اٹھانے والوں نے کی۔ انہوںنے جو کچھ کہا، اس اسلامی دہشت گردی کے متعلق وہ سو فیصد عالمی طاقتوں کے موافق رہا اور اس کے نتائج بھی ان ہی طاقتوں کے حق میں رہے۔ لہٰذا اگر مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ان کو اس دہشت گردی کے مسئلے کو مکمل علم بناکر اس کو اپنے صحیح تناظر میں رکھنا ہوگا۔ مسلمانوں کی کام یابی کا ہدف یہ ہے کہ مسلمان طاقتور قوموں کی کسی بھی جارحیت پر پرامن ردعمل کی عادت ڈال سکیں۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کرپائیں تو انھوںنے کوئی اسلامی دہشت گردی کی۔ ریاستی دہشت گردی کے جواب میں عوامی مزاحمت پیدا ہوناآپس میں چولی دامن کا ساتھ رکھتی ہے۔ جہاں چنگاری اٹھائی جاتی ہے وہاں دھواں بھی اٹھ جاتا ہے، جہاں کسی ملک کو ہڑپنے کے لیے جارحیت اور فوج کشی کی جاتی ہے وہاںعسکری مدافعت پیداہونا لازم وملزوم ہوتاہے۔

مسلم دانشور اگر اپنی دہشت گرد مخالف مہم میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ان کو اس مہم کے دوران اس عادت سے کلیۃً پرہیزکرنا چاہیے کہ مسلمانوں کی اس دہشت گردی یا جنگی پالیسی کو اس رنگ میں پیش کریں جو رنگ ان طاقتور قوموں نے اس کو دے رکھاہے۔ مسلمانوں کی یہ جوابی جنگی پالیسی کیوں غلط ہے، وہ اس لیے نہیں ہے کہ یہ اسلامی دہشت گردی یا کسی مذہبی جنون کی نشاندہی ہے، بل کہ اس کے وجوہ الگ ہیں۔ ان ہی وجوہ کو پہچان کر اور مسلسل پیش کرتے رہنے سے اس مہم میں کامیابی مل سکتی ہے۔ ورنہ موجودہ روش پر رہتے ہوئے غلط فہمیاں جوں کی توں بنی رہیںگی۔ نہ تو مسلمانوں کے یہاں موجود جوابی تشدد پسندی کارجحان ختم کیاجاسکتاہے اور نہ ہی امریکہ جیسے ملکوں کی ریاستی دہشت گردی یا نام نہاد اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حیرت انگیز حوصلہ افزائی ختم کی جاسکتی ہے۔

جولائی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau