غیر مسلموں سے تعلقات

سید جلال الدین عمری

اسلام کی تصویر جن مختلف پہلوؤں سے بگاڑنے بلکہ مسخ کرنے کی مسلسل کوشش ہوتی رہتی ہے ان میں غیر مسلموں سے تعلقات کا پہلو بہت ہی نمایاں اور خاص اہمیت کا حامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام انفرادیت پسند ہے، وہ مسلمانوں میں علیحدگی کے جذبات ابھارتا ہے، وہ انھیں دوسروں سے کاٹتا اور الگ تھلگ کرتا ہے، وہ اپنوں اور غیروں کے درمیان اتنا زبردست فرق پیدا کرتا ہے کہ غیروں کے ساتھ عام انسانی تعلقات کا بھی روادار نہیں ہوتا، وہ اخلاق کا درس ضرور دیتا ہے، لیکن اس کا تعلق اپنے ماننے والوں سے ہے، دوسروں سے نہیں ہے، جو لوگ اسلام کے دائرہ میں آ جائیں انھیں وہ باہم اخلاقی رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اس دائرہ سے باہر اس کی تعلیمات کا رخ بدل جاتا ہے اور وہ ایک دوسری ہی شکل میں ہمارے سامنے آ تا ہے۔ یہ شکل بڑی بھیانک ہے۔ اس میں محبت کی جگہ نفرت و عداوت اور نرمی کی جگہ سختی اور درشتی نمایاں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کا جو مزاج بناتا اور جس طرح کی ذہنی تربیت کرتا ہے اس سے ان کی اپنے مخالفین سے ازخود مخاصمت شروع ہو جاتی ہے اور وہ ہر محاذ پر ان سے برسر پیکار نظر آتے ہیں۔

اسلام کی اس خود ساختہ تصویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ جن ذہنوں کی پیداوار ہے وہ یا تو ناواقفیت کا شکار ہیں یا دوسروں کو فریب اور دھوکا دینا چاہتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات تو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ اسلام نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اجنبیت کی دیوار نہیں کھڑی کی ہے، بلکہ ان تعلقات کو وہ ایک سماجی، معاشرتی اور معاشی ضرورت سمجھتا ہے۔

یہ تعلیمات صاف بتاتی ہیں کہ اسلام پر سختی سے قائم رہتے ہوئے اور اس کے احکام کی پوری طرح پابندی کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کے افراد سے انتہائی شریفانہ روابط رکھے جاسکتے ہیں اور رکھے جانے چاہئیں۔ یہ دین داری کے منافی نہیں، بلکہ اس کی ہدایت کے مطابق ہے۔

(غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق، ص ۲۹ اور ۳۰ اختصار کے ساتھ)

نومبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau