اذان اور دعوت میں تعلق

(11)

مفتی کلیم رحمانی

اللہ تعالیٰ نے سورئہ اعراف کے انیسویں(۱۹) رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ کی ایک دعا کے جواب میں محمدﷺ کی نبوت و رسالت کی خبردی آپؐ کے اور آپ ؐ کی اتباع کرنے والوں کے کام بیان کئے یہ جامع ترین آیات ہیں، امت مسلمہ پر آپؐ کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان کی بھی وضاحت و تفصیل پیش کرتی ہیں۔ سورئہ اعراف کے انیسویں رکوع میں  پہلے بنی اسرائیل کا ذکر ہے۔ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستیش کی تھی ان پر اللہ کے غضب کی تنبیہ ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کی دعا ہے ، اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی  رحمت کے متعلق  شرائط رکھی ہیں  قَالَ عَذاَبیِٓ اُصِیْبُ بِہِ مَنْ اَشَآئُ وَرَحْمَتیِ وَسْعَتْ کُلَّ شَیئِ فَسَبا کْتُبُھَا لِلَّذیْنَ یَتَّقوْنَ وَ یُوْتُونَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِینَ ھُمْ بایٰتِنَا یُوْمِنُوْنَ۔’’فرمایا اللہ نے میرا عذاب ،میں جسے چاہوں گا دوں گا،ا ور میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، پس عنقریب میں اسے لکھ دوں گا، ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کریں گے ، اور زکوٰۃ دیں گے ، اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے ‘‘۔ اَلَّذِینَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُولَ النّبیَّ الْامّیِ الَّذِی یَجدُوْنہُ مَکْتُوْباً عِنْدَھُمْ فِی التَّورٰۃِ وَ الْانجیلِ یَا مُرُھُمْ بالْمَعرُوْفِ وَ یَمْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَ ھُمْ وَلْاَ غْلٰلٰ الَّتیْ کَانَتْ عَلَیْھمْ فَالّذِیْن اٰمَنوُاْ بِہِ وَ عَزَّرُوہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبعَوْا النُّورَالَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہُ اُولٰٓیکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ ( اعراف آیت ۱۵۷) ’’جو اتباع کریں گے ،رسول نبی ، امی کا، جس کو وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس توریت اور انجیل  میں ، وہ انہیں حکم دیتا ہے معروف کا ، اور انہیں روکتا ہے منکر سے ، اور ان کے لئے حلال کرتا ہے ، پاکیزہ چیزیں، اور حرام کرتا ہے ان پر گندی چیزیں ، اور ہٹاتا ہے ان سے ان کا بوجھ ، اور طوق جوان پر ہے، پس جنہوں نے ایمان لایا اس پر یعنی محمدؐ پر اور ان کی عزت کی اور ان کی مدد کی ، اور اس نور یعنی قرآن کا اتباع کیا جو ان پر نازل کیا گیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں‘‘۔

پیشین گوئیاں

مذکورہ آیت میں  اہم  بات یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے، یہود و نصاریٰ کے لئے بھی اتباع رسولؐ کی شرط ہے، اس لئے اب کوئی یہودی اور نصرانی بھی قیامت تک محمدﷺ کی اتباع کئے بغیر اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں ہو سکتا، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جس طرح قرآن مجید اتباع رسولؐ کی دعوت دیتا ہے اسی طرح توریت اور انجیل بھی اتباع رسولؐ کی دعوت دیتی ہیں۔ اس لحاظ سے جو لوگ توریت اور انجیل کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن پھر بھی محمدﷺ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی آپؐ کی اتباع کرتے ہیں ، ایک طرح سے وہ توریت اور انجیل ہی کو نہیں مانتے ، توریت و انجیل میں حضرت محمدﷺ کی نبوت و رسالت کی پیشن گوئی کی گئی تھی اسی طرح ہندو مذہب کی کتابوں میں حضرت محمدﷺ کی آمد و نبوت کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یہاں چند کتابوں کے حوالے دیئے جار ہے ہیں۔

(۱)  رُگ و ید منتر ۳ سُکت نمبر ۱۳

(۲)   بھوش پرُان، ادھیایہ نمبر۱  اشلوک ۲۵،۲۶،۲۷

(۳)   اتھر و وید ادھیایہ نمبر۲۰ ،اشلوک نمبر۳

(۴)  سنگرام پرُان ، ادھیایہ نمبر۱۲ ،اشلوک نمبر۶

گوتم بودھ کے حوالہ سے بھی بعض محققین نے لکھا ہے کہ گوتم بودھ نے کہا تھا کہ میں آخری رہنما نہیں ہوں، بلکہ میرے بعد ایک رہنما آئے گا، چنانچہ اس رہنما سے محمدﷺ کو مراد لیا گیا ہے۔

کوئی مذہبی شخص حضرت محمدﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتا ہے تو گویا وہ اپنے مذہب کی تعلیم کا انکار کر رہا ہے، اسلام حق پر مبنی ہے، اس میں ایک اللہ کے معبود ہونے کی دعوت کے ساتھ، حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری رسول ہونے کی دعوت بھی شامل ہے، چنانچہ اذان کے تیسرے کلمہ میں حضرت محمدﷺ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی شامل ہے۔ اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو دنیا کی بڑی  آبادی کو محمدﷺ کی نبوت و رسالت پر جمع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ایک اندازہ کے مطابق دنیا کی تقریباً اسی(۸۰) فیصد آبادی کسی نہ کسی مذہب کو ماننے والی ہے،  البتّہ کامل و مکمل ، محفوظ و مستند کتاب صرف قرآن ہے، اور کامل و مکمل اور محفوظ و مستند شخصیت صرف محمدﷺ ہیں واضح رہے کہ دین اسلام عام مذاہب کی طرح محض کوئی مذہب نہیں ، جس میں صرف چند عقائد اور رسومات کی رہنمائی ہوتی ہے، بلکہ دین اسلام ایک مکمل نظام زندگی کا نام ہے، جس میں عقائد، عبادات اور زندگی کے شعبے شامل ہیں۔ تجارت ، معاملات، سیاست انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے روکتا ہے ، معروف وہی ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو ۔

ہدایات

سورئہ اعراف کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے حصول کے لئے اتباع رسولﷺ کی شرط کے ساتھ نبی ؐ کے چھ کام بتائے ہیں، اورنبیؐ پر ایمان لانے والوں کے چار کام بتائے ہیں، نبیﷺ کے مذکورہ آیت میں جو چھ کام بتلائے گئے ہیں ، در اصل وہ پوری امت مسلمہ کے کام ہیں، اور اتباع رسولﷺ کے تذکرہ میں وہ خود بخود شامل ہیں۔ نبیﷺ کے جو کام بتائے گئے ہیں ان میں سے پہلا  ، معروف کا حکم دینا ہے، اس ایک کام میں دو اہم کام خود بہ خود شامل ہیں، معروف کو جاننا اور اس پر عمل کرنا، معروف کا حکم دوسروں کو اسی وقت دیا جائے گا جب کہ خود اس کا علم ہوگا، اور اس پر خود عمل ہوگا، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبیﷺ کو قرآن کے ذریعہ بھلائی کا علم دیا، نبیﷺ نے سب سے پہلے معروف پر عمل کیا، اور پھر لوگوں کو اس کا حکم دیا ،یہی ترتیب فطری ہے اور مناسب ہے، جو اس ترتیب کو نظر انداز کرے وہ معروف کا حکم دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اس لئے ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ قرآن و حدیث کے ذریعہ معروف کا علم حاصل کرے، اس پر عمل کرے، اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دے۔

یوں تو معروف میں بہت سے اعمال آتے ہیں، لیکن معروف کا حکم دینے کی جو لازمی ترتیب ہے، اس ترتیب کا لحاظ کیاجائے، معروف کا حکم دینے کی جو قرآنی ترتیب ہے، وہ یہ ہے ،کہ جو سب سے بڑا اور بنیادی معروف ہے، سب سے پہلے اس کا حکم دیا جائے،چنانچہ قرآن وحدیث کی رو سے جو سب سے بڑا اور بنیادی معروف ہے، وہ بندگی رب ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسانوں کو یہی حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی بندگی اختیار کریں، چنانچہ سورئہ بقرہ کے تیسرے رکوع کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا،  یَآ یُھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذی خَلَقَکُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (سورئہ بقرہ آیت ۲۱) ترجمہ’’ ائے لوگو غلامی اختیار کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا، تاکہ تم بچو‘‘ ۔

دعوت

نبی کریمﷺ نے مکہ والوں کے سامنے اللہ کے رب ہونے کی  دعوت پیش کی، اللہ کی طرف سے آپؐ کو یہی  حکم تھا، پہلی وحی آپؐ پر نازل ہوئی وہ سورئہ مدثر کی ابتدائی آیات ہیں جن میں آنحضورﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا،   یاَیُھَا الْمُدَّثِر قُمْ فَاَنْذِرْہ وَرَبَّکَ فَکَبّرْہ’’ یعنی اے چادر او ڑھنے والے اٹھئے، پس ڈرائیے، اور اپنے رب کو بڑا قرار دیجئے‘‘۔ صفت رب میں خود اللہ کی ہر لحاظ سے بڑائی شامل ہے ، دعوت کے نتیجہ میں،گالیاں دی گئیں، مارا گیا،  بائیکاٹ کیا گیا، تین سال تک آپؐ اور آپ کے ساتھی شعب ابی طالب میں محصور رہے، ایک وقت آیا کہ آپؐ کو سرداری کی پیشکش کی گئی ، لیکن آپؐ نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا، کیونکہ آپؐ اپنی بڑائی کی نہیں  اللہ کی بڑائی کی دعوت لے کر آئے تھے۔

معروف ومنکر

مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سیاسی غلبہ عطا کیا تو آپؐنے طاقت وقوت کے ذریعہ اللہ کی بڑائی کو نافذ کیا، سب سے پہلی وحی سورئہ علق کی ابتدائی آیات ہیں، اور ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا تعارف رب کی حیثیت سے ہے، اس لحاظ سے اسلام کا سب سے بڑا اور سب سے پہلا معروف اللہ تعالیٰ کو رب و معبود کی حیثیت سے قبول کرنا اور دوسروں کو اسی کا حکم دینا ہے، اور اسلام کے پہلے کلمہ میں بھی یہی معروف ہے یعنی  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اﷲِ۔(نہیں کوئی معبود مگر اللہ ، اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں) اس سے بڑھ کر بھی اگر کوئی معروف ہوتا تو اسے اسلام کے پہلے کلمہ میں رکھا جاتا، اس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑا معروف اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود اور سب سے بڑا ماننا او ر محمدﷺ کو اللہ کا رسول ماننا ہے، اسی بنا پر ان کلمات کو اذان میں بھی رکھ دیا گیا ۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ،  وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاَ مِمَّنْ دَعَآ اِلٰی اﷲِ وَعَمَلَ صَالِحاً وَّ قَالَ اِنّیِ مِنَ الْمُسْلِمینَ(  حٰمٓ سجدہ ۳۳) ’’اور اس سے اچھی کس کی بات ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے، اور کہے میں مسلمانوں میں سے ہوں‘‘اس آیت سے مراد بہت سے مفسرین نے اذان دینے والوں کو لیا ہے، کیونکہ اذان اللہ کی طرف ایک مکمل اور عظیم دعوت ہے، ظاہر ہے جب اذان دینے والے اس کے مصداق ہیں تو اذان کا جواب دینے والے بھی اس کے مصداق ہیں ، کیونکہ وہ بھی وہی کلمات دہراتے ہیں، اس طرح اب پوری امت مسلمہ اذان کے عمل میں شامل ہو گئی ہے، اس لئے اب پوری امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ آیت میںبیان کی ہوئی، دوسری صفت ،  وَعَمِلَ صَالِحاََ۔(یعنی نیک عمل کرے)، میں بھی شامل ہو، لیکن افسوس ہے کہ ابھی بہت سے اذان دینے والے، اور اذان کا جواب دینے والے ، جانتے ہی نہیں ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، چنانچہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے یہ چند صفحات تحریر کئے جار ہے ہیں ، اس یقین و امید کے ساتھ کہ ضرور امت مسلمہ کے افراد اس طرف متوجہ ہوں گے، اور غیر مسلموں کو بھی متوجہ کریں گے۔

سورئہ اعراف میں حضرت محمدﷺ کا دوسرا کام  وَیِنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرْ۔(یعنی وہ انہیں منکر سے روکتا ہے) بیان کیا گیا ہے، اس ایک کام میں دو اور مزید کام خود بخود شامل ہو گئے ہیں، یعنی منکر سے واقف ہونا اور اس سے بچنا ، کیونکہ جو منکر سے واقف نہ ہو، اور نہ اس سے بچے وہ دوسروں کو منکر سے نہیں روک سکتا ، منکر سے روکنے کے متعلق یہ لازمی اور ضروری ترتیب ہے، چنانچہ نبیﷺ نے سب سے پہلے قرآن کے ذریعہ منکر کا علم حاصل کیا ، اور پھر اس سے اپنے آپ کو بچایا، اور اس کے بعد لوگوں کو منکر سے روکا، یوں تو منکر میں بہت سے عقائد و اعمال آتے ہیں، لیکن منکر سے روکنے کے متعلق بھی اسلام کی یہی ترتیب ہے کہ سب سے پہلے بڑے منکر سے روکا جائے، اس حوالہ سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جس کو سب سے بڑا منکر قرار دیا ہے وہ شرک ہے ، جس طرح نظام زندگی اور نظام کائنات میں اللہ کو تنہا مالک و معبود ماننا سب سے بڑا معروف ہے ، اسی طرح نظام زندگی اور نظام کائنات میں اللہ کی مالکیت ، خالقیت اور حاکمیت میں کسی اور کو شریک سمجھنا شرک ہے، اور اسلام میں یہ سب سے بڑا گناہ اور سب سے بڑا منکر ہے۔

یوں تو کفر اور شرک میں بہت سے گناہ آتے ہیں لیکن سب سے بڑا گناہ عقیدہ کا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے  پہلے کلمہ ہی میں سب سے پہلے اللہ کے علاوہ ہر طرح کے معبود کے انکار کی بات رکھی ہے، چنانچہ کلمہ کے الفاظ اس طرح ہیں، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ (یعنی نہیں کوئی معبود،مگر اللہ)  مطلب یہ کہ اللہ کے معبود کے اقرار سے پہلے تمام معبودان باطل کا انکار ضروری ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اگر کسی نے معبود ان باطل کا انکار کئے بغیر اللہ کے معبود ہونے کا اقرار کیا تو اس کا اقرار صحیح نہیں ، اس ترتیب کی اہمیت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک اور مقام پر  وضاحت کے ساتھ بیان فرمایاہے ،  قَدْ تَّبیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَیَّ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ یَوْمِنْ بِاللہِ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْۃِ الْوُثْقیٰ لاَ نْفِعَامَ لَھَاوَاللہُ سَمِیْعَ عَلِیمُ۔(سورئہ بقرہ آیت ۲۵۶)  ’’تحقیق کہ ہدایت گمراہی سے واضح ہوگئی ہے پس جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو تحقیق کہ اس نے مضبوط سہارا پکڑا جو چھوٹنے والا نہیں ہے، اور اللہ سننے والا ،جاننے والا ہے‘‘۔

(جاری)

اکتوبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau