اذان اور دعوت میں تعلق

(13)

مفتی کلیم رحمانی

رسول پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ’’ رسول خدا کے سوا کسی کو معیار حق نہ بنائیں ، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھیں‘‘۔  یہ عین اسلام کی اصولی بات ہے ، اس میں صحابہ کرامؓ کے مرتبہ کو گھٹانے کا کوئی پہلو نہیں ہے نہ ان کی توہین  ہے، افسوس ہے کہ کچھ لوگوں نے جماعت اسلامی پر یہ الزام لگاد یا کہ یہ صحابہ کو نہیں مانتی اور ان کی توہین کرتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ محمدﷺ کو اللہ کا رسولؐ ماننے کی گواہی ہر اذان کا جُز  ہے، آپؐ کو اللہ کے رسول ماننے کالازمی تقاضہ ہے کہ آپؐ کے لائے ہوئے پیغام کو اختیار کیا جائے، دوسروں کو بھی اس کی دعوت دی جائے، آپؐ کے پیغام کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ کسی سے محبت کی جائے تو اللہ کے لیے کی جائے ، اور کسی سے دشمنی کی جائے تو اللہ کے لیے ، مطلب یہ کہ ایمان والا  اپنی ذاتی پسند و نا پسند سے دستبردار ہو جائے، اور ہر کام میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی پسند و ناپسند کو معیار بنائے۔

اذان کا چوتھا کلمہ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ

اذان کا چوتھا کلمہ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ہے (یعنی آئو نماز کی طرف )اذان کا جہاں اہم مقصد دعوتِ دین ہے ، وہیں نماز کی طرف دعوت و اقامت کی تمہید بھی ہے،  دین کے کسی بھی حکم کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی معنوی حقیقت کو سمجھا جائے۔ قرآن مجید دین کے ہر حکم کا سر شمہ ہے اس لئے دین کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے قرآن کی طرف رجوع ضروری ہے پھردین کے احکام کی عملی ادائی کی کیفیت و حقیقت کو جا ننے کے لئے آنحضورﷺ کی سیرت طیبہ کی طرف رجوع ضروری ہے خود قرآن نے آنحضورﷺ کی سیرت کو دین کا نمونہ قرار دیا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا لَقد کَانَ لَکُم ْ فِی رَسُولِ اللہ ِ اُسْوَۃ حَسَنۃُ  (سورئہ احزاب آیت ۲۱) یعنی تحقیق کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔

قرآن و حدیث میں نماز کی جو حقیقت بیان ہوئی ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز کے سلسلہ میں ایک ہے نماز کی ادائیگی کا عمل اور ایک ہے نماز کو قائم کرنے کا عمل، نماز کی ادائیگی سے مراد ہے  دن رات میں پانچ مرتبہ نماز کی نیت کرکے تکبیر تحریمہ سے سلام کے پھیرنے تک نماز کومکمّل کرنا۔  ہر فرض نمازچند منٹ میں ادا ہوتی ہے۔  جہاں تک نماز کو قائم کرنے کی بات ہے تو اس کے تقاضے تعلق پوری زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔ دن رات کے حساب سے دیکھا جائے تو  چوبیس (۲۴) گھنٹوں میں  دس فیصد   پانچ نمازوں کی ادائی میں صرف ہوتا ہے اور بقیہ زندگی میں نماز قائم کرنے کے وسیع تر ثمرات سامنے آتے ہیں۔ اس تعلق کو ذریعہ اور مقصد کے الفاظ سے بھی سمجھا جا سکتا ہے یعنی نماز کی ادائی کا عمل ذریعہ ہے اور نماز کاقیام مقصد ہے مقصد تک پہنچنے کے لئے نماز کی ادائی  لازمی  ہے۔

یقیناً نماز کی ادائی کا عمل  نماز کی اقامت کا جُز  ہے۔ لیکن نماز کی مکمل اقامت نہیں ہے، بلکہ اقامت کا آغاز ہے۔ نماز کی اقامت ہو تو  نماز سے باہر کی زندگی صالح بنے گی۔  اگر کوئی نمازکی ادائیگی کے عمل کو ہی کامل نماز کی اقامت سمجھ لے اور باہر کی زندگی میں نماز کے مطلوب فیوض کو نظر اندازکردے تو وہ اس مسافر کی طرح ہے جو راستہ کو منزل سمجھ لے۔ اندیشہ ہے کہ ایسا مسافر  منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔ یہی حال اس نمازی کا ہے جو نماز ادا کرے لیکن زندگی میں دین کو قائم نہ کرے۔نماز کے اثرات قرآن کی آیات سے واضح ہوتے ہیں ۔سورہ عنکبوت میں ہے ۔ اُتلُ مَآ اُوحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃِ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ئِ وَ الْمُنْکَرِ وَ لَذِکْرُ اللّٰہ ِ اَکْبرُ وَ اللّٰہ ُ یَعْلَمُ مَا تَصْنعُونَ ۔  (عنکبوت آیت ۴۵) :  ’’تلاوت کیجئے اس کتاب کی جو آپؐ کی طرف بھیجی جارہی ہے اور نماز قائم کیجئے بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اوربرائی سے، اور یقینا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

مذکورہ آیت میں نماز کے قائم کرنے کا حکم ہے اور نماز کی برکات میں تاکید کے ساتھ یہ بات کہی گئی کہ بیشک نمازبے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے ظاہر ہے اس سے مراد نماز کے اثرات ہیں۔  حالت نماز میں تو کوئی بُرائی کا کام ہو ہی نہیں سکتا اس لئے کہ نماز کی حالت میں نمازی کے ہاتھ بندھے ہوئے ، اور  پیر ایک جگہ جمے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ اللہ کا کلام پڑھنے اور سننے میں مصروف ہوتا ہے اس لئے مذکورہ آیت میںبے حیائی اور بُرائی سے روکنے سے مراد لازماً نماز کی ادائیگی کے بعد کے اثرات ہیں۔ مطلب یہ کہ نماز میں جو اللہ کا کلام پڑھا اور سنا جاتاہے وہ نمازی کوبے حیائی اور بُرائی سے روکنے کا سبب بن جاتا ہے ۔

یہ بات ایک نماز ی کے لئے کتنی افسوس ناک ہے کہ ایک طرف تو وہ برسوں سے نماز ادا کررہا ہے اور دوسری طرف ابھی وہ نماز کی  برکات سے محروم ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمان باری تعالیٰ ہے ، وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ۔ (بقرہ آیت ۴۵) ترجمہ :  اور مدد چاہو صبر اور نماز کے ذریعہ اور بیشک یہ نماز یقینا بھاری ہے مگر اللہ سے ڈرنے والوں پر، مطلب یہ کہ جو اللہ سے ڈرنے والے نہیں ہیں ان کے لئے نماز بھاری ہے ، نبیﷺ کے دور میں منافقین بھی نماز ادا کرتے تھے، کیونکہ جو ایمان کے دعویدار نماز ادا نہیں کرتے تھے وہ ایمان والوں میں شمار نہیں ہوتے تھے اور اسلام کا یہی اصول قیامت تک کے لئے ہے۔ اس وقت دنیا میں اسلامی خلافت قائم نہیں ہے اس لئے نماز ادا نہیں کرنے والے مسلمان بھی ایمان والوں میں شمار ہوتے ہیں ۔

بے نمازی افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مسلمانوں میں  یہ شمار بھی صرف دنیا کی زندگی میں ہو سکتا ہے آخرت کی زندگی میں اپنے آپ کو مومنین میں شامل کرنے کے لئے پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ ان نمازوں کے پیغام کو اپنی زندگی میں قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس تحریر کا اصل مقصد یہی ہے کہ نماز ادا کرنے والے بلا شعور نماز کی ادائی کو آخرت کی کامیابی کے لئے کافی نہ سمجھیں بلکہ نماز کے قائم کرنے کو بھی ضروری سمجھے  ۔مذکورہ آیت میں کہا گیاکہ جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہے ان کے لئے نماز کے پیغام کو اپنی زندگی میں قائم کرنا بھاری نہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جان دینا بھی آسان ہے نماز کا یہی وسیع تصور حضرت شعیب ؑ کی دعوت کے حوالہ سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ سورہ ہود میں ہے ۔قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْ مُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبآ ئُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰوُء ا اِنَّکَ لَاَ نْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ (ہودآیت ۸۷)  :’’  انہوں نے کہا اے شعیب کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ہمارے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا ہمارے مالوں میں اپنی مرضی کو چھوڑ دیںتوُتو بڑا نیک راست باز ہے۔

مذکورہ آیت میں بھی نماز کا لفظ نماز کے پیغام کو محیط   ظاہر ہے حضرت شعیبؑ عین حالت نماز میں تبلیغ نہیں کرتے تھے۔ نماز کے بعد یہ کہہ کر شرک سے روکتے ہوں گے کہ میری نماز مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں تمہیں جھوٹے معبودوں کی عبادت سے منع کروں اسی  طرح مالوں میں بھی تمہاری مرضی سے ناجائز تصرف سے منع کروں، لیکن آج کے دور کے بہت سے نمازیوں پر افسوس ہے کہ انہوں نے بلا شعور نماز کی ادائیگی کو ہی کامل نماز سمجھ لیا جب کہ وہ نماز کا ظاہر ہے۔ ظاہر کا اہتمام اسی لئے کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا حصہ بنے۔بطور مثال  جماعتیں اپنے افراد کو فکری و تنظیمی لحاظ سے جوڑنے کے لئے اجتماعات کا نظم کر تی ہیں ،لیکن پیش نظر صرف اتنا نہیں ہوتا کہ لوگ اجتماع میں آکر کچھ وقت کے لئے بیٹھ جا ئیںاور بات سن لیں بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ اجتماع میں بیان کی ہوئی باتوں کو سمجھیں اور اجتماع کے بعد ان باتوں پر عمل کریں یہی وجہ ہے کہ جو افراد ان اجتماعات میں شرکت کے باوجود اجتماع میں بیان کی ہوئی باتوں کو سمجھتے نہیں اور نہ اجتماع کے بعد ان باتوں پر عمل کرتے ہیں تو خود یہ جماعتیں ایسے افراد کو اپنی جماعت کا فرد نہیں مانتیں۔

اللہ تعالیٰ نے اسلام کی جماعت سے وابستہ  تمام مسلمانوں کے لئے پنجوقتہ نمازوں کا نظم کیا ۔ مسجد میں یہ حاضری چند منٹ کی ہوتی ہے،  ہر بار تکرار و تاکید کے ساتھ اللہ کی بڑائی پڑھائی اور سنائی جاتی ہے ساتھ ہی سیدھے راستہ پر چلنے کی تلقین اور گمراہی  سے بچنے کی نصیحت کی جاتی ہے قرآن مجید  پڑ ھ کر سنایا جاتا ہے ۔ ہفتہ واری اجتماع کے طور پر نماز جمعہ کا نظم قائم کیا اور اس میں خصوصیت کے ساتھ خطبہ جمعہ بھی رکھا تاکہ جمعہ کا خطیب منبر پر کھڑے ہو کر حاضرین کے سامنے اللہ اور اس کے رسول ؐکے تعلیمات کی روشنی میں خطاب کرے ۔ قرآن کا کلام ہے جو آنحضورﷺ پر تیئس (۲۳) سالوں میں نازل ہوا۔ اور اس کی روشنی میں آپؐ نے اپنی تئیس(۲۳) سالہ نبوی زندگی گزاری۔ آنحضورﷺ کے اقوال و افعال اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن مجید کی علمی و عملی شرح ہیں۔ جس نے قرآن کو نہیں سمجھا اس نے اللہ کی دعوت کو نہیں سمجھا ۔یہ بات  ایک مسلمان کے لئے کتنی تعجب خیز ہے کہ وہ انسانوں کی تقریروں کو تو سمجھے لیکن اللہ کی دعوت سے نا سمجھ رہے، نماز جمعہ اور خطبہ جمعہ مسلمانوں کے لئے تعلیمی و تربیتی نظم ہے ۔سالانہ اجتماع کے طور پر اللہ تعالیٰ نے نماز عید الفطر اور نماز عیدالاضحی کو رکھا اور ان دونوں مواقع پر بھی خصوصیت کے ساتھ خطبہ عید الفطر اور خطبہ عید الاضحی رکھا تاکہ ان دونوں اجتماعات میںبھی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت و تنظیم ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اور اجتماع رکھا اگرچہ اس میں تمام مسلمانوں کی شرکت لازمی قرار نہیں دی گئی بلکہ جو جسمانی و  مالی لحاظ سے مکہ جانے کی استطاعت رکھتے ہیں ان پرہی اس اجتماع میں شرکت لازمی قرار دی گئی اس اجتماع کو حج کا اجتماع کہتے ہیں، جو  دنیا کے مسلمانوں کا  عالمی اجتماع  ہے ۔ اس اجتماع میں بھی خطبہ رکھا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی رہنمائی کی جاسکے۔ اسلام کے مذکورہ اجتماعات کی تفصیل کو دیکھ کر کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ کیا اس تربیت کے بعد بھی کوئی مسلمان فکری علمی، عملی لحاظ سے اسلام سے دور رہے گا ؟ اگر وہ پھر بھی اسلام سے دور ہے تو یہی کہا جائے گا کہ وہ ان مواقع پر شریک نہیں ہوتا یا شریک ہوتا ہے تو پڑھی اور سنی جانے والی باتوں کو سمجھتا نہیں یا صرف دکھاوے کے لئے شریک ہوتا ہے۔ سب سے اہم مواقع روزانہ کے ہیں جو فجر ، ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء کے وقت ہیں، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ مسلمان مساجد میں امام کی قیادت میں جمع ہوتے ہیں جس سے اجتماعیت کی برکت بھی حاصل ہوتی ہے۔ مجبوری اور شرعی عذر کی صورت میں نماز مسجد کے علاوہ   بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

جماعت کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر دو  فرد بھی ہو تو حکم ہے کہ وہ جماعت سے نماز پڑھیں جس میں ایک امام ہو اور دوسرا مقتدی ،  اوقات کی تعیین بھی اس انداز سے کی گئی ہے کہ اہل ایمان کی تعلیم و تربیت ہو سکے اوران کے  یہ اجتماعات مسائل کے حل کا ذریعہ بھی بن سکیں۔ پہلا وقت رات کے اختتام اور دن کے آغاز میں صبح صادق کے فوراً بعد  ہے۔ نماز فجر سے  دن کا آغاز ہوتا ہے یعنی اللہ کی عبادت اور قرآن کی تعلیم سے ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز فجر میں دیگر نمازوں کی بہ نسبت قرآن کی تلاوت زیادہ رکھی گئی ہے۔  اس فجر کے اجتماع سے یہ بھی فائدہ مقصود ہے کہ محلہ اور بستی میں عشاء کی نماز کے بعد سے رات میں کوئی مسئلہ تو پیش نہیں آیا ،کوئی چوری ہوئی ،کس کے گھر میت ہوئی ،وہ محلہ اور بستی کے تمام لوگوں کو سورج نکلنے سے پہلے ہی معلوم ہو جائے تاکہ اس  مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں ہر فرد اپنا کردار ادا کرسکے ۔کسی مسئلہ کے حل کے لیےپہلے اس کا علم ضروری ہے ۔ علم بھی ایک جماعت کو ہونا چاہیے۔ کیونکہ بہت سے انسانی اور اسلامی مسائل ایک دو فرد سے حل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لئے بہت سے افراد کی ضرورت پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ محلہ بستی اور شہر میں رات میں رونما ہونے والے واقعات کا علم نماز فجر کے اجتما ع میں آنے والے افراد کو سب سے پہلے ہوتا ہے۔دوسرا اجتماع آدھے سے زیادہ دن گزرنے کے بعد دوپہر کو سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر کے نام سے منعقد ہوتا ہے تاکہ ضروریات زندگی کے کام کاج اور کاروبار سے ذہن پر جو غفلت طاری ہوتی ہے وہ غفلت دور ہو جائے ساتھ ہی محلہ بستی اور شہر میں نماز فجر کے بعد سے کیا مسئلہ پیش آیا وہ سب کو اجتماعی طور پر معلوم ہوجائے ،اس لئے دونوں اجتماع کے درمیان میں زیادہ فاصلہ رکھا گیا ہے تاکہ یکسوئی کے ساتھ کام انجام دیئے جا سکے۔تیسرا اجتماع اس کے دو تین گھنٹے کے بعد نماز عصر کے نام سے منعقد ہوتا ہے تاکہ ظہر کے بعد سے ذہن پر جو غفلت طاری ہوئی وہ دور ہو جائے ساتھ ہی معاشرہ میں ظہر کے اجتماع کے بعد سے جو حالات پیش آئے وہ عصر کے اجتماع میں تمام اہل ایمان کو اجتماعی طور پر معلوم ہو جائےاگرچہ ظہر اور عصر کے اجتماع کے درمیان میں وقفہ فجر اور ظہر کے درمیان سے کم ہے لیکن یہ وقفہ اسلئے کم اور مناسب ہے کہ کاموں کا زور بھی کم ہو جاتا ہے اور جسم و ذہن بھی پہلے وقفہ کی بہ نسبت زیادہ تھک جاتا ہے ، اسلئے کم وقفہ میں جسمانی و ذہنی آرام کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ نماز جہاں ایک طرف عبادت و تعلیم کا ذریعہ ہے وہیں دوسری طرف جسمانی و ذہنی آرام کا بھی ذریعہ ہے۔

(جاری )

مشمولہ: شمارہ دسمبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau