اذان اور دعوت میں تعلق

(16)

مفتی کلیم رحمانی

مقامِ فکر ہے کہ کتنے نمازیوں نے فی الواقع زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کے حکم کو سب سے بڑا سمجھا ہوا ہے، بعض نادان تو ایسے ہیں جوان تحریکات کی مخالفت کرتے ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ  کے حکم کے نفاذ کی بات کرتی ہیں ، گویا ابھی بہت سے نمازیوں نے بھی اذان کے پہلے کلمہ کی دعوت کے تقاضے نہیں سمجھے۔ اللہ کے احکام کو صرف عبادت کے شعبہ میں قبول کیا ، جب کہ اذان کے پہلے کلمہ کی دعوت حقیقتاً یہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کے حکم کی بڑائی تسلیم کی جائے چاہے وہ معاملات ہوں یا تجارت یا سیاست کا شعبہ ہو، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں اذان کی دعوت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی تحریک چلائی جائے،  انسانوں اور مسلمانوں کے مسائل کا حل اذان کی دعوت کو سمجھنے اور قبول کرنے میں ہے۔

اجتماعیت

انسانی اور اسلامی زندگی کا ایک تقاضہ اجتماعیت ہے اس ضرورت اور تقاضہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے پنجوقتہ نمازوں سے جوڑ دیا، چنانچہ اللہ کا ارشادہے : وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ  یعنی رکوع کرو،رکوع کرنے والوں کے ساتھ مطلب یہ کہ جماعت سے نماز پڑھو، اب نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں دو حکم عائد ہوگئے ایک نماز کو ادا کرنا اور دوسرے جماعت سے ادا کرنا ، مطلب یہ کہ مَردوں کے لیے  بغیر عذر شرعی کے جماعت کے بغیر نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہے، نماز کے ساتھ جماعت کی شرط اس لئے عائد کی گئی ہے کہ انسانی اور اسلامی زندگی کے معاملات جماعت کے بغیر نہیں چلتے ۔ نماز پورے دین کی ترجمان عبادت ہے اس لئے اس کے ساتھ جماعت کا نظم جوڑ دیا گیاہے جماعت کا مطلب یہ ہے کہ ایک امام ہو اور باقی مقتدی ہوں، اسی طرح زندگی کے تمام معاملات میں ہونا چاہیے کہ ایک امیر ہو اور باقی مامور ہوں، یہاں تک کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر سفر میں دو فرد ہوں تو ان میں ایک امیر ہو اور دوسرا مامور، اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام میں زندگی کے تمام شعبوں میں اجتماعیت کی کتنی اہمیت ہے، لیکن اس سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ اسلام جتنا زور اجتماعیت پر دیتا ہے اس سے زیادہ اس بات پر دیتا ہے کہ یہ اجتماعیت اسلام کی بنیاد پر ہو، غیر اسلامی اجتماعیت کو اسلام تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے فتنہ قرار دیتا ہے چنانچہ تاریخ کے ہر دور میں غیر اسلامی اجتماعیت ہی سے دنیا میں فساد برپا ہوا ہے  صرف ایک ہی اجتماعیت مطلوب و مقصود ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی امارت میں قائم ہو، مطلب یہ کہ جس اجتماعیت میں اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم سب سے مقدم ہو، اور تاریخ سے یہ بات بھی واضح ہے کہ جب تک دنیا میں اس بنیاد پر اجتماعیت تھی دنیامیں امن و امان تھا، اور آج بھی دنیا میں امن و امان  اسی  بنیاد پر قائم کیا ہو سکتا ہے ، اجتماعیت کا امیر قوم کا سردار نہیں قوم کا خادم ہوتا ہے۔

جزوی اختلافات:

یہاں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اسلام نے جب جماعت کی نماز کے ذریعہ تمام مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کا پیغام دیا تو خود نمازیوں میں نماز کے طریقہ کی بنیاد پر اختلاف کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نمازیوں کا یہ اختلاف کم علمی او ر ناقص علم کی وجہ سے ہے اور پھر تنگ نظری اور تعصب نے اسے اور بڑھا چڑھا کر  پیش کر دیا، ورنہ جہاں تک طریقہ نماز کا تعلق ہے تو و ہ دور نبوی سے لے کر آج تک ایک ہی رہا ہے اور پوری امت مسلمہ آج بھی اسی طریقہ سے نماز ادا کر رہی ہے ، چاہے کوئی حنفی ہو، یا شافعی ہو یا مالکی ہو یا حنبلی ہو، یا اہل حدیث ہو، اور پھر امت میں نماز کی ادائیگی کے متعلق جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ بنیادی نوعیت کا اختلاف نہیں ہے بلکہ وہ جزوی نوعیت کا اختلاف ہے اور یہ سب تنوع سنت رسولؐ اور سنت صحابہؓ سے ثابت ہے ،تو اس کو اختلاف کا نام دینا ہی صحیح نہیں اسے عمل رسولؐ اور عمل صحابہؓ کی الگ الگ ہیتیں کہنا چاہئے آنحضورﷺ اور صحابہؓ نے جن طریقو ں سے نماز ادا کی ہیں الحمد اللہ وہ تمام طریقے نہ صرف یہ کہ کتابوں میں محفوظ ہیں بلکہ امت کے عمل میں بھی محفوظ ہیں ۔

آج امت میں نماز کی ادائیگی کے طریقہ کے متعلق جو تنوع پایا جاتا ہے  وہ جزوی نوعیت کا ہے لیکن یہ   شدید ہو گیا ہے چونکہ امت میںنماز کے متعلق صرف نماز کی ادائیگی کی تحریک چل رہی ہے نماز کو زندگی میں اور معاشرہ میں قائم کرنے کی تحریک نہیں ہے کہ غور کرنا چاہیے  پانچوں وقت کی نمازوں کی ادائیگی میں دن و رات کے چوبیس(۲۴) گھنٹوں میں سے تقریباًدس فیصد وقت صَرف ہوتا ہے ۔ دن و رات کے  بقیہ وقت میں اقامتِ صلوٰۃ کےوسیع تر  تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ یعنی نماز میں پڑھی جانے والی آیات قرآنی اور تکبیرات و تسبیحات کے پیغام کو اپنی زندگی میں علمی و عملی طور پر قائم کرنا چاہے ۔ جب مسلمانوں میں اقامت دین کی تحریک چلے گی تو مسلمانوں کے جزوی اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے  فطری بات ہے کہ ایک بڑی چیز سامنے آتی ہے تو چھوٹی چیز خود بخود ہٹ جاتی ہے  مسلمانوں نے باطل کی تردید  چھوڑ دی تو آپس میں جھگڑنے لگے ۔ مسلمان اگرچاہتے ہیں کہ حق کی بنیاد پراتحاد ہو تو انہیں باطل پر گرفت کرنی ہوگی ۔

اُمت کا اتحاد:

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان باطل سے نبرد آزما رہے تب تک وہ متحد رہے اور آپسی لڑائی سے بچے رہے۔ جب مسلمانوں نے باطل سے کش مکش  چھوڑ دی تو وہ آپسی اختلافات  میں مبتلا ہو گئے ۔ آج بعض نادان باطل سے دوستی کرکے ترقی  حاصل کرنا چاہتے ہیں جو نا ممکن ہے۔باطل سےمراد غیر اسلامی فکر و طرز عمل ہے  ۔مسلمانوں میں ایسے افراد ہیں جو اسلامی فکر اور اسلامی طرز زندگی کو چھوڑ کر باطل کے حامی و آلہ کار بنے ہوئے ہیں ، جبکہ غیر مسلموں میں ایسےافراد موجود ہیں جو   اسلامی طرز زندگی کی خوبیوں  کے معترف ہیں، اگر مسلمان حق و باطل کے امتیاز کی بنیاد پر معاشرہ میں تحریک چلائیں تو جہاں کچھ نادان ان کے مخالف ہوں گے وہاں بہت سے خیر پسند غیر مسلم ان کے حامی ہوں گے۔

آزادی سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو وطنی اتحاد کے نعرے کے ذریعے مطمئن کیا گیا تھا بعض علماء بھی پیش پیش تھے لیکن بہر حال جو بنیاد کمزور  ہوتی ہے وہ ناپائیدار ہی رہتی ہے اور اس کا انجام  غلط ہوتا ہے کسی اچھے شخص کےسوءِ فہم سے وہ اچھی نہیں ہو جاتی، اگر  وطنی اتحاد کا نعرہ تو ہو لیکن اہلِ اقتدار کو انصاف اور انسانیت ہی سے دشمنی ہو تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے  ایسے ملک میں کسی کمزور قوم کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے چنانچہ آزادی کے بعد یہ صورتحال موجود ہے۔ مسلمان قوم بھی آزمائش سے دو چار ہے۔ ضرورت  ہے کہ مسلمان  ماضی کی غلطیوں سے سبق لیں اور سطحی  نعروں سے نکل کر انسانی و اسلامی اتحاد کا نعرہ بلند کریں اسی میں مسلمانوں کا بھلا ہے اور اسی میں پوری انسانیت کا بھلا ہے اوراس سلسلہ میں نماز کا پیغام بڑا موثر کردار ادا کر سکتا ہے بشر طیکہ مسلمان اس کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔

نماز کے متعلق صرف ادائیگی نماز پر اکتفا کرنا درست نہیں اور صرف ادائیگی نماز کی دعوت دینا کافی نہیں۔  اگر کوئی شخص زندگی بھر  پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں ا دا کرتا رہا لیکن اقامتِ دین سے غافل رہا، تو اس نے گویا  زندگی کا  محض پانچ فیصد حصہ بندگی میں گزارا،جب کہ ایک مسلمان کو پوری زندگی بندگئی  رب میں گزارناضروری ہے، اور پیغام نماز میں اسی بندگئی رب کی دعوت ہے ۔

نمازمیں اللہ کے حکم کی بڑائی اور دینی اتحاد کے ساتھ ساتھ پاکی صفائی اور ستر پوشی کی بھی تعلیم ہے  نماز کی ادائیگی میں جو چودہ فرائض ہیں ان میں سے تین فرائض کا تعلق پاکی و صفائی سے ہے یعنی نماز کی جگہ کا پاک ہونا، نمازی کے جسم اور کپڑوں کا پاک ہونا ، جگہ جسم اور کپڑوں کی پاکی صفائی انسانی اور اسلامی تقاضوں میں سے ہے ۔  نماز اسلام کی ترجمان عبادت ہے اسلئے پاکی صفائی نماز میں فرض قرار دی گئی ہے، اسی طرح انسانی اور اسلامی ایک تقاضہ بدن کو کپڑے سے ڈھانپنا ہے تو یہ چیز بھی نماز میں فرض قرار دی گئی  وقت کی پابندی بھی انسانی و اسلامی زندگی کا تقاضہ ہے اس لئے پانچ نمازیں  وقت کے ساتھ فرض کی گئیں تاکہ انسانوںاور خصوصاً مسلمانوں میں کسی کام کے کرنے کے متعلق وقت کی قدر و قیمت کا احساس ہو سکے، انسانی فطرت اور اسلامی تقاضہ کے طور پر انسانی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لئے کسی ایک سمت اور ایک رخ کی بڑی اہمیت ہے تو اللہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی کے لئے خانہ کعبہ کی طرف  رخ کو فرض قرار دیا۔ اسی طرح انسانی اور اسلامی لحاظ سے کسی بھی کام کو صحیح طور سے انجام دینے کے لئے اس کام کی دل سے نیت ضروری ہے۔ بغیر نیت و ارادہ کے کوئی بھی کام صحیح نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی کے لئے نیت کو فرض قرار دیا ،اور اس میں پیغام یہی ہے کہ بندگئی رب کا ہر کام دل کے ارادہ سے کیا جائے۔ نماز کے یہ وہ  فرائض ہیں جن کا تعلق نماز کی شروعات سے  ہے جن کو فقہ کی اصطلاح میں نماز کی شرائط کہا جاتا ہے ۔رہے وہ سات فرائض جن کا تعلق نماز کے اندرونی عمل سے ہےاور جنہیں فقہ کی اصطلاح میں نماز کے ارکان کہا جاتا ہے  ان کا پیغام بھی اہم اور وسیع ہے۔ ان میں سب سے پہلے تکبیر تحریمہ یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرَ سے نماز شروع کرنا ہے۔ جس کے معنی ہیں اللہ سب  سےبڑا ہے گویا اللہ کا حکم سب سے بڑا ہے۔ یہ تکبیر و ہ کلمہ ہے جو ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں چھ مرتبہ دُہرایا جاتا ہے۔

تکبیر کا پیغام:

اس سے اس کلمہ کے پیغام کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے  دن بھر کی صرف پانچوں فرض نمازوں کی رکعتیں سترہ ہو جاتی ہیں اور ہر رکعت میں یہ تکبیر چھ مرتبہ کے حساب سے ایک سو دو مرتبہ ہو جاتی ہے تو جو نمازی صرف ایک دن میں حالت نماز میں اور وہ بھی مسجد میں اللہ کے حکم کو سب سے بڑا کہے گا کیا ایسا شخص نماز کے بعد اللہ کے حکم  سے کسی اور کے حکم کو بڑا سمجھے گا؟  نماز کا دوسرا رکن قیام ہے یعنی حالت نماز میںتقّدس و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا ، قیام کا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے تقّدس و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ خود آنحضورﷺ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ صحابہؓ  آپؐ کے احترام میں کھڑے ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ تقّد س و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا عبادت کا حصہ ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کی  ہے۔

قیام کے علاوہ نماز میں تین اور ارکان  ہیں، رکوع ، سجدہ اور قعدہ ، مطلب یہ کہ تقّد س و احترام کے ساتھ سرکو جھکانا اللہ کے لئے خاص ہے اسی طرح تقّد س و احترام کے ساتھ سر کو زمین پر رکھنا بھی اللہ ہی کے لئے خاص ہے اور تقّد س و احترام کے ساتھ  زمین پر بیٹھنا بھی اللہ ہی کے لئے خاص ہے، عبادت صرف اللہ ہی کی کی جاسکتی ہے ۔نماز کا ایک اہم رکن قرآت قرآن ہے۔ یہ پوری نماز کی اصل روح ہے اور اس کا پیغام یہی ہے کہ نماز پڑھنے والے کا قرآن سے فکری اور عملی تعلق قائم رہے۔نماز کا آخری رکن اپنے ارادہ سے نماز کو ختم کرنا ہے مطلب یہ کہ یوں ہی نماز سے نہ نکل جائے بلکہ نیت و ارادہ کے ساتھ نکلے، اس رکن کا پیغام یہی ہے کہ کوئی بھی کام نیت و ارادہ کے ساتھ ہی ختم کیا جائے جس طرح نیت و ارادہ کے ساتھ  شروع کیا گیا تھا۔

غلطیوں کی اِصلاح:

جماعت کی نما ز میں امام صاحب سے اگر کوئی بھول اور غلطی ہو جائے تو مقتدیوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ امام صاحب کی بھول اور غلطی کو یوں ہی برادشت نہ کرے بلکہ لقمہ دیکر اس کی اصلاح کرے، اور امام صاحب کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مقتدیوں کے لقمہ کو قبول کرے، اگر امام صاحب کی بھول اور غلطی پر مقتدیوں نے لقمہ نہ دیا تو نما زکی خرابی کے وہ بھی ذمہ دار ہوںگے، اسی طرح امام اگر مقتدیوں کے لقمہ کو قبول نہ کرے تو وہ بھی نماز کی خرابی کا ذمہ دار قرار پائے گا ، اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام نے اجتماعیت  کے سلسلہ میں امیر و مامور کو کیا تعلیم دی ہے وہ یہ کہ دینی  جماعت کے امیر سے بھول اور غلطی ہو جائے تو مامورین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امیر کی بھول اور غلطی پر امیر کو ٹوکے اور امیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مامورین کے ٹوکنے کو قبول کرے اور اپنی بھول اور غلطی کی اصلاح کر لے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ نہ اسلامی جماعت کا امیر آزاد و خود مختار ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے حکم دے اور نہ اسلامی جماعت کے مامورین کے لئے جائز ہے کہ وہ امیر کی بھول اور غلطی پر خاموش رہیں۔لیکن افسوس ہے کہ آج بہت سی دینی جماعتوں میں امیر و مامور کے متعلق یہ رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ کہیں امیر آزاد و خود مختار بنے ہوئے ہیں اور کہیں مقتدی آزاد و خود مختار بنے ہوئے ہیں ، امیر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی امارت کے فرائض انجام دے۔

(جاری)

مشمولہ: شمارہ مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau