اذان اور دعوت میں تعلق

(9)

مفتی کلیم رحمانی

ہمیں معلوم ہے کہ پنجم کلمہ کا نام ہی ردِّ کفر رکھا گیا ہے، اور اس کے الفاظ اس طرح ہیں،   اَللَّھُمَّ اِنّیِٓ اَعُوذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیئاً وَ اَنَا اَعَلَمُ بِہِ تُبْتُ وَ تَبّراتُ مِنَ الْکُفْرِ وَ الشّرکِ وَ الْکَذِب وَ الْغِیبَۃِ وَ الْبُھْتَانِ وَ الْمَعَاصیِ کُلَِّھَا اَسْلَمْتُ وَ اٰمَنْتُ وَ اَقُولُ لَآ اِلٰہَ اِلّاُ اللہُ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللہِ  ترجمہ  ’’ پانچواں کلمہ کفر کا رد ہے ، ائے اللہ بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں، کہ میں تیرے ساتھ کچھ بھی شرک کروں، اور میں اسے جانتا ہوں ، میں توبہ کرتا ہوں، اور براء ت اور بیزاری کا اعلان کرتاہوں، کفر اور شرک اور جھوٹ اور غیبت اور بہتان اور ہر طرح کی نافرمانی سے ، میں نے فرمانبرداری اختیار کی اور میں ایمان لایا اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں‘‘۔

مذکورہ کلمہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ کفر کا رد، کلمہ کا لازمی تقاضہ ہے ، کفر کے رد میں، اللہ تعالیٰ کی ہر نافرمانی کا رد کرنا شامل ہے چاہے وہ کفر عقیدہ و عبادت کا ہو، یا معاملات ، معاشرت اور سیاست کا ہو، مذکورہ پنجم کلمہ ایک طرح سے اول کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے پہلے جز لَا اِلٰہَ کی واضح تشریح و تقاضہ ہے،  جماعت اسلامی ہند نے بھی اپنے دستور میں ان پانچ کلموں کو بہت اہمیت دی ہے، چنانچہ جماعت اسلامی ہند نے اسلام کے پہلے کلمہ  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُرَّسُولُ اللہ کو اپنا عقیدہ قرار دیا ہے، اسی طرح دوم کلمہ شہادت   اَشْھَدُ اَنْ  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اِنَّ عَبْدُ ہُ وَ رَسُولَہُ کو اپنے نظم میں بڑی اہمیت دی ہے، چنانچہ جب کوئی شخص جماعت اسلامی کارکن بنتا ہے تو تجدید ِشہادت کے نام سے ،کسی اجتماع میں اسے دوم کلمہ پڑھایا جاتا ہے، جماعت اسلامی کے نزدیک اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اب تک مسلمان نہیں تھا، اور اب وہ مسلمان ہو رہا ہے بلکہ جماعت اسلامی بطور یاد دہی اور توجہ کے اسے کلمہ شہادت پڑھاتی ہے،جس طرح اللہ تعالیٰ نے بطور یاد دہی اور توجہ کے، اذان اور نماز میں بہت سے کلمات تکرار کے ساتھ رکھے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند نے اپنے دستور میں   لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی گیارہ(۱۱) نکات کے تحت دستور کے دو صفحات میں جو تشریح کی ہے، ایک طرح سے وہ پانچوں کلموں کی تشریح و تقاضہ ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ جن اہل علم حضرات نے۱۹۴۱؁ء میں جماعت اسلامی کا دستور بنایا ہے، انہوں نے بہت گہرائی سے ان پانچ کلموں کا مطالعہ کیا تھا، اور پھر ان کا پورا نچوڑ اور خلاصہ پہلے کلمہ کی تشریح و تقاضہ میں پیش کر دیا، چنانچہ قارئین کی واقفیت اور یاد دہی کے لئے جماعت اسلامی ہند کے دستور کے دو صفحات من و عن نقل کئے جا رہے ہیں۔

اس عقیدے کے پہلے جز یعنی اللہ تعالیٰ کے واحد اِلٰہ ہونے اور کسی دوسرے کے اِلٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہی اللہ ہم سب انسانوں کا معبود بر حق اور حاکم تشریعی ہے، جو ہمارا اور اس پوری کائنات کا خالق ، پروردگار ، مدبر مالک اور حاکم تکوینی ہے، پرستش کا مستحق اور حقیقی مطاع صرف وہی ہے اور ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ انسان

(۱)   اللہ کے سوا کسی کو ولی و کارساز ، حاجت روا و مشکل کشا، فریاد رس اور حامی و ناصر نہ سمجھے ، کیونکہ کسی دوسرے کے پاس حقیقتاً کوئی اقتدار ہی نہیں ہے۔

(۲)    اللہ کے سوا کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے والا نہ سمجھے۔کسی سے تقویٰ نہ کرے، کسی سے خوف نہ کھائے ، کسی پر توکل نہ کرے اور کسی سے امیدیں  وابستہ نہ کرے، کیونکہ تمام اختیارات کا مالک حقیقتاً صرف اللہ ہے۔

(۳)   اللہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کرے، کسی کو نذر نہ دے، کسی کے آگے سر نہ جھکائے، غرض کسی کے ساتھ وہ معاملہ نہ کرے، جو مشرکین اپنے معبودوں کے ساتھ کرتے ہیں، کیونکہ صرف اللہ ہی عبادت کامستحق ہے۔

(۴)   اللہ کے سوا کسی سے دعا نہ مانگے ، کسی کی پناہ نہ ڈھونڈے ، کسی کو مدد کے لئے نہ پکارے ، کسی کو خدائی انتظامات میں ایسا دخیل اور زور آور بھی نہ سمجھے کہ اس کی سفارش سے قضائے الٰہی ٹل سکتی ہو، کیونکہ خدا کی سلطنت میں در حقیقت سب بے اختیار رعیت ہیں، خواہ وہ فرشتے ہوں، خواہ انبیاء یا اولیا۔

(۵)   اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مالک الملک اور مقتدرِ اعلیٰ نہ سمجھے، کسی کو با اختیار خود حکم دینے اور منع کرنے کامجاز تسلیم نہ کرے، کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون سازنہ مانے اور ان تمام اطاعتوں کو صحیح تسلیم کرنے سے انکار کردے، جو ایک اللہ کی اطاعت اور اس کے قانون کے تحت نہ ہو، کیونکہ اپنے ملک کا ایک ہی جائز مالک اور اپنی خلق کا ایک ہی جائز حاکم اللہ ہے۔

اس کے سوا کسی کوفی الواقع مالکیت اور حاکمیت کا حق ہی نہیں پہنچتا، نیز اس عقیدے کو قبول کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ انسان

(۶)   اپنی خود مختاری سے دست بردار ہو جائے، اپنی خواہش نفس کی بندگی چھوڑ دے او رصرف اللہ کا بندہ بن کر رہے،جسے اس نے اپنا واحد اِلٰہ تسلیم کیا ہے۔

(۷)   اپنے آپ کو کسی چیز کا مالک و مختار نہ سمجھے ، ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جان، اپنے اعضاء او ر اپنی ذہنی و جسمانی قوتوں کو بھی اللہ کی ملک اور اس کی طرف سے امانت سمجھے۔

(۸)  اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ سمجھے اور اپنی قوتوں کے استعمال اور اپنے برتائو اور تصرفات میں ہمیشہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھے کہ قیامت کے روز اسے اللہ تعالیٰ کے حضور ان سب چیزوں کا حساب دینا اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پاناہے۔

(۹)  اپنی پسند کا معیار اللہ کی پسند کو اپنی نا پسندیدگی کا معیار اللہ کی نا پسندیدگی کو بنائے۔

(۱۰)  اللہ تعالیٰ سے شدید محبت رکھے، اس کی رضا اور اس کے قرب کو اپنی تمام سعی و جہد کا مقصود اور اپنی پوری زندگی کا محور ٹھہرائے۔

(۱۱)   اپنے لیے اخلاق میں ، برتائو میں، معاشرت اور تمدن میں، معیشت اور سیاست میں ، غرض زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی ہدایت کو ہدایت مانے اور صرف اسی ضابطے کو ضابطہ تسلیم کرے، جو اللہ کا مقرر کردہ ہو، یا اس کے احکام و ہدایات کے تحت ہو، اور جو اس کی شریعت کے خلاف ہو اسے رد کردے، (منقول دستور جماعت اسلامی ہند صفحہ ۴۔۵)

اسی طرح کلمہ کے دوسرے جز محمد رسول اللہ کی تشریح و تقاضہ بھی جماعت اسلامی نے اپنے دستور میں بڑے جامع انداز میں پیش کیا ہے، جو انشا ء اللہ اذان کے تیسرے کلمہ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللہِ  کی تشریح و تقاضہ کے ذیل میں پیش کیا جائے گا۔کلمہ کے پہلے جز لَااِلٰہَ اِلّاَ اللہُ  کے ذیل میں جماعت اسلامی ہند نے اپنے دستور میں جو باتیں درج کی ہے، اگر گہرائی اور انصاف سے دیکھا جائے تو یہ باتیں پوری امت مسلمہ کے لیے ایک متفق علیہ نصاب کے طور پر ٹھہرتی ہیں، ویسے بھی علماء کرام نے پانچ کلموں کا جو نصاب ترتیب دیا تھا وہ پوری امت مسلمہ کے لیے ترتیب دیا تھا، اور جماعت اسلامی کے دستور میں پہلے کلمہ کے ذیل میں جو باتیں درج ہیں ، ایک طرح سے وہ پانچوں کلموں کی تشریح و تقاضہ ہے۔ پانچ کلموں کے تذکرہ میں اب تک چار کلموں کے الفاظ آچکے ہیں، صرف تیسرے کلمہ کے الفاظ باقی رہ گئے ہیں، تو وہ اس طرح ہیں ،  سُبْحَانَ اﷲِ وَ الْحَمْدُ ِﷲِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلّاَ اﷲُ ، واﷲُ اَکْبرْ وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوْۃَ اِلاَّ بِاﷲِ الْعَلِی الْعَظیِمْ ترجمہ (پاک ہے اللہ اور تعریف اسی کے لئے ہے اور نہیں کوئی معبود مگر اللہ اور اللہ سب سے بڑا ہے اور نہیں کوئی رکاوٹ اور نہیں کوئی قوت ،مگر اللہ کی ،جو بلند اور عظیم ہے۔ اس کلمہ کا نام تمجید ہے، یعنی بزرگی ا ور بڑائی والا کلمہ، چونکہ یہ سوم کلمہ شروع سے لیکر اخیر تک اللہ کی بزرگی اور بڑائی کو لیے ہوئے ہے ، اس لئے اس کلمہ کا نام ہی، بزرگی اور بڑائی والا کلمہ ہے۔

مذکورہ پانچ کلموں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ پانچوں ہی کلمے اپنے اندر  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کا کلمہ لئے ہوئے ہیں ، اس سے  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ   کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

راقم الحروف نہیں چاہتے ہوئے بھی اذان کے دوسرے کلمہ  اَشْھَدُ اِنْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ   اوراسلام کے پہلے کلمہ کے پہلے جز کی مختصر تشریح و تقاضہ اس امید پر ختم کر رہا ہے کہ قارئین اس کلمہ کی مکمل تشریح و تقاضہ ضرور قرآن و حدیث سے سمجھیں گے ، اخیر میں علامہ اقبالؒ کے دو شعر جو پہلے کلمہ کے متعلق ہیں پیش ہیں۔

خودی کا سرّنہاں  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ

خودی ہے تیغ فساں  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ

یہ نغمہ فصلِ گل ولالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ

علامہ اقبال ؒنے مذکورہ دو اشعار میں سے پہلے شعر میں یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ انسان کے باطن و ظاہر کے مناسب حال صرف کلمہ  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ  ہے، اس لیے انسان کا ظاہر و باطن اسی کلمہ سے وابستہ ہونا چاہیےاور دوسرے شعر میں علامہ اقبالؒ نے یہ بات سمجھائی ہے کہ یہ کلمہ حالات کے تابع نہیں ہے ، بلکہ حالات اس کے حق میں ہوں، یا اس کے مخالفت میں ، ایک مومن کو ہر حال میں اسی کلمہ سے وابستہ رہنا چاہیے، مطلب یہ کہ اسلامی حکومت ہو ،یا غیر اسلامی حکومت ہو، اسلام غالب ہو ،یا مغلوب ہو، ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اسی کلمہ سے چمٹا رہے ،اور دوسروں کو بھی اسی کلمہ کی دعوت دے۔

اذان کا تیسرا کلمہ ، اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّداً رَّسُوْلُ اﷲِ

اذان کا تیسرا کلمہ ،  اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّداً رَّسُوْلُ اﷲِ ہے،ترجمہ :( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں) ۔ لَااِلٰہَ اِلّاَاللہُ مُحَمّدُ رَسُوْلُ اللہِ در اصل یہ کلمہ اسلام کے پہلے کلمہ  لَااِلٰہَ اِلّاَاللہُ مُحَمّدُ رَسُوْلُ اﷲ کادوسرا جز ہے ، اسلام کی دعوت و شہادت میں اس کی اہمیت کے پیش نظر اذان کے کلمات میں اسے ایک علیحدہ کلمہ کے طور پر رکھا گیا ہے، اور وہ بھی گواہی کے انداز میں، اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس کلمہ کا صرف اقرار ہی کافی نہیں ہے، بلکہ دوسروں کے سامنے اس کی گواہی دینا اور اعلان کرنا بھی ضروری ہے، ساتھ ہی یہ کلمہ قرآنی کلمہ ہے، کیونکہ سورئہ فتح کی آیت اُنتیس(۲۹) میں یہ کلمہ اپنی کامل صورت میں بیان ہوا ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے، مُحَمّدُ رَسُولُ اللہِ  یعنی محمدؐ اللہ کے رسول ہیں چونکہ  لَااِلٰہَ اِلّاَاللہُ مُحَمّدُ رَسُوْلُ اللہِ پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے، اس لحاظ سے  مُحَمّدُ رَسُولُ اللہِ  پر اسلام کی آدھی عمارت کھڑی ہے،مطلب یہ کہ آدھا اسلام  لَااِلٰہَ اِلّاَاللہُ سے وابستہ ہے، جس کا تذکرہ اذان کے دوسرے کلمہ میں آچکا ہے، اور آدھا اسلام مُحَمّدُ رَسُوْلُ اللہِ سے وابستہ ہے۔

مُحَمّدُ رَسُوْلُ اللہِ کی مکمل تشریح سے واقفیت کے لیے تو مکمل قرآن سے واقفیت اور محمدﷺ کی مکمل تیرسٹھ (۶۳) سالہ زندگی سے واقفیت ضروری ہے ، لیکن یہاں چونکہ محمدرسولﷺ اللہ کی تشریح اسلام کی دعوت کے طور پر کی جارہی ہے، اسلئے صرف چند بنیادی باتیں ہی پیش کی جائینگی، کیونکہ اسلام کی دعوت میںبنیادی باتیں ہی پیش کی جاتی ہیں، اور ویسے بھی اذان کا اصل موضوع دعوت ہی ہے، البتہ جنہوں نے اسلام کی دعوت کو قبول کر لیا ہے، ضرور انہیں اسلام کا مکمل علم بھی حاصل کرنا چاہئے۔ دینی لحاظ سے یہ بات طئے شدہ ہے کہ محمد ﷺ کو جاننے اور ماننے کا اصل ذریعہ قرآن و حدیث اور عمل صحابہؓ ہے، بلکہ عمل صحابہؓ بھی قرآن و حدیث کے تابع ہے، اس لحاظ سے محمد ﷺ کو جاننے اور ماننے کا مستند اور محفوظ ذریعہ قرآن و حدیث ہے، چنانچہ یہاں چند آیات قرآن اور چند احادیث نبویہ کی روشنی میں محمدﷺ کے تعارف کے متعلق کچھ باتیں پیش کی جارہی ہیں، سب سے پہلے یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ محمدﷺ کو جاننے اور ماننے کے لئے کلام خدا، اور کلام محمدﷺ کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کی اہمیت سمجھنے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ دنیا میں بہت سی قومیں گزری ہیں اور کچھ آج بھی ہیں جنہوں نے انبیاء و رُسُل کو جاننے اور ماننے کے متعلق کلام خدا اور کلام انبیاء کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے انبیاء و رُسُل کو جاننے اور ماننے کی کوشش کی تو وہ گمراہ ہو گئیں ، دور ماضی اور دور حال میں اس کی واضح مثال یہود، و نصارٰی ہے، جو انبیاء و رُسُل کو جاننے اور ماننے کے دعوے کے باوجود گمراہ قومیں ہیں۔

کیونکہ انہوں نے ابنیاء و رُسُل کو جاننے اور ماننے کے متعلق کلام خدا ، اور کلام انبیاء کو چھوڑ دیا، اور اپنی مرضی سے انبیاء و رُسُل کو جانا اور مانا، بد قسمتی سے امت مسلمہ پر بھی اس کے کچھ اثرات پڑے ہوئے ہیں۔اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ کے ایک فرمان  کَانَ خُلُفُہ الْقُرْآنُ یعنی محمدﷺ کی سیرت و اخلاق قرآن ہی تھا، مطلب یہ کہ جو قرآن نے کہا وہی محمد ﷺ نے کیا، اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ اذان کے تیسرے کلمہ ، اَشْھدُ اَنَّ مُحَمّدًرَسُولُ اللہِ کو قرآن سے سمجھا جائے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ اپنے بندہ اور رسول کی حیثیت سے پیش کیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ محمدﷺ اللہ کے عبد یعنی بندہ اور غلام ہیں، اور اللہ تعالیٰ جس کو اپنا عبد قرار دے یہ بڑا اعزاز ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں محمدﷺ کے متعلق فرمایا۔   ، سُبْحٰنَ الَّذِیٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلاً مِنَّ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلٰی الْمَسْجِدِ الْاَ قْصَا۔( یعنی پاک ہے وہ اللہ جو لے گیا آپنے بندہ کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک)  یہ بات واضح رہے کہ محمدﷺ ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچنے اور پھر وہاں سے ساتویں آسمان اور عرش تک پہنچنے اور پھر اسی رات میں صبح ہونے سے پہلے واپس مکہ پہنچنے تک بھی اللہ ہی کے بندہ اور غلام تھے، اور زندگی بھر آپؐ اللہ ہی کے بندہ اور غلام رہے اور اسی پر آپؐ شکر بھی کرتے تھے اور اسی پر آپؐ کو فخر بھی تھا، اس سے معلوم ہوا کہ ایک انسان کے لئے قابل شکر و قابل فخر چیز اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونا ہے۔

ایک حدیث میں جن پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، ان میں سے ایک چیز محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی بھی گواہی ہے، چنانچہ بخاری اور مسلم شریف کی روایت ہے : عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ،قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بُنِیَ الْاسْلَامُ عَلٰی خَمْسِِ شَھَادَۃُ اَنْ لاّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ وَ اِنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ وَرَسُولَہُ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ اِیْتَائِ الزَّکٰوۃِ وَالْحَجِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَْ(بخاری و مسلم) ترجمعہ : ’’حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور تحقیق محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ دینا،اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔

مذکورہ حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ محمد رسولﷺ کے ساتھ رسول سے پہے عَبَدْ یعنی اللہ کے بندے ہونے کی صفت پہلے رکھی گئی ہے، اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ محمدﷺ کا اللہ سے جو پہلا تعلق ہے وہ بندہ ہونے کا ہے ، اور پھر اسی تعلق کے نتیجہ میں آپ پر رسالت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

(جاری)

اگست 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau