اجتماعی اداروں سے تعلق

ڈاکٹر محمد رفعت

عالم اسلام پر مغربی طاقتوں کے سیاسی غلبے کا دور آج سے دو سو سال قبل شروع ہوا۔ بیرونی تسلط کے اس دور سے پہلے مسلمانوں کا نظامِ اجتماعی گرچہ خلافتِ راشدہ کے مثالی معیار سے بہت نیچے آچکا تھا لیکن اصولاً یہ نظام بہرحال اسلام ہی کے تابع تھا۔ عالمِ اسلام کے بیشتر خطوں میں اسلامی شریعت کو قانونِ ملکی کی حیثیت حاصل تھی۔ مسلمانوں کے متعدد حکومتوں کے تحت رہنے کے باوجود ایک عالم گیر خلافت سے رسمی وابستگی کا تصور مسلمان عوام کے اندر موجود تھا اور عموماً حکمراں اسلام سے اپنی عقیدت کا اظہارکرتے تھے۔ کم از کم کسی مسلمان حکمراں میں اسلام سے علانیہ بغاوت کی ہمت نہ تھی۔ مگر مغرب کے سیاسی غلبے نے یہ ساری صورت حال بدل دی۔ اب شریعتِ اسلامی کو مسلمان خطوں میں قانونِ ملکی کا درجہ حاصل نہیں رہا بلکہ قانون رومن لا کے تصورات کے مطابق بنا۔ مسلمان عوام اسلامی نظامِ تعلیم کے ثمرات سے محروم ہوگئے اور اُن پر مغربی نظام تعلیم مسلط کردیاگیا۔ مسلمانوں کے تہذیبی شعائر ایک ایک کرکے مٹنے لگے اور مغربی کلچر نے مسلمانوں کی معاشرت کو متاثر کرنا شروع کردیا۔

عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں مغرب کے براہ راست سیاسی غلبے کا یہ دور نصف صدی قبل ختم ہوگیا۔ مسلمان ممالک کو قانونی اور سیاسی آزادی حاصل ہوگئی اور یہ موقع اُن کو میسر آگیا کہ وہ ازسرِ نو اپنے معاشرے کی تعمیر اسلامی قدروں کے مطابق کرسکیں۔ مسلمان ممالک اِس وقت اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ تعمیر کے اِس کام میں چند مشکلات حائل ہیں اورکچھ سوالات بھی درپیش ہیں جن کا جواب تعمیرِ نو میں مصروف مخلص کارکنوں کو تلاش کرنا ہے۔ تاہم عالم اسلام کے بعض خطے ایسے بھی تھے جہاں مسلمانوں کا اقتدار دوبارہ قائم نہ ہوسکا اور مسلمان غیر مسلم اقتدار کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔اب آج کی دنیا میں آزاد مسلمان ممالک کے باشندے ہوں یا غیر مسلم اقتدار کے تحت رہنے والے مسلمان، دونوں کے سامنے یہ اہم سوال درپیش ہے کہ وہ اپنے گردوپیش پائے جانے والے اجتماعی اداروں سے کیا تعلق رکھیں؟ مسلمان اپنی تاریخ میں جن مراحل سے گزرے ہیں اُن کے سیاق میں یہ ایک نیا سوال ہے ۔ جب مسلمانوں کا اجتماعی نظام سیاسی اور فکری دونوں پہلوئوں سے آزاد تھا یعنی اُن کے جسم بھی آزاد تھے اور اذہان وقلوب بھی اُس وقت یہ سوال پیدا ہی نہ ہوتا تھا۔ اجتماعی نظام کی اسلام سے اصولی وابستگی اور وفاداری اُس وقت ایک مسلمہ امر کی حیثیت رکھتی تھی۔ گرچہ عملی اعتبار سے اس نظام میں کمزوریاں بھی موجود تھیں اور انحراف بھی۔ بہر صورت جب یہ نیا سوال سامنے آگیا تو مسلمان اہلِ فکر نے اس پرغور کرنا شروع کیا۔ غوروفکر کا یہ عمل اب تک جاری ہے۔ ضرورت ہے کہ اب تک کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سلسلے میں حتمی نتائج تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

مسلمان ممالک اور تعمیرِ نو

مسلمان ملکوں نے مغربی استعمار سے جو آزادی حاصل کی وہ طویل جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ اس جدوجہد میں عوام و خواص نے بڑی قربانیاں دیں اور ان گنت مشکلات ومصائب کو برداشت کیا۔ آزادی کے جذبے کو مہمیز کرنے والا سب سے بڑا عامل یہ دل کش تصور تھا کہ آزاد مسلمان ممالک میں دوبارہ اجتماعی زندگی کو دین کے مطابق منظم کیا جاسکے گا۔ مستقبل کے بارے میں اس خواب نے جو مسلمانوں کے دینی جذبات کا عکاس تھا، اُن کی تحریک آزادی میں جان ڈالی اور ہر مرحلے میں اسے سرگرم و متحرک رکھا۔ آزادی ملنے کے بعد اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے میں دو رکاوٹیں حائل ہوئیں اور اب تک حائل ہیں۔ ایک رکاوٹ مسلمان معاشرے پر ایسی قیادت کا تسلط تھا جو یا تو دین سے بے نیاز تھی یا علانیہ لادینیت کی علمبردار تھی۔ مزید برآں اِس قیادت کے بیش تر عناصر بے کردار اور مفاد پرست بھی تھے جنھیں اپنی قوم کے مفاد سے زیادہ اپنا ذاتی مفاد عزیز تھا۔ دوسری رکاوٹ یہ تھی کہ رسمی سیاسی آزادی کی موجودگی کے باوجود مسلمان ممالک فی الواقع آزادنہ تھے بلکہ مختلف معاشی، سیاسی اور فوجی معاہدوں نے اُن کو مغربی طاقتوں کا بالواسطہ غلام بنا رکھاتھا۔ مغربی طاقتیں اِس امر کی بالکل روادار نہ تھیں کہ مسلمان ملکوں میں اجتماعی زندگی کی تعمیر دینی خطوط پر کی جائے۔

مسلمان ممالک میں موجود مخلص اور باشعور عناصر مندرجہ بالا دونوں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ پہلی رکاوٹ دور کرنے کے لیے انھوں نے قیادت کا اِسلامی تصور مسلمان عوام و خواص کے سامنے پیش کیا۔ دینی تعلیمات کی روشنی میں انھوں نے یہ بات واضح کی کہ دین سے بے نیاز یا بے دینی کی کی علمبردار قیادت مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ تصورات کی اصلاح کے پہلو بہ پہلو یہ کوشش بھی کی گئی کہ اسلامی تنظیموں اور اداروں کی شکل میں ایک متبادل قیادت عوام کے سامنے آئے تاکہ بے دین قیادت پر اُن کا انحصار ختم ہو۔

احیاء دین کے علمبردار عناصر نے دوسری رکاوٹ دور کرنے کی بھی کوشش کی۔ انھوں نے عوام کو بتایا کہ اِسلامی خطوط پر تعمیر نو کے لیے ایک ضروری شرط عالم اسلام کی حقیقی آزادی ہے۔ اِسی آزادی کی دوسری تعبیر خود انحصاری (Self  Reliance) ہے۔ عالمِ اسلام کو معاشی، سیاسی، صنعتی، فوجی اور ثقافتی ہر اعتبار سے خود کفیل ہوناچاہیے تاکہ وہ اپنی آزادی کا تحفظ کرسکے۔ اخوانی رہنما حسن البنا ؒ  نے اخوانی کارکنوں کو جو نصیحتیں کیں اُن میں یہ اسپرٹ ہمیں نظر آتی ہے۔ امام فرماتے ہیں :

’’ہمارے مخلص بھائی سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ اُمت مسلمہ کی بین الاقوامی حیثیت کو دوبارہ بحال کرائے، اس کے لیے ضروری ہوگا کہ اُس کے علاقوں کو آزاد کرائے، اس کے مجدو شرف کو دوبارہ زندہ کرے، اس کی تہذیب وثقافت کو نئے سرے سے فروغ دے اور اُس کے اندر اتحاد و اتفاق کی روح پھونک دے یہاں تک کہ پوری اُمت ایک دل آویز وحدت میں تبدیل ہوجائے اور اس طرح خلافت ارضی کا کھویا ہوا تخت وتاج پھر حاصل ہوئے‘‘۔﴿رسالہ التعالیم از حسن البنا شہیدؒ ﴾

مزید فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں کی مصنوعات اور مسلمانوں کی ایجادات کی حوصلہ افزائی کرکے مسلمانوں کی اقتصادیات کو فائدہ پہنچاؤ اور اُن کی دولت میں اضافہ کرو… تم بس وہی چیزیں کھاؤ اور بس وہی کپڑے پہنو، جو تمھارے اپنے وطنِ اسلامی ہی کے تیار کردہ ہوں‘‘۔ ﴿ایضاً﴾

’’ہماری دعوت‘‘ میں امام فرماتے ہیں:

’’ہر وہ گوشۂ زمین جو کسی مسلم قوم کا مَسکن ہے، وہ سرزمینِ اسلام کا ہی ایک چمن ہے۔ فرزندانِ اسلام کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کی حمایت وسعادت کے لیے کوشاں رہیں… اِسلام اپنے فرزندوں کو تاکید کرتا ہے کہ وہ سرزمینِ اسلام کو ظالموں سے محفوظ رکھیں اور شرپسند عناصر کے پنجے وہاں نہ پڑنے دیں‘‘۔

مزید فرماتے ہیں:

’’ضروری ہے کہ تمام مسلم اقوام او ر گروہوں کے درمیان اقتصادی ، معاشرتی اور ثقافتی حیثیت سے مکمل تعاون ہو۔ پھر اُن کے درمیان سیاسی معاہدے ہوں…. پھر ایک مسلم مجلسِ اقوام کی تشکیل بھی ناگزیر ہوگی‘‘۔﴿ماخوذ از’’خطاب پانچویں کانفرنس‘‘﴾

عالمِ عرب میں عوامی بیداری کی جو لہر اس وقت جاری ہے اس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تعمیرِ نو کی راہ میں حائل دونوں مشکلات دور ہوجائیں گی۔ دین سے ناواقف یا دین بیزار قیادت سے آزادی بھی حاصل ہوگی اور بیرونی طاقتوں کے بالواسطہ تسلط سے بھی ۔ تاہم اِس منزل کے حصول میں دیر لگ سکتی ہے ۔ اِس لیے اِس سوال پر غور ضروری ہے کہ اس منزل کے آنے سے قبل جو نظامِ اجتماعی عملاً موجود ہو اُس سے مسلمان کیا تعلق رکھیں؟ دورِ حاضر کے مسلمان مفکرین نے عموماً اِس سوال پر غور کرتے وقت ’’نظامِ اجتماعی‘‘ کی اصطلاح کا مفہوم ’’نظامِ حکومت‘‘ متعین کیا ہے ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ زیرِ بحث سوال کو صرف ’’نظامِ حکومت‘‘ سے تعلق تک محدود کرناصحیح نہیں ہے۔ آج کل اجتماعی اداروں کی ایک قابلِ ذکر تعد اد ایسی ہے جو حکومت سے تعلق نہیں رکھتی لیکن بہرصورت یہ ادارے انسانوں کی اجتماعی زندگی پر اور اُن کے اخلاق و کردار پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جنھوں نے حکومتوں کے متعدد فلاحی کام اپنے دائرے میں لے لیے ہیں۔ ان کو غیرسرکاری تنظیم یا این ۔ جی ۔ او (N.G.O.) کہا جاتا ہے۔ چنان چہ زیرِ بحث موضوع کی صحیح تعبیر کے لیے ’’نظامِ اجتماعی سے تعلق ‘‘ کے بجائے ’’اجتماعی اداروں سے تعلق‘‘ کے الفاظ زیادہ موزوں ہیں۔

اداروں سے تعلق کی شکلیں

کسی ادارے سے تعلق کی درج ذیل شکلیں ممکن ہیں:

﴿الف﴾ ادارے سے باہر رہ کر اُس سے ربط رکھا جائے۔

﴿ب﴾ ادارے میں شامل ہوکر ذمے دارانہ حیثیت میں اُس کو چلایا جائے۔

﴿ج﴾ ذمے دارانہ حیثیت کے علاوہ کسی ذیلی حیثیت میں ادارے میں شامل ہوکر اُس کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے۔

﴿د﴾ ادارے سے استفادہ کیا جائے۔

﴿ہ﴾ ادارے کی بلامعاوضہ یا بالمعاوضہ خدمت انجام دی جائے۔

پہلی شکل ادارے سے باہر رہ کر اُس سے ربط رکھنے کی ہے۔ اِس نوعیت کے ربط کی ایک سطح یہ ہے کہ ادارہ چلانے والوں کو مشورے دیے جائیں ، قابلِ گرفت باتوں پرتنقید کی جائے اور قابلِ اصلاح پہلوؤں کی اصلاح کے لیے تلقین کی جائے۔ یہ ربط ہر ادارے سے رکھا جاسکتا ہے اور جولوگ معاشرے کی اصلاح اور تعمیرِ نو کے کام میں مصروف ہوں اُن کو یہ ربط رکھنا چاہیے۔ معاشرے کے اداروں سے اُن کا یہ ربط جتنا وسیع اور جاندار ہوگااتنا ہی اُن کی اصلاحی مساعی زیادہ کارگر ہوں گی۔ یہ ربط ان اداروں سے بھی رکھاجاسکتا ہے جن کے مقاصد درست نہ ہوں، البتہ اُس صورت میں ربط کا منشا یہ ہوگا کہ ادارہ چلانے والوں کو اپنے مقاصد بدلنے کے لیے آمادہ کیا جائے اور غلط مقاصد کے بجائے صحیح مقاصد کے اختیار کرنے کی ان کوترغیب دی جائے۔

کسی ادارے سے باہر رہ کر اُس سے ربط رکھنے کی ایک اور سطح یہ ہے کہ اچھے کاموں میں ادارے کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ اس سلسلے میں اصولی رہنمائی قرآن مجید کی درجِ دیل آیت میں ملتی ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَاذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُواْ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الاثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب۔  ﴿مائدہ:۲﴾

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو، حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال نہ کرلو،قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو، اُن جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں نذرِ خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑ و جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکانِ محترم ﴿کعبہ﴾ کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔ اور دیکھو ایک گروہ نے جو تمھارے لیے مسجدِ حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پرتمھارا غصہ تمھیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی اُن کے مقابلے میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ نہیں جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں اُن میں سب سے تعاون کرو، اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں اُن میں کسی سے تعاون نہ کرو ۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے‘‘۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ اِس آیت میں تعاون کی جو تعلیم دی گئی ہے اس کا سیاق خدا پرستی ہے۔ خدا پرستی کام کی ظاہری صورت میں بھی مطلوب ہوتی ہے اور اُس کا م کے پیچھے جو محرکات پوشیدہ ہوتے ہیں اُن میں بھی چنانچہ کسی ادارے سے باہررہ کر اُس کے اچھے کاموں میں تعاون اُس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب کہ

﴿الف﴾ جس کام میں تعاون پیشِ نظر ہے وہ بذاتِ خود بھلائی کا کام ہو۔

﴿ب﴾ پورے ادارے کا مجموعی مقصد صحیح اور درست ہو۔

﴿ج﴾ اچھے کام کے پیچھے جو محرکات نظر آرہے ہوں، وہ بھی اچھے اور نیک محرکات ہوں۔

مندرجہ بالا شرائط میں پہلی شرط کی ضرورت واضح ہے۔ ظاہر ہے کہ آیتِ بالا صرف اچھے کاموں میں تعاون کی تلقین کرتی ہے۔ دوسری شرط آیت کے مجموعی سیاق سے معلوم ہوتی ہے جس میں اساسی تعلیم شعائر اللہ کے احترام کی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی ادارہ بظاہر ایک بھلا کام کر رہا ہو لیکن اُس کا مجموعی مقصد باطل کی خدمت ہو۔ فرض کیجیے کوئی ادارہ الحاد کی تبلیغ کے لیے بنایاگیا ہے اور وہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے غریبوں کو کھاناکھلانے کی مہم چلاتا ہے تو کھانا کھلانے کے بظاہر اچھے کام میں اُس ادارے کے ساتھ تعاون کرنا صحیح نہ ہوگا۔ اس مثال پر آج کی بہت سی غیرسرکاری تنظیموں (NGO’s) کے ’’نیک ‘‘ کاموں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔

کسی ادارے کابھلا کام اُس وقت تعاون کا مستحق قرار پاسکتا ہے جب اُس کام کے پیچھے نظر آنے والے محرکات بھی اچھے اور پاکیزہ ہوں ۔ مثلاً اگر کسی اچھے نظر آنے والے کام کا محرک یہ ہو کہ کسی ناخدا ترس قیادت کو عوام میں مقبول بنایا جائے تو اس کام میں تعاون درست نہ ہوگا۔ لادینیت کی علمبردار سیاسی تنظیموں کے ذریعے کیے جانے والے بظاہر بھلے کام اِسی صف میں آتے ہیں۔

اداروں میں ذمے دارانہ شرکت

کسی ادارے کا تشخص تین عناصر سے متعین ہوتا ہے : ﴿الف﴾ ادارے کی بنیادی فکر ﴿۲﴾ ادارے کا مقصد اور ﴿ج﴾ ادارے کا طریق کار۔اگر پیش نظر یہ ہے کہ ادارے میں ذمے دارانہ حیثیت سے شریک ہوکر اس کو چلایا جائے تو تینوں عناصر کو درست ہوناچاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ ادارے کی بنیادی فکر حق پر مبنی ہو اور صحیح تصور کائنات وتصورِ انسان سے ہم آہنگ ہو۔ادارہ جس اِنسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنایاگیا ہو وہ حقیقی انسانی ضرورت ہو اوراُس ضرورت کی تکمیل کا جو تصور ادارے کے پیش نظر ہے وہ بھی فطرتِ انسانی کے مطابق ہو۔ اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ادارے کا طریق کار معروف اخلاقی قدروں کا عکاس ہو اور اخلاقی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ فکر، مقصد اور طریق کار کی صالحیت ذمے دارانہ شرکت کے لیے ضروری شرط ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی ادارے میں یہ تینوں عناصرفکر، مقصد اور طریق کار واضح طور پر متعین ہوں اور ہرشخص بآسانی ادارے کے مجموعی تشخص کے بارے میں رائے قائم کرسکتا ہو اس صورت میں یہ طے کرنا آسان ہوگا کہ ادارے میں ذمے دارانہ حیثیت میں شرکت مناسب ہے یا نہیں۔ فکر، مقصد اور طریق کار کی صالحیت کے سلسلے میں اطمینان حاصل ہوجانے کی صورت میں شرکت میں کوئی تردد نہیں رہتا ۔ جو ادارے اپناتحریری دستور رکھتے ہیں اور اُس دستور کی حیثیت رسمی نہیں ہوتی بلکہ فی الواقع وہ اُس کے پابند ہوتے ہیں ان کے تشخص کے تینوں عناصر کے بارے میں رائے قائم کرنے میں عموماً کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

تاہم عملی دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ادارے کی فکر، مقصد اور طریق کار میں ابہام پایا جاتا ہو یا وقت ، ماحول اور حالات اِن عناصر کو متعین کرتے ہوں اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ان عناصر میں تبدیلی ہوسکتی ہو۔ اس صورت میں ایک شخص یہ رائے قائم کرسکتا ہے کہ وہ ادارے میں ذمے دارانہ حیثیت میں شامل ہوکر ادارے کے تشخص کو تبدیل کرسکے گا۔ اگر اس کی یہ رائے صحیح ہو اور وہ فی الواقع اِس پرقادر ہو کہ ادارے کی فکر، مقصد اور طریق کار کو حق اور معروف کے مطابق بناسکے تو اُس کی ادارے میں ذمے دارانہ شرکت کو درست سمجھا جانا چاہیے۔ اگر تجربے سے اس کو یہ معلوم ہو کہ اُس کا اندازہ صحیح نہ تھا اور وہ ادارے کے تشخص کی اصلاح پر قادر نہ ہو سکا ہو تو ذمے دارانہ شرکت سے باز آجانے میں بھی اُسے کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔

آج کے دور کی بہت سی حکومتیں جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اس دعوے کے ایک معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ حکومتوں سے متعلق ادارے اپنے فکروعمل میں ملک کے عوام کی امنگوں کے ترجمان ہونے چاہئیں۔ لیکن اس دعوے کاایک اور مفہوم بھی لیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ملک کے ہرشہری کو حکومت سے متعلق اداروں کے طرزِ فکر وعمل کو متاثر کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ آزاد ہے کہ اِن اداروں کی سوچ، مقصد اور عملی طریقوں کا رُخ اپنی فہم کے مطابق، درست کرنے کی کوشش کرے۔ بالفاظ دیگر ، جمہوری فضا کی اِس تعبیر کے مطابق، حکومت کے اداروں پر کسی خاص رجحان رکھنے والوں کی اجارہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنے مخصوص ذہن کوبقیہ تمام شہریوں کی رائے سے بے نیاز ہوکر ، اجتماعی اداروں پر مسلط کردیں۔ جمہوریت کی یہ تعبیر اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ اداروں کے تشخص کو متاثر کیا جائے اور جب اس سعی میں کامیابی حاصل ہوتی نظر آئے تو ادارے میں ذمے دارانہ حیثیت میں شرکت کی جائے۔ اداروں کا تشخص فی الواقع مطلوب حد تک تبدیل ہوسکا ہے یا نہیں، اس کا اندازہ لگانے میں حقیقت پسندی بہرحال ضروری ہے۔ آرزو کو حقیت باور کرنے یا کرانے (Wishful Thinking) سے گریز کرناچاہیے۔

عملی دنیا میں ایک اور صورت حال سے سابقہ پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ بسا اوقات تحریری دستور اور ضوابط کی حد تک ادارے کی فکر، مقصد اور طریق کار سب درست ہوتے ہیں لیکن ادارے پر نااہل یا غیر مخلص افراد قابض ہوجاتے ہیں یا ادارے میں ذمے دارانہ پوزیشن رکھنے والوں میں ایسے افراد کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال میں صالح افراد کے لیے مناسب طرز عمل شرکت سے گریز نہیں ہے بلکہ یہ صورتحال ادارے میں اُن کی ذمے دارانہ اور فعال شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔ البتہ اس شرکت سے قبل اس امر کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ ادارے کے دستور وضوابط عمل کی دنیا میں فی الواقع مؤثر ہیں یا معطل ہوکر محض کاغذکی زینت بن گئے ہیں۔ اگر پہلی صورت حال ہے تو مخلص اور باصلاحیت افرا دکی فعال شرکت ادارے کی اصلاح کرسکتی ہے اور ادارے پر قابض نااہل یا غیر مخلص ٹولے کو بے اثر بناسکتی ہے۔ اس صورت میں دستوراور ضوابط مخلص عناصر کی پشت پناہی کریں گے اور اُن کی اصلاحی مساعی کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔ لیکن اگر صورت حال دوسری ہو اور ادارے کے دستور وضوابط محض حرف ِ بے معنی بن کر رہ گئے ہوں تو مخلص عناصر کی شرکت بے سود ثابت ہوگی۔ اس صورت میں باہر رہ کر ادارے سے ربط اور اصلاح کی سعی زیادہ موزوں طرز عمل ہے۔

مندرجہ بالا صورتحال کے ٹھیک برعکس صورت حال بھی پیش آسکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی ادارے کے بانیوں نے جس فکر پر ادارے کو قائم کیا ہو یا اس کے دستور وضوابط میں جو فکر جھلکتی ہو وہ درست نہ ہو لیکن معاشرے کی اصلاح کے لیے اٹھنے والی طاقتور تحریکوں نے ادارے کے گردوپیش میں قائم پورے معاشرے کی فضا میں صالح تبدیلی پیدا کردی ہو۔ اس بدلی ہوئی فضا میں ہر ادارہ چار وناچار صالح فکر کے اثرات قبول کرنے یا اس کو اپنالینے پر مجبور ہوگا۔ فکر میں صالحیت مقصد کی درستگی اور طریق کار کی اصلاح کا باعث بھی بنے گی۔ اگر یہ خوش گوار تبدیلی رونما ہوجائے تو محض بانیانِ ادارہ کے فکر کی غلطی، اس ادارے میں ذمے دارانہ شرکت میں مانع نہ ہونی چاہیے۔

مندرجہ بالا گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی ادارے کے تین کلیدی عناصریعنی فکر، مقصد اور طریق کار لازماً جامد نہیں ہوتے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ادارے اپنے بانیوں کے نقطۂ نظر یا تحریری دستور وضوابط کے لازماً پابند ہوں۔ چنانچہ کسی ادارے کے حقیقی تشخص کا تعین محض ادارے کی تاریخ یا روایات کے مطالعے سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ موجود معاشرے کے سیاق میں اس ادارے کے واقعی طرز فکر وعمل کو دیکھنا ہوگا۔اگر واقعی صورت حال کے مطابق ادارہ حق کی خدمت کر رہا ہو یا اسے اس پوزیشن میں لایا جاسکتا ہو تو اس میں ذمے دارانہ شرکت صحیح اور مستحسن ہے۔ لیکن اگر ادارے کا واقعی طرز فکر وعمل درست نہ ہو اور درست نہ کیا جاسکتا ہو تو ذمے دارانہ شرکت سے گریز مناسب ہے۔ البتہ باہر سے اصلاح کی سعی جاری رہنی چاہیے۔ اداروں کی اصلاح کرنے میں جو عامل سب سے زیادہ کارگر ہوسکتا ہے وہ پورے معاشرے کو مخاطب بنانے والی طاقتور تحریک ہے۔ ایسی تحریک اداروں کی تاریخ اور روایات کے علی الرغم اُن کو بدل سکتی ہے اور ان کو حق وصداقت کا خادم بنا سکتی ہے۔

دوسری حیثیتوں میں شرکت

ایک ادارے کی اصل پہچان وہ افراد ہوتے ہیں جو ادارے کو فی الواقع چلا رہے ہوں۔ ان کے طرز عمل کو دیکھ کر ادارے کے بارے میں لوگ رائے قائم کرتے ہیں۔اسی طرح جس ادارے کو وہ چلا رہے ہیں اس کے مقصد اور طریق کار کو دیکھ کر خود ان افراد کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ یہ پوزیشن جن افراد کی ہو فطری طور پر ادارے کے بھلے برے کی ذمے داری ان پر ہوتی ہے۔ یہ پوزیشن قبول کرنے سے پہلے ان افراد کو پورا اطمینان کرلینا چاہیے کہ ادارے کی فکر اور مقصد درست ہے یا اسے درست بنایا جاسکتا ہے اور درست رکھا جاسکتا ہے۔ کسی ادارے میں شرکت کی یہ اعلیٰ ترین سطح ہے۔

البتہ اداروں میں شرکت اس سے کم تر سطح پر بھی ہوسکتی ہے جس میں فرد کی پہچان ادارے سے وابستہ نہ ہو اور اس کو ادارے کے بھلے برے کا ذمے دارنہ سمجھا جائے لیکن وہ ادارے کو متاثر بہرحال کرسکتا ہو۔ اگر ایسی پوزیشن حاصل ہو اور اسے خیر کے لیے استعمال کرنے کا امکان ہوتو کوئی وجہ نہیں کہ کسی ادارے میں اس نوعیت کی شرکت کے لیے ادارے کی کُلّی اصلاح کی شرط لگائی جائے۔ صرف یہ اطمینان کرلینا کافی ہے کہ صالح افراد کی اس سطح کی شرکت اداروں پر اچھے اثرات ڈالے گی اور الٹا ان افراد کے فکر وکردار میں زوال یااضمحلال کا سبب نہیں بنے گی۔ اس نوع کی شرکت کی چند مثالوں پر غور کیا جاسکتا ہے:

﴿۱﴾ بعض ادارے معاشرے کے معروف افراد کے مشوروں کے طالب ہوتے ہیں اوراس غرض کے لیے مشورے کی مجالس میں ان افراد کو مدعو کرتے ہیں۔ اگر فرد کی شبیہ کے ادارے کے ساتھ وابستہ ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتو اس شرکت کو درست سمجھا جانا چاہیے۔

﴿ب﴾ حکومتی ادارے اپنی مجالس مشاورت میں غور کے علاوہ بسا اوقات اس کا موقع بھی دیتے ہیں کہ کسی متعین موضوع کے سلسلے میں عام شہری ان کو مشورے دے سکیں۔ اکثر اس کام کے لیے باضابطہ فورم فراہم کیے جاتے ہیں جہاں جاکر اظہار خیال کیاجاسکتا ہے یا اُن سے ربط رکھا جاسکتا ہے۔ اس نوع کی شرکت میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

﴿ج﴾ بعض اداروں کی نوعیت ہی ’’مجالس مباحثہ‘‘ کی ہوتی ہے۔ یعنی بحث میں حصہ لینے والے اس کے پابند نہیں ہوتے کہ گفتگو کو لازماً کسی حتمی نتیجے تک پہنچائیں اور اگر بحث حتمی نتیجے تک پہنچ بھی جائے تب بھی وہ اس کے پابند نہیں ہوتے کہ اس نتیجے کو برحق بھی تسلیم کریں۔ ظاہر ہے کہ جن اداروں کی نوعیت ’’مجالس مباحثہ‘‘ کی ہو ان میں شرکت درست ہونی چاہیے۔

یہ نہ سمجھا جانا چاہیے کہ عملی زندگی میں مجالس مباحثہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کسی گائوں یا بستی کے تمام باشندوں کی میٹنگ اِسی طرح کی مجالس مباحثہ کی مثال ہے۔ اس طرح کے فورم میں اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے غیر معقول پابندیاں نہ لگائی جائیں تو جمہوری نظام میں گائوں یا بستی سے اعلیٰ ترسطح کے جمہوری ادارے بھی اصلاً مجالس مباحثہ ہی کی نوعیت رکھتے ہیں اور ان کو متاثر کرنے کا موقع ہر شہری کو حاصل ہے۔

﴿د﴾ یہ بات معروف ہے کہ ذرائع ابلاغ بھی عام شہریوں کو مباحثے میں حصہ لینے کا موقع دیتے ہیں۔ مباحثے کے یہ مواقع پرنٹ میڈیا میں بھی میسر ہیں اور ٹی ۔ وی ، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے نظام میں بھی۔ ان میں شرکت کے سلسلے میں عموماً کوئی تردد نہیں پایاجاتا اور نہ تردد کی کوئی وجہ ہے۔ البتہ یہ مواقع جتنے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں اس کے لحاظ سے حق پسند افراد اس سے فائدہ نہیں اٹھارہے۔

اداروں سے استفادہ

ادارے انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ شرعی و اخلاقی حدود کے اندر اپنی جائز ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ان سے استفادہ درست ہے ۔البتہ اگر ادارے کے چلانے والے استفادے کے لیے کوئی غیر معقول شرط عائد کریں تو استفادہ درست نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ استفادے کے عوض کسی فاسد لیڈر شپ کو معاشرے پرمسلط کرنا چاہیں تو اس قیمت پر استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ تو اس معاملے کی اصولی حیثیت ہے لیکن عملی صورت حال کااگر جائزہ لیاجائے تو شرعی و اخلاقی حدود کی پابندی خاصی مشکل نظر آتی ہے۔ انسانی ضرورتوں میں دو ضرورتیں ایسی ہیں جن کے لیے عام انسان بڑی حد تک اجتماعی اداروں پرمنحصر ہوتا ہے۔ یہ ضرورتیں ہیں تعلیم اور علاج۔ اسلامی تعلیمات اور انسان کی فطرت صالحہ دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ ان ضرورتوں کو پورا کرنے والے ادارے آفاقی قدروں کا احترام کریں اور ان قدروں کی بنیاد پر اپنی سرگرمیوں کو منظم کریں۔ یہ آفاقی قدریںمعلوم و معروف ہیں یعنی امانت ودیانت، شرم وحیا، عفت و پاکبازی ، عدل وانصاف اور احترام انسانیت ۔ ہمارے ملک کے تناظر میں تعلیم وعلاج کی ضرورت پورا کرنے والے اداروں کا جائزہ لیاجائے تو وہاں صورت حال بالکل اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ مندرجہ بالا اعلیٰ قدروں کے بجائے بیش تر اداروں میں بددیانتی و کرپشن، بے حیائی و عریانیت، اباحیت و مادہ پرستی، بے انصافی و ظلم اور انسانیت کے استحصال کے مناظر نظر آتے ہیں۔ ان اداروں سے استفادہ کرنے والوں کا استحصال بھی ہوتا ہے اور وہ اخلاق وکردار کی قیمتی متاع کو گنوا دینے کے خطرے سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔

چنانچہ یہ ضروری ہے کہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والے اداروں کے سلسلے میں محض استفادے کے نقطۂ نظر سے غور نہ کیا جائے بلکہ ان اداروں کی اصلاح کی مہم چلائی جائے۔ اس مہم کی غرض یہ ہونی چاہیے کہ ان اداروں کو اعلیٰ آفاقی قدروں کا قائل اور خادم بنایاجائے۔ اس مہم کے دو اہم اجزائ ہیں:

﴿الف﴾ ایک جز یہ ہے کہ معاشرے کے صالح افراد اپنی نگرانی میں تعلیم وعلاج اور دیگر انسانی ضرورتوں کی تکمیل کرنے والے ادارے قائم کریں اور چلائیں۔ جس حد تک وہ اس کوشش میں کامیاب ہوں گے، اُسی حد تک عام انسانیت استحصال کرنے والوں سے نجات پاسکے گی۔

﴿ب﴾ اصلاحی مہم کا دوسرا جز یہ ہے کہ رائے عامہ کی تربیت کرکے خود ان اداروں کی اصلاح کی جائے جو موجود ہیں اور جن کے چلانے والے اپنی ناواقفیت اور غفلت کی بنا پر یا بدنیتی اور مفاد پرستی کے سبب اخلاقی قدروں کے منافی طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمان اداروں کی اصلاح کی یہ مہم چلاسکتے ہیں اور اس کوشش میں انھیں اُن تمام حق پسند عناصر کا تعاون حاصل ہوگا جو موجودہ استحصالی فضا سے پریشان ہیں لیکن اُس سے نجات پانے کا طریقہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔

اداروں کی خدمت

کسی ادارے کی خدمت بلا معاوضہ بھی ہوسکتی ہے اور معاوضے کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے جسے ملازمت کہا جاتا ہے۔ کوئی فرد کسی ادارے کی یہ خدمت انجام دے یا نہ دے یہ طے کرنے سے قبل چند سوالوں کا جواب ضروری ہے:

﴿الف﴾ ادارے کے چلانے والوں کا محرک محض انسانی بھلائی ہے یا مالی منفعت ان کے پیش نظر ہے یا کسی نظریے کو وہ فروغ دینا چاہتے ہیں یا کسی قیادت کو معاشرے میں مقبول بنانا ان کا منشاءہے؟

﴿ب﴾ ادارہ کسی حقیقی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے یا صورت حال اس سے مختلف ہے؟

﴿ج﴾ ادارے کے طریقِ کار کا وہ جز جو پیش نظر خدمت یا ملازمت سے متعلق ہے، حق اور معروف کا پابند ہے یا نہیں؟

﴿د﴾ پیش نظر خدمت جو اس فرد سے لی جانی ہے اس کی انجام دہی میں اخلاقی و شرعی حدود سے تجاوز تو لازم نہ آئے گا؟

سطورِ بالا میں اداروں سے تعاون کے موضوع پر غورکرتے وقت ایسے ادارے کی مثال سامنے لائی جاچکی ہے جو الحاد کے فروغ کے لیے قائم کیاگیا ہو۔ خواہ وہ ادارہ بظاہر ایک اچھا کام انجام دیتا ہو مثلاً خواندگی کو فروغ دیتا ہو یا یتیموں کی پرورش کرتا ہو لیکن اس کارِ خیر کے باوجود کسی بھلے آدمی کے لیے یہ مناسب نہ ہوگا کہ ایسے ادارے کی خدمت کرے۔ اس لیے کہ ادارے کا فروغ بالآخر الحاد اور گمراہی کے فروغ کا سبب بنے گا۔ البتہ اگر کسی ادارے کے چلانے والوں کا محرک محض انسانی بھلائی ہو یا وہ اپنے لیے مالی منفعت حاصل کرناچاہتے ہوں لیکن اس غرض کے لیے جائز ذرائع اختیار کریں تو ایسے ادارے کی خدمت درست سمجھی جانی چاہیے ۔ تاہم جن اداروں کے قائم کرنے والوں کے پیش نظر یہ ہو کہ کسی باطل نظریے کی ترویج کی جائے یا کسی فاسد قیادت کو معاشرے میں مقبول بنایا جائے تو ایسے اداروں کی خدمت کرنا کسی صالح فرد کا کام نہیں ہے۔ اس کے برعکس صالح افراد کی کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ غلط محرکات کے بجائے صحیح محرکات کے تحت ادارے قائم ہونے اورچلنے لگیں۔

کوئی ادارہ کسی حقیقی انسانی ضرورت کی تکمیل کے لیے بھی بنایا جاسکتا ہے اور صورتحال اس سے مختلف بھی ہوسکتی ہے۔ مثلاً اباحیت زدہ کلچر کے قائلین کے نزدیک قمار بازی بھی تفریح کی ایک جائز شکل ہے ۔ چنانچہ وہ ایسا تفریحی ادارہ بھی قائم کرسکتے ہیں جہاں اس انسانی ’’ضرورت‘‘ کی تکمیل ہوتی ہو لیکن اسلام اس ضرورت کو تسلیم نہیں کرتا۔ چنانچہ ایسے ادارے کی خدمت صحیح نہیں سمجھی جاسکتی جو کسی حقیقی انسانی ضرورت کی تکمیل کی بجائے انسانوں کو بگاڑنے کے لیے بنایاگیا ہو۔

ادارے کی خدمت کا فیصلہ کرنے سے قبل تیسرا سوال جس پر غور کرنا ہوگا یہ ہے کہ ادارے کا طریق کار معروف کا پابند ہے یا نہیں مثلاً فرض کیجیے کوئی ادارہ غریبوں کو قرض دینے کے لیے بنایا گیا ہے یہ جائز مقصد ہے بلکہ مستحسن ہے لیکن اگر وہ ادارہ قرض لینے والوں سے سود کا طالب ہو تو اُس کا طریق کار معروف کا پابند نہیں کہا جاسکتا۔ اس صورت میں ادارے کی خدمت درست نہیں سمجھی جاسکتی۔

آخری سوال پیش نظر خدمت یا ملازمت کے مفوضہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اخلاقی و شرعی حدود کی پابندی کا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک خدا پرست فرد ان حدود کے دائرے کے اندر ہی کام کرسکتا ہے۔ اگر خدمت کی نوعیت ایسی ہو کہ ان حدود کی خلاف ورزی لازم آئے تو ایسی خدمت کو درست نہیں کہا جاسکتا۔

سیاسی انجمنیں اور غیرسرکاری تنظیمیں

ہمارے ملک کے سیاق میں اداروں کی دو اہم قسمیں سیاسی انجمنیں اور غیرسرکاری تنظیمیں (NGO’s) ہیں۔یہ ایک اہم عملی سوال ہے کہ ان اداروں کے بارے میں ایک مسلمان کیا رویہ اختیار کرے جو مسلمانوں کے فریضۂ منصبی ’’شہادت حق‘‘ کا آئینہ دار ہو۔

ملک میں موجود سیاسی انجمنوں کے بارے میں اپنا رویہ طے کرنے سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ یہ انجمنیں کس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہیں ؟ جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مقاصد دوطرح کے ہیں ۔کچھ سیاسی تنظیمیں وہ ہیں جو کسی لادینی نظریے کی حکمرانی چاہتی ہیں اور اس نظریے کو برسراقتدار لانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اور کچھ وہ ہیں جو کسی فرد کے اقتدار کے لیے یا کسی گروہ یا علاقے کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ سیاسی انجمنوں کے اس مجموعے میں ایسی تنظیم مشکل سے ہی ڈھونڈی جاسکتی ہے جو خدا پرستی کی قائل اور علمبردار ہو اور اللہ کے کلمے کو بلند کرنے اور عدل قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہو۔ اگر صورت حال کا یہ جائزہ صحیح ہے تو ایک مسلمان کا رویہ کیا ہو یہ طے کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ ایک خدا پرست شخص کی ان تنظیموں میں کسی بھی حیثیت میں شرکت صحیح قرار نہیں دی جاسکتی اور نہ اُس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بالمعاوضہ اُن کی خدمت انجام دے گا۔ اس نوعیت کی تنظیموں کے ساتھ جو تعلق صحیح ہوسکتا ہے وہ محض باہر رہ کر اُن کی اصلاح کی سعی کا ہے۔

غیرسرکاری تنظیموں (NGO’s) کے سلسلے میں محرک، مقصد اور طریق کار تینوں پہلوئوں پرنظر ڈالنی ہوگی۔ یہ واقعہ ہے کہ بظاہربھلے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں، استعماری طاقتوں کی آلۂ کار ہیں اور ان کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کر رہی ہیں۔ بہت سی ایسی ہیں جو نمائشی خدمت کرتی ہیں لیکن اُن کا اصل مقصد محض پیسے کا حصول ہوتا ہے۔ اباحیت زدہ ماحول ان تنظیموں کاایک عام وصف ہے۔ ا س صورت حال میں ایسی این جی اوڈھونڈنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے جس کا محرک فی الواقع انسانوں کی بے لوث خدمت ہو، جو انسانوں کی حقیقی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کام کرے اور جس کاطریق کار پاکیزہ ہو۔ تاہم اگر ایسی تنظیمیں مل جائیں تو ان میں شرکت کو بھی درست سمجھا جانا چاہیے اور ان کی خدمت کو بھی۔

جو افراد انسانی زندگی میں صالح انقلاب کے طالب ہیں ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس منزل کے حصول کے لیے افراد کی اصلاح ضروری ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ انقلاب کی جانب ایک اہم قدم اس امر پر اصرار ہے کہ انسانی سماج کے ہرادارے کو حق وصداقت کا خادم ہوناچاہیے۔ جو ادارے اس معیار پر پورے نہ اترتے ہوں ان کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کرنا انقلابی تبدیلی کے داعیوں کے لیے ناگزیر ہے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مخاطب جس طرح افراد ہیں اسی طرح اجتماعی ادارے بھی ہیں۔

اپریل 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau