عہد نبوی میں وسائلِ تعلیم

(2)

عبد الرحمن خان فلاحی

مرئی وسائل سے تعلیم

’’حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ بازار سے گزرتے ہوئے کسی بلندی سے مدینہ منورہ میں داخل ہورہے تھے اور صحابہ کرام ؓ آپ کے دونوں طرف تھے آپ ﷺ نے بھیڑ کا ایک بچہ جو چھوٹے کانوں والا تھا مرا ہوا دیکھا آپ ﷺ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی اسے کسی چیز کے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتا اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہیں مل جائے ؟صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کا کان چھوٹا تھا،اور اب تو یہ مردار ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ کے ہاں یہ دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جس طرح تمہارے نزدیک یہ مردار ذلیل ہے‘‘۔ (مسلم ۲۹۵۷)

اس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دنیا کی حقیقت سمجھانے کے لیے مرے ہوئے عیب دار جانور کو ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا۔

 تکرار و اعادہ بطور وسیلہ تعلیم

بات کا اعادہ کرنا تعلیم کے اہم وسائل میں سے ایک اہم وسیلہ ہے ۔ جب کوئی بات دہرائی جاتی ہے تو انسان کے ذ ہن پر نقش ہوجاتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوران تعلیم کثرت سے بات کو دہراتے تھے بات کے اعادہ کی متعدد صورتیں سیرت طیبہ سے ثابت ہیں آپﷺ نے کبھی دومرتبہ کبھی تین مرتبہ اور کبھی تین مرتبہ سے زائد کلام کو دہرایا ہے تاکہ بات صحابہ کرام کی سمجھ میں آجائے۔

تعلیم سوالات کے وسیلے سے

دوران تعلیم طالب علم کو متوجہ کرنے ، بات کی اہمیت کو اجاگر کرنے، شوق دلانے، اپنائیت کا اظہار کرنے، غور وفکر کی دعوت دینے اور ذہنی ورزش کے لییسوال کے اسلوب کا استعمال مفیدہوتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت کے مختلف مواقع پر اس اسلوب کو اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث کا ذکر کیا جارہا ہے:

زمان ومکان سے متعلق سوال:

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: کیا تمیں معلوم ہے کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھ دینگے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کیا: بے شک کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ہم کہا : اللہ اور ا س کے رسول بہتر جانتے ہیں آپ ﷺخاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ا س کا کوئی اور نام رکھ دیںگے آپ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کون سا شہر ہے ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیاکہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھ دیں گے آپ نے فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہے ، جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو۔ کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ تو گواہ رہیو۔ یہاں پر موجود لوگ میری بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو حاضر نہیں ہیں۔ کتنے لوگ جن تک بات پہنچائی جاتی ہے سننے والوں سے زیادہ سمجھنے والے ہوتے ہیں۔ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم آپس میں ایک دوسری کی گردنیں مارنا شروع کردو‘‘(متفق علیہ)

اس حدیث پاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ صحابہ کرام سے استفسار فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ دن کونسا ہے؟ یہ مہینہ کون سا ہے؟ یہ شہر کون سا ہے؟

اس اسلوب کو اختیار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام پوری توجہ وانہماک سے بات سنیں تاکہ اس بات کی عظمت  واہمیت ان کے دلوں میں بیٹھ جائے ۔

شارح مسلم امام نووی رقمطراز ہیں: حضو ر اکرم صلی اللہ کے اس استفسار، سکوت اور تفسیر کا مقصود اس مہینہ، شہر اور دن کی عظمت اور بلندی کو اجاگر کرنا ، اس کی طرف توجہ دلانا او ر ذہن نشیں کروانا تھا۔ (شرح النووی ۱/۱۶۹)۔

تعلیم موازنے اور تقابل کے وسیلے سے

موازنہ اورتقابل کا شمار تعلیم کے اہم وسائل وذرائع میں ہوتا ہے،تفہیم درس میں یہ اسلوب معاون ہوتا ہے مشہور مثال ہے چیزوں کا امتیاز ان کی ضد کو سامنے رکھنے سے ہوتا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس اسلوب کو بکثرت استعمال فرماتے تھے ۔

اس مضمون میں چند وسائل تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی تعلیم وتربیت کے لیے  اختیار فرمائے۔ ان کے علاوہ بہت سے اسالیب و وسائل تعلیم ہیں جو عہد نبوی میں رائج تھے جن کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔ جو شخص بھی فن تدریس سیکھنا چاہے اور اسالیب تدریس کے انتخاب اور وسائل تعلیم کی شناخت کے سلسلے میں مثالی نمونہ پانے کی خواہش رکھتا ہو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے۔ ایسا عظیم نمونہ کہیں اور نہیں مِل سکتا۔

ستمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau