اُمت مسلمہ کی منصبی ذمے داریاں

(1)

مولانا محمد جرجیس کریمی

جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول اور نبی ہیں اور قرآن مجید آسمان سے اترنے والی آخری کتاب ہے ،اسی طرح امت مسلمہ آخری امت ہے۔ ختم نبوت جہاں ایک امتیاز کو ظاہر کر رہا ہے وہیں امت مسلمہ کی ذمے داریوں کو بھی بتا رہا ہے۔ کیوں کہ ماقبل میں سلسلۂ نبوت کے ذریعے اصلاح وتجدید کا کام ہوتا رہتا تھا مگر ختم نبوت سے اصلاح وتجدید امت کے ذمے آگئی ہے۔ اس پس منظر میں آئیے دیکھیں کہ قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں امت مسلمہ کی کیا حیثیت متعین کی گئی ہے اور اس کی کیا ذمے داریاں طے کی گئی ہیں؟

دعوتِ دین

لوگوں کو سیدھا راستا دکھانا اور اللہ کے دین کی دعوت دینا رسولوں کا منصب ہے۔ یہی منصب امت مسلمہ کو بھی عطا کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ                ﴿آل عمران: ۱۰۴﴾

’’تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہو جو خیر کی دعوت دے،معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے ،ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں‘‘۔

آیت بالا میں خیر سے مراد دین اسلام ہے جو آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے امت کو عطا ہوا ہے۔ خیر کی دعوت دینے سے مراد پورے دین کی طرف بلانا ہے جو ہدایت کا مجموعہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَ‌ةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ  ﴿یوسف: ۱۰۸﴾

’’آپ کہہ دیجیے میری راہ یہی ہے ۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں پورے اعتماد ویقین کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اورمیں مشرکوں میں سے نہیں‘‘۔

ایک دوسری آیت ﴿آل عمران: ۱۱۰﴾ میں امت مسلمہ کو خیر امت کہا گیا ہے اور اس کو دنیا والوں کے لیے برپا کیے جانے کی وضاحت کی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ قرار دی گئی ہے کہ وہ معروف کا حکم دیتی ہے اور منکر سے روکتی ہے اور خود ایمان پر قائم رہتی ہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سابقہ امتوں نے یہ ذمے داریاں صحیح طریقے سے ادا نہیں کی ہیں اِس لیے وہ خیریت کے شرف سے مشرف نہیں ہوسکیں۔ مثال کے طور پر یہود کو دنیا والوں پر فضیلت عطا کی گئی تھی مگر انھوں نے فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ادا نہیں کیا ۔ اسی طرح نصاریٰ نے بھی ان ذمے داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی کی۔ چنان چہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول کی حیثیت سے مبعوث فرمایا اور قیامت تک آپ کی رسالت و نبوت کو وسیع کردیا۔ اب امت مسلمہ کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ تبلیغ دین اور لوگوں کی ہدایت و رہ نمائی کا فریضہ انجام دیں۔ دعوت دین کے مختلف دائرے ہیں۔ غیر مسلموں کو اسلام اور توحید کی دعوت پیش کرنا۔ ان کو دلائل سے اسلام کی حقانیت بتانا اور کفر شرک کی برائی واضح کرنا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ   ﴿النحل:۱۲۵﴾

’’اپنے رب کی راہ ﴿دین﴾ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیے‘‘۔

دعوت دین کاایک دائرہ ایسے مسلمان ہیں جو منکر کے مرتکب ہیں اور معروف سے کوتاہی کر رہے ہیں ۔ ان کو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا بھی امت مسلمہ کی مجموعی ذمے داری ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَالْمُؤمِنُوْنَ وَالْمُؤمِنَات بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْض یَامُرُوْنَ بِالْمَعُرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَر۔  ﴿التوبۃ:۷۸﴾

’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ بھلائی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں‘‘۔

دعوت دین کا ایک دائرہ اصلاح ذات البین ہے۔ یعنی دو لوگوں ، فرقوں یا قوموں کے درمیان تنازعات کو حل کرنا اور ان کے مابین صلح کرانا ۔ ارشاد ربانی ہے:

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَ‌ىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ‌ اللَّـهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ   ﴿الحجرات:۹﴾

’’اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل سے صلح کرا دو اور انصاف کرو اللہ انصاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے‘‘۔

حق کی گواہی

انبیاء  ؑ  کاایک منصب یہ بیان کیاگیا ہے کہ وہ دنیا میں حق کی گواہی دینے والے ہوتے ہیں۔ یہی منصب اُمت مسلمہ کا بھی بیان کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَٓائ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً۔ ﴿البقرہ:۱۴۳﴾

’’ہم نے اسی طرح تمہیں افضل امت بنایا تاکہ لوگوں پر گواہ ہوجائو اور رسول ﷺ  تم پر گواہ ہوجائیں‘‘۔

کسی چیز کی گواہی دو طریقوں سے دی جاتی ہے ۔ ایک قول کے ذریعے دوسرے فعل کے ذریعے۔ قول کے ذریعے گواہی دینے کے معنی ہیں کہ زبان سے بتایاجائے کہ یہ حق ہے۔ انبیاء  علیہم السلام نے لوگوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی حق ہے۔ اس کی صفات حق ہیں، توحید کا اقرار کرنا حق ہے۔ قیامت اور آخرت حق ہے، جنت وجہنم حق ہے۔ لیکن انھوں نے صرف زبان سے ان باتوں کو دہرایا ہی نہیں بلکہ وہ ان پر خود ایمان لائے اور ان کے تقاضوں کو پورا کیا ۔ یہ عملی اور فعلی گواہی ہے۔ امت مسلمہ شہادت حق کے سلسلے میں ان دونوں طرح کی گواہیوں کی مکلف ہے۔ یعنی وہ خود بھی اسلام کی حقانیت اور اس کے تقاضوں کو عملاًپورا کرے اور زبان سے اس کی گواہی بھی پیش کرے۔

عدل و انصاف کا قیام

دنیا میں انبیاء  علیہم السلام کی بعثت کے جو مقاصد ہیں، ان میں سے ایک مقصد دنیا میں عدل وانصاف کا قیام اور دنیا سے ظلم واستبداد کا خاتمہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کی ایک ذمے داری عدل وانصاف کا قیام اور ظلم واستبداد کا خاتمہ بھی قرار دی گئی ہے۔ ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرً‌ا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِ‌ضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا                         ﴿النساء :۱۳۵﴾

’’اے ایمان والو ! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودیِ مولیٰ کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جائو۔ گو وہ تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ یا رشتے دار عزیزوں کے خلاف ہو۔ وہ شخص اگر امیر ہوتو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے اس لیے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف کا دامن نہ چھوڑ دینا۔ اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلوتہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کروگے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔

آج پوری دنیا ظلم وناانصافی سے کراہ رہی ہے ، حقوق کی پامالی ہورہی ہے، دوسرے پر عدوان اپنے عروج پر ہے۔ جرائم کی کثرت ہے۔ اسی کے ساتھ عدل وانصاف عنقا ہوتا جارہا ہے۔ ہر سطح پر ظلم وناانصافی ہے اور عدل وانصاف کی حصول یابی مشکل سے مشکل ہوتی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں امت کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ معاشرے اور سماج میں عدل وانصاف قائم کرے اور لوگوں کو بتا دے کہ اسلام عدل وانصاف کا علم بردار ہے۔عدل وانصاف قائم کرنے کے سلسلے میں ایک رکاوٹ اس وقت پیش آتی ہے جب اس کی زد میں اپنے قریبی عزیز و رشتے دار والدین یا خود اپنی ذات آرہی ہو ۔ چنان چہ آیت مذکورہ میں قیام عدل کا یہ تقاضا بیان کیاگیا ہے کہ ہر حال میں اس کو قائم کرو چاہے اس کی زد میں کوئی بھی آرہا ہو۔ ایک بار ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی اور اس کی پاداش میں اس کو قطع ید کی سزا سنائی گئی۔ لوگوں نے اسامہ بن زید کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرنے کے لیے کہا تو آپﷺ  نے غضب ناک ہوکر فرمایا:

’’کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سفارش کرتے ہو ﴿کہ الٹا اس میں تخفیف کردی جائے﴾ بے شک ماقبل کی قومیں اسی لیے برباد ہوئیں کہ جب ان میں کا اعلیٰ چوری ﴿جرم﴾ کرتا تھا تو اسے سزا نہیں دی جاتی تھی لیکن جب ان میں کا ادنیٰ چوری کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی۔ قسم خدا کی اگر فاطمہؓ  بنت محمدﷺ  ﴿ میری بیٹی﴾ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔ ﴿بخاری ، کتاب الحدود، باب کراہیۃ ا۹لشفاشد فی الحد﴾

عدل وانصاف انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ عدل وانصاف ہی کی بنیاد پر فرد اور معاشرہ پرامن اور خوش حال بنتا ہے۔ اگر کسی بھی زاویے سے ظلم وناانصافی سماج میں پنپ رہی ہو تو کرب واضطراب کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ گھر ، خاندان ، معاشرہ اور ریاست میں کہیں بھی ظلم وناانصافی ہورہی ہو تو اس سے کئی مثبت قدریں پامال ہوتی ہیں اور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ لوگوں کو روزمرہ تعامل میں انصاف کی ضرورت ہے۔ گھروں میں میاں بیوی اور اولاد اور والدین کے درمیان انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنظیموں میں انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجارت اور کاروبار میں انصاف کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت وریاست میں انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدل وانصاف کی اسی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ اگر تمہاری کسی قوم سے عداوت ودشمنی بھی ہوتب بھی عدل وانصاف کے دامن کو نہ چھوڑو ۔ ارشاد ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۔   ﴿المائدہ:۸﴾

’’اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہوجائو، راستی اورانصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو۔ کسی قوم کی عداوت تمھیں خلاف عدل پرآمادہ نہ کرے۔ عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے باخبر ہے‘‘۔

آج پوری دنیا ظلم وعدوان اورناانصافی کی آماج گاہ بن چکی ہے۔ ایسی صورت میں امت محمدیہ کے افراد کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس کے خلاف جدوجہد کریں مگر افسوس کا مقام ہے کہ افراد امت خود ظالموں اور ستم شعاروں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔جہاں ان کو اقتدار حاصل ہے وہاں وہ اپنی رعایا پر ظلم کر رہے ہیں۔جہاں اقتدار حاصل نہیں ہے وہاں وہ ظالموں کے آلۂ کار بن رہے ہیں۔ مختلف اداروں اور تنظیموں کے دائرے میں وہ عدل وانصاف کا مثالی نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔اجتماعیت کا آخری دائرہ خاندان ہے۔ وہاں پر عدل وانصاف مجروح ہورہا ہے۔ خاص طور پر عورتوں کے حقوق بالخصوص مالی حقوق تشویش ناک حد تک پامال ہورہے ہیں ۔ عورتوں کی وراثت دیندار طبقے میں بھی ہڑپ کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کا عام طبقہ عورتوں کے انسانی حقوق تک پامال کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں امت کے باشعور افراد کی ذمے داری ہے کہ اس کے بارے میں بیداری لانے کے سلسلے میں فکرمندی ظاہر کریں۔

تعاونواعلی الخیر

امت مسلمہ کی منصبی ذمے داریوں میں ایک ذمے داری یہ بھی ہے کہ وہ خیر اور تقویٰ کے کام میں معاونت اور حمایت کرے۔ خیر کا کام کہیں بھی انجام پا رہا ہو فلاح انسانیت کی خدمت جہاں بھی اور جس شکل میں بھی انجام دی جارہی ہو، وہ اس کی حمایت میںکھڑی ہوجائے ۔ یہ ذمے داری انفرادی شکل میں بھی عائد ہوتی ہے اور اجتماعی شکل میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَیٰ وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔﴿المائدہ:۲﴾

’’نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو‘‘۔

آیت مذکور میں دو انتہائی قیمتی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی وجہ سے امت علاقائیت کی تنگ نائیوں سے نکل کرآفاقیت حاصل کرلیتی ہے۔ شر سے برأت اور خیر کی معاونت اسلام کا وہ سنہرا اصول ہے کہ اس راہ پر چل کر امت بے شمار فوائد حاصل کرسکتی ہے اور بے شمار ضرر اور نقصانات سے بچ سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نبوت سے قبل تعاون علی الخیر کی مثالیں ملتی ہیں۔ حلف الفضول میں شرکت اس کی سب سے نمایاں مثال ہے، جس میں عرب کے قبائل نے آپس میں معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی پر ظلم نہ کریں گے اور مظلوم کی حمایت اور مدد کریں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بعد میں جب اسلام کی تبلیغ ہوچکی تھی اس وقت حلف الفضول میں شرکت کا حوالہ دیا اور آئندہ بھی ایسے کام میں شریک ہونے کا ارادہ ظاہر فرمایا:

لقد شہدت فی داد عبداللّٰہ بن جُدعان حلفا ما احبّ أنّ لی بہ حمد النعم ولو ادعی بہ فی الاسلام لاجبت۔ ﴿سیرت ابن ہشام ۱/۱۴۰،مطبوعہ دارالمعرفۃ ۱۴۳۰ھ و۲۰۰۹ء﴾

’’حلف الفضول کے موقع پر میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حاضر تھا جو کہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اگر اسلام میں بھی ایسے کسی معاہدے کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا‘‘۔

کعبہ کی تعمیر نو کے موقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے تعاون علی الخیر کی بہترین مثال پیش کی اور عرب کو آپس میں لڑنے اور قتل وغارت گری سے بچا لیا۔ عام انفرادی زندگی میں بھی نبوت سے قبل تعاون علی الخیر کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ نبوت کا بنیادی مقصد دنیا وآخرت میں انسانیت کی فلاح ونجات ہے ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر نبوت کا سلسلہ تمام کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ تعاون علی الخیر کی تمام شکلوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمونہ پیش کردیا ہے۔ اس لئے آپﷺ کی زندگی کو اسوۂ کامل قرار دیاگیا ہے۔

اجتماعیت اور وحدت کا قیام

امت مسلمہ کی منصبی ذمے داری اجتماعیت اور وحدت کا قیام بھی ہے۔ امت کے اندر خود اجتماعیت کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ اجتماع کا اطلاق فرد پر نہیں امت پرہوتا ہے۔اسلام کی اکثر عبادات کی ادائی اجتماعیت کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسلام میں قیام اجتماعیت اور وحد ت کے کئی اساسات موجود ہیں جیسے سب کا معبود ایک ہے، رسول ایک ہے، قبلہ ایک ، قرآن ایک انھی اساسات پر امت کو متحد رہنے اور تنازعات سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ اِذْ کُنتُمْ أَعْدَ آئ فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ اِخْوَاناً ۔ ﴿آل عمران:۱۰۱۔۱۰۳﴾

’’اللہ کی رسی سب مل کر مضبو ط پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کویاد کرو جو اس نے تم پر کی ہے جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی ، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے‘‘۔

اسلام میں وحدت اور اجتماعیت کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر تفریق و امتیاز کے تمام اسباب و ذرائع کی نفی کردی گئی ہے ۔ حسب، نسب، خاندان، رنگ، ذات پات، مال ودولت اور زبان وعلاقائیت ان میں سے کسی چیز کی بھی اہمیت اس معنی میں نہیں ہے کہ یہ امت میں تفریق و امتیاز کی بنیاد بن سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَآء ۔﴿النساء :۱﴾

’’اے لوگو! اپنے رب کی نافرمانی سے بچو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورت ﴿زمین پر﴾ پھیلا دیئے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کی تمام قسموں کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے باوجود آج مسلمانوں میں تفریق وامتیاز کی بہت سی شکلیں عملاً موجود ہیں۔ حسب ونسب ، ذات پات، زبان جغرافیہ، رنگ اور مال و دولت کی بنیاد پر مسلمان ایک دوسرے کا مقام و مرتبہ متعین کرتے ہیں اور اجتماعیت کی بنیادوں کو ڈھاتے ہیں۔ مسلکی عصبیتوں کی بنیاد پر مسلم اجتماعیت پہلے ہی سے پارہ پارہ ہے ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مصداق ہم نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا۔ ارشاد ہے:

وَأَطِیْعُواْ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُواْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن۔    ﴿الانفال: ۴۶﴾

’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اورآپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے‘‘۔

﴿جاری ﴾

اپریل 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau