عملِ صالح اور امت کی نشأۃ ثانیہ

قرآن مجید کے مطابق امت مسلمہ کی سربلندی اور کام یابی و کامرانی کے لیے ایمان کے بعد اور ایمان کے ساتھ جو سب سے اہم خصوصیت درکار ہے، وہ عملِ صالح ہے۔ صبر، شکر، توکل، توبہ وغیرہ کی طرح عملِ صالح بھی ایک خاص مزاج اور رویے کا نام ہے۔ یہ چند وقتی اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ شخصیت کے ایک خاص ڈھب اور ایک خاص ذوق کا عنوان ہے۔ دیگر زیرِ بحث اوصاف کی طرح یہ وصف بھی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ افراد بھی باعمل ہوتے ہیں اور اُن کی عمل پسندی انھیں دنیا و آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار کرتی ہے اور قومیں بھی اجتماعی طور پر باعمل اور متحرک ہوتی ہیں اور ان کی اجتماعی فعالیت (activism)اور حرکیت (dynamism)اُن کو عروج و سربلندی عطا کرتی ہے۔ قوموں میں عمل پسندی ایک اجتماعی رویے کی صورت میں ظاہر ہو، بے عملی اور جمود ایک ناپسندیدہ کیفیت بن جائے اور پوری قوم، طرح طرح کے فائدہ بخش اعمال میں مصروف رہنے لگے، یہی کیفیت ہمارے نزدیک اجتماعی عمل کی کیفیت ہے۔ یہ اجتماعی عمل جب صالح ہوتا ہے تو پوری قوم کے لیے خیرو برکت اور عروج و سربلندی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اس کا فیض پوری انسانیت کو پہنچتا ہے۔

عملِ صالح کی اہمیت

اللہ کی کتاب میں عملِ صالح کو جو اہمیت دی گئی ہے، اس سے قرآن پڑھنے والا ہر فرد واقف ہے۔ آخرت کی کام یابی، جنت میں داخلہ، اللہ کی رضا کا حصول، گناہوں کی مغفرت، عذابِ جہنم اور اللہ کے غیظ و غضب سے بچاؤ، ان سب کے لیے قرآن مجید ایمان کے ساتھ عملِ صالح کو ضروری قرار دیتا ہے۔ قرآن میں اکثر جگہ، یعنی 33 سورتوں میں 52 دفعہ، ایمان کے ساتھ عملِ صالح کا ذکرکیا گیا ہے۔ مزید 14 سورتوں میں 19 دفعہ الگ سے عملِ صالح کا ذکرموجود ہے۔ راست ’عملِ صالح‘ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے ان اعمال کےلیے حسنۃ، خیر یا فعل الخیرِ، بر، معروف، صدقۃ وغیرہ جیسے متعدد الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ جہاد، مجاھدہ اور سعی جیسے الفاظ بھی بعض جگہوں پر جہد وعمل کے اعلیٰ معیار کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور متعدد آیات میں الگ الگ اعمالِ صالح کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ (مثلاً نماز، سجدہ، زکٰوۃ، انفاق، یتیموں اورغریبوں کی خبر گیری، بھوکوں کو کھانا کھلانا، صلہ رحمی، حفظ فروج، امانت داری وغیرہ)

اعمالِ صالحہ کے قرآنی تذکروں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک، یہ اعمال، ایمان کا لازمی نتیجہ اور اس کا مظہر ہیں اور اہلِ ایمان اور اہلِ کفر و اہلِ نفاق کے درمیان امتیاز کی کسوٹی ہیں۔ قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عملِ صالح کے لیے ایمان ضروری ہے۔ ایمان کے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں ہے۔ گویا ایمان و عملِ صالح، لازم و ملزوم ہیں اوردونوں مل کر ایک بندہ مومن کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں اور اہلِ ایمان کی شناخت اور امتیاز بنتے ہیں۔ نہ ایمان کے بغیر اعمالِ صالحہ قابلِ قبول ہیں اور نہ اعمالِ صالحہ کے بغیر محض ایمان کا دعویٰ نجات کے لیے کافی ہے۔

قرآن مجید میں زیادہ تر عملِ صالح کے اخروی فائدوں اور انعامات کا ذکر ہے لیکن متعدد جگہوں پر دنیا کی کام یابی اور قوموں کے عروج و سربلندی کے لیے بھی قرآن عملِ صالح کو ضروری قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید نے عملِ صالح کے متعدد دنیوی فائدے متعین طور پر گنائے ہیں۔ ہم ذیل میں ان کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے:

دنیوی زندگی کی سعادت اور پاکیزگی: ارشاد ہوا ہے۔ مَنْ عملِ صالحا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیینَّهٗ حَیٰوةً طَیبَةً (کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، وہ ایمان پر ہے، تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔ النحل 97) مفسرین نے عام طور پر یہاں حیاتِ طیبہ کا مطلب دنیوی زندگی میں اطمینان و سکون، فرحت و انبساط اور لطف و سرور لیا ہے۔[1]

لوگوں میں مقبولیت و محبوبیت: قرآن عملِ صالح کا ایک اہم دنیوی انعام یہ بیان کرتا ہے کہ اُسے انجام دینے والوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اِنَّ الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا یقیناً (جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کر رہے ہیں، رحمٰن اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔ مریم 96)

مولانا ابوالکلام آزادؒ، اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

’’تاریخ کا داستاں سرا شہادت دیتا ہے کہ دنیا نے یہ دونوں باتیں چند برسوں کے اندر دیکھ لیں۔ ایمان و عمل کی اس دعوت نے مسلمانوں کا جو گروہ پیدا کردیا تھا انسانوں نے اسے قبول ہی نہیں کیا، بلکہ اس کا والہانہ استقبال کیا۔ وہ خوف و دہشت کی طاقت نہ تھے جس سے لوگ بھاگتے، نیکی و عدالت کا پیام تھے جس کی طرف لوگ دوڑتے تھے، قوموں نے انھیں بلاوے بھیجے، شہروں نے ان کے لیے پھاٹک کھولے، قلعوں نے اپنی کنجیاں آگے رکھ دیں اور وقت کی ساری مظلوم آبادیوں نے انھیں نجات دہندہ سمجھا۔ اجنادین اور یرموک کے میدانوں میں بازنطینی شہنشاہی ان سے لڑ رہی تھی لیکن شام کی آبادیاں محبت کے پیام بھیج رہی تھیں۔ بصرہ نے اپنے دروزے خود کھول دیے تھے، حمص کے باشندوں نے منتیں کی تھیں، طرابلس پہلے سے چشم براہ تھا، صور کے پھاٹک بند ہی نہیں کیے گئے، اسی طرح جب انھوں نے مصر کا رخ کیا، تو خود مصر کے عیسائی ہی تھے جنھوں نے بڑھ کر ان کا استقبال کیا تھا، وہ جن جن راستوں سے گزرتے، سڑکوں کو درست اور پلوں کو تیار پاتے اور ہر طرح کی رسد فوج کے لیے مہیا ہوتی۔‘‘

دعاؤں کی قبولیت اور نعمتوں میں برکت: عملِ صالح کرنے والوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کو عطا کردہ نعمتوں میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ۔ (وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے، تو ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ الشوری 26)ان آیات کا سیاق بھی معاشی ترقی سے متعلق ہے۔ مفسرین نے یہ بات لکھی ہے کہ ان کا نزول اس وقت ہوا جب بعض اہل ایمان کے دلوں میں یہودی قبیلوں کی دولت کو دیکھ کر یہ تمنا پیدا ہوئی کہ ایسی ہی کشادگی اور وسائل کی فراہمی ہم کو بھی نصیب ہو[2]۔ یعنی اس آیت میں بھی عملِ صالح کی دنیوی کام یابیوں کی طرف اشارہ ہے۔

حالات کی درستی: اس سے آگے بڑھ کر قرآن مجید یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ، عملِ صالح کرنے والوں کی برائیاں دور کردے گا اور ان کے حالات کو درست فرمادے گا۔ وَالَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیاٰتِهِمْ وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ۔ (اور جو لوگ ایما ن لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہےاور ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے۔اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا۔محمد 2( مولانا مودودیؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ پچھلی حالت کو بدل کر آئندہ کے لیے اللہ نے ان کو صحیح راستے پر ڈال دیا اور ان کی زندگیاں سنوار دیں۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ جس کم زوری و بے بسی اور مظلومی کی حالت میں وہ اب تک مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے نکال دیا ہے۔ اب اس نے ایسے حالات ان کے لیے پیدا کردیے ہیں جن میں وہ ظلم سہنے کے بجائے ظالموں کا مقابلہ کریں گے، محکوم ہو کر رہنے کے بجائے اپنی زندگی کا نظام خود آزادی کے ساتھ چلائیں گے، اور مغلوب ہونے کے بجائے غالب ہو کر رہیں گے۔‘‘

سلامتی و تحفظ: سورہ کہف میں خضر کے واقعے میں کہا گیا ہے کہ دو یتیم لڑکوں کے مال کی حفاظت کے لیے خضر نے، ایک دیوار کو گرنے سے روک دیا تھا۔ وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَینِ یتِیمَینِ فِی الْمَدِینَةِ وَكَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا (اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اِس دیوار کے نیچے اِن بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ کہف82) علامہ قرطبی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح شخص کی اپنی بھی حفاظت فرماتا ہے اور اس کی اولاد کی بھی حفاظت فرماتا ہے، اگرچہ وہ اس سے بہت دور کا رشتہ رکھتے ہوں‘‘[3] گویا سلامتی و تحفظ کا گہرا تعلق بھی عملِ صالح سے ہے۔

عروج، غلبہ، تمکین اور امن و امان: اس بحث میں بڑی اہمیت سورہ نور کی مشہور‘آیتِ استخلاف‘ کی ہے۔ اس آیت میں سیاسی قوت و عروج، دین کی تمکین اور اس کا غلبہ اور خوف کی جگہ امن و امان اور حفظ و سلامتی، ان سب مطلوب اجتماعی کیفیات کو ایمان اور اعمالِ صالحہ کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا۔ (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عملِ صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔نور: 55)

قرآن مجید کے ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں قومیں، سربلندی کی جن کیفیات کی عام طور پر متمنی رہتی ہیں، اُن سب کا تعلق عملِ صالح سے ہے۔ سیاسی عروج، معاشی ترقی، عزت و مقبولیت، امن و امان، تمکین و ترقی، سب کچھ عملِ صالح پر منحصر ہے۔

عملِ صالح کا مفہوم

اگلا سوال یہ ہے کہ عملِ صالح کا مطلب کیا ہے؟ مفسرین قرآن نے عملِ صالح کے لیے عام طور پر دوشرطیں بتائی ہیں۔ اخلاص اور صواب[4]۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ عمل خالصتاً اللہ کے لیے، اس کی اطاعت میں اوراس کو خوش کرنے کے لیے ہو اور صواب کا مطلب وہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق اور شریعتِ اسلامی کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو. یعنی فرائض، واجبات، سنن و مستحبات میں سے ہو اور محرمات و مکروہات میں سے نہ ہو۔

اصل سوال یہ ہے کہ اللہ کو خوش کرنے والے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی اتباع والے اعمال کیا ہیں؟عام طور پر کچھ عبادات، وقتی صدقات و خیرات اور کچھ معروف نیکیوں تک عملِ صالح کے مفہوم کو محدود سمجھا جاتا ہے جب کہ قرآن و حدیث میں یہ اصطلاح بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔

صالح یا صالحات کا لفظ ’صلح‘ سے بنا ہے۔ عربی لغات کے مطابق یہ لفظ اصلاً فساد کی ضد ہے[5] اور صلاح وہ کام ہے جس سے فساد دور ہو اور نفع پہنچے[6]۔ تفسیر شعراوی میں اس کی تشریح میں کہا گیا ہے:

’’اعمالِ صالح وہ اعمال ہیں جو خود کے لیے یا دوسروں کے لیے خیر کا باعث ہیں۔ ان کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ فائدہ مند چیز کو باقی رہنے دیں۔ مثلاً اگر کوئی کنواں ہے جس سے لوگ پانی پیتے ہیں تو عملِ صالح کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ نہ اس کی بھرتی کی جائے اور نہ اسے گندا کیا جائے اور اگر آپ نیکی کا معیار بلند کرنا چاہتے ہیں تو اس کی نافعیت کو بڑھائیں۔ مثلاً اس کے اطراف حفاظتی دیوار تعمیر کرائیں یا اس کوڈھانکنے کا انتظام کریں۔[7]‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے بڑی خوب صورت اور جامع تعریف بیان کی ہے کہ مَا كَانَ لِلَّهِ أَطْوَعَ وَلِصَاحِبِهِ أَنْفَعَ[8] (عملِ صالح وہ عمل ہے) جس میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی اطاعت ہو اور عمل کرنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ علامہ یوسف قرضاویؒ فرماتے ہیں:

’’عملِ صالح یا اعمالِ صالحہ ایک جامع اور خوب صورت قرآنی تعبیر ہے، اس میں ہر وہ عمل شامل ہے جس سے زندگی سنور جائے اور بہتر ہوجائے، زندگی کے مادی پہلو ہوں یا روحانی، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ ہر وہ عمل جس کے ذریعے فرد کو فائدہ پہنچے، خاندان میں بہتری آئے یا اجتماعی زندگی میں سدھار آئے، عملِ صالح کہلاتا ہے[9]۔‘‘

مشہور اخوانی مصنف محمد غزالیؒ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے کہ اعمالِ صالحہ صرف روایتی مراسم عبودیت تک محدود ہیں، رقم طراز ہیں:

ایک کام یاب اور اعلیٰ مشن پر مرکوز سوسائٹی کا قیام ممکن ہی نہیں اگر اس کے ارکان اِس دنیا کے امور سے ناواقف اور عملی زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوں۔ ایسی سوسائٹی کے لیے مطلوب اعمالِ صالحہ کا ظہور ہوتا ہے، کسان کی کدال سے، درزی کی سوئی سے، مصنف کے قلم سے، ڈاکٹر کے نشتر سے اور دوا ساز کی شیشی سے۔ یہ اعمال انجام پاتے ہیں غوطہ زن کے ذریعے سمندر کی گہرائیوں میں، پائلٹ کے ذریعے بسیط فضاؤں میں، محقق کے ذریعے تجربہ گاہوں میں اور محاسب کے ذریعے بہی کھاتوں میں۔ جب بھی ایک مسلمان، دین کے مشن کا علم بردار بن کر اپنے رب کی نصرت اور اس کے کلمے کی بلندی کی نیت سے (اپنے اپنے میدان میں) کوئی مفید کام کرتا ہے تو یہ اعمالِ صالحہ انجام پاتے ہیں[10]۔

عملِ صالح کے اس وسیع مفہوم کی تائید قرآن و حدیث کے متعدد نصوص سے ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔ (نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں نص اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ البقرۃ 177)

احادیث میں بیوی بچوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کو بھی نیکی کہا گیا ہے۔[11] کسی سوار کو سواری میں مدد کرنے کو[12]،(کتے یا کسی) جانور کو پانی پلانے کو[13]، قر ض داروں کو (خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہوں) مہلت دینے کو[14]، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو[15] رشتے داروں سے اچھے تعلقات رکھنے اور نبھانے کو[16]، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے کی گئی کوششوں کو[17] حتی کہ ازدواجی تعلق[18] کو بھی نیک عمل قرار دیا گیا ہے۔ حصولِ علم کی کوشش[19]، تدریس و تعلم[20]، عدل پر مبنی حکم رانی و سیاست[21]، سچائی پر مبنی تجارت[22]، زراعت[23]، صنعت[24]، جیسے پیشہ ورانہ کاموں کو بھی احادیث مبارکہ میں اعمالِ صالحہ میں شمار کیا گیا ہے۔

صحیح بخاری، سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداود میں کتاب الادب اور صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں کتاب البر و الصلہ وغیرہ میں حدیثوں کی فہرستیں ہی دیکھ لینے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسلام میں عملِ صالح کا تصور کتنا وسیع ہے اور کس قدر متنوع اعمال، عملِ صالح میں شمار ہوتے ہیں۔

ان متعدد حوالوں اور اقتباسات کو پیش کرنے کا مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ ہر وہ عمل جو شریعت کی رو سے جائز ہو اور جس سے خود کو یا دوسروں کو دنیا و آخرت کا فائدہ پہنچ سکے، وہ عملِ صالح ہے اور ایسے ہی اعمال جب کسی قوم کی عادت بن جاتے ہیں تو اس کے لیے کام یابی و سربلندی کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

عام طور پر برائی یا گناہ کو عملِ صالح کی ضد سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلامی نصوص میں برائی کے ساتھ ساتھ بے عملی یا عمل میں کم زوری اور سستی کو بھی عملِ صالح کی ضد مانا گیا ہے۔ درج ذیل سارے رویے عملِ صالح کی ضد اور اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

جمود و تعطل، بے عملی اور غیر ذمے داری: وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ. اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انھیں بھلا دیا۔ یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں۔ التوبہ: 67) وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ کی تفسیر میں علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد جہاد کو ترک کرنا اور جو اعمال ضروری ہیں ان کے سلسلے میں اپنے ہاتھوں کو روکنا ہے اور نسیان سے مراد عمل سے لاپروائی اور اسے چھوڑدینا ہے۔[25] رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ[26] (عمل کرنے میں جلدی کرو)۔

غفلت، کوتاہی ولاپروائی: وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِینَ. اور غافلوں میں سے مت ہوجاوً۔ (الأعراف 205)۔ ان آیات میں نماز اور ذکر کا مقصد بھی یہی بتایا جارہا ہے کہ اللہ کا بندہ ہونے کا احساس ہر دم تازہ رہے اور اس احساس سے غفلت نہ ہونے پائے۔ یہی احساس بندے کو ہمیشہ عملِ صالح کے لیے متوجہ رکھتا ہے۔ آپؐ نے اپنی امت کے سلسلے میں اس خوف کا اظہار فرمایا کہ کہیں تم پچھلی امتوں کی طرح دنیا کے پیچھے اپنے اعمال سے غافل نہ ہوجاؤ۔[27]

لیت و لعل یا ٹال مٹول(procrastination): ان دنوں procrastination کی اصطلاح کا خاصا چرچا ہے۔ اس كا مطلب کسی کام کو اہم اور ضروری سمجھ کر بھی، اور اس میں تاخیر سے ہونے والے نقصانات سے واقف ہوکر بھی، جانتے بوجھتے اور بغیر کسی معقول عذر کے، آخر وقت تک ملتوی کرتے رہنا ہے۔ نیک اعمال، خاص طور پر فرض اعمال میں ایسی سستی اور ٹال مٹول بھی ناپسندیدہ ہے۔ قرآن مجید نے نماز میں کسمساہٹ اور سستی کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ۔ (جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے۔ النساء 142)آپؐ نے سستی و کاہلی سے اللہ کی پناہ طلب فرمائی ہے۔ [28]

بے حسی اور انفرادیت پسندی: عملِ صالح کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ انفرادیت پسندی اور دوسروں سے بے تعلقی کا رویہ و ذہنیت ہے۔ اسلام بے حسی اور حد سے متجاوز انفرادیت کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو برائی کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں: كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ۔ (وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے نہیں روکتے تھے۔ المائدہ: 79)۔ حدیثِ رسول ہے: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ… كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ[29] (مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہم دردی میں ایک جسم کے مانند ہیں۔) یعنی عملِ صالح کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے آگے بڑھے، دوسروں کے لیے جیے اور معاشرے میں خیر، اصلاح اور نفع کا ذریعہ بنے۔

قرآن و سنت میں عملِ صالح کی مقدار(quantity)ہی پر زور نہیں دیا گیا ہے بلکہ معیار (quality)پر بھی بڑا زور ملتا ہے۔ اس کے لیے ایک بڑی مؤثر اصطلاح ’احسان‘ کا استعمال ہوا ہے۔ احسان کا مطلب عمل کا اعلیٰ سے اعلیٰ معیار ہے۔ جو کام بھی کیا جائے وہ زیادہ سے زیادہ سلیقے کے ساتھ اس طرح کیا جائے کہ اس کی افادیت اپنے عروج کو پہنچ جائے۔ احسان حَسَن سے نکلا ہے، امام راغب اصفہانیؒ احسان کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ حسن ایسی چیز ہے جو ہر لحاظ سے دل کش اور خوش نما ہو، جو عقل کے اعتبار سے موزوں ترین ہو، قلبی رغبت کے اعتبار سے دل فریب ہو۔ حواس کے لیے پر کشش ہو اور کراہت و ناپسندیدگی کے ہر شائبے سے پاک ہو[30]۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ عملِ صالح اسی احسان کی کیفیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا۔ (اس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں حَسَن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے۔ الملک 2) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إنَّ اللهَ كتَبَ الإحسانَ على كلِّ شيءٍ،۔ ۔۔وإذا ذبَحتُم فأَحْسِنوا الذَّبْحَ[31] (اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں احسان کو لازم قرار دیا ہے۔ تو اگر تم جانور ذبح کرو تو اسے بھی احسن طریقے سے کرو۔)

معیار کا ایک اہم پیمانہ ’نافعیت‘ ہے، یعنی معیاری عمل وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ نفع بخش ہو۔ ایک مشہور طویل حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 ’’وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں جو دوسرے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال یہ ہیں: مسلمان کا اپنے بھائی کو خوش کرنا، اس سے کوئی تکلیف دور کرنا، اس کا قرض چکانا اور اسے کھانا کھلانا۔ مجھے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا اس مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ (‏‏‏‏اور یاد رکھو کہ) جس نے اپنے غضب کو روک لیا اللہ تعالیٰ اس کی خامیوں پر پردہ ڈالے گا، جو آدمی اپنے غصے کو نافذ کرسکنے کے باوجود پی گیا، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے دل کو امیدوں سے بھر دے گا۔ جو اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چلا، اللہ تعالیٰ اس کو ا‏‏‏‏س دن ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے اور بدخلقی اعمال کو یوں تباہ کرتی ہے جیسے سرکہ شہد میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔[32]‘‘

علما نے لکھا ہے کہ چوں کہ نافعیت کا تعلق احوال و ظروف سے ہوتا ہے اس لیے عمل کی افضلیت کا تعین بھی زمان و مکان کے احوال اور معاشرے کی ضرورتوں سے ہوگا۔ یعنی معاشرے میں جس زمانے میں جس کام کی زیادہ ضرورت ہو، وہ زیادہ افضل ہوگا۔ اس اصول کو بیان کرتے ہوئے علامہ قرضاویؒ نے آج کے حالات میں صنعت و تجارت میں ترقی اور سائنس و ٹکنالوجی جیسے علوم کے حصول اور ان میں تحقیق و ریسرچ کو افضل اعمال میں شمار کیا ہے۔[33] ہندوستان کےموجودہ احوال میں برادرانِ وطن سے تعلقات کو بہتر بنانے اور ان تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا کام، مسلمانوں کی اصلاح، ان کو اور دیگر پس ماندہ گروہوں کو تعلیم، معیشت و تجارت اور صنعت و حرفت میں ترقی دلانے کی کوشش، ملک میں امن و امان کےقیام اور مظلوموں کے دفاع و تحفظ کی کوشش، وغیرہ جیسے کام قابلِ ترجیح اعمالِ صالحہ قرار پاسکتے ہیں۔

حدیث میں ایک اور اصطلاح ’اتقان‘ کی استعمال ہوئی ہے۔ إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ إذا عمِلَ أحدُكمْ عملًا أنْ يُتقِنَهُ[34] (اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ جب تم کوئی عمل کرو تو اسے معیاری طریقے سے کرو۔ ) اتقان کے معنی لغت میں مہارت، خوبی، بے عیبی[35] بتائے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عملِ صالح کی ایک اہم مطلوب خصوصیت، اُس کا ہر لحاظ سے معیاری اور بے عیب ہونا بھی ہے۔ یہ ہدف مسلسل غور و فکر، اختراع و دریافت اور ترقی چاہتا ہے۔ کسی عمل کو روایتی طریقے سے مکمل کرکے ایک رسم پوری کرلینا مطلوب نہیں ہے بلکہ مسلسل یہ کوشش مطلوب ہے کہ کیسے اسے زیادہ سے زیادہ معیاری، بے عیب اور نفع بخش بنایا جاسکتا ہے۔

ایک اور حدیث میں دوام اور تسلسل کو بھی عملِ صالح کی ایک اہم مطلوب خصوصیت قرار دیا گیا ہے۔ أَحَبُّ الأعمالِ إلى اللهِ أدْومُها وإن قَلَّ[36] (اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ ہو اگرچہ مقدار میں قلیل ہو۔) گویا وقتی اور رسمی اعمال مطلوب نہیں ہیں بلکہ ایسے اعمال قابل ترجیح ہیں جنھیں صبر اور تسلسل کے ساتھ اس طرح انجام دیا جائے کہ وہ شخصیت میں یا سماج میں ٹھوس تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔

احادیثِ مبارکہ میں ایسے اعمال کو افضل قرار دیا گیا ہے جن کا فائدہ مستحقین کو دیر تک ملتا رہے اور اُن کی روزی روٹی کا یا ان کے مسائل کے حل کا مستقل اور پائیدار (sustainable)انتظام ہوسکے۔ [37]اسلام کی اسی اسپرٹ نے صدقہ جاریہ کے تصور کو اور وقف کے ادارے کو جنم دیا۔ [38]

ان تفصیلات سے عملِ صالح کا جو تصور ابھرتا ہے وہ بڑا وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ یہ تصور مسلسل، معیاری اور حتی المقدور نفع بخش سعی وعمل کا تقاضا کرتا ہے۔ مومنِ صالح وہ ہے جو طرح طرح کے نیک کاموں میں مصروف ہوتا ہے۔ عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ سے تقرب کے لیے اور اللہ کی محبت میں اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اپنے آپ کو جس مفید اور نفع بخش کام کے بھی لائق سمجھتا ہے اس میں پورے انہماک کے ساتھ جٹ جاتا ہے اور بھرپور مہارت کے ساتھ اعلیٰ معیار پر اُس کام کو اس طرح انجام دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نفع پیدا کرسکے۔

اجتماعی عملِ صالح

اجتماعی عملِ صالح کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل پسند رویہ پوری قوم کے اندر سرایت کرجائے اور عملِ صالح ایک معاشرتی رویہ اور اجتماعی قوت بن جائے۔ ہمارے ملک میں لنگر اور بھوکوں کو کھانا کھلانا سکھوں کی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ جب کسی قوم میں کوئی عمل اس طرح عام ہوجاتا ہے اور وہ اسے تسلسل کے ساتھ انجام دینے لگتی ہے تو بالآخر وہ اس کی اجتماعی عادت اور شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ سے یہی مطلوب ہے کہ اس کی شناخت اعمالِ صالحہ کے ساتھ وابستہ ہوجائے۔ پوری امت ایک ایسے متحرک اور فعال گروہ کے طور پر سامنے آئےجو انسانی مسائل کے حل کے لیے فعال و سرگرم ہو اور انسانیت کے لیے رحمت ہو۔ كنتم خير أمة أخرجت للناس (آل عمران 110)، ولتکن منکم أمة یدعون إلی الخیر، کونوا قوامین بالقسط (النساء 135) وغیرہ جیسی آیات میں امت کا یہی وژن ملتا ہے۔

عمل پسند قوم کے اندر کثرت سے فائدہ مند ادارے قائم ہوتے ہیں۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے تحقیق و جستجو اور اختراع و ایجاد کا ماحول عام ہوجاتا ہے۔ سخاوت اور فیض رسانی سماجی معمول (social norm)بن جاتی ہے۔ سماجی عز و شرف فلاح و بہبود کے ساتھ اور تعمیر و ترقی کے مفید کاموں کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے۔

ایسے اجتماعی ماحول میں بے عملی، سستی و کاہلی اور بے فیض و بے مصرف زندگی عیب سمجھی جاتی ہے۔ لایعنی اور غیر مفید سرگرمیوں، کھینچا تانی، آپسی سیاست ورسہ کشی اور فضولیات کے لیے نہ لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہے اور نہ سماج میں ایسی باتوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ قرآن اس سلسلے میں اس قدر حساس ہے کہ لغو سے گریز کو اس نے اہلِ ایمان کی اہم صفت قرار دیا ہے اور ایسی تفریحات تک کو ناپسند کیا ہے جو بے فیض ہوں اور جن میں انہماک مفید کاموں سے غفلت کا سبب بن سکتا ہو۔ وَالَّذِینَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔ سورہ مومنون 3) لغو کا مطلب بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:

’’ لغو ہراُس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لاحاصل ہو۔ جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو، وہ سب لغویات ہیں۔[39]‘‘

اجتماعی عملِ صالح کامطلب یہ بھی ہے کہ امت کے اجتماعی ماحول میں سست رفتاری اور غیر کارکردگی ناپسندیدہ ہو۔ مفاد عام کی خاطر کارجوئی (enterprising)اور مہم جوئی (adventuring)کا ذوق، اجتماعی ماحول میں سرایت ہو۔ وقت کے بھرپور استعمال کا مزاج عام ہو (سورۃ العصر)۔ صبح جلد شروع ہوجاتی ہو۔ الَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا[40] (اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما )اور ایک ایک لمحے اورمہلتِ عمل کا مفید کاموں کے لیے بھرپور استعمال ہوتا ہو۔ إن قامتِ السَّاعةُ و في يدِ أحدِكم فسيلةٌ، فإن استطاعَ أن لا تقومَ حتَّى يغرِسَها فليغرِسْها۔ (اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو تو اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ حساب کے لیے کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہیے۔)[41] لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ کارِ خیر کی دوڑ لگی ہو۔ وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ۔ ( ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔البقرة: 148)

اجتماعی عمل کا ایک اہم مظہر خیر کے کاموں میں زیادہ سے تعاون باہمی کا ماحول ہے۔ جہاں بھی کوئی اچھا کام ہورہا ہو، اس میں تعاون اور اس کے استحکام کے لیے لوگ دوڑ کر آگے بڑھیں۔ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ (جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں اُن میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ المائدة: 2) تعاون میں یہ بات شامل ہے کہ مفید کاموں کے لیے قدم قدم پر پذیرائی کا ماحول ہو۔ نئے تجربات کی ہمت افزائی عام ہو۔ ہرمفید کام اپنے اندر جوکھم (risk)کے پہلو رکھتا ہے۔ اس کوقبول کرکے آگے بڑھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب سماج کی طرف سے پشت پناہی کا تیقن ہو۔ مفید کاموں کی پذیرائی اور تعاون میں، نہ گروہی وابستگیاں رکاوٹ بنتی ہوں نہ عمر و تجربے کے معیارات اور نہ ہی حسد و رقابت اور معاصرت کے فتنے۔ مرد، خواتین، بوڑھے، جوان، بچے سب اپنے اپنے ذوق، صلاحیت اور استعداد کے مطابق طرح طرح کے مفید کاموں میں اپنے اوقات صرف کرتے ہوں اور سماج کی مجموعی فضا، کشادہ دلی کے ساتھ اس میں ان کی معاون ہو۔

خلاصہ یہ کہ عملِ صالح اجتماعی طور پر جب قومی مزاج میں ڈھل جاتا ہے تو خیر، اصلاح، خدمت اور عدل محض چند افراد کی ذاتی نیکیاں نہیں رہتیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ترجیح اور تہذیب بن جاتے ہیں۔ انسانوں کے نفع، کم زوروں کی مدد، ظلم کے خاتمے اور زندگی کی بہتری کے لیے طرح طرح کے ادارے اور اجتماعی تحریکیں جنم لینے لگتی ہیں۔ جہاں بے حسی، جمود اور لاتعلقی کے بجائے تعاون، احساسِ ذمہ داری اور مشترکہ جدوجہد کی فضا عام ہوتی ہے اور خیر ایک منظم، مؤثر اور پائیدار اجتماعی قوت کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ اور اسلام کے دورِ اول کی مسلم امت کی یہی خصوصیت تھی کہ اعمالِ صالحہ چند نیک افراد کی انفرادی خصوصیت نہیں تھے بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی کردار، سماجی رویہ، تہذیبی شعار اور قومی شناخت بن چکے تھے[42]۔

عملِ صالح اور امت کی موجودہ صورت حال

یہ تفصیلی بحث امت کی موجودہ زبوں حالی کے ایک اہم سبب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے میں عمل پسندی اور حرکت و سرگرمی کا اجتماعی ماحول ہمارے یہاں بہت کم زور ہوگیا ہے۔ بے شک امت کے اندر بھی ایسے سرگرم اور فعال افراد موجود ہیں جن کی حوصلہ مند کاوشیں ملک و ملت کے لیے غیر معمولی طور پر نفع بخش ہیں لیکن اول تو ایسے افراد نسبتاً بہت کم ہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ سعی و جہد افراد کے ذاتی کارنامے ہیں، امت کی سطح پر اعمالِ خیر کا اجتماعی ماحول بہت کم زور ہے۔ اوپر اجتماعی عملِ صالح کے عنوان سے ایک باعمل قوم کی جو تصویر بیان کی گئی ہے، ملتِ اسلامیہ ہند کے اجتماعی ماحول میں اس کا بہت کم شائبہ نظر آتا ہے۔ اس کے گہرے نفسیاتی، تاریخی اور کسی درجے میں نظریاتی اسباب بھی ہیں۔

ہمارے خیال میں، اس صورتِ حال کا پہلا سبب حد سے بڑھی ہوئی روایت پرستی ہے جس کا ایک عام مظہر تو یہ ہے کہ نجات کے لیے صرف ایمان یا مسلمان ہونا کافی سمجھ لیا گیا ہے اور قرآن و حدیث میں اعمالِ صالحہ کو جس طرح فلاح و نجات کی لازمی شرط کے طور پربیان کیا گیا ہے، وہ تصور کم زور ہوگیا ہے۔ دوسرا مظہر یہ ہے کہ عملِ صالح اور انسان کے فطری جذبہ خیر کو صرف چند مراسمِ عبودیت تک محدود کرلیا گیا ہے۔ نیکی کا مطلب زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں اور عمرے، انفاق کا مطلب مسجدوں کی تعمیر و تزئین اور صدقات کا مطلب بھکاریوں کی جھولیوں میں سکے ڈال دینا بن گیا ہے۔ یہاں ان اعمالِ صالحہ کا استخفاف مقصود نہیں ہے۔ ان سب اعمال کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ افراد کا اور سماج کا روحانی ارتقا نہ صرف دنیا وآخرت کی اہم ضرورت ہے بلکہ دیگر اعمالِ صالحہ کے لیے تحریک اور ان میں اخلاص، روحانی ارتقا کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ کا تصور صرف ان اعمال تک محدود نہیں ہوجانا چاہیے۔ اس طرح کی محدودیت نہ اسلام کا منشا ہے اور نہ اس کے تصورات سے ہم آہنگ ہے۔ فکر وخیال کی سطح پراس طرح کی محدودیت کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لیکن عملی صورتِ حال کا جائزہ بتاتا ہے کہ عملاً اس طرح کی محدودیت اکثر مسلم معاشروں کے لاشعور میں موجود ہے۔

دوسرا سبب وہ سستی و کاہلی اور بے عملی نیز حوصلہ وامنگ اور توانائی کی کمی ہے جو زوال کے نتیجے میں قوموں کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ اکثر مسلمان علاقوں میں صبح دیر سے شروع ہوتی ہے۔ دیر رات تک بے کار مجلس بازی کا رجحان عام ہے۔ مفید کارنامے انجام دینے کے حوصلے ناپید ہیں۔ معاشی مصروفیت کے بعد بچے ہوئے وقت کا بیشتر حصہ لغویات ہی میں ضائع ہوجاتا ہے۔ کسی کے اندر ’ملی درد‘ کی ٹیس اٹھتی ہے تو ماتم و نوحہ خوانی اوربے نتیجہ ڈرائنگ روم مباحث یا الزام تراشیوں جیسی بے فیض سرگرمیوں کے ذریعے وہ تسکین کا سامان کرلیتا ہے۔ کچھ لوگ کچھ کرنے کے لیے آگے بڑھتے بھی ہیں تو نیم دلی اور حوصلوں کی پستی انھیں روایتی اور رسمی سرگرمیوں سے آگے نہیں بڑھا پاتی۔ ایسا اجتماعی ماحول عمل دشمن ماحول ہوتا ہےاور ایسی اجتماعی بے عملی زوال و پس ماندگی کا اہم سبب ہوتی ہے۔

تیسرا سبب ہندوستانی مسلمانوں کے مخصوص حالات اور ان حالات کے رِسپانس کا اُن کا وہ طریقہ ہے جس کے وہ برسوں سے عادی ہوچکے ہیں۔ سلامتی کو لاحق خطرات، خوف کی فضا، مسلسل اشتعال انگیزی، جذبات کو بھڑکانے والے مسائل کا تسلسل، ان سب نے انھیں برسوں سے ردِ عمل اور دفاع کے کاموں میں ایسا مصروف رکھا ہے کہ اُن کی اجتماعی نفسیات ہی پر دفاع کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ ٹھوس، سنجیدہ، تعمیری اور طویل المیعاد کوشش ان کے لیے دشوار ہوگئی ہے۔

چوتھا سبب تعاون اور پشت پناہی کے اُس ماحول کا فقدان ہے جس کی طرف اوپر کی سطروں میں اشارہ کیا گیا ہے۔ کچھ نہ کرنا اور خاموش بیٹھے رہنا زیادہ آسان اور پسندیدہ ہے۔ ایسا شخص‘شریف آدمی‘ سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی کچھ کرنا چاہے، اُسے طرح طرح کی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرگرمی شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ منصوبوں کی کام یابی حسد و رقابت پیدا کرتی ہے اور ناکامی ملامت کا سبب بنتی ہے۔ مسالک و مکاتب اور فرقوں کی مصنوعی تقسیم اعمالِ خیر کو بھی تعصب کی نگاہ سے دکھاتی ہے۔ دوسروں کا کوئی اچھا کام نظر نہیں آتا۔ اس میں عدم تعاون بلکہ اس کی مخالفت کے لیے دسیوں حیلے ذہن تراش لیتا ہے۔

مسلمانوں میں جذبہ خیر تو عام ہے (جیسا کہ کووِڈ کے دوران دیکھنے کو ملا) اور جذبہ انفاق بھی دوسری قوموں سے زیادہ ہے۔ لیکن مذکورہ اسباب کی وجہ سے پائیدار سرگرمیوں کا ماحول بہت ناقص ہے۔ ادارے یا تو ناپید ہیں یا جو ہیں وہ بہت کم زور ہیں۔ اختراع (innovation)کا جذبہ مفقود ہے۔ خصوصًا فلاحی کاموں میں جوکھم لینے اور نئے تجربات کرنے کی فضا ناپید ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی رویے کی اصلاح کے لیے جن پہلوؤں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، اُن میں سے ایک اہم پہلو ہمارے خیال میں عمل پسندی اور جہد مسلسل کے اجتماعی ماحول کی افزائش ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ کام مہماتی طریقے سے شروع ہو تاکہ مسلم نوجوان زیادہ سے زیادہ فعال، سرگرم اور مفید و نفع بخش کاموں میں مصروف رہنے کا ذوق اپنے اندر پیدا کریں۔ اسی سے ظلم اور ظالم طاقتوں کی مزاحمت بھی ممکن ہوگی، کام یاب سماجی، سیاسی، معاشی، تعلیمی اور علمی و فکری قیادت بھی پروان چڑھے گی اور امت کی مجموعی تمکین و ترقی کا کام بھی ہوسکے گا۔

حواشی و حوالہ جات

مثلاً ملاحظہ ہو: مفتی محمد شفیع عثمانی؛ معارف القرآن؛ ج 5 ص398؛ ادارۃ المعارف؛ کراچی؛(سورہ نحل آیت97 )

الألوسي(1994) روح المعاني في تفسير القرآن العظيم ؛ دار الكتب العلمية – بيروت ؛ج 13ص 39

القرطبي؛ الجامع لأحكام القرآن (1964) دار الكتب المصرية – القاهرة؛ ج 11 ص 38-39

مثلاً ملاحظہ ہو: ابن کثیر؛ تفسیر القرآن العظيم; دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان ج 4ص 516 ۔

ابن منظور؛ لسان العرب(2003) ؛ دار صادر؛ج 8ص 267

المعجم الوسيط؛ مجمع اللغة العربية بالقاهرة؛1972؛ ج1 ص520

محمد متولي الشعراوي (1997) تفسير الشعراوي – الخواطر؛ مطابع أخبار اليوم ج 15 ص9399

شيخ الإسلام أحمد بن تيمية؛ مجموع الفتاوى ؛ مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف – المدينة المنورة؛ 22/313

(عربی سے ترجمہ)

https://www.aljazeera.net/video/religionandlife/2004/6/4/%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%85%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD

(عربی سے ترجمہ) محمد الغزالي (1982)مشكلات في طريق الحياة الإسلامية؛ لشرکة نہضة مصر؛جزء1 ص 24

صحیح مسلم؛ کتاب الزکوۃ ؛ باب فضل النفقة۔۔(1002)

صحیح البخاری؛ کتاب الجھاد والسیر (2891)

صحیح البخاری؛ کتاب المساقاۃ؛ (2363)

صحیح البخاری؛ کتاب البیوع (2077)

صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1233]

صحیح بخاری، کتاب الادب (5983)

الالبانی؛ الجامع الصغیر (2595)

صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2329

الالبانی؛ الجامع الصغیر (4212-4213, 4214)

الالبانی؛ صحيح الجامع (1838)

سنن الترمذي (1329)

الالبانی؛ صحیح الترغیب والترھیب (1782)

صحيح البخاري (2320)، ومسلم (1553)

الالبانی؛ الجامع الصغیر (5546)

القرطبي؛ الجامع لأحكام القرآن (1964) دار الكتب المصرية – القاهرة؛ ج 8 ص 199

صحيح مسلم (118)

صحیح البخاری؛ کتاب الرقاق (6425)

صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6873

صحیح البخاري (6011)، ومسلم (2586)

الراغب الاصفهاني (1992)المفردات في غريب القرآن؛ دار القلم، الدار الشامية – دمشق بيروت; ص 235

صحیح مسلم (1955)، والترمذي (1409)

الالبانی؛ صحیح الترغیب والترھیب (2623)

مثلاً ملاحظہ ہو:

علامہ یوسف القرضاوی؛ دین میں ترجیحات؛ منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز؛ نئی دہلی؛ ص 171-182

الطبراني في (المعجم الأوسط) (897)، والبيهقي في (شعب الإيمان) (4929) صححه الالبانی صحيح الجامع ( 1880)

https://www.almaany.com/ur/dict/ar-ur/%D8%A7%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%86/

البخاري (6465)،ومسلم (783)

الالبانی؛ صحيح الجامع (1109)

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سید سعادت اللہ حسینی؛ وقف، اسلامی ادارہ سازی کا تاریخی ماڈل (اشارات)؛ زندگی نو، فروری 2025

تفہیم القرآن ج3 ص262

سنن ابن ماجه (2237) صححه الالبانی؛ صحیح ابن ماجه

مسند احمد (12981) صححه الالبانی السلسلۃ الصحیحة (9)

اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کتابیں بڑی معاون ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر مصطفی السباعی؛اسلامی تہذیب کے چند درخشان پہلو(اردو ترجمہ حضارتنا)،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی (1982)

مولانا سید ابوالحسن ندوی؛ انسانی دنیا پرمسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر؛مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنو (1981)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

عملِ صالح اور امت کی نشأۃ ثانیہ

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223