سائنس مذہب اور سماج

اسلام رخی ٹکنالوجی

ڈاکٹر محمد رضوان

سائنس اور اسلام اور ایک اسلام رخی سائنس پر پچھلے مضمون میں قدرے تفصیل سے بات آگئی ہے۔ اب ٹکنالوجی اور اسلام کے تعامل اور اسلام اور ٹکنالوجی کی بنیادی جہتوں پر چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔

عام طور پر سائنس کے انطباق کو ٹکنالوجی کہا جاتا ہے۔ سرسری نظر میں یہ تعریف بالکل درست معلوم ہوتی ہے، لیکن جدید ٹکنالوجی کو اس تعریف کے تحت متعین نہیں کیا جا سکتا۔ جدید ٹکنالوجی بالکل ایک الگ طریقے سے سماج سے تعامل کرتی ہے۔ جدید ٹکنالوجی نے انسانی تہذیب و تمدن پر ایسے اثرات ڈالے ہیں جو اس کے ہر گوشے پر محیط نظر آتے ہیں۔

ٹکنالوجی نےعمومی انسانی قدروں اور اصول کے استنباط اور استخراج دونوں پر اثر ڈالا ہے۔ اس نے مذاہب، کتاب اور تہذیب پر ہمہ جہت اثرات ڈالے ہیں۔ یہ اثرات مذاہب کے اصولوں کے استنباط اور استخراج میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس لیے سائنس، مذہب اور سماج کی بحث ٹکنالوجی، مذہب اور سماج اور ان کے آپسی تال میل اور تعامل کی بحث کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔

عام طورپر سائنس و ٹکنالوجی کو ایک کل کے طور پر دیکھا گیا، یا زیادہ سے زیادہ سائنس کے پروڈکٹ کے طور پر ٹکنالوجی کو دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر لٹریچر، حتیٰ کہ مغربی لٹریچر میں بھی، سائنس و ٹکنالوجی کو بطور ایک کل کے ہی دیکھا گیا ہے، یعنی سائنس کے اصولوں کے انطباق کا نام ٹکنالوجی ہے۔

اس لیے تاریخِ سائنس، فلسفۂ سائنس، منہجِ سائنس وغیرہ مکمل بیانیوں کی حامل ہیں، مگر ٹکنالوجی اس ڈسکورس میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔تاہم پچھلے دو عشروں کے درمیان اس ذیل میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے، اور فلسفہ اور ٹکنالوجی کے عنوان سے بعض کتب اور تحقیقی مقالات آنے لگے ہیں۔

ادھر اسلام اور ٹکنالوجی پر بہت کم لٹریچر موجود ہے، اور جو کچھ ہے وہ بھی ابتدائی نوعیت کا اور اس کا دائرہ بھی سائنس و ٹکنالوجی کو کل کی حیثیت میں دیکھنے تک محدود ہے۔

جدید ٹکنالوجی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے ایک مرکزی موضوع کے تحت زیر بحث لایا جائے، نہ کہ محض سائنس کے پروڈکٹ کے طور پر دیکھا جائے۔ صرف فلسفۂ سائنس کے تحت اس کی تشریح نہ کی جائے بلکہ اسے ایک کل کی حیثیت سے دیکھا جائے اور ایسا اس لیے ہونا چاہیے کیوں کہ:

جدید ٹکنالوجی نے معاشرے کو اس طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ اس کا کوئی گوشہ اس کے اثر سے خالی نہیں ہے، حتی کے حصول علم کے لیے بھی ٹکنالوجی پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ چناں چہ معلومات کے اخذ کرنے کے تمام تر ذرائع پر ٹکنالوجیاں براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ سائنس کے بنیادی طریقہ کار، مفروضہ، مشاہدہ، ڈیٹا، نتیجہ کے ہر زاویے پر ٹکنالوجی کا اثر ہے۔ چناں چہ علم کے ہر ذریعے اور ہر طریقے پر یہ مختلف جہتوں سے اور غیر معمولی طور پر اثر انداز ہورہی ہے۔

ٹکنالوجی نے معاشرے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ تبدیلی ہمہ جہت ہے، یعنی یہ تبدیلی محض پیداوار کے طریقے، صحت و علاج کے بہتر آ لات، یا جنگ و جدل میں کام آنے والے ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ مواصلاتی انقلاب کے بعد ٹکنالوجی نے شعور و لا شعور کی سطح پر سماج کے مجموعی شعور اور اس کی ہیئت ترکیبی کو متاثر کرنا اور تبدیل کرنا شروع کیا ہے، اور اس کی غیر معمولی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔ اس لیے اب ٹکنالوجی کو محض سائنس کے پروڈکٹ کے طور پر دیکھنا اس کے تئیں ہمارے رویہ کو صحیح طور پر منضبط نہیں کر سکتا۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے فلسفہ میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جدید ٹکنالوجی میں اور اس کے فلسفہ میں بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن پر حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ جدید ٹکنالوجی کے فلسفہ کا ارتقا ان سوالوں کے یا ان نکات کے صحیح جوابات یا ان کو صحیح جگہ پر رکھے بغیر ممکن نہیں۔

جدید ٹکنالوجی کی بنیادی فلسفیانہ گتھیوں کی درج ذیل بڑی جہات ہیں:

  1. انسان اور مشین کا باہمی تعاون و اشتراک

دماغ و کمپیوٹر کا اتصال (brain-cloud interface)

  1. جینیاتی ٹکنالوجی اور اس سے جڑے مسائل
  2. انسان اور کائنات کے رشتے کے ابعاد

انسان اور مشین کا باہمی تعاون و اشتراک

ٹکنالوجی کے فلسفہ میں یہ نکتہ مشکل ترین نکتوں میں سے ایک ہے، اور بہت سارے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ ان سوالوں کے جواب سے مزید سوال پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً انسان اور مشین کے باہمی تعاون و اشتراک کے حدود کیا ہوں گے؟ اس کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باہمی تعاون و اشتراک انسانیت کے مفاد کے دائرے میں رہ کر ہوگا- اس جواب سے دوبارہ یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ انسانیت کے مفاد کے دائرے کا تعین کون کرے گا؟ اور اس کی اخلاقی بنیادیں کہاں سے اخذ کی جائیں گی؟ اگر ان سوالوں کا جواب یہ دیا جائے کہ سیکولر ہیومنزم کی قدروں کے مطابق انسانیت کے مفاد کا تعین کیا جائے گا تو یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا سیکولر ہیومنزم پر سب کا اتفاق ہے؟ غرض یہ کہ انسان اور مشین کے باہمی تعاون و اشتراک کا بظاہر آسان نظر آنے والا نکتہ کافی پیچیدگی اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس کو ایک دوسری مثال کے ذریعے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ دل کی بیماریوں میں پیس میکر انسان اور مشین کے باہمی تعاون کی ادنیٰ سی مثال ہے۔ اس کے استعمال کرنے میں کسی سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے، کیوں کہ پیس میکر کی کارکردگی دل کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن کیا ایسی مشین استعمال کی جاسکتی ہے جو بحیثیت مجموعی انسان کی کارکردگی کو بہتر بنائے؟ کیا انسانی پاؤں کے ساتھ ایسے پاؤں جوڑے جانےچاہئیں جو انسان کو چیتے جیسی رفتار عطا کر دیں؟ اگر ہاں تو کیوں؟ اور نہیں تو کیوں نہیں؟ اسی طرح کیا ایسی مشین بنائی جانی چاہیے جو انسانی دماغ اور مصنوعی مشینی جسم کا مخلط ہو؟ یعنی اس میں صرف انسانی دماغ ہو اور پورا جسم مختلف دھاتوں سے مل کر بنا ہو؟ انسان اور مشین کے باہمی تعاون کی جہات میں تین نکات اہم ہیں:  (1) اخلاقیات، (2) اخلاقیات کی بنیادیں اور (3) حدود کا تعین

اس باہمی تعاون و اشتراک کی اخلاقیات کیا ہوں گی؟ کہاں سے اخذ کی جائیں گی اور ان کو رو بہ عمل لانے کی قوت کس کے پاس ہوگی؟ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کون کرے گا؟ اخلاقیات کی پابندی ہو اس کے لیے کون سے میکنزم ہوں گے؟ ریاست اور فرد (ٹیکنالوجسٹ جو اس فیلڈ میں کام کر رہا ہے) اس کے انفرادی حقوق اور ریاست کے مابین تعلق کی نوعیت کیا ہوگی؟ مختلف ملکوں کے بیچ اس نکتے کے تحت آنے والے ٹکنالوجی کے استعمال اور انطباق میں اختلاف کی صورت میں مسئلے کے حل کے لیے کیا نظم ہوگا؟ غرض اس طرح کے سیکڑوں سوالات ہیں جن کا جواب موجودہ ٹکنالوجی کے فلسفہ کے پاس نہیں ہے۔ اسی نکتے کے تحت ٹرانس ہیومنزم کی پوری بحث سمیٹی جا سکتی ہے۔ ٹرانس ہیومنزم کو آسان لفظوں میں ’’سائنس و ٹکنالوجی کا استعمال کرکے انسان کی طبعی اور ذہنی قوتوں کو اس کی موجود محدودیت سے پرے لے جانے کی کوشش‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے تحت انسان میں ٹکنالوجی کا استعمال کرکے بہتر انسان بنانے کی کوشش کرنا شامل ہے، یعنی ایسا انسان جس میں انسانوں کی بہ نسبت زیادہ جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں پائی جاتی ہوں۔ اگر ایک بار انسان اور مشین کے باہمی تعاون کے حدود طے ہوجائیں تو ٹرانس ہیومنزم کے سارے فلسفے دھڑام سے گر پڑیں گے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ٹرانس ہیومنزم کا بغور مطالعہ ہم کو اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ یہ دراصل یوجینکس کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ یوجینکس بیسویں صدی میں انسان کی نسل کو بہتر بنانے کی کوشش کا نام ہے بیسویں صدی میں فرانسس گالٹن نے اس ضمن میں بہت کام کیا ہے (ہم بوجوہ ان کے نام کے آگے سر نہیں لکھ سکتے۔ انھیں عام طور پر سرفرانسس گالٹن لکھا جاتا ہے) انھوں نے ایک ایسی انسانی نسل کے لیے عملی کوششیں کیں جو نقائص سے پاک ہو، جیسے بونا قد، کم زور جسم، کم زور مدافعتی نظام، لولے لنگڑے اور اندھے لوگوں سے انسانی نسل پاک ہو۔ انھوں نے سلیکٹیو بریڈنگ کے تحت اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعد کے زمانے میں اس شرم ناک اور قبیح عمل کی بہت شدید مخالفت ہوئی اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ بعد کے دور میں یوجینکس کے تصور کو مثبت اور منفی یوجینکس کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ جدید دور میں اسے ڈس کریڈٹ کر دیا گیا ہے‌۔ جدید دور میں بعض محققین اور مفکرین جدید جینیاتی سائنس کو یوجینکس تحریک سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ جدید جینیاتی ٹکنالوجی کا استعمال کرکے بہتر خاصوں کو پیدا کرنا بھی ایک طریقے سے یوجینکس ہی ہے۔

انسان اور مشین کے باہمی تعاون و اشتراک کی سب سے اہم جہت سائبورگ (cyborg) ہے۔ یہ لفظ سائبر (cyber) اور آرگنزم (organism) سے مل کر بنا ہے۔ سائبر یعنی کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت یا ورچوئل ریئلٹی سے متعلق یا ان خصوصیات سے متعلق۔ اور آرگنزم سے مراد جاندار۔ یعنی ایسا انسان جس میں کمپیوٹر یا چپس یا مصنوعی ذہانت کو داخل کیا گیا ہو۔

بعض ماہرین گوگل گلاس پہننے یا مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی سائبورگ کی قسم مانتے ہیں۔ لیکن درست بات یہ ہے کہ سائبورگ دراصل ایک ایسے انسان کو کہا جائے گا جو مشینوں سے تقویت یافتہ اعضا کی بدولت عام انسانوں سے جسمانی اور ذہنی دونوں صلاحیتوں میں بہت بہتر ہو۔ یہ محض خیالی پلاؤ نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں روبوٹکس میں ہونے والی حیران کن تبدیلیوں نےسائبورگ کو ایک حقیقت کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ٹکنالوجی بہت آگے جا چکی ہے۔ اس کی اپنی اخلاقیات بھی ہیں جس پر تحقیقی مقالات موجود ہیں۔ اس تصور اور اس ٹکنالوجی پر کئی محققین کام کر رہے ہیں۔

سائبورگ کے تصور نے ٹکنالوجی کے فلسفہ میں بہت اہم سوالات اٹھائے ہیں،مثلاً:

سائبورگ کے بعد انسان کی تعریف کیا ہوگی؟

سائبورگ کے بعد انسان اور مشین کے حدود کیسے طے ہوں گے؟ یعنی کیا اور کتنا انسان! اور کیا اور کتنی مشین!

سائبورگ کی اس سوغات کے بعد ہائی بریڈ کمیٹی کا کیا تصور ہوگا یعنی مشین اور انسان کا مخلوط اور ان مخلوط اکائیوں کا ایک سماج جسے شاید مخلوط انسانیت (hybrid humanity)کہا جائے!

نکتہ 3 کی صورت میں انسان کی اخلاقیات کو از سر نو منظم کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے کون سی بنیادوں کو استعمال کیا جائے گا؟

سائبورگ کی معاشرت کے حدود اربعہ کیا ہوں گے؟

یوجینکس اور سائبورگ کے نقاطِ اختلاف (departure points)کیا ہوں گے؟

سائبورگ کی تحریک یوجینکس کی تحریک کی جدید شکل تو نہیں ہوگی؟

سائبورگ میں آزادی ارادہ (free will)کی تعریف کس طرح متعین کی جائے گی؟

غرض ٹکنالوجی کے فلسفہ کا یہ نکتہ اپنے اندر بہت سی جہات سمیٹے ہوئے ہے، جس پر جدید ٹکنالوجی اور اس کا ابھرتا ہوا فلسفہ خاموش ہے۔

ٹکنالوجی کے فلسفے میں دوسرا اہم ترین نکتہ دماغ و کمپیوٹر کے ۱اتصال (brain-cloud interface – BCI) کا ہے۔ بی سی آئی اس ٹکنالوجی کو کہا جاتا ہے جو انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑ دے۔ بی سی آئی کا ارتقا دراصل دماغی طور پر مفلوج مریضوں کو راحت دینے کے لیے کیا گیا تھا، جن کے حرکی عصبیے خراب تھے اور جو دماغی احکام کو اعضا کی حرکت میں تبدیل کرنے سے قاصر تھے۔ لیکن بتدریج اس ٹکنالوجی میں ممکنات کی غیر معمولی دنیا وجود میں آ گئی۔ مثلاً کی بورڈ پر انگلیوں کو حرکت دیے بغیر کوئی بھی شخص گوگل سرچ کر سکتا ہے۔ ایک نوجوان پر اس کا کام یاب تجربہ کیا جاچکا ہے۔ اسی طرح انسانی دماغ میں ایک معمولی سی چپ لگا کر انٹرنیٹ سے 24گھنٹے رابطہ بنایا جا سکتا ہے۔ بی سی آئی ٹکنالوجی نے نت نئی قسم کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اس کے ممکنہ استعمال کی دنیا بہت خطرناک بھی ہو سکتی ہے مثلاً:

کیا اس کا استعمال کرکے انسان کا ارادہ و اختیار بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب ہے ہاں۔ اور اس کا کام یاب تجربہ ہو چکا ہے۔ کیا اس کا استعمال کرکے ایسے مشین نما انسان بنائے جا سکتے ہیں جو انسانی جذبات، جیسے رحم، شفقت، اچھے اور برے کی تمیز، شرم و حیا، ہمدردی، اخوت، مساوات جیسے خالص انسانی جذبات سے عاری ہوں؟ اس کا جواب ہے ہاں، کیا جا سکتا ہے۔ تو اس ٹکنالوجی کے حدود کیا ہوں گے اور اس کی اخلاقیات کیا ہوں گی؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ اسی ٹکنالوجی کی دوسری اہم جہت انسان اور ڈیٹا کا تعلق ہے۔

بگ ڈ یٹا ایک زمینی حقیقت ہے، اور اس لیے اس کی اخلاقیات پر کام کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ بگ ڈ یٹا کے ذریعے ممکنات کی ایک لامتناہی دنیا وجود میں آ چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور بگ ڈ یٹا کے ذریعے انسان کے شعوری فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے، مثلاً حال میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح بگ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے افراد میں سیاسی لیڈروں کی امیج کو یا کسی پروڈکٹ کو یا کسی نظریے کو قبول عام دلایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ خود ہندوستان میں دائیں بازو کی پارٹیاں بگ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے رائے عامہ، اور عوام کے جذبات و احساسات سے چھیڑ چھاڑ (manipulate)کرتی ہیں۔ اور انھیں اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ٹکنالوجی کے فلسفہ کی تیسری اہم جہت جینیاتی ٹکنالوجی اور اس سے جڑے بہت سارے ابعاد ہیں۔ جینیاتی ٹکنالوجی انسانی تمدن پر اثر انداز ہونے والی سب سے اہم ٹکنالوجیوں میں سے ایک مانی جارہی ہے۔ ٹکنالوجی کے فلسفے میں یہ جہت بہت زیادہ توجہ کی طالب ہے کیوں کہ اس کے استعمال سے انسانی فطرت کے طاقت ور ترین عمل میں من چاہی دخل اندازی کی جا سکتی ہے۔ جینیاتی ٹکنالوجی نے پچھلے بیس برسوں میں وہ سب کچھ ممکن کر دکھایا ہے جو محض سائنس فکشن کا حصہ تھا، مثلاً کلوننگ، جس میں کسی جاندار سے اسی کے خلیات لے کر اسے کسی مادہ کے رحم میں داخل کرکے اسی جاندار کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مصنوعی ڈی این اے تجربہ گاہ میں بنا کر اس سے بیکٹیریا کی تشکیل کرنا۔

کرسپر (CRISPR) ٹکنالوجی کا استعمال کرکے اپنے من پسند خاصّے اپنے ہونے والے بچوں میں داخل کروانے کا اصولی ثبوت جیسے سیاہ یا سنہری بال، قد اور آنکھوں کا رنگ وغیرہ۔

جینیاتی ٹکنالوجی کے ذریعے یہ سب کچھ ممکن ہے لیکن ابھی تک انسانوں میں اس قسم کے تجربات نہیں ہوئے ہیں۔ یہ بات نوٹ کرنے لائق ہے کہ جانوروں میں لمبا قد، بال کا رنگ اور دیگر چیزوں کے جین دریافت کیے جا چکے ہیں اور ان جانوروں میں کرسپر ٹکنالوجی کا استعمال کرکے جلد اور بالوں کا رنگ بدلنا ممکن ہو چکا ہے۔

اوپر صرف تین مثالیں دی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جینیاتی ٹکنالوجی اور مصنوعی حیاتیات نے حیران کن ترقی کرلی ہے اور اس ترقی نے گوناگوں اخلاقی و تمدنی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ سوالات بہت بنیادی نوعیت کے ہیں، مثلاً جینیاتی ٹکنالوجی کے ذریعے جرثومہ کی سطح پر جینی تبدیلی کیوں نہیں کی جا سکتی؟

اگر بیماری کے جین بدلنا جائز یا قانونی ہو سکتا ہے تو جسمانی طاقت کو بڑھانے والے جینز کیوں نہیں بدلے جا سکتے؟ دونوں صورتوں میں انسان کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ایک صورت میں انسانی جین تبدیل کرکے دوسری صورت میں انسانی قوت مدافعت میں بہتری پیدا کرکے۔

جینیاتی ٹکنالوجی اور اس سے جڑے فلسفے کے بطن سے وہی سارے سوالات ابھرتے ہیں جن کا ذکر پیچھے کیا جاچکا ہے۔

ہمارے نزدیک ٹکنالوجی کے فلسفہ میں سب سے اہم مسئلہ انسان اور کائنات کے رشتے کے حوالے سےہے۔

کیا انسان کامل خود مختار ہے؟ کیا صرف عقل انسانی تمدنی معاملات چلانے کے لیے کافی ہے؟ کیا انسان کی فیصلہ سازی مطلق ہے؟ یا وہ کسی فریم یا کسوٹی کی طالب ہے؟ اضافیت کی صورت میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے کسوٹی کیا ہوگی؟ یہ اور اس طرح کے بہت سارے بنیادی نوعیت کے سوالوں کے جوابات بہت ضروری ہیں کیوں کہ جب تک ان تمام سوالات کے جواب نہیں آتے جینیا تی ٹکنالوجی کے فلسفہ کے لیے بنیاد فراہم کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ سیکولر ہیومنزم ان سوالوں کے جو جواب دیتا ہے وہ بجائے خود اضافی ہیں اور مزید کسی کسوٹی کے محتاج ہیں۔

ٹکنالوجی کے فلسفہ کی جہات،اس کے فلسفہ کے ارتقا میں درپیش مسائل اور سوالات جب ہم اسلامی نظام عقیدہ کے عدسے سے دیکھتے اور ان مشکل سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک اسلام رخی ٹکنالوجی کے خدوخال واضح ہونے لگتے ہیں۔

ایک اسلام رخی ٹکنالوجی کی ہیئت اور ترکیب ذیل کے مطابق ہو:

اسلام رخی ٹکنالوجی کا فلسفہ

اسلام رخی ٹکنالوجی کی تقسیم

اسلام رخی ٹکنالوجی کے حدود

اسلام رخی ٹکنالوجی کی اخلاقیات

اسلام رخی ٹکنالوجی کے فلسفہ کی درج ذیل بنیادیں ہوں گی۔ ان اصولی بنیادوں پر تمام ٹکنالوجیوں کا علیحدہ فلسفہ بھی تخلیق کیا جا سکے گا۔

الف۔ تصور وحدانیت خالق۔اسلام رخی ٹکنالوجی کی سب سے اصولی بنیاد خالقیت کا اعتراف ہے، یعنی اس بات کا اقرار کہ تخلیق اللہ رب العزت کے لیے خاص ہے، اور یہ تخلیق حق کے ساتھ ہے، یعنی بغیر کسی شریک کے ہے۔ یہ تخلیق کے دونوں ابعاد کو سموئے ہوئے ہے، یعنی عدم سے وجود اور وجود سے مزید تخلیق۔

ب۔ تصور خلافت آدم۔اسلام رخی ٹکنالوجی کے فلسفہ کی دوسری سب سے اہم بنیاد انسان کے خلیفۃ الارض ہونے کے اقرار اور اس کی تحسین (appreciation) پر ہے۔ یعنی اللہ نے اس پوری کائنات کی تخلیق کی پھر انسان کو اس میں اپنے خلیفہ کی حیثیت سے بھیجا اور پھر اسے ارادے اور اختیار کی آزادی دی تاکہ اسے آزمائے کہ وہ کیسا عمل کرتا ہے۔

تسویہ کا اعتراف اور لحاظ

اسلام اور ٹکنالوجی کی تیسری سب سے اہم بنیاد کائنات میں ترتیب و نظم کا اعتراف اور اسے نہ بگاڑنے کا لحاظ کرنا ہے یعنی اس بات کا اعتراف کہ یہ سارا نظام ایک خاص تخلیق کے تحت وجود میں آیا ہوا ہے چاہے اس کے میکانسٹک پہلو جو بھی ہوں، لیکن یہ چانس کے ذریعے وجود میں نہیں آیا بلکہ اسے ایک خاص مقصد کے تحت ترتیب اور نظم عطا کیا گیا ہے۔

محدود علم اور محدود انطباق کا اعتراف

اسلام رخی ٹکنالوجی کی چوتھی فلسفیانہ بنیاد محدود علم اور محدود انطباق کا اعتراف ہے یعنی انسانی عقل اور انسانی کوشش کی اپنی محدودیت ہے۔ انسان کی کوشش اور اس کی عقل لامحدود نہیں ہے۔ اسی لیے ٹکنالوجی اور اس کا استعمال بھی اپنے حدود رکھتا ہے۔ جدید ترین ٹکنالوجی کے بحث میں اسے unthinkability سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔

مبنی براقدار

اسلام رخی ٹکنالوجی کی ایک اہم ترین بنیاد اس کا اقدار پر مبنی ہونا ہے اور یہ اسلامی اقدار ہوں گی۔

فساد فی الارض کا تصور اور اس کا سدباب

اسلام رخی ٹکنالوجی کی فلسفیانہ بنیاد کا یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ فساد فی الارض کا تصور یہ ہے کہ کائنات میں پائے جانے والے اعتدال اور نظم میں خلل نہ ڈالا جائے اور یہ شعوری یا لا شعوری بنیادوں پر نہ ہونے پائے اس کا اہتمام کیا جائے۔

ٹکنالوجی کی تقسیم میں اسلامی عدل کا تصور

اسلام رخی ٹکنالوجی کی فلسفیانہ بنیاد میں یہ بھی بہت اہم بنیاد ہے کہ ٹکنالوجی کی تقسیم عدل کی بنیاد پر ہوگی۔

تسخیر کائنات نہیں بلکہ تصرف کائنات

کائنات اور انسان کے رشتے کے سلسلے میں اسلام رخی ٹکنالوجی کی یہ بہت بنیادی فلسفیانہ جہت رہے گی۔ ٹکنالوجی کا استعمال تصرف کائنات کے لیے کیا جائے، تسخیر کائنات کے لیے نہیں۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کی فلسفیانہ بنیادوں کے بعد اس کی تقسیم بہت اہمیت کی حامل ہو گی یہ تقسیم درج ذیل طریقہ پر ہوگی:

الف۔ نافع اور غیر نافع

ب۔ فطری تجسس کی تسکین کرنے والی

ج۔ تخلیق کے میکانسٹک پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی

د۔ صحت اور ادویہ سے متعلق

ہ۔ قوت کے حصول کے لیے

و۔ متفرق، جو مقاصد شریعت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہوں

نافع اور غیر نافع

اسلامی نظام عقائد میں نافع اور غیرنافع کا تصور بہت اہم ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے میں شریعت کے اس اصول کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اسلام رخی ٹکنالوجی کی تقسیم میں سب سے کلیدی حیثیّت اسے ہی حاصل ہوگی۔ نافع اور غیرنافع ٹکنالوجی میں تفریق کی جائے گی۔ غیر نافع ٹکنالوجیوں پر روک لگائی جائے گی اور نافع ٹکنالوجیوں پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ نافع اور غیر نافع کے تصور میں اضافیت کا پہلو تو بہرحال رہے گا چاہے بہت چھوٹے درجے کا ہو، یعنی بعض مقامات پر نافع ٹکنالوجیاں، غیر نافع نہ سہی غیر ضروری ہوں گی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقاصد شریعت کا وسیع کینوس اس طرح کی ثانوی اضافیت کو دور کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

فطری تجسس کی تسکین کرنے والی

اسلام میں جائز فطری تجسس کی بہت زیادہ تحسین کی گئی ہے۔ مثلاً، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ وہ انھیں دکھائے کہ وہ مُردوں کو کس طرح جِلاتا ہے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ کیا تم یقین نہیں رکھتے۔ آپ نے کہا یقین تو رکھتا ہوں لیکن دل کا اطمینان درکار ہے۔ اللہ نے پرندوں کی تمثیل کے ذریعے ان کے اطمینان کا سامان کیا۔ قرآن کا یہ قصہ اس بات کا بہت صاف ثبوت ہے کہ انسان میں جو فطری تجسس کا مادہ رکھا گیا ہے اس کی جائز تسکین کے لیے اللہ تعالی نے خود ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے ایک ایسی نظیر رکھ دی جو اس انسانی وصف کو جائز قرار دیتی ہے۔

چناں چہ تجسس کی تسکین کرنے والی ٹکنالوجیوں کے ارتقا اور ان پر تحقیق کو روا رکھا جائے گا۔ اس کی ایک سادہ سی مثال خلائی ٹکنالوجی ہوسکتی ہے۔ یہ غیر ضروری نظر آنے والی ٹکنالوجی ہے لیکن اس کے پیچھے دراصل اسی فطری تجسس کی غیر معمولی قوت ہے جو اس کائنات کا مشاہدہ کرنا چاہتی ہیں جسے سر کی آنکھوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس بسیط کائنات میں کیا کچھ راز چھپے ہوئے ہیں ان کو اجاگر کیا جائے اور اس کے لیے ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے، لیکن خلائی ٹکنالوجی کو اس کے جائز مقام پر رکھا جائے گا۔ بنیادی مقاصد شریعت کی تکمیل پہلے ہوگی۔ مثلاً پوری دنیا سے بھوک کا خاتمہ ہو، ساری دنیا کے انسانوں کو بہتر معیار زندگی حاصل ہو، تمام انسانوں کے لیے صحت و علاج مل سکے۔ اس کے بعد ترجیحی بنیادوں پر دیگر ٹکنالوجیوں کا ارتقا کیا جائے گا۔

صحت و ادویہ سے متعلق

ایسی ٹکنالوجیوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا جو صحت اور دواؤں کے بنانے سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان ٹکنالوجیوں کو پیٹنٹ سے مستثنی رکھا جائے گا۔ بطور خاص جینیاتی بیماریوں سے متعلق جینیاتی ٹکنالوجی کو بھی فروغ دیا جائے گا لیکن اس ٹکنالوجی کو خاصّوں کی بہتری کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔

قوت کا حصول

ایسی ٹکنالوجیاں جو قوت کے حصول کا ذریعہ ہوں ان تمام کو بھی ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا، لیکن ان کا حصول کسی دوسرے ملک یا کسی دوسرے خطے میں رہنے والی انسانی نسل کے نقصان کی قیمت پر نہیں کیا جائے گا بلکہ کوشش کی جائے گی کہ قوت کا حصول اس لیے ہو تاکہ اللہ کی کبریائی کا اعلان ہو۔ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں دیا جاسکے۔ ایک ایسی مبنی بر عدل فضا تیار کی جائے جہاں پر انسان کو اس بات کی آزادی ہو کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار اور اپنے عقل و شعور کا استعمال کرکے جو چاہے راستہ اختیار کرے۔ اس ضمن میں اس بات کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ٹکنالوجیوں سے بھی بچا جائے گا جو انسان کے شعور اور اس کے ارادے کو براہ راست متاثر کریں، مصنوعی ذرائع سے اس کے شعور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ (manipulate)کریں۔ انسان کو انسان کا اور انسان کی کاوشوں کا غلام بننے سے بچایا جا سکے۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کے حدود

اسلام رخی ٹکنالوجی کے حدود ہوں گے۔ جدید ٹکنالوجی کی طرح یہ لامحدودیت کی قائل نہیں۔ ان حدود کا ماخذ قرآن اور سنت ہوگا اور یہ حدود اسلامی تصور حیات سے ہم آہنگ ہوں گے۔ ان حدود کا اطلاق ٹکنالوجی میں تحقیق اس کے پروڈکٹ، اور اس پروڈکٹ کے استعمال پر ہوگا۔

اسلام اور ٹکنالوجی کی اخلاقیات

اس کا مصدر قرآن و سنت ہوگا اور اس میں اسلام کے عمومی مزاج کا خیال رکھا جائے گا، مثلاً اسلام کی سب سے بڑی خوبیوں میں سے ایک حیا کا تصور ہے۔ ٹکنالوجی کی اخلاقیات کا سب سے اہم پہلو یہ ہوگا کہ سیکس انڈسٹری سے جڑی تمام ٹکنالوجیوں پر سخت پکڑ کی جائے۔

اوپر دیے گئے مقدمے سے اسلام رخی ٹکنالوجی کے بنیادی فریم ورک کے نکات اخذ کیے جاسکتے ہیں:

اسلام رخی ٹکنالوجی کا علیحدہ فلسفہ ہوگا جس میں تصور خالق اور انسانی خلافت کا تصور غالب رہے گا۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کی تقسیم ہوگی جو نافع ٹکنالوجی اور غیر نافع ٹکنالوجی ہوگی۔

اسلام اور ٹکنالوجی کا فلسفہ تمام ٹکنالوجیوں کی ازسرنو تقسیم کرے گا، چناں چہ وہ ٹکنالوجیاں جو براہ راست اسلامی تصور حیات سے ٹکراتی ہیں ان کو تحقیق اور انطباق دونوں سے خارج کر دیا جائے گا۔

اسلام رخی ٹکنالوجی ٹکنالوجیوں کی خردہ کاری (fragmentation) کو قبول کرے گی اور ہر ٹکنالوجی کے لیے ذیلی فلسفہ کا ارتقا کرے گی۔

اسلام رخی ٹکنالوجی جدید ٹکنالوجی کو محض اوبجیکٹ کے طور پر نہیں دیکھے گی بلکہ اس کے جوہر کی قوت کو تسلیم کرے گی۔

اسلام رخی ٹکنالوجی تحقیقات میں ممکنات کی بنیادوں پر فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ بالآخر حاصل ہونے والے پروڈکٹ کے نافع اور غیر نافع ہونے کے اعتبار سے فیصلہ لے گی، مثلاً کسی ٹکنالوجی کے دو ممکنہ استعمالات نافع اور غیر نافع ہیں تو اس ٹکنالوجی کی تحقیق اس لیے نہیں روکی جائے گی کہ اس کا استعمال دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے بلکہ تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ٹکنالوجی کے پروڈکٹ پر یہ فیصلہ لیا جائے گا کہ استعمالات کون سے ہیں۔ چناں چہ نافع استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس بات کی صراحت بھی ضروری ہے کہ اسلام اور ٹکنالوجی میں تحقیقات کے وقت ہی اس بات کو ممکنہ طور پر فیصلہ سازی میں لایا جائے گا کہ کون سی ٹکنالوجی کے کون سے ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر ٹکنالوجی کی تحقیق کے دوران یہ پتہ چلے کہ پروڈکٹ میں نافع اور مضر دونوں پہلو ہو سکتے ہیں تو اس ٹکنالوجی کی تحقیق کو نہیں روکا جائے گا بلکہ پروڈکٹ بننے کے بعد اس کے نافع استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

اسلام رخی ٹکنالوجی مقاصد شریعت کے حصول کے لیے بطور آلہ استعمال ہوگی اور اس ضمن میں مقاصد شریعت کے بنیادی اصولوں کی پابند ہوگی۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کے خدوخال کی وضاحت کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی بطور خاص جدید مغرب میں ارتقا پانے والی ٹکنالوجی،اس کی قدر، فلسفہ اور تصور کا بھی جائزہ لیا جائے۔

نیچےدیاگیا جدول اس کی وضاحت کرتا ہے:

اسلام رخی ٹکنالوجیجدید مغربی ٹکنالوجیتصور فلسفہ قدر
کائنات کی تخلیق اللہ نے کی ہے اور یہ تخلیق عبث نہیں ہے بلکہ اس کا خاص مقصد ہے۔کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے اور فنا ہو کر دوبارہ وجود میں آ سکتی ہے۔تصور کائنات
انسان کو اللہ نے تخلیق سے نوازا ہے وہ ارادہ و اختیار والی مخلوق ہے اور اس نیکی اور بدی کا علم دیا گیا ہے اور اس کی پیدائش کا ایک خاص مقصد ہے۔انسان سادہ جانداروں سے ارتقا پاکر انسان بنا ہے اور کائنات کے دیگر جانداروں کی طرح ایک جاندار ہے، اس کا کوئی خاص مقصد یا مقام نہیں ہے۔تصور انسان
اسلامی نظامِ عقیدہ میں تسخیر کائنات نہیں بلکہ اللہ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے عدل کی بنیادوں پر کائنات میں تصرف کیا جا سکتا ہے۔انسان سے کائنات کا کوئی خاص رشتہ نہیں ہے، وہ چاہے تو کائنات کو تسخیر کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے یا اس میں تصرف بھی کرسکتا ہے۔ انسانی مفاد اہم ہے۔انسان کا کائنات سے رشتہ
قدر کی اپنی اہمیت ہے اور یہ قدر اسلامی بنیادوں سے اخذ کی جائے گی۔جدید مغربی ٹکنالوجی اپنے آپ کو ‘قدر غیر جانب دار› (value neutral) مانتی ہے یعنی یہ قدر معتدل ہے یعنی اس میں اچھائی اور برائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اقدار کا معاملہ
بعض ترجیحات مستقل رہتی ہیں اور بعض تبدیل بھی ہوتی رہتی ہیں، یہ ترجیحات مقاصد شریعت کے تابع ہوتی ہیں۔تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ترجیحات
عامة الناس تک پہنچایا جائے۔عامة الناس تک پہنچایا جائے۔مفاد عامہ اور ٹکنالوجی کی تقسیم

 

اسلام رخی ٹکنالوجی اور جدید مغربی ٹکنالوجی کی بنیادوں، تصور، فلسفہ اور قدر کے تقابلی نکات کا جائزہ لینے کے بعد یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور ٹکنالوجی پر ممکنہ اعتراضات کا جائزہ لیا جائے۔

مغربی تصور حیات میں مذہب کی حیثیت ثانوی ہے، یا زیادہ صحیح لفظوں میں، مذہب بے وقعت ہے یا فرد کے ذاتی معاملات تک محدود ہے۔ اس زمینی حقیقت نے مغربی نظام علم اور مغربی نظام علم سے ارتقا پانے والی ٹکنالوجی اور اس کے فلسفہ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس لیے ٹکنالوجی کے فلسفہ میں مذہب سے کسی اصول یا قدرکے حصول کو مضحکہ خیز بنا دیا گیا، یعنی جیسے ہی مذہب کی بات آتی ہے زیادہ تر مغربی اہل علم و فن کا رد عمل اس طرح ہوتا ہے:

(1) تضحیک (2) غیر یقینیت (3) تردید (4) نامانوس اصطلاحات

تضحیک:  وہ کہتے ہیں کہ کیا ہزاروں سال پرانے رسوم و رواج یا ہزاروں سال پہلے آئی ہوئی کتاب سے آج کے تہذیبی مسائل کے حل کے لیے بنیادیں تلاش کی جاسکتی ہیں؟ جب کہ یہ کتابیں اور ان میں دیے گئے موضوعات فرسودہ ہو چکے ہیں۔

غیر یقینیت:  وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مذہبی کتابوں سے جدید دور کی ٹکنالوجی اور سائنس کے لیے کوئی بھی اخلاقی اصول اور قدر اخذ کی جا سکتی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مذہبی کتابوں سے زیادہ سے زیادہ انفرادی طور پر فرد کے لیے یا کسی خاص شخص کے لیے کچھ اخلاقی اصول یا امنگوں کے علاوہ کوئی اور شے اخذ نہیں کی جاسکتی۔

تردید:  وہ تمام اصولوں، ان کے استنباط اور استخراج کو یکسر رد کرتے ہیں جو مذہبی کتابوں سے یا مذہبی افراد کے اقوال سے اخذ کیے جاتے ہیں۔

نامانوس اصطلاحات:  وہ مذہبی کتابوں اور مذہبی افراد کے اقوال میں موجود اصطلاحات کو اجنبی اور نامانوس پاتے ہیں اور ان کی تاویل کو دور ازکار بتاتے ہیں اور ان کے ذریعے دیے گئے اصولوں کو جدید دور میں اپنے مطلب کے اعتبار سے معنی اخذ کرنے کا شاخسانہ بتاتے ہیں۔

یہ بات لکھنا ضروری نہیں ہے کہ سائنسی اور علمی بنیادوں پر یہ چاروں ردعمل غلط ہیں، اور وہ اور بھی زیادہ غلط ہو جاتے ہیں جب یہ رد عمل بغیر کسی نقد و جرح کے یا معقول دلائل کے دیے جاتے ہیں۔

عام طور پر اسلام کی ٹکنالوجی پر درج ذیل چار اصولی اور ممکنہ اعتراضات وارد کیے جاسکتے ہیں:

اسلام رخی ٹکنالوجی فریمڈ ہے!

یعنی یہ ٹکنالوجی اسلام اور اس کے اصولوں کے فریم میں قید ہو جائے گی اور اس طرح محدود ہوگی۔ اس اعتراض کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں اسلامی دنیا میں ماضی میں ہوئی ٹکنالوجی کی غیر معمولی اور عبقری کوششوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا جان بوجھ کر اس سے اغماض برتا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا کی ٹکنالوجی کی اپنی تاریخ ہے اس پر تحقیقی مقالات ہیں۔ وہ سارے ٹیکنالوجسٹ جنھوں نے یہ ٹکنالوجیکل دریافتیں کیں وہ سب مسلمان تھے، اسی تصور حیات کے ماننے والے تھے، اسی طرح سے فریمڈ تھے، تو اسلام نے انھیں محدود نہیں کیا بلکہ اپنے زمانے کی سب سے انوکھی ٹکنالوجی کے ارتقا کرنے میں ان کی مدد کی۔ اسی تصور حیات نے جب ماضی میں ان مسلمانوں کو بڑی بڑی دریافتیں کرنے سے نئی نئی ٹکنالوجی کا ارتقا کرنے سے نہیں روکا تو آج یہ انھیں ایسا کرنے سے کیسے روک سکتا ہے؟ یعنی اصل مسئلہ اسلام کے اصولوں کا یا اسلام کے نظامِ عقیدہ و علم کا نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کنڈیشنڈ ہے!

یہ دوسرا بڑا اصولی اعتراض ہے۔ ہمارے معترضین یہ مانتے ہیں کہ اسلام اور ٹکنالوجی اسلام کے اصول سے کنڈیشنڈ ہیں اور کنڈیشننگ ندرت و تخلیقیت کو روکتی ہے، اسے کم کردیتی ہے اور ممکنات کی دنیا کو تنگ کر دیتی ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے اس کی مثال مسلم ممالک سے دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسلم ممالک میں سائنس و ٹکنالوجی کی حالت کتنی خراب ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ تمام اسلامی ممالک مل کر بھی اتنی تحقیق نہیں کرتے، اتنے تحقیقی مقالات نہیں لکھتے، اتنی ٹکنالوجی نہیں بناتے، نئے سائنسی انکشافات نہیں کرتے، جتنا صرف ایک چھوٹا سا ملک اسرائیل کرتا ہے۔ اسی طرح وہ پیٹنٹ کی تعداد کو اور نئی ٹکنالوجی کی پیداوار کو دلیل بناتے ہیں اور اسلامی عقائد کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن ایسا کرتے وقت وہ ان تمام یورپی ممالک کو بھول جاتے ہیں جو زیادہ تر ملحد ہیں، یعنی خدا پر یقین نہیں رکھتے، کسی پیغمبر پر یقین نہیں رکھتے، کسی وحی اور کتاب پر یقین نہیں رکھتے، کسی نظام علم و فکر پر یقین نہیں رکھتے پھر بھی وہاں سائنس و ٹکنالوجی کی صورت حال اسلامی ملکوں سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔

یہ بات تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے کہ ریسرچ ٹکنالوجی کی پیداوار اور اس کی نئی نئی دریافتیں بہت سارے عوامل پر انحصار کرتی ہیں، جیسے اس ملک کا تاریخی سفر، عوام میں سائنسی رجحان، عبقریت کی حوصلہ افزائی، ندرت اور عبقریت کی سرکاری پذیرائی، عوام الناس کا عمومی مزاج، وغیرہ وغیرہ۔ یہ صرف مذہبی کنڈیشننگ اور مذہب اور عقیدے اور خدا پر یقین وغیرہ پر انحصار نہیں کرتے۔

اسلام رخی ٹکنالوجی کا مبنی بر اقدار ہونا

یہ ایک اور بڑا اصولی اعتراض ہے جو ہمارے مخالفین ہم پر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ٹکنالوجی کو ’قدر غیر جانب دار‘ ہونا چاہیے تاکہ اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ وہ مانتے ہیں کہ اقدار اضافی ہیں۔ جو آج صحیح ہے کل وہ غلط تھا جو آج غلط ہے کل وہ صحیح ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹکنالوجی میں اگر اخلاقیات کو ڈالا جائے گا تو صحیح اور غلط کے چکر میں نئی ٹکنالوجی کی پیداوار کی رفتار بہت سست ہو جائے گی۔ جب کہ ہمارا ماننا ہے کہ ایسی ٹکنالوجی جو مضبوط اقدار سے خالی ہو اس نے انسانیت کو ایسا نقصان پہنچایا ہے کہ اس کی تلافی اب بہت مشکل ہے۔

ٹکنالوجی کے اخلاقیات پر مبنی نہ ہونے کی وجہ سے اس ٹکنالوجی نے انسانیت کو کامل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس لیے سست مبنی براقدار ٹکنالوجی بہرحال اخلاقیات اور اقدار سے عاری اندھادھند تیز رفتار ٹکنالوجی سے بہتر ہے۔

آخری بات

ٹکنالوجی اور بطور خاص جدید ٹکنالوجی اپنے آپ میں ایک کامل اکائی ہے اس لیے اسے اب صرف سائنس کے بائی پروڈکٹ کے طور پر یا سائنس کے ضمیمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ٹکنالوجی اور اس کے فلسفہ کے لیے نئی بنیادوں کا ارتقا کرنا ضروری ہے۔ اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اب بھی بعض اہل علم ٹکنالوجی کی تقسیم کے قائل نہیں ہیں لیکن ان کے اشکالات اور ان کے دلائل کا کافی و شافی جواب دیا جا چکا ہے۔ جدید ٹکنالوجی کے فلسفہ کے مقابلے میں اسلامی اقدار پر مبنی اسلام رخی ٹکنالوجی کے فلسفہ کی داغ بیل ڈالنا ضروری ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورتوں میں سے ہے۔ اسلام رخی ٹکنالوجی جدید ٹکنالوجی کے مشکل سوالات کا آسان جواب دے سکتی ہے۔ یہ مشکل سوالات پہلے آچکے ہیں ان سب میں سے سب سے اہم سوالات ٹکنالوجی کے فلسفہ، اس کی بنیادوں اور اس کی اخلاقیات کے حوالے سے ہیں۔ ٹکنالوجی کی اخلاقیات کا مصدر کیا ہو؟کیا مذہب سے ٹکنالوجی کی اخلاقیات اخذ کی جا سکتی ہیں؟کیا یہ مصدر صرف انسانی عقل یا صرف وحی یا عقل وحی دونوں ہیں؟ ٹکنالوجی کی حدود کیا ہوں اور اسے کون طے کرے گا؟ ٹکنالوجی کی قدریں کیا ہوں؟ اور ٹکنالوجی کی ترجیحات کیا ہوں؟ اور ان ترجیحات کی جہات میں اضافیت کے حوالے سے حرف آخر کس کا ہو؟ ان تمام سوالات کے تشفی بخش اور قائل کرنے والے جوابات اسلامی نظام عقیدہ وعلم میں موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں جدید زبان اور جدید پیرائے میں ان کی پوری خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا جائے۔

جون 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau