سائنس، مذہب اور سماج

سائنٹزم، سائنس اور انسانی تصورحیات

ڈاکٹر محمد رضوان

پچھلے مضمون میں سائنس اور ابدی سوالات کے تناظر میں یہ بات آئی تھی کہ کس طرح سائنس نے ان سوالات کے جواب میں بحیثیت ذریعہ علم کے اپنی جگہ بنائی جن کے جواب اصلاً مذہبی کتب یا تہذیبی و موروثی علم یا انفرادی مشاہدہ یا تصور و خیال سے دیے جاتے تھے۔

لیکن ایسا کیسے اور کیوں ہو؟ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔

۱۔ عرب سائنس کا مکمل زوال: سائنس کی تاریخ کے طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عرب سائنس (یا اگر جسارت کی جاسکے تو ‘اسلامی سائنس’) 1500 عیسوی کے آتے آتے مکمل طور پر زوال پذیر ہوچکی تھی۔ معروف معنوں میں مسلمان فلسفی/ حکما / سائنس داں تحقیقی افق سے معدوم ہوچکے تھے۔ بعض مؤرخین اور چند تھنک ٹینک ‘اسلامی دنیا’ میں حکما، فلاسفہ، محققین پر ویسی ہی ظلم و زیادتی کا بیان کرتے ہیں جیسا عیسائی دنیا میں ہوا۔ ہمارے نزدیک یہ چند استثنائی واقعات تھے جنھیں کلیہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ ‘اسلامی دنیا’ میں فلسفی، حکما، سائنس داں حضرات پر ظلم و استبداد، جانب دارانہ تاریخ نگاری کا سیاہ باب ہیں بلکہ اس کے بالمقابل تاریخی حقیقت یہ ہے کہ از زمانے میں علوم و فنون کی غیر معمولی سرکاری سرپرستی کی گئی۔

کچھ واقعات جن کے حوالے دیے جاتے ہیں، وہ یا تو دور زوال سے متعلق ہین یا بادشاہوں کے سیاسی و گروہی مفادات سے متعلق، نہ کہ صحیح اسلامی بیانیے میں سائنس کے ناموزوں ہونے کا نتیجہ۔ (واضح رہے کہ یہ نکتہ عصری بحث و تحقیق کا ایک وسیع میدان ہے۔)

۲۔ چرچ کا استبدادی رویہ اور یوروپ میں نشأۃ ثانیہ: بائبل کے لفظی ترجمہ کے قائلین کی تعداد نہ ماضی میں کم تھی نہ حال میں ہے۔ بائبل میں ابدی سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔ ان میں جزئیات کی تفصیل اتنی ہے کہ وہ واضح سائنسی مشاہدات سے براہِ راست ٹکراتی ہے۔ چناں چہ عقل سے براہِ راست تصادم نے اس وقت کے بہت سارے فلاسفہ و سائنس دانوں کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ سائنس کو ایسا ذریعہ مان لیں جو ان ابدی سوالات کے جوابات دے سکتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر سائنس اور سائنسی طریقہ کار علم کا واحد صحیح ذریعہ قرار دے دیا گیا۔

مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر سائنٹزم وجود میں آیا۔

سائنٹزم کیا ہے: سائنس کی تاریخ میں سائنٹزم نسبتاً نیا لفظ ہے۔ اس کی تعریف مختلف انداز میں کی جاتی ہے، اور اس کی تعبیر میں غیر معمولی تنوع پایا جاتا ہے۔ اس لفظ کی دو مختلف تعبیریں ہیں۔ سائنس داں حضرات اسے مثبت طریقے پر استعمال کرتے ہیں، جدید ملاحدہ مثبت ترین طریقے سے اور بائبل کے تخلیقی بیانیے کے قائلین منفی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہم اسے ایک معتدل اصطلاح کے طور پر متعارف کروانا چاہیں گے۔ یعنی یہ دیکھا جائے کہ کس طرح سائنٹزم نے ابدی سوالات کے جوابات متعین کیے اور کس سماجی تصورحیات پر اثرانداز ہوا۔

سائنٹزم دراصل طبعی سائنس (natural science) کو، اور صرف طبعی سائنس کو، علم کا واحد ذریعہ ماننے کے نام ہے۔ آسان لفظوں میں سائنس میں حد درجہ غلو کو سائنٹزم کہا جاسکتا ہے۔

دیگر تعریفوں کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا تاکہ قارئین یہ جان سکیں کہ اس کے مخالفین، قائلین اور دیگر گروہ اور ادارے سائنٹزم کو کیسے دیکھتے ہیں۔ مثلاً سائنس کے ایک جدید مؤرخ رچرڈ جی اولسن کے مطابق:

Efforts to extend scientific ideas methods and practices and attitudes to matters of human social and political concern. [1]

ترجمہ: وہ تمام کوششیں جو انسان کے سماجی اور سیاسی معاملات میں سائنسی نظریات، طریقے اور سائنسی رویے کی توسیع کے طور پر کی جاتی ہیں، سائنٹزم کہلاتی ہیں۔

ٹام سارل نامی فلاسفر سائنٹزم کی ایک نسبتاً مزید واضح تعریف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق (ترجمہ): ‘‘سائنٹزم طبعی سائنس کو مختلف دوسرے ذرائع علم پر غیر ضروری اور بہت زیادہ مقدم رکھنے کا نام ہے۔’’

ایم آئی ٹی کے ایک فزکس کے ماہر سائنٹزم کی ایسی تعریف کرتے ہیں جو سائنس کو ہر ذریعہ علم پر فوقیت دیتی ہے۔ بلکہ وہ اسے واحد ذریعہ علم مانتے ہیں۔ چناں چہ اس تعریف کی رو سے حقیقی علم صرف اور صرف طبعی سائنس اور اس کے طریقہ کار کو استعمال کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔چناں چہ دیگر ذرائع علم جیسے وحی اور پیغمبرانہ علم (مسلمانوں کے تناظر میں) مذہبی کتب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اقوال (عیسائیت اور یہودیت کے تناظر میں) انکشاف، الہام، ریاضیاتی کسبی علم اور جوگیانہ تہذیبی علم (ہندو مت، بدھ ازم اور شنتاؤ ازم کے تناظر میں) سب کے سب کالعدم قرار پاتے ہیں!

وہ تعریف یوں ہے:

Science modelled on the natural science is the only source of real knowledge. [2]

طبعی سائنس کی طرز پر تشکیل شدہ سائنس حقیقی علم کا واحد ذریعہ ہے!

سائنٹزم کی مندرجہ بالا تعریفیں واضح طور پر دکھاتی ہیں کہ کس طرح اپنی اصل کے اعتبار سے سائنٹزم میں اس بات کی زبردست قوت پوشیدہ ہے کہ وہ انسانی تصورحیات کو غیرمعمولی طور سے متاثر کرسکتا ہے اور کس طرح اس نے جدید دنیا اور اس میں موجود مختلف سماجی اکائیوں کے تصورحیات کی ترتیب و تدوین کی ہے۔

سائنٹزم کی مختصر تاریخ کا مطالعہ بھی اس حوالے سے بہت مفید ہوگا کہ کس طرح وہ تصورحیات کو متاثر کرتا ہے۔ ہمارے نزدیک سائنٹزم کی ہلکی جھلک (مثبت سائنٹزم) تاریخ میں سب سے پہلے یونانی فلسفی طالیس (Thales) کے یہاں ملتی ہے۔ یونانی تہذیب میں مختلف طبعی مظاہر جیسے زلزلوں کا آنا اور بجلیوں کے کڑکنے کو مختلف دیوتاؤں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ مثلاً سمندر کے دیوتا کی ناراضی کے سبب زلزلے یا سونامی جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ [۳] بجلی کے دیوتا کے مذاق پر ہنسنے کی وجہ سے بجلی کڑکتی ہے، وغیرہ۔ طالیس نے سب سے پہلے ان طبعی مظاہر کی وضاحت کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ یہ ندیوں اور سمندر میں پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کی وجہ سے زلزلے اور سونامی جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ (۳) تیز رفتار ہوا جب بادلوں کو کاٹتی ہے تو بجلی کڑکتی ہے، وغیرہ۔ (حالاں کہ بعد میں یہ مشاہداتی توجیہ غلط ثابت ہوئی۔) لیکن طالیس نے ان سوالات کا جواب طبعی سائنس کے مشاہدہ کے طریقہ پر دینے کی کوشش کی جن کا جواب اس وقت کے لوگ کتھاؤں سے یا اپنے موروثی علم سے حاصل کیا کرتے تھے۔

یوروپ کی نشأۃ ثانیہ اور فرانسیسی انقلاب کے آس پاس کی تاریخ سائنٹزم کے اس روپ کو ہمارے سامنے لاتی ہے، جس نے جدید انسانوں بالخصوص مغربی انسانوں کے تصورحیات کی تعمیر و ارتقا میں غیر معمولی رول ادا کیا ہے۔ مثلاً فرانسس بیکن (انگلینڈ) ریناں دیکارت (فرانس) گیلیلیو گیلیلائی (اٹلی) ان تین مفکرین اور ان کی تحقیقی و تدوینی فکر نے اس تصورحیات کی تخلیق کی جو اس وقت نسبتاً غالب ارباب علم و اقتدار میں دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً بیکن کا مشہور زمانہ قول ہے Truth is the daughter of time not of authority یعنی سچائی وقت کی پیداوار ہے، کسی (فوق الفطرت) قوت یا اتھارٹی کی نہیں۔ قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ فرانسس بیکن کہنا چاہتے ہیں کہ مسیحائی کے حصول کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ (یہاں وقت سے مراد مشاہدہ، تجربہ، نتیجہ، استنباط کا وقت ہے۔) چناں چہ کسی بھی ابدی سوال کا جواب بالآخر وقت کے ساتھ حاصل ہوجائے گا، اگر طبعی سائنس کے طریقے پر کام کیا جاتا رہے۔

بیکن تجربیت (empiricism) کے بنیادگزار بھی کہے جاتے ہیں (حالاں کہ بعض مؤرخین کو اس سے اختلاف ہے۔) آسان لفظوں میں تجربیت کا مطلب ہے کسی بھی طبعی مظہر یا کسی بھی ‘یقین’ یا مفروضے کو تجربے اور ڈاٹا کی کسوٹی پر پرکھنا۔ اگر وہ اس پر پورا اترتا ہے تو درست کہا جائے گا، ورنہ محض‘تصور’ یا خیال مانا جائے گا۔ تجربیت جدید سائنس میں بدلی ہوئی شکل کے ساتھ موجود ہے۔ بس اس میں کچھ حذف و اضافہ کرلیا گیا ہے۔ اسی طرح دیکارت نے کہا تھا کہ ساری کائنات محض ایک مشین ہے اور طبعی قوانین پر رواں دواں ہے۔ (تفصیل کے لیے ان تینوں حضرات کی کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔)

سائنٹزم اور تصورحیات پر اس کے اثرات دیکھنے کے لیے اسے دو قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے اور یہ دونوں قسمیں اس کی مختصر تاریخ میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ ایک قسم تحدیدی سائنٹزم (restrictive scientism) کی ہے اور دوسری غیر تحدیدی سائںٹزم کی۔ پہلی قسم سائنس کی فوقیت یا اسے ہی علم کا واحد ذریعہ سمجھنے کی ہے، تاہم کسی خاص میدان یا موضوع پر۔ اس کی مثال اور غالباً سب سے واضح مثال کارل سیگاں کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔(کارل سیگاں کائناتی سائنس کے ماہرین میں سے ہیں۔) وہ انسان کو اور اس کی کیمیائی ترتیب کو کیسے دیکھتے ہیں ملاحظہ ہو:

I am a collection of water, calcium and organic molecules called Carl Sagan. You are a collection of almost identical molecules with different collective label. But is that all? Is there nothing in here but molecules?

ترجمہ: میں کیمیائی مادوں جیسے پانی، کیلشیم، اور دیگر نامیاتی سالمات کا مجموعہ ہوں جس کا نام کارل سیگاں ہے۔ آپ بھی کسی دوسرے لیبل کے ساتھ تقریباً انھی جیسے سالمات سے بنے ہیں۔ لیکن کیا بس اتنا ہی ہے؟ کیا سالمات کے علاوہ اور کچھ نہیں؟

یعنی انسانوں کےتخلیقی یا تشکیلی مادوں کے مطابق سائنس ہی حرف آخر ہے۔ یہ تحدیدی سائنٹزم ہے۔

دوسری مثال مشہور زمانہ ملحد سیم ہیرس کے یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔ جن کے مطابق ارادہ و اختیار کی آزادی (free will) جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آزادی اختیار ایک سراب ہے۔ ہم خود اپنے ارادے کے خالق نہیں ہیں بلکہ پس پردہ اسباب ہمارے خیالات اور نیتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان اسباب پر ہمارا کوئی شعوری کنٹرول نہیں ہوتا، نہ ہی ہم ان کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہمارے پاس ارادہ و اختیار کی وہ آزادی نہیں جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہے۔ [۴] چناں چہ قدر و اختیار کے میدان میں یہ بھی ایک تحدیدی سائنٹزم کی مثال ہے۔

غیر تحدیدی سائنٹزم اسے کہتے ہیں جب سائنس کو بحیثیت مجموعی علم کا ایسا ذریعہ مان لیا جائے جس کے ذریعے ہر قسم کی سچائی اور بالآخر علم یا بالکلیہ حقیقت کی دریافت کی جاسکتی ہے۔ درج ذیل مثال ملاحظہ ہو:

ترجمہ: جدید سائنس کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات میکانکی اصولوں کی بنیاد پر منظم ہے۔ کائنات میں کسی بھی قسم کے مقصدی اصول نہیں ہیں۔ کوئی خدا یا اس کی کوئی صناعی موجود نہیں ہے جسے حقیقی بنیادوں پر دریافت کیا جاسکتا ہو۔ جدید سائنس براہ راست بتاتی ہے کہ کوئی الہامی (inherent) اخلاقی یا قانونی ضوابط نہیں ہیں۔ انسانی سماج کے لیے کوئی خدائی رہ نمائی نہیں ہے۔ انسان ایک پیچیدہ ترین مشین ہے۔ جب یہ مرتے ہیں تو بس ہم مر جاتے ہیں۔ اور یہی آخری خاتمہ ہے۔ [۵] William Provine

اس قسم کی دوسری مثال الیکس روزن برگ کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب Atheist Guide to Reality میں لکھا ہے کہ ہم سائنس کو حقیقت کے جاننے کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ (۶)

چناں چہ اوپر دیے گئے تاریخی مقدمے کا تجزیہ ہمیں درج ذیل نتائج پر پہنچاتا ہے۔

۱۔ سائنس اور سائنٹزم دو علیحدہ چیزیں ہیں، لیکن جدید دور میں ان میں ایسا اختلاط ہوا ہے کہ عوام کی شعور کی سطح سے ان کو علیحدہ کرنا ایک بڑا عالمی اور عملی چیلنج ہے۔

۲۔ سائنٹزم در اصل انسانی تصورحیات کو متاثر کرتا ہے، وہ ابدی سوالات جن کے جوابات کی تلاش ہر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر کرتا ہے۔ ان سوالات کے جوابات کے ذرائع کو سائنٹزم بہت محدود کردیتا ہے۔

۳۔ سائنٹزم کی اصطلاح مختلف پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اگر اسے معتدل انداز میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن جدید ملاحدہ اور سائنسی محققین کے بڑے حلقے اب غیرتحدیدی سائںٹزم کے قائل ہوچکے ہیں۔ مثلاً اسٹیفن ہاکنگ کا یہ کہنا کہ کائنات آپ اپنے بل پر وجود میں آسکتی ہے۔ یا حیاتیاتی ماہرین میں بیشتر کا یہ ماننا کہ انسان کلاں ارتقا (macroevolution) کے ذریعے وجود میں آسکتا ہے۔ یا اسٹیفن وین برگ کا یہ کہنا کہ جس قدر کائنات سمجھ میں آتی جاتی ہے اتنا ہی وہ بے مقصد ہوتی جاتی ہے۔ (۷) بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ای او ولسن کا یہ اعلان کہ ہم بحیثیت نوع اپنے آپ پر فخر کرسکتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں (اپنی نوع کے تناظر میں۔) اس نکتے کی دریافت کے بعد ہمیں خدا کی بہت کم ضرورت رہ جاتی ہے۔ (۸)

لیکن کیا تمام محققین ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں؟ جوا ب ہے‘‘نہیں۔’’ ایسے بہت سارے محققین و مفکرین ہیں جو سائنس کو علم کا واحد ذریعہ نہیں سمجھتے، بلکہ (جیسا کہ اس سے قبل تذکرہ آچکا ہے) وہ اسے معلومات حاصل کرنے کا سب سے مستند ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دراصل بغور مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ایسے محققین و منکرین اقلیت میں ہیں لیکن اس اقلیت کو بھی معلومات یا سچائی کے حصول کے طریقہ کار اور ذرائع کی بنیاد پر ایک خط پر رکھا جاسکتا ہے۔ اس خط کے ایک سرے پر وہ محققین ہیں جو سائنس کی مکمل اضافیت کے قائل ہیں اور اسے محض ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتے ہیں دوسرے سرے پر وہ ہیں جو سائنس کو دوسرے الہامی ذرائع معلومات سے بہتر جانتے ہیں لیکن ان الہامی معلومات کو سرے سے خارج نہیں کرتے۔ ان کے درمیان میں وہ ہیں جو سائنس کی نسبتاً اضافیت کے قائل ہیں اور وحی و الہامی معلومات کو صحیح علم کی کسوٹی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

چناں چہ ضیاء الدین سردار نے عرب سائنس کے بیشتر حکما و فلاسفہ کو اسی درجہ میں رکھا ہے۔ ان کے مطابق وہ لوگ بیک وقت مسلمان بھی تھے اور سائنس داں اور فلسفی بھی تھے۔

حالاں کہ مسلمان حکمراں اور سائنس کے درمیان اور مسلمان حکمراں اور سائنس دانوں اور فلاسفہ کے درمیان کش مکش اور محققین پر ظلم و جبر اور مذہبی رہ نماؤں کے ذریعے ان پر تکفیر و جور بھی تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک وہ اصولی یا بنیادی نہیں کہے جاسکتے۔ ان میں بعض واقعات تاریخی منظر نگاری، بعض غلو اور بعض حکمرانوں کے سیاسی فائدے کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ (ایک معتدل اور معروضی تجزیہ اس میدان میں تحقیق کی ایک بڑی ضرورت کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔)

چناں چہ یہ جائزہ ضروری ہوجاتا ہے کہ سماجی تصورحیات کو سائنٹزم اور سائنس دونوں نے کیسے متاثر کیا۔ سائنٹزم پر تفصیل آچکی ہے، سائنس کے اعتبار سے اگر دیکھیں اور سائنس کو اس کی اصل تعریف پر فٹ کرکے جائزہ لیں تو یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ بہر حال سائنٹزم اور سائنس دو بالکل مختلف سطحوں پر سماجی تصورحیات کو متاثر کرتے ہیں۔ ذیل کے جدول میں اس کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 

نمبر شماربائبل کا تصور حیاتجدید مغربی سائنس کا تصور حیاتسائنٹزم تصورحیات
۱۔زمین مرکز کائنات ہے۔زمین مرکزِ کائنات نہیں ہے۔زمین نہ صرف مرکز کائنات نہیں ہے بلکہ اس میں شامل تمام موجودات کی کوئی امتیازی حیثیت نہیں ہے۔
۲۔انسان زمین پر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔انسان دیگر جان داروں کی طرح مختلف نامیاتی مادوں کا مجموعہ ہے لیکن وہ کچھ خاص خصائص ضرور رکھتا ہے۔انسان نہ صرف دیگر جان داروں کی طرح ایک جان دار ہے بلکہ اس کی کوئی خاص خاصیت نہیں ہے۔
۳۔انسان اور زمین چند ہزار سال پرانی ہے۔زمین لاکھوں کروڑوں سال پرانی ہے۔ انسان کی موجودگی محض اندازاً معلوم کی جاسکتی ہے۔زمین لاکھوں سال پرانی ہے۔ انسان کی موجودگی تقریباً صحیح طور پر معلوم کرلی گئی ہے۔
۴۔انسان کو خدا نے تخلیق کیا۔ (بعض کے نزدیک اپنے سر سے پیدا کیا، بعض کے نزدیک خصوصی طریقہ سے۔)انسان بتدریج وجود میں آیا۔ لیکن اس تدریج کو تحریک کس نے دی، اس پر اتفاق نہیں ہے۔انسان کی تخلیق کے لیے کسی تحریک یا خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ طبعی قوانین کے تحت یہ وجود میں آیا ہے اور طبعی قوانین کے تحت مر بھی جائے گا۔
۵۔انسان کو خصوصی ادراک و شعور کی صلاحیت دی گئی۔گو کہ انسان کو خصوصی ادراک و شعور کی صلاحیت ہے لیکن بالاصل یہ پہلے سے جانوروں میں موجود ادراک و شعور کی صلاحیتوں کی ارتقا پذیر شکل ہے۔انسان کو ادراک و شعور کی کوئی خصوصی صلاحیت ودیعت نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ تو بعض جانوروں سے بھی کم صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اضافی صلاحیت ہے۔
کائنات ایک فوق الفطرت ہستی نے بنائی ہے۔یہ مابعد طبیعی پہلو ہے اس پر موجودہ سائنسی طریقہ کار سے حتمی نتیجہ پر پہنچنا مشکل ہے۔کائنات کی تخلیق طبعی قوانین پر عین ممکن ہے لیکن ان قوانین کی دریافت ہنوز باقی ہے۔
انسان کی رہ نمائی کے لیے اسے الہامی رہ نمائی کی ضرورت ہے۔ یہ الہامی رہ نمائی مذہبی کتب، انکشاف و الہام کے طریقے سے حاصل ہوتی ہے۔انسانی عقل اپنی کوششوں سے اپنے لیے راستہ بناسکتی ہے۔ اسے الہامی کتب کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ کتب فرسودہ ہو چکی ہیں اور ایک خاص زمانہ میں خاص حالات تک ان کی افادیت تھی۔انسانی عقل بالاصل کافی و شافی ہے۔ الہامی کتب نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ یہ انسانی نوع کے لیے خطرہ ہیں۔ کیوں کہ ان کتب میں اپنی برتری کے لیے انسانوں کو ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کرنے کی صلاحیت ہے۔
انسان کو خدا نے اچھائی اور برائی کی تمیز دی ہے۔اچھائی اور برائی دراصل اضافی قدریں ہیں۔ بالاصل تنازع للبقا اور ارتقائی قوتیں اچھائی اور برائی کا فیصلہ کرتی ہیں۔اچھائی اور برائی کوئی قدریں ہی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ قدریں در اصل انسانوں میں نزاع اور جھگڑوں کا باعث ہیں۔
۹۔فطرت اور مظاہر فطرت دونوں اس کائنات میں کسی مقتدر ہستی کا پتہ دیتے ہیں۔یہ کائنات اور فطرت اور مظاہر فطرت ایک پیچیدہ مشین کی طرح ہیں۔ جو مخصوص طبعی قوانین کے تحت بندھے ہوئے ہیں۔یہ کائنات اور فطرت اور مظاہر فطرت اور ان کی پیچیدگی ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ ایک طویل عرصے نے اس حسن کو طبعی قوانین کے تحت وجود بخشا ہے۔
10۔مقتدرِ اعلیٰ ہستی کائنات کو فنا کردے گی۔ اور جزا و سزا کا معاملہ پیش آئے گا۔کائنات فنا ہوجائے گی۔ لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی یا جزا و سزا کا معاملہ ہوگا۔ یہ محض ایک خیال یا تصور ہے جسے ثابت کرنا ممکن نہیں۔کائنات فنا ہوجائے گی لیکن یہ پھر سے اپنے آپ وجود میں آئے گی۔ جزا و سزا انسانی سوسائٹی میں اپنے اقتدار کو بچانے کےلیے ایجاد کیے گئے ہیں یہ اقتدار سیاسی، مذہبی، جذباتی یا دماغی کسی بھی طرح کا ہوسکتا ہے۔
11۔خدا نے انسان کو اختیار و ارادہ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ اپنا ایک ارادہ و اختیار (free will) رکھتا ہے۔انسان کا ارادہ و اختیار اضافی ہے اور ارتقائی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اس کا تعلق اچھائی اور برائی کے تصور سے نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کی بقا اور ارتقا سے ہے۔انسان کا بااختیار ہونا محض ایک سراب ہے۔ ارادہ و اختیار دراصل کوئی شے نہیں ہے۔

 

مندرجہ بالا جدول سائنٹزم، سائنس اور سماجی تصورحیات کے مابین رشتے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بائبل کا تصورحیات، جدید مغربی سائنس کا تصورحیات اور سائنٹزم کی بنیاد پر ارتقا پذیر تصور حیات میں واضح فرق ہے۔ یہ فرق انسانی تصورحیات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

۱۔ کائنات اور اس کی تخلیق سے متعلق تصورحیات۔

۲۔ انسان، اس کی تخلیق اور کائنات سے اس کے رشتہ سے متعلق تصورحیات۔

۳۔ انسان اور انسان سے اس کے رشتے کا تصورحیات۔

۴۔ انسان و کائنات سے اور اس کے بالآخر انجام کے متعلق تصورحیات۔

۵۔ انسان، علم، سچائی اور حتمی حقیقت سے متعلق تصورحیات۔

۶۔ سائنس بحیثیت ذریعہ علم اور دیگر ذرائع علم کے مطابق تصورحیات۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بےمحل نہ ہوگا کہ سائنس، مذہب اور سماج کے اس مثلث میں سائنس سے آگے بڑھ کر جب سائنٹزم نے انسانی تصورحیات کی تعمیر و تدوین میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا تو حتمی حقیقت اور ذریعہ علم دونوں محسوسات کے دائرے میں قید ہوگئے، اور اس طرح شعور انسانی وحی اور الہامی معلومات کے بےکراں فوائد سے محروم رہ گیا۔

حوالے

  1. Olson, Richard G. Science and Scientism in Nineteenth-Century Europe. Urbana, University of Illinois Press, 2008.
  2. Hutchinson, Ian. Monopolizing Knowledge: A Scientist Refutes Religion-Denying, Reason-Destroying Scientism. Belmont, MA: Fias Publishing, 2011
  3. https://iep.utm.edu/thales/
  4. Sam Harris .(2012) ; Free will .p 5 New York. Free press Brain A Journal Of Neurology, doi:10.1093/brain/awq317 Brain 2010: 133; 3806–3809
  5. https://www.coursera.org/lecture/philosophy-science-religion-2/lecture-5-2-varieties-of-scientism-Yi4Bn
  6. The Atheist′s Guide to Reality – Enjoying Life without Illusions (2013); WW. Norton and company New York, London, Chapter 1 and 2, pg 18, 28
  7. What is scientism. Thomas Burnette ;https://www.aaas.org/programs/dialogue-science-ethics-and-religion/what-scientism.  (retrieved 13/01/2021(
  8. Ibid

فروری 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau