حالات حاضرہ میں جماعت اسلامی ہند کی معنویت

سید سعادت اللہ حسینی

 حلقہ مہاراشٹر کے اجتماع ارکان،منعقدہ مرتضی پور (ستمبر۲۰۲۲)میں یہ خطاب پیش کیا گیا۔ افادہ عام کی خاطر اسے شائع کیا جارہا ہے۔ (مدیر)

 بدقسمتی سے امت کے اندر حالات حاضرہ کا لفظ مایوسی اور پژمردگی کا استعارہ بن چکا ہے۔ اس عنوان پر جب بھی لکھا اور بولا جاتا ہے، تو کچھ خاص قسم کی پریشانیاں، فکر مندیاں، شکوے، نوحے اور اندیشے موضوع پر حاوی ہونے لگتے ہیں۔ کچھ فسادیوں کا شور و غوغا، کچھ نیتاؤں کی سیاسی چالبازیاں، فتنہ و فساد کی کچھ کوششیں، اسی کو حالات حاضرہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ اصل حالات حاضرہ نہیں ہیں۔یہ محض سطحِ سمندر کا شور ہے۔ حالات کی زیریں لہریں (undercurrents)کچھ اور ہیں۔عالمی حالات کی بھی اور ہمارے ملک کے حالات کی بھی۔  

عالمی سطح پر اصل حالات یہ ہیں کہ دنیا بہت بڑی تبدیلیوں کے دہانے پر ہے۔ صنعتی انقلاب سے زیادہ بڑ انقلاب دستک دے رہا ہے۔ نئی ٹکنالوجیاں ایک نئی دنیا بنارہی ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں ہر طرف کہا جارہا ہے کہ ماڈرنیٹی اور جدید مغرب کے نظام فرسودہ ہوتے جارہے ہیں۔ اور یہ کہ دنیا کو نئے نظام اور نئی اقدار کی ضرورت ہے۔

 یہ نیا نظام اور نیاعالمی نظریہ کیا ہوگا؟ اس کے سلسلے میں کم از کم یہ بات اب بڑے پیمانہ پر تسلیم کی جانے لگی ہے کہ اس کی تشکیل میں مذہب اور مذہبی قدروں کی اہمیت بہت زیادہ ہوجائے گی۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے چند سال قبل کہا تھاکہ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب اور مذہبی عقیدہ کی وہی مرکزی اہمیت ہوگی جو بیسویں صدی میں سیاسی نظریات کی تھی۔

 ایک طرف مذہب کی یہ بڑھتی ہوئی اہمیت ہے اور دوسری طرف مختلف عالمی مذاہب کا تیز رفتار زوال ہے۔ مختلف عالمی مذاہب نے گذشتہ صدیوں میں جدیدیت اور جدید مغربی تہذیب کے آگے سپر انداز ہوکر اپنی روح کھودی ہے۔ اب میدان میں یا تو اسلام ہے یا مختلف نیم مذہبی روحانی فلسفے اور تحریکیں۔ اسلام جدیدیت کے طوفان کے سامنے بھی اپنے واضح عقیدے اور نہایت پائیدا ر بنیادوں کی وجہ سے ٹکا رہا۔ گذشتہ صدیوں میں اسلام اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے بنیاد پرستی کی تہمت کا سزاوار بھی ہوا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ آج اسلام کی یہی خصوصیت اس کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہورہی ہے۔ اور جیسے جیسے اکیسویں صدی کے پر پیچ احوال انسانی زندگی کو نت نئے چیلنجوں سے دوچار کریں گے، اسلام کا یہ ثبات دنیا کی بڑی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان فراہم کرے گا۔ ان شاء اللہ العزیز۔ یہ صورتِ حال اہل اسلام کے لیے ایک بڑے موقع کی بھی حیثیت رکھتی ہے اور ایک بڑے چیلنج کی بھی۔اسلام کی یہی وہ طاقت اور اسلام کو حاصل یہی وہ موقع ہے جس نے ساری دنیا میں اسلاموفوبیا کی لہر پیدا کی ہے۔یہ اسلاموفوبیا بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے خوف زدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت ہو۔یہ لہر مواقع کی علامت اور اسلام کی معنویت کی مظہر ہے۔

 ہمارے ملک کے حالات بھی کم و بیش ایسے ہی ہیں۔ہندتو فرقہ پرستوں کا پیدا کردہ شور و غوغا یہ ایک عارضی کیفیت ہے۔ یقین مانیے کہ یہ بہت ہی شیلّو، سطحی، نامکمل اور مبہم نظریہ ہے۔ ایک خوف ناک آندھی کے مانند، یہ پوری قوت سے ضرور ملک پر چھائیں گے۔ لیکن یہ چھانا بہت عارضی ہوگا۔ بہت جلد یہ گرد و غبار بیٹھ جائے گا۔ مطلع صاف ہوگا تو راستے روشن ہوں گے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ اس آندھی اور اس کی لائی ہوئی تباہیاں آخر کار اس ملک میں بڑی اصلاحات کی راہیں ہم وار کریں گی۔

 یہ ہے حالات کا اصل اور گہرا پہلو جس پر عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔ ان حالات میں سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلام کے ماننے والے، وقتی سیاسی کشمکش سے اوپر اٹھ کر، اپنے مفادات اور اپنے تحفظ کی لڑائی سے اوپر اٹھ کر، روزمرہ کے ایشوزاور قومی و فرقہ وارانہ کشمکش (ego clashes)سے اوپر اٹھ کر، اسلام کی دعوت اور اس کے پیغام کے علم بردار بن کر ابھریں۔ ایک نطریاتی گروہ بن کر ابھریں۔ ہر طبقے اور ہرگروہ سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے سچے خیر خواہ بن کر ابھریں۔

 جماعت اسلامی ہند کی اصل معنویت یہی ہے کہ وہ امت کو ان مواقع کے استعمال کے لائق بنارہی ہے۔ وہ اس امت کی اصل حیثیت بحال کرنے والی تحریک ہے۔ آج امت مسلمہ کوئی معمولی انسانی گروہ نہیں ہے۔ یہ دو بلین انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ دنیا میں ہر چوتھا انسان مسلمان ہے۔ ہمارے ملک میں بھی مسلمانوں کی آبادی، مغربی یورپ کی پوری آبادی سے بڑھ کر ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔

 اس امت کا اصل مسئلہ بقا و تحفظ کا مسئلہ ہرگز نہیں ہے۔ اس امت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کروڑوں مسلمان زندہ و موجود ہیں لیکن ان میں مسلمانیت باقی نہیں ہے۔مسلمانیت سے میری مراد صرف نماز روزہ اور داڑھی ٹوپی نہیں ہے بلکہ وہ مقام، وہ حیثیت، وہ مشن، وہ مقصد و نصب العین مراد ہے جس کی خاطر یہ امت برپا کی گئی ہے۔ وَجَاهِدُوا فِی اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیكُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِیكُمْ إِبْرَاهِیمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ قَبْلُ وَفِی هَذَا لِیكُونَ الرَّسُولُ شَهِیدًا عَلَیكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ [الحج: 78] اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے اس امت کو چنا ہے وہ کام باقی نہ رہے تو کروڑوں انسانوں کا انبوہ بے معنی ہے۔ اس امت کا مسئلہ یہ ہے کہ کروڑوں مسلمان ضرور موجود ہیں لیکن اسلام کا اصل کردار گم ہوگیا ہے۔ دنیا کے نقشے میں یہ امت بھی ویسی ہی قومی ریاستوں میں بدل گئی ہے جیسے فرانس،امریکہ اور چین و جاپان ہیں۔ اور ہمارے ملک میں یہ امت ویسے ہی ایک فرقہ، ایک ذات، ایک قوم بن گئی ہے جیسے مراٹھے اور دلت یا سکھ اور راجپوت ہیں۔اس کی لڑائی بھی ویسی ہی فرقہ وارانہ اور قومی لڑائی بن گئی ہے۔ دل چسپیوں کا مرکز اور اجتماعی جدوجہد کا ہدف اپنی قوم کی حفاظت، اس کے حقوق کی حفاظت اوراس کے مفاد کا تحفظ بن گیا ہے۔ آج کوئی بھی مسلمانوں کو ایک ایسے گروپ کے طور پر نہیں دیکھتا جو کچھ انوکھے اصولوں کو لے کر سارے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوں۔ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر امت کا اپنی اصل آئیڈنٹیٹی کو کھودینا یہ اصل المیہ ہے۔

 مسلمان کسی نسل،کسی خاص رنگ، شکل و شباہت یا ذات کا نام نہیں ہے۔ وہ خیرامت ہیں، یعنی ان کی ذمے داری خود تک محدود نہیں ہوسکتی۔ وہ أخرجت للناس ہیں، سارے انسانوں کے لیے ذمے دار ہیں۔ شهداء على الناس ہیں۔ سب انسانوں پر انھیں حق کی گواہی دینی ہے۔ وہ أمت وسط ہیں، لوگوں کو ہر طرح کی بے اعتدالی سے بچانے کا کام ان کے سپرد ہے۔ ان كی بنائے اجتماع ملة أبیكم إبراهیم ہے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایک آفاقی اور ہمہ گیر توحیدی وژن کے حامل ہیں۔ وہ قوامین بالقسط ہیں اور اللہ کے ہر بندے کو عدل و انصاف فراہم کرنا ا ن کا مشن ہے۔

 جماعت اسلامی ہند کی اصل معنویت یہی ہے کہ وہ امت کو اس اصل مقصد پر لوٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ تاریخ کے اس اہم مرحلے نے اس امت کی جھولی میں مواقع کا جو خزانہ لا ڈالا ہے، اس کا استعمال اسی وقت ہوسکتا ہے جب اس مقصد کے تئیں امت یکسو ہوجائے۔ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّینِ حَنِیفًا۔اس جملے میں اللہ تعالیٰ اسی یکسوئی کا حکم دے رہا ہے۔ محترم دوستو، سچی بات یہ ہے کہ اس یکسوئی کے بغیر یہ امت تشکیل ہی نہیں پاسکتی۔

اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر  خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

 اس امت میں امت سازی کا کوئی منصوبہ کام یاب ہوسکتا ہے تو وہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب امت کی اصل شناخت، یعنی اس کے مقصد و مشن پر امت سازی کی بنا رکھی جائے۔ یہ امت نہ نسل کی بنیاد پر بن سکتی ہے نہ معاشی مفاد کی بنیاد پر، نہ مسلک و مشرب کی بنیادپر نہ فقہ و کلام کے اصولوں کی بنیاد پر۔ ان بنیادوں پر قوم رسول ہاشمی کی تعمیر کی کوشش، ریت میں گھروندا بنانے کی کوشش ہے۔اس امت کا فاؤنڈیشن، کلمہ طیبہ اور اس کلمے کا دیا ہوا وژن ہی ہوسکتا ہے۔جب تک اس فاؤنڈیشن پر توجہات مرکوز نہ ہوں، امت سازی ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی کام جماعت اسلامی ہند کررہی ہے۔یہی ہماری اصل ہے۔ یہی ہماری معنویت ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ یہی ہمارے وجود کا جواز ہے۔

یہاں خود احتسابی کی بھی دعوت دینا ضروری ہے۔ کیا ہمیں اپنی اس معنویت کا، اپنے اس بےنظیر ہونے کاگہرا شعور ہے؟ کبھی کبھی حالات کے دبا ؤ میں ہم اپنی پوزیشن اور اصل حیثیت سے غافل ہوجاتے ہیں۔میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کیا ہیں اور یہ بھی کہ ہم کیا نہیں ہیں؟ ہم کوئی رد عمل پر مبنی تحریک (reactionary movement)نہیں ہیں۔ہم کسی قوم کے بقا وتحفظ کی خاطر اٹھنے والی قومی تحریک بھی نہیں ہیں۔ ہم سیاسی اپوزیشن جماعت بھی نہیں ہیں اور نہ کوئی ایکٹیوسٹ مومنٹ ہیں۔ہم فرقوں میں ایک فرقہ، قوموں میں ایک قوم، ذاتوں میں ایک ذات نہیں ہیں۔ ہم اسلامی تحریک ہیں۔ راستہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ہم دور کرتے چلیں گے لیکن ان رکاوٹوں میں ایسے نہیں الجھیں گے کہ منزل نگاہوں سے اوجھل ہوجائے۔ ہمیں اپنی تحریک، اس کے مقصد، اس کے مزاج اور اس کے پروگرام کے سلسلے میں یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔

 یہ مقصد، یعنی اللہ کے دین کے قیام کا مقصد، اس ملک میں سب سے زیادہ جس کام کا تقاضا کرتا ہے وہ پبلک اوپینین پر اثر انداز ہونے کا اور رائے عامہ کی تربیت کا کام ہے۔ اس وقت کرنے کا اصل کام یہی ہے۔ پبلک اوپینین کو متاثر کرنے کے لیے تین کام ضروری ہوتے ہیں۔ ایک آئیڈیا کو تخلیق کرنے کا کام، نریٹیو بنانے کا، ڈسکورس کھڑا کرنے کا کام۔ دوسرے آئیڈیاز کی اشاعت کا، سماج میں انھیں عام کرنے اور انھیں مقبول بنانے کا کام، تیسرے آئیڈیاز کو demonstrate کرنے کا کام۔

 آئیڈیا کے تخلیق کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو ملک کے سامنے ایک متبادل آئیڈیا کے طور پر پیش کیا جائے۔ دلائل سے اسلام کے مختلف پہلووں کا انسانوں کے لیے مفید ہونا واضح کیا جائے۔ یہ فکری و علمی کام ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی معنویت یہ ہے کہ اس نے تاریخ کے ایک اہم مرحلے میں اس کام کا بیڑاا اٹھایا اور اسلام کی معقولیت پر مدلل لٹریچر تیار کیا۔ اسلام پر عام مسلمانوں کا نیز مسلم نوجوانوں کا اعتماد بڑھایا اور ملک کی عام آبادی کو بھی اسلام سے قریب لانے کی راہ ہم وار کی۔ یہی کام ہمیں آج بھی کرنا ہے۔ یہ جماعت کی پہچان ہے۔ یہ اس کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ یہ جماعت کی معنویت ہے کہ اس نے ایک زمانے میں نوجوانوں کے اندر، طلبہ کے اندر یہ ولولہ پیدا کیا کہ وہ جدید اور قدیم علوم حاصل کریں۔ اس میں مہارت پیدا کریں۔ اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہوجائیں۔ پھر ان میں سے کوئی فادر آف اسلامک اکنامکس بن کر ابھرا اورکسی نے فلسفے اور اخلاقیات میں نئی آواز بلند کی۔

 ہمارے لیے احتساب کا مقام یہ ہے کہ کیا آج بھی جماعت کی اس معنویت اور اس خصوصیت کی حفاظت میں ہم کام یاب ہیں؟ کیا ہم نئے سوالات کا جواب اسی زور، اسی آہنگ اور استدلال کی اسی قوت کے ساتھ دے رہے ہیں؟ آج حالات اس کام کا پہلے سے کہیں زیادہ تقاضا کررہے ہیں۔ راقم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’تاریخ کے سیمینار ہال’ میں ہم300سال سے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور اب کنوینر نے ہمارے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ ہمیں بولنے کے لیے مدعو کر لیا ہے۔ اب ہمیں بولنا اور دنیا کو قائل کرنا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بولنے کے لیے تیار ہیں؟ اس ‘سیمینار’ میں جہاں فرانسس فوکویاما اور نوم چومسکی وغیرہ اپنا موقف لیے بیٹھے ہیں، کیا ہم اپنی بات پیش کرسکتے ہیں؟

 ہم ایک فکری تحریک ہیں۔آئیڈیا ہی وہ ایدھن ہے جس پر ہماری گاڑی چلتی ہے۔ یہ تحریک کی بہت اہم خصوصیت ہے۔اس خصوصیت کی حفاظت کے لیے ہمارے ذہین لوگوں کو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے ذہین بچوں کو اس کام کے لیے وقف کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری فکر جتنی مضبوط ہوگی، ہماری کام یابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

 اوپینین بنانے کے لیے دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے آئیڈیا کو پھیلائیں۔ اسے ہم دعوت کا کام کہتے ہیں۔ اس کام کی کام یابی بھی پہلے کام پر منحصر ہے۔آپ کے پاس تازہ موضوعات پر کتابیں ہوں گی، نئے آئیڈیا ہوں گے، ملک کے مسائل کا مدلل حل ہوگا تو آپ زیادہ تیزی سے انھیں سماج میں عام کرسکیں گے۔ تحریک اسلامی کی معنویت یہ ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر سماج کے ذہن کو بدلنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ اصل اور بنیادی کام ہے۔ اقامت دین کی منزل کی طرف آگے بڑھنے کے لیے یہ کام ضروری ہےاور خود مسلم امت کے تحفظ کے لیے بھی یہی کام اصل ہے۔ مسلم امت کا تحفظ فرقہ وارانہ نعروں سے نہیں ہوگا۔ کمیونل پالیٹکس سے نہیں ہوگا۔محض نعروں، جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں سے نہیں ہوگا۔ ان میں سے بعض چیزیں وقتی ریلیف تو پہنچاسکتی ہیں۔ مستقل مسئلہ حل نہیں کرسکتیں۔ اس امت کا تحفظ طویل المدت اور صبر آزما جدوجہد سے ہوگا۔ ملک کے اوپینین کو بدلنے سے ہوگا۔ لوگ اسلام سے قریب آئیں۔ نفرتیں دور ہوں۔ غلط فہمیاں دور ہوں۔ اسلام سے لوگ محبت کرنے لگیں۔ یہ صورت حال جب تک نہیں پیدا ہوگی اس وقت تک امت کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔بدقسمتی یہ ہے کہ اس اصل کام سے امت سب سےزیادہ غافل ہے۔ طرح طرح کے کام ہورہے ہیں لیکن برادران وطن کے ساتھ بڑے پیمانے پر بات چیت کا کام نہیں ہورہا۔ جماعت اسلامی ہند کی معنویت یہ ہے کہ وہ اس اصل طویل المدت کام پر صبر واستقلال کے ساتھ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

 ملک کی آزادی کے بعد ہمارے بزرگوں نے ملت اسلامیہ میں بے نظیر دینی بیداری پیدا کی۔ ان ستر برسوں میں مسلمانوں کی سوچ میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ دینی بیداری آئی۔ نماز اور دیگر فرائض سے وابستگی بڑھی۔ مسجدیں آباد ہوئیں۔ بدعات و خرافات کم ہوگئیں۔ معیشت، تعلیم، تجارت جیسے ہر میدان میں اسلام کی تعلیم کے مطابق ادارے بننے لگے۔ یہ ہمارے بزرگوں کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔مسلمانوں کی رائے عامہ بدل کر ہی یہ سب ممکن ہوا۔ لیکن، جہاں ایک طرف مسلمانوں میں پازیٹیو تبدیلی آئی، وہیں عام غیر مسلم سماج میں نگیٹیو تبدیلی آئی۔ مسلمان آج دین کے معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہیں لیکن غیر مسلم سماج جتنا ستر سال پہلے اسلام سے ناواقف تھا، بے زار تھا، غلط فہمی کا شکار تھا، اس سے زیادہ آج ہے۔

 اس لیے رائے عامہ کی تبدیلی کا یہی کام برادران وطن کے درمیان ہونا ہے۔ ہندوستان جیسے مخلوط سماج میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم اس ملک کی اکثریت سے بات کریں،ملک کی رائے عامہ کو متاثر کریں، اسلام کی تعلیمات کے متعلق سوچ کی تعمیر وتشکیل کریں۔ جماعت اسلامی ہند کی معنویت یہ ہے کہ وہ اس اہم کام کو خود بھی کررہی ہے اور پوری امت کو بھی اس کی طرف متوجہ کررہی ہے۔

 پبلک اوپینین بنانے کے لیے تیسری ضرورت یہ ہے کہ آئیڈیا کا ڈیمانسٹریشن بھی ہو۔ اسے ہم عملی شہادت کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کی معنویت یہ ہے کہ وہ اس اہم ضرورت کی تکمیل کی طرف خود بھی متوجہ ہے اور پوری امت کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔مسلمان اسلام پر عمل کرنے والے بنیں۔ ان کی مسجدیں، ان کے خطبے، ان کی عیدین، افطار و سحری، نکاح کی تقریبات، جنازے، ان سب میں غیر مسلم آئیں اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہ ماحول جماعت بنارہی ہے۔

 مسلمان خاندان اور غیر مسلم خاندان ایک دوسرے سے قریب ہوں۔ اسلام کی عائلی تعلیمات پر عمل ہو تو شادیاں کتنی آسان ہوجاتی ہیں۔ ازدواجی زندگی کیسے صحیح معنوں میں جنت کا سکون دینے لگتی ہے۔ بیٹیوں کو کیسا احترام ملتا ہے۔ عورتوں کو کیا کیا حقوق ملتے ہیں۔ وراثت کیسے تقسیم ہوتی ہے۔ یہ سب ڈیمانسٹریٹ ہو۔ یہ ٹرینڈ بھی جماعت ہر جگہ سیٹ کررہی ہے۔

 مسلمان خدمت کا کام کریں۔ وہ رب رحمان و رحیم کے نام لیوا ہیں۔ رحمة للعالمین کے امتی ہیں۔ دین رحمت کے ماننے والے ہیں۔ وہ اپنے ملک کے سارے انسانوں کے لیے رحمت بن جائیں۔ دینے والے بنیں۔ زلزلہ اور سیلاب آئے تو وہ سارے انسانوں کے لیے راحت کی امید بن جائیں۔ کووڈ کی لہر آئے تو اکھڑتی سانسوں والے، اس مجبور ترین آدم کے بیٹے کے لیے وہ رحمت کا فرشتہ بن جائیں، جس کے قریب، اس کے عزیز ترین گھر والے آنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کے مالی ادارے ڈیمانسٹریٹ کریں کہ سود سے پاک مالی نظام کیسے چل سکتا ہے۔ ان کے تعلیمی ادارے دکھائیں کہ تعلیم کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ہر سطح پراسلام کے ڈیمانسٹریشن کی یہ تحریک، طرح طرح کی صلاحیتوں کا اس مقصد کے لیے استعمال، بے شمار چھوٹے بڑے اداروں کا اس غرض کے لیے قیام، یہ سب جماعت اسلامی ہند کی معنویت ہے۔ آج جتنا اسلام کو زبان سے بتانے کی ضرورت ہے اتنا ہی جہاں جہاں ممکن ہو اسلام کے نمونے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ جماعت نے اس کام کو پورے ملک میں ایک تحریک بنادیا ہے۔اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

 یہ امت کا مقصد ہے اور اس مقصد کی خاطر درکار یہ کام ہیں۔ جماعت کی معنویت یہ ہے کہ وہ اسی مقصد ومشن پر امت کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔یہ ایک ایسی انوکھی تحریک ہے جو کسی فقہی و کلامی مسلک کی بنیاد پر نہیں ہے۔ جس کی دعوت کسی مخصوص پیر و مرشد، کسی خاص شخصیت، کسی خاص انسانی کتاب کی طرف نہیں ہے۔اختلاف کے باوجود اتحاد کا راستہ جماعت نے دکھایا۔اس نے حنفی و شافعی اور سنی و سلفی کو جوڑا،مسٹر اور مولوی کو جوڑا۔شہر کے پڑھے لکھوں اورسادہ لوح دیہاتیوں کو ایک ساتھ جمع کیا اور دین اسلام کے ماننے والے لاکھوں مردوں، عورتوں،بوڑھوں اور جوانوں کو، قرآن و سنت کی اصل اساس پر اس طرح ایک مضبوط جماعت بنادیا کہ آج ان سب کی آنکھوں میں ایک ہی مقصد ونصب العین ہے۔ سب کے دلوں میں ایک ہی ولولہ ہے۔ منزل بھی ایک ہے اور راستہ بھی ایک ہے۔ کون اس سے اختلاف کرسکتا ہے کہ آج کے حالات میں امت کو اسی مقصدی وحدت کی ضرورت ہے۔ 

 یہ سار ے کام جماعت نہایت منصوبہ بند طریقے سے، ایک پالیسی و پروگرام بناکر کرتی ہے۔ اسلام کی اساسیات سے مضبوطی سے وابستہ رہ کر وہ جدید ترقیوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ سنجیدہ غور و فکر، ٹھوس منصوبہ بندی، مسلسل مشاورت، جائزہ و احتساب، غرض کام یابی کے لیے جن اصولوں کو ضروری سمجھا جاتا ہے جماعت نے ان کاپائیدار کلچر عام کیا ہے۔ وقت پر صاف و شفاف تنظیمی انتخابات، فیصلہ سازی کا شورائی طریقہ، سب کو برابری کے حقوق پھر موروثیت، تانا شاہی اور تقدس و عقیدت کے پردوں میں لوگوں کی آزادیوں کو مجروح کرنے جیسی سب خرابیوں سے پاک، صاف ستھرا تنظیمی نظام قائم کیا ہے اور برسوں سے اسے کام یابی سے چلارہی ہے۔ ان سب کے بغیر کام یابی ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی جماعت کی اہم خصوصیت ہے۔

 آخری بات یہ ہے کہ آج مسلم امت کے سامنے ایک بڑا چیلنج توازن کا چیلنج ہے۔ اعتدال اسلام کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسلامی پالیسی کا عنوان اگر عدل ہے تو اسلامی فکر کا عنوان اعتدال ہے۔ ہماری اصل کوشش اسلامی اعتدال کی بازیافت اور اس پر دنیا کو قائم کرنا ہی ہے۔ قُلْ أَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ وَأَقِیمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ[الأعراف: 29] ‘‘اے محمد، ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے، اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر، جس طرح اس نے تمھیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے’’ نماز میں exact رخ نہ ذرا دائیں نہ ذرا بائیں، یہی exactness پوری زندگی میں مطلوب ہے۔ جماعت کی معنویت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں توازن واعتدال پر امت کو لانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ اس کے فکر کی بھی ایک اہم خصوصیت ہے اور اس کی عملی کاوشوں کی بھی۔ n

جولائی 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau