تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

خان یاسر

جانوروں کی فلاح و بہبود کی خاطر کسی جنگل میں یہ قانون بنایا گیا کہ کوئی جانور بھی کسی دوسرے جانور کو بلاوجہ نہیں مارے گا۔ ایک دن اسی جنگل میں ایک ننھا منا سا بکری کا بچہ کسی چشمے پر پانی پینے آیا۔ ابھی وہ پانی پی ہی رہا تھا کہ ایک بھیڑیا بھی وہیں آنکلا۔ میمنہ دل میں گھبرایا تو بہت لیکن اس نے اپنے اوسان بحال رکھے، ویسے بھی اسے جنگل کے نئے قانون کی جانکاری تھی۔ پانی پیتے پیتے بھیڑیے کی نظر بکری کے خوش رنگ و ’خوش ذائقہ‘ بچے پر پڑی تو اس کی رال ٹپکنے لگی۔ لیکن بھیڑیا تھا بڑا ’شریف‘ اور قانون کا ’پاسدار‘، بلا کسی ’وجہ‘کے وہ بھلا بکری کے معصوم سے بچے کو کیسے مار سکتا تھا۔ چنانچہ وہ غصے سے لال پیلا ہوکر اس سے مخاطب ہوا، ’’کم بخت! دیکھ کر نہیں پی سکتے، سارے چشمے کا پانی گدلا کردیا‘‘۔ میمنہ حیران ہوکر بولا، ’’ جناب میں تو آپ کے بالمقابل نچلے حصے سے پانی پی رہا ہوں، در حقیقت آپ کا جوٹھا پانی اوپر سے میری طرف آرہا ہے، بھلا میں کیسے پانی گدلا کرسکتا ہوں؟‘‘میمنے کی بات صحیح تھی، بھیڑیے نے پیچ و تاب کھا کر کہا، ’’بڑوں سے زبان چلاتے ہو؟‘‘’’نہیں جناب! آپ ایک غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے، میں نے بصد ادب و احترام اس غلط فہمی کو رفع کرنے کی کوشش کی، اس میں بدتمیزی کہاں ہوئی‘‘ میمنے نے سلجھے ہوئے انداز میں ممیاتے ہوئے کہا۔ بھیڑیے نے اب نیا پینترا بدلا، ’’اچھا وہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ بتاؤ پچھلے سال تم نے مجھے گالی کیوں دی تھی؟‘‘؛ ’’جناب مجھے پیدا ہوئے بمشکل دو چار مہینے ہوئے ہوں گے، بھلا میں پچھلے سال آپ کو گالی کیسے دے سکتا ہوں؟‘‘میمنے نے پھر معصومیت سے جواب دیا۔ بھیڑیا اب خوب سٹپٹایا لیکن پھرسنبھل کر بولا، ’’تم نے نہیں تو تمہاری ماں نے دی ہو گی…‘‘ میمنہ آگے بڑھتے ہوئے بھیڑیے کو دیکھ کر گھبرانے لگا ’’ماں کے کئے کی سزا تو تمہیں بھگتنی ہی ہوگی‘‘ یہ کہہ کر بھیڑیے نے جست لگائی اور بکری کے بچے کا کام تمام کردیا۔

بچپن میں ہم نے یہ کہانی پڑھی تھی تو اس کے نیچے یہ سبق بھی لکھا ہوا تھا کہ جب ظالم کی نیت خراب ہوتی ہے تو دلیل اور حجت کسی کام نہیں آتی۔ آج بنگلہ دیش میں ہو رہے واقعات کے تناظر میں یہ بات کتنی سچ نظر آتی ہے۔ حزبِ مخالف خصوصاً جماعت اسلامی کے خلاف عوامی لیگ کے اقدامات کو بھیڑیے کی بگڑی نیت ہی سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے اس فرق کے ساتھ کہ موجودہ تناظر میں بھیڑیے نے قانون کی مزید ’پاسداری‘ کا ثبوت دیتے ہوئے مقدمہ بازی کا ڈھونگ بھی رچایا ہے۔ خالص بھیڑیوں اور انسان نما بھیڑیوں میں کچھ فرق تو ہونا ہی چاہئے! پھر اہل حق کے لیے یہ سودا کچھ نیا تو نہیں؛ جھوٹے الزامات، جھوٹے مقدمے، جھوٹی گواہیاں، جھوٹے ثبوتوں سے لے کر طے شدہ فیصلوں ، جیل کی سلاخوں اور پھانسی کے پھندوں تک اللہ کے جانثار ہر امتحان سے ہنستے مسکراتے ہوئے گزرے ہیں کیونکہ انہیں اول روز سے معلوم ہوتا ہے کہ

سخت مشکل ہے رہِ عشق و یقیں پر چلنا

خارزاروں سے گزر کر یہ ڈگر جاتی ہے

تاریخی زاویہ:

بنگلہ دیش کے تنازعے کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اور تاریخ کے کسی بھی مطالعہ سے پیشتر ’’وہاٹ از ہسٹری‘‘ کے مصنف ای ایچ کار کی یہ بات ذہن میں ملحوظ رہنی چاہئے کہ ماضی کے دھندلکوں میں کھوئی ہوئی ہر بات تاریخ نہیں ہے، تاریخ ماضی کی انہی باتوں کو کہتے ہیں جنہیں تاریخ دانوں نے ان کی اہمیت یا اپنے تعصب کی بنا پر کتابوں میں درج کردیا ہے۔ لہذا تاریخ کے تقریباً ہر اہم واقعے کی متعدد تفسیریں تاریخ کے نام سے موجود ہیں۔ خود تقسیم ہند کے سانحے کو لے لیجئے، کوئی تقسیمِ ہند کو جناح اور مسلم لیگ کا کرشمہقرار دیتا ہے تو کوئی نہرو، پٹیل اور کانگریس کی سازش؛ کوئی اسے ساورکر اور ہندوتو وادی تنظیموں کی عیاری قرار دیتا ہے تو کوئی برطانیہ کی چال۔ الغرض، جتنے تاریخ دانوں کے منہ اتنی تاریخی باتیں۔ آنجہانی مشرقی پاکستان پر 1971 میں جو گزری اس کی شرح بھی مختلف تاریخوں میں مختلف انداز سے کی گئی ہے۔ ہر جگہ کچھ پہلوؤں کو دبا دیا گیا ہے تو کچھ کو ابھار دیا گیا ہے۔ ان تمام تاریخوں کو سامنے رکھ کر اگر ایک محتاط سا اندازہ لگا یا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مغربی پاکستان نے یقینا اپنے مشرقی بازو کے ساتھ ناانصافیاں روا رکھی تھیں۔ قومی زبان کے تنازعے کوخیرخواہانہ انداز سے حل کیا جاسکتا تھا۔ سیاسی و معاشی طور پرمشرقی پاکستان کی طرف حکمرانوںکی بے توجہی ایک مہلک غلطی تھی۔ آزادی کے بعد سے لے کر 1971 تک اس طرح کی چھوٹی بڑی غلطیوں کا ایک انبار لگ گیا جس کے نتیجے میں بے اطمینانی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس دوران 1971 کے الیکشن میں کامیابی کے باوجود شیخ مجیب الرحمن کو حکومت کی باگ ڈور نہ سونپنا متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی اور پاکستان تقسیم ہوگیا۔

اوپر جو کچھ کہا گیا وہ اپنی جگہ سچ ہے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ باوجود ہزار ناانصافیوں کے مشرقی پاکستان کی عوام حق و انصاف کی طالب تھی، آزادی کی نہیں۔جو لوگ 1971 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی کامیابی کو تقسیم کا mandate سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں کیونکہ الیکشنی ایجنڈے میں آزادی کا کہیں دور دور تک ذکر نہیں تھا۔ آخری وقت تک عوامی لیگ کے ذمہ داران نے دیگر جماعتوں، بشمول جماعت اسلامی، کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ جنرل یحییٰ خان سے گفتگو جاری ہے اور ملک کو ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ مذاکرات البتہ ناکام رہی اور مجیب الرحمن گرفتار ہوگئے، عوامی لیگ کے متعدد سرکردہ رہنما ہندوستان بھاگ آئے۔ عوامی قیادت کا ایک خلا سا پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی کی ایک لہر پھیل گئی۔ بددلی کی اس کیفیت نے کئی جگہ تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ اس پر مستزاد فوجی ایکشن۔ عوام ایک طرف فوجی ایکشن کے ظلم و ستم تو دوسری طرف ہندوستان کی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے ظلم و ستم کے درمیان پس کر رہ گئے۔ اس پورے سانحے کے دوران مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کا کردار یہ رہا کہ انہوں نے ملک کی سالمیت کو بچانے کے لیے جدوجہدکی؛ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے کوشش کی کہ اقتدار جمہوری طریقوں سے عوامی لیگ کو منتقل کردیا جائے؛ پھر شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری اور عوامی لیگ کے لیڈروں کے ہندوستان فرار ہوجانے کے بعد جماعت اسلامی نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر عوام کو ایک ذمہ دار قیادت فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جماعت اسلامی نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک متحدہ محاذ بنایا اور پاکستان کی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کرکے فوجی ایکشن روکنے کی پرزور اپیل کی ﴿جنرل ٹکا خان کے ساتھ اسی ملاقات کی تصاویر آج پروفیسر غلام اعظم کے جنگی جرائم کے ثبوت کے طور پر پیش کی جارہی ہیں ﴾۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بنگلہ زبان کو قومی زبان کا درجہ دیے جانے یا بنگالیوں کے دیگر جائز حقوق کی بازیافت کی آوازیں جب جب اٹھیں جماعت اسلامی کی آواز ان میں شامل رہی۔

جنگی جرائم:

1971 میں ٹیگور اور نذر الاسلام کی سرزمین نے یقینا انسانیت کو شرمسار کردینے والے جنگی جرائم دیکھے تھے، ان جرائم میں پاکستانی فوج کا ہاتھ بھی تھا لیکن ان جرائم میں ﴿خصوصاً وہاں کے اردو بولنے والے ’بہاری‘طبقہ کے خلاف﴾ مکتی باہنی کتنا ملوث تھی، اس پر کبھی کوئی سوال نہیں کھڑا کیا گیا۔ کافی تفتیش کے بعد شیخ مجیب الرحمن کی حکومت نے پاکستانی فوج کے 195 افسروں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات قائم کئے۔ ان مقدمات کو فیصل کرنے کے لئے19 جولائی 1973 کو انٹرنیشنل کرائمس ٹریبونل (ICT) کی تشکیل عمل میں آئی۔ عوامی رضاکار فوجوں مثلاً البدر و الشمس کو جنگی جرائم کا مجرم نہیں قرار دیا گیا، ان پر صرف پاکستانی فوج کی مدد کرنے کا الزام لگا اور یہ لوگ collaborators کہلائے۔ اس قسم کے مقدمات کو فیصل کرنے کے لیے 24 جنوری 1972کو Collaborators Order پاس ہوا۔ اس آرڈر کے تحت تقریباً ایک لاکھ افراد گرفتار کئے گئے۔ ان میں سے صرف 37,471 کے خلاف الزامات تیار کئے گئے۔ ان میں سے بھی 34,623 پر کوئی مقدمہ نہیں بن پایا۔ جن 2,848 لوگوں کے خلاف مقدمہ بنا ، ان میں سے بھی 2,096 باعزت بری ہوگئے۔ 752 کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔ بعد ازاں نومبر 1973 میں شیخ مجیب الرحمن نے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ماضی کو بھول کر ایک نئی شروعات کرناچاہتا ہے اور یہ کہ بنگلہ دیشی عوام کو معاف کرنا آتا ہے۔ اس طرح یہ سزا یافتہ افراد بھی رہا ہوگئے۔ اپریل 1974 میں دہلی میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ ہوئی جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جنگی جرائم میں ماخوذ 195 پاکستانی فوجیوں کو بھی معافی مل گئی۔ یوں 1971 کے جنگی جرائم کا قصہ شیخ مجیب الرحمن نے ختم کردیا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ چالیس سال بعد انہی کی بیٹی ان کے کئے کرائے پر جھوٹے مقدمات پھیر دے گی۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جماعت کے جن نو سرکردہ لیڈران پر حکومت کا عتاب نازل ہوا ہے، وہ بیچارے نہ مذکورہ بالا 195 ملٹری آفیسرز میں شامل تھے، نہ ہی ان ایک لاکھ نام نہاد collaboraters میں۔ پھر یہ چالیس سال بعد ایسا کیا ہوا کہ بیٹھے بٹھائے وہ جنگی مجرم ہوگئے؟ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوامی لیگ کی شہہ پربنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سرکردہ لیڈران کے نام نہاد جنگی جرائم کے خلاف جو مقدمات قائم کئے گئے ہیں انہیں گڑے مردے اکھاڑنے سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی؛کیونکہ جنگی جرائم کے یہ مردے اس قبرستان سے نکالے جارہے ہیں جہاں وہ کبھی گڑے ہی نہ تھے۔

واقعہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جنرل ارشاد کے آمرانہ حکومت کے خلاف 1980 میں جماعت اسلامی اور عوامی لیگ نے مل کر جدوجہد کی تھی تاکہ ملک میں جمہوریت بحال ہوسکے۔ یہی عوامی لیگ فروری 1991میں حکومت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا تعاون چاہتی تھی اور اس تعاون کے بدلے ’جنگی مجرم‘ پروفیسر غلام اعظم کو وزیر تک بنانے پر آمادہ تھی۔ 1994-6 میں بی این پی کے خلاف جماعت اسلامی اور عوامی لیگ نے ایک متحدہ محاذ سا قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں کئی بار عوامی لیگ کی حکومت رہ چکی ہے لیکن کبھی بھی جماعت اسلامی کے لیڈران پر جنگی مجرم ہونے کا الزام نہیں لگا جبکہ جماعت بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت سے لے کر آج تک پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مختلف قسم کی تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رہی ہے اور اس کی سرگرمیاں کبھی تعطل کا شکار نہیں رہیں۔

دراصل ہوا یہ کہ 2001 کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیشی سیاست میں ایک فیصلہ کن تیسری طاقت کے طور پر ابھری۔ بنگلہ دیشی سیاست میں اس تیسری طاقت کا رول بادشاہ گر کا رہا۔ جماعت اسلامی کے تعاون سے بی این پی نے انتخابات میں 197 نشستیں حاصل کیں اور عوامی لیگ کے ہاتھ صرف اٹھاون نشستیں لگیں۔ اسی وقت سے عوامی لیگ نے جماعت اسلامی پر جنگی جرائم کے الزامات لگانے شروع کئے اور اپنی پروپگینڈاکی تمام تر صلاحیتیں اس بے بنیاد الزام کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کردیں۔ اب کی بار حکومت کی گدی ملتے ہی عوامی لیگ نے جماعت اسلامی نامی آفت سے ہمیشہ ہمیش کے لیے چھٹکارا پانے کا تہیہ کرلیا۔ عوام میں اسلام پسندوں کی بڑھتی مقبولیت اور عرب میں اسلامی بہار کی آمد نے جماعت اسلامی پر لگام لگانے کی ضرورت کو مزید اجاگر کردیا۔ مقدمات میں فاش غلطیاں اور فیصلوں میں جلدبازی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ حکمراں طبقے کی اسی بدحواسی کا مظہر ہے۔

قانونی نقطۂ نظر

ان تاریخی و سیاسی پہلوؤں سے قطع نظر خالص قانونی پہلوؤں سے بھی اگر بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے لیڈران کے خلاف مقدمات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ICT Act میں ایک ترمیم کی گئی ہے جس کی رو سے صرف افراد ہی کو نہیں بلکہ جماعتوں کو بھی جنگی جرائم کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سیدھا اور صاف اشارہ ہے کہ شیخ حسینہ کا ارادہ جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دینے کا ہے۔

علاوہ ازیں اگر آئی سی ٹی کے ’آئی‘ پر غور کریں تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ’انٹرنیشنل‘ کا مخفف ہے۔ دانشورانہ حلقوں میں اکثر اردو کے ان ’’بین الاقوامی مشاعروں‘‘ کا مذاق اڑایا جاتا ہے جن میں غیر ملک میں مقیم کسی ایک عدد ہندوستانی ﴿جو کچھ تک بندی کرلیتا ہو﴾ کو بلاکر مشاعرے کے بین الاقوامی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ آج میں سوچتا ہوں تو ان نام نہاد انٹرنیشنل مشاعروں کی صورتحال ICT سے تو بہتر ہے جہاں جج اور وکلاء تو بہت دور غالباً عدالت کے دربانوں تک میں کوئی شخص غیر ملکی نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل سینٹر فار ٹرانس نیشنل جسٹس، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن، یو کے بار ہیومن رائٹس کمیٹی وغیرہ کے علاوہ خود بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کی بار ایسوسی ایشن نے ٹریبونل کے کام کرنے کے طور طریقوں میں قانون کی فاش خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ عدالت کے دروازے سے پولس ایک گواہ کو اٹھا لیتی ہے اوروکلاء دفاع کے پرزور احتجاج کے باوجود عدالت کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ سماعت کے دوران استغاثہ نے جو گواہیاں پیش کی ہیں ان میں سے اکثر تحریری شکل میں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء دفاع گواہوں کی چھان پھٹک (cross-examination) نہیں کرسکتے۔ جب دفاع نے گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو کہا گیا کہ حکومت ان کا پتہ لگانے سے قاصر ہے، دفاع نے جواباً کئی گواہوں کے پتے عدالت کے سامنے پیش کئے جو حکومت کے عطا کردہ گھروں میں رہائش پذیر تھے، یہ استغاثہ کی جانب سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی جس پر توہینِ عدالت کے سلسلے میں کارروائی ہونی چاہئے تھی لیکن عدالت نے اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں The Economist کے ہاتھوں Skype پر کی گئی سترہ گھنٹوں کی رکارڈ شدہ گفتگو، اور 230 ای میل لگے۔ یہ تفصیلی گفتگوئیں اور الیکٹرانک مراسلت ٹریبونل کے سینئر جج نظام الحق اور بلجیم میں رہنے والے ایک بنگالی وکیل ڈاکٹر احمد ضیاء الدین کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ ان کی چھان پھٹک سے معلوم ہوا کہ ٹریبونل پر ’جلد سے جلد‘ فیصلہ کرنے اور ایک ’مخصوص‘ فیصلہ کرنے کا شدید دباؤہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹریبونل کے دسمبر 2012 تک فیصلہ سنادینے پر جج نظام الحق کو پروموشن ملنے والا تھا۔ یہ تنازعہ اتنا بڑھا کہ آخر کارجج نظام الحق کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ٹریبونل کے موجودہ تین ججوںمیں سے کسی نے بھی مکمل کیس کی سماعت نہیں کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ قانون کی کھلی پامالی ہے کہ کسی ایک جج نے بھی پورا مقدمہ نہیں سنا لیکن انہوں نے دلاور حسین سعیدی کو سزائے موت کا مستحق سمجھ لیا۔ دفاع کے وکلاءنے دوبارہ سماعت کے لیے پیٹیشن دائر کئے لیکن ان کی یہ درخواست فوراً مسترد کردی گئی۔

اقوام متحدہ کے Working Group on Arbitrary Detention نے ملزموں کو ضمانت نہ دیے جانے پر ٹریبونل کو جم کر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ خیال رہے کہ ملزمین میں پروفیسر غلام اعظم جیسی سن رسیدہ شخصیت بھی شامل ہیں۔ موصوف 90 سال سے اوپر کے ہیں۔ ان کے دائیں پیر اور بائیں گھٹنے میں سخت تکلیف ہے، چلنے کے لیے انہیں دائیں ہاتھ میں بیساکھی اور بائیں ہاتھ کو کسی کندھے کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، جسمانی حالت مزید نہ بگڑے اس کے لیے انہیں روزانہ کسرت کرنی پڑتی ہے جس کے لیے انہیں ایک معاون کی ضرورت ہوتی ہے، بلڈ پریشر و دیگر بیماریوں کی وجہ سے انہیں روزانہ کئی بار باقاعدگی سے دوائیں لینی پڑتی ہیں۔ لیکن پروفیسر غلام اعظم شاکی نہیں ہیں، وہ ایک مردِ مجاہد کی طرح حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ گرفتار ہونے سے پہلے دیے گئے اپنے ایک تحریری بیان میں وہ لکھتے ہیں، ’’میں جیل، ظلم، اذیت اور موت سے نہیں ڈرتا۔ موت اٹل ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں‘‘ اور ’’میں شہید ہونے کی تمنا لے کر ہی اسلامی تحریک میں شامل ہوا تھا۔ اب اگر اس جھوٹے مقدمے میں مجھے پھانسی پر بھی لٹکادیا گیاتو مجھے شہادت کا درجہ ملے گا، جو یقینا میرے لیے خوش قسمتی کا باعث ہوگا‘‘۔ سچ کہا ہے کسی نے

منزل دار ورسن ہو کہ سوادِ زنداں

عشق ہر حال میں پابند رضا ہوتا ہے

میڈیا کا رول

اس دوران میڈیا بھی ایک طوفان کھڑا کئے ہوئے ہے۔ ایسا ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاہ باغ میں سارا بنگلہ دیش جمع ہوگیا ہے جبکہ اس سے بڑی بڑی ریلیوں کو جو حکومت کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جماعت کی حمایت میں منعقد ہورہی ہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ان ریلیوں کو جو کوریج مل بھی رہی ہے تو وہ اس طرح کہ کچھ بنیاد پرستوں نے ایک جگہ جمع ہوکرہندوستان مخالف نعرے لگائے، توڑ پھوڑ کی، صحافیوں کو مارا پیٹا، پولس سے ہاتھا پائی کی وغیرہ وغیرہ۔ دَ ہندو جیسے اخبار اور تہلکہ جیسے رسالے جو اپنی بے لاگ صحافت اور بے تعصبی کے لیے مشہور رہے ہیں ان کی کوریج بھی مایوس کن ہی رہی ہے۔ عوامی لیگ کے غنڈے جب ملک کے ہندوؤں اور مندروں پر پل پڑے تاکہ ٹریبونل کی مضحکہ خیز کارروائیوں کی وجہ سے جو جگ ہنسائی ہو چکی ہے اس کا کچھ ازالہ کیا جائے اور لوگوں کی توجہ مقدمات سے ہٹائی جائے تو میڈیا نے یہ تمام کارنامے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتر شبر کے سر مڑھ کر شر پسند عناصر کا کام اور آسان کردیا۔ جبکہ اصلیت یہ ہے کہ عوامی لیگ کے متعدد کارکنان ہندوؤں پر حملے کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جاچکے ہیں اور جماعت اور شبر کے سرکردہ لیڈران اور کیڈر کئی مندروں کی حفاظت پر مامور رہے ہیں تاکہ عوامی لیگ صورتحال کو مزید بگاڑنے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جماعت اور شبر کے ان خیرسگالانہ اقدامات اور پرامن جلوسوں پر پولس کی بے وجہ فائرنگ وغیرہ سے میڈیا تا دم تحریر آنکھیں چراتا رہا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ بنگلہ دیش معاشی اعتبار سے ایک پچھڑا ہوا ملک ہے؛ قحط اور سیلاب کی آفتیں اس ملک کے متعدد علاقوں میں پابندی سے برستی رہتی ہیں؛ غربت و افلاس کا دور دورہ ہے﴿بعض ماہرین شماریات کے مطابق 70 فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزاررہی ہے﴾؛ ناخواندگی کی شرح بھی خطرناک حدوں کو پہنچی ہوئی ہے؛ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈکس میں بنگلہ دیش کو 187 ممالک میں سے 146 واں مقام حاصل ہے۔ ان حالات میں اپنے ناپاک سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پورے ملک کو خانہ جنگی کے دلدل میں ڈھکیل دینا ان لوگوں کو زیب نہیں دیتا جو ملک کی خیرخواہی کی قسمیں کھاتے نہیں تھکتے۔ کاش ظالموں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ دنیا چونکہ امتحان گاہ ہے اس لیے ان کی رسی دراز ضرور ہوتی ہے مگر لامحدود نہیں ہوتی۔ ظلم جب حد سے گزر جاتا ہے تو اللہ کی لاٹھی اچانک حرکت میں آتی ہے اور ظالموں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی ؛ پھر ان کا وہی حشر ہوتا ہے جو حسنی مبارک کا ہوا یا قذافی کا! شیخ حسینہ اور ان کی عوامی لیگ شاعر کے اس پیغام کو کان اور دل کھول کر سن لیں۔

نادار پہ ہی ظلم جو ڈھانے پہ تلا ہے

مغلوب زمانے کو بنانے پہ تلا ہے

واللہ اسے علم نہیں ہے کہ ستمگر

اپنا ہی نشاں آپ مٹانے پہ تلا ہے

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau