اعتکافی تربیت گاہ کا روحانی تجربہ

ایس امین الحسن

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا ایک سنت ہے اور بیشتر مساجد میں اس کا اہتمام ہوتا ہے۔ اکثر معتکفین مسجد میں دس دن کا قیام کرتے ہیں، جس میں کھانا پینا اور سونا سب شامل ہے۔ کچھ بندے اپنی معلومات کی حد تک عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔ مگر ان دس دنوں اور راتوں کا بہترین مصرف کیا ہو اور ان روحانی ساعتوں سے زندگی کے لیے برکتیں کیسے کشید کی جائیں؟ یہ کسی کے سکھانے سے سیکھی جاتی ہیں۔ جب انسان زندگی کے چھوٹے اور معمولی کاموں کے لیے بھی مربی اور مینٹر کی ضرورت محسوس کرتا ہے، تو روحانی ترقی، حالات کی بہتری، اوقات کے بہترین مصرف اور زندگی کی کایا پلٹ کا فن اور گُر سیکھنے کے لیے تربیت گاہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ افراد کی تربیت کے لیے مختلف قسم کی تربیت گاہیں تو منعقد ہوتی ہی ہیں مگر اعتکافی تربیت گاہ کی بات ہی کچھ اور ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تربیت نے اس سال دہلی میں مسجد اشاعت میں اسلام رمضان کے آخری عشرے میں تربیتی اعتکاف کا اہتمام کیا۔ پورے ملک سے تقریباً 75 افراد شریک تھے۔ شرکا میں تحریک کا کیڈر بھی تھا اور مقامی بستی کے افراد بھی تھے۔ آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سابق ہیڈ آف دی پارٹمنٹ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فارماکولوجی کے پروفیسر بھی تھے، وہ بھی تھے جن کے وسیع کاروبار ہیں اور وہ بھی جو چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے امریکن سرٹیفیکیشن کے کورس چلاتے ہیں۔ کسی کا پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور لائف کوچنگ کا ادارہ ہے تو کسی کا اپنا قائم کردہ اسکول ہے۔ علمائے کرام، ائمہ مساجد اور حفاظ قرآن سے لے کر طلبہ اور کسان تک اس پروگرام میں شریک تھے۔ گو کہ ہر کوئی مختلف میدان سے متعلق تھا مگر سب کی دو ضرورتیں مشترک تھیں۔ سب روحانی پیاس لے کر آئے تھے اور چاہتے تھے کہ انھیں بتایا جائے کہ سیرابی کیسے حاصل ہو۔ ہر فرد کے دل کی یہ تمنا تھی کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنائے، مقصد واضح ہو، منزل متعین ہو، اس تک پہنچنے کی راہ ان‌ پر کھلے اور اس کے سنگ ہائے میل کی نشان دہی ہو۔

تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کی خواہش ہر دور میں سعید روحوں کا شیوہ رہا ہے۔ انسان اخلاقی و روحانی کمال کے حصول کے لیے مختلف طریقے اپناتا رہا اور اکثر و بیشتر افراط وتفریط کا شکار رہا ہے۔ اسلام نے زندگی کے تمام امور کی طرح اس معاملے میں بھی اپنے ماننے والوں کو جادہ اعتدال پر قائم رکھا۔ تزکیہ نفس کے لیے کی جانے والی مختلف النوع کاوشوں میں سے ایک مسلمہ طریقہ مخلوق سے بے رغبتی اور کنارہ کشی ہے، جس نے سابق قوموں‌ میں رہبانیت کی شکل اختیار کرلی تھی۔ خدا کی خوش نودی کی تلاش انسان کا فطری داعیہ ہے۔ مگر اسلام نے انسانوں کو ترک دنیا کی تعلیم نہیں دی بلکہ دنیا کو برتنے اور اسے بہتر بنانے کی ترغیب دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ترک علائق کر کے خدا کے حضور حاضری اور حضوری کے متعین طریقے بھے بتائے ہیں۔ اسلام انسان کے فطری داعیات کو تسلیم کرتا ہے اور ان کی تکمیل کے لیے معقول طریقے بتاتا ہے۔ اسلام کی حکیمانہ تعلیمات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ اس نے رہبانیت کا بہتر بدل امت مسلمہ کو فراہم نہ کردیا ہو اور وہ نعم البدل جو جادہ حق کے متلاشیوں کو اسلام نے عطا کیا ہے، وہ ’’اعتکاف‘‘ ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی صاحب، امیر جماعت اسلامی ہند نے اپنے افتتاحی کلمات میں شرکا کو بتایا کہ اعتکاف کی عبادت دراصل خلوت نشینی ہے۔ روزمرہ کے دنیاوی معاملات سے کٹ کر رب کے حضور بیٹھ جانا اعتکاف کی اصل روح ہے۔ زندگی کو رب کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ میں جھانکیں، سابقہ زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ نفس کس کس طرح سے اپنے دام بچھاتا اور روحانی ترقی کی راہیں مسدود کرتا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے درج ذیل باتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ان دس دنوں میں آپ کو ان حسین اور بہترین روحانی کیفیتوں سے گزرنا ہے:

اپنی غلطیوں پر استغفار اور گناہوں پر صدق دل سے توبہ کریں تاکہ رمضان کے بعد کی زندگی میں محتاط رہ سکیں اور ان غلطیوں کا اعادہ نہ ہو اور ان گناہوں سے سخت نفرت پیدا ہوجائے۔

قرآن کا مطالعہ اس طرح کریں کہ آپ اس میں اپنی شخصیت کو تلاش کرسکیں۔ قرآن میں آپ کا ذکر موجود ہے۔ آپ کے رویوں اور طرز زندگی پر تبصرہ ہے، اور اگر آپ بدلنا چاہیں تو کشادہ راہ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ قرآن سے آپ کا انگیجمنٹ اس طرح سے ہو کہ قرآنی آیات کی تلاوت کی تاثیر کے نتیجے میں آپ خدا کی عظمت کے بارے میں پڑھیں تو سبحان اللہ کی صدا دل سے نکلے۔ خدا کے احسانات کا تذکرہ ہو تو آپ کے اندرون میں حمد کی صدا گونج اٹھے، آخرت میں خدا کی طرف سے سخت پکڑ اور دنیا میں عذاب الہی کی داستانیں پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں، دل لرز جائیں اور آپ خدا کی پناہ طلب کریں۔ قرآن کے ساتھ اس سفر میں جو یکسوئی درکار ہے، وہ اعتکاف میں آپ کو میسر ہے اس کا فائدہ اٹھائیے۔

مومن کے دل میں ایک جنت ہوتی ہے۔ ایمانی حلاوت جتنی بڑھے گی اتنا اس جنت کا احساس ہوگا اور اس کی لذت و شیرینی آپ محسوس کریں گے۔

نمازوں میں خشوع و خضوع کی کیفیت کا یہ عالم ہو کہ آپ کے قیام، رکوع، قومہ، سجدے، جلسہ استراحت اور تشہد معمول کی تسبیحات کے علاوہ لمبی لمبی تسبیحات اور دعاؤں سے مزین ہوں۔

اعتکاف کے دوران ہر روز دوپہر میں ایک گھنٹے کا روحانی سیشن ہوا کرتا تھا۔ شرکائے اعتکاف کو جماعت کے اکابر سے سے خوب استفادے کا موقع ملا اور ان کی مینٹرشب اور صحبت صالح کی نعمت غیرمترقبہ انھیں حاصل رہی۔ روحانی موضوعات پر جو سیشن ہوئے وہ اس طرح رہے:

اعتکاف کیسے گزاریں:  امیر جماعت نے رہ نمائی فرمائی کہ اعتکاف کے دس دن کیسے گزارے جائیں۔ لوگوں نے اس کے مطابق دس دنوں کی منصوبہ بندی کرلی اور اپنا نظام الاوقات متعین کرلیا۔ اس تقریر سے اعتکافی ایام کے‌ لیے پٹری بچھ گئی جس پر گاڑی چلا کر متعین منزل تک پہنچنا آسان ہوگیا۔

معاف کرنے کی اہمیت:  معاملات کی پیچیدگیوں، تجربات کی تلخیوں اور تعلقات کی خرابیوں سے زندگی الجھ کر رہ جاتی ہے۔ اس کا دل پر ایک بوجھ ہوتا ہے، زندگی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور آخرت میں ناکامی ہاتھ آتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مولانا رضی الاسلام ندوی نے بہترین پیرائے میں لوگوں کو معاف کردینے اور اپنی طرف سے سرزد ہوئی غلطیوں پر لوگوں سے معافی مانگ لینے کی ایسی ترغیب دی کہ شرکا کی آنکھیں چھلک گئیں اور انا کی ریتیلی عمارتیں ڈھے گئیں۔ سوالات کے وقفے میں لوگ جو سوالات کر رہے تھے اس سے پتہ چل رہا تھا کہ اب وہ اس طرح کے بوجھ سے بری ہونے کے لیے بے چین تھے اور مولانا سے عملی رہ نمائی طلب کررہے تھے۔ جب اعتکاف ختم ہوا تو بہت سوں کی حالت بدلی ہوئی تھی۔

ذکر اللہ کی اہمیت اور اس کی تاثیر: مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے اپنے مخصوص انداز میں جذبہ عمل کو مہمیز کرتے ہوئے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کی ترغیب دی۔ بتایا کہ ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور ایک مومن جب ذکر کرتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی ہر عبادت ذکر سے معمور ہوتی ہے۔ تکبیر، تہلیل، حمد اور استغفار سب ذکر کی مختلف شکلیں ہیں۔

دعا کی اہمیت اور اس کی تاثیر:  اکثر یہ دیکھا گیا کہ دعا کے سلسلے میں بے اعتنائی کا رویہ پایا جاتا ہے۔ جس کا اثر یہ نظر آتا ہے کہ دعائیں رسمی طور پر کرلی جاتی ہیں۔ دعا کے سلسلے میں ایک محدود تصور یہ بھی ہے کہ خدا کے سامنے اپنی ضروریات کی ایک فہرست رکھ دی جائے اور اعتکاف کے دوران روزانہ اسی کو دہرایا جائے، جب کہ حال یہ ہے کہ وہ فہرست بھی ادھوری اور عجلت پسندی کی پیداوار ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا خدا کے ساتھ ایک خوش گوار کمیونیکیشن ہے۔ دعا کا پہلا ادب خدا کی عظمت و تعریف کے گن گانا ہے۔ اور اس کام کے لیے سمندر کا پانی، دوات اور جنگل کے درخت قلم بن جائیں اور لکھتے لکھتے یہ دونوں ختم ہو جائیں، مگر خدا کی شان ربوبیت کا بیان ختم نہیں ہوسکتا۔ اس کا تجربہ اعتکاف کے دوران کر کے دیکھنا چاہیے۔ اس کے بہت سے طریقے سکھائے گئے۔ یہ موضوع راقم کے ذمے تھا۔

قرآن فہمی:  اس موضوع پر ڈاکٹر محی الدین غازی نے علمی اور عملی دونوں پہلوؤں سے باتیں رکھیں۔ عوام کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، مگر جنھیں زندگی کا شعور ملا ہے اور مختلف میدانوں میں انسانوں کی رہ نمائی کر رہے ہوں ان کے لیے قرآن میں غور و فکر کرنا انتہائی اہم ہے جس کے بغیر بصیرت ان کے ہاتھ نہیں آئے گی۔ قرآن کے ساتھ قاری کو سفر کرنا چاہیے، اس میں پیش کردہ حسین مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہیے، اور جہاں انذار  کے پہلو آئیں وہاں اسے لرز جانا چاہیے، قرآن کا عقلی قلبی اور عملی مطالعہ ہونا چاہیے۔

مطالعہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار:  امیر جماعت نے اس موضوع سے متعلق اعتکاف کرنے والوں کی رہ نمائی فرمائی۔ آپ نے یہ راز منکشف کیا کہ مطالعہ نہ کرنے والے بس ایک زندگی جیتے ہیں اور مطالعہ کرنے والے بیک وقت سیکڑوں زندگیاں جیتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ مطالعہ مصنف کے ساتھ انگیجمنٹ کا نام ہے جس سے ہمارے ذہن کے افق پر علم وعرفان کا نیا سورج طلوع ہوتا ہے۔ مطالعے کے ذوق اور اس کی پابندی کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ بیک وقت مطالعہ کے گلدستے میں کتنے قسم کے پھول لگائے اور سجائے رکھتے ہیں۔ آپ نے مشورہ دیا کہ مطالعے کے بوفے کی ڈش میں کم سے کم چھ کورس کا کھانا ہونا چاہے۔ قرآن، سنت و سلف صالحین کی کتابیں، تحریکی لٹریچر، اسلامی لٹریچر، معاصر لٹریچر اور ادبی لٹریچر۔ آپ نے مطالعہ کے چار مرحلے بتائے: پہلا مرحلہ، صرف خواندگی؛ دوسرا مرحلہ، تعبیری مطالعہ یعنی معنیٰ و مفہوم کا استخراج اور تعبیر جس کے لیے مزید کچھ علوم کا مطالعہ ضروری ہے؛ تیسرا مرحلہ، تنقیدی مطالعہ جس میں ایک قاری کو مصنف کے افکار و خیالات کا تنقیدی جائزہ لینا ہوتا ہے؛ پھر چوتھے مرحلے میں تخلیقی مطالعہ، جس میں قاری مطالعہ کے دوران اپنے پس منظر میں نئے افکار و خیالات کو پیدا کرتا ہے۔

جنت کی سیر:  قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت انسان کے اعمال کا صلہ ہے۔ ایسا اس لیے کہا گیا کہ انسان اعمال صالحہ کی طرف جوق در جوق بڑھے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں جا نہیں سکتا۔ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے جنت کے مناظر کا اس طرح حسین نقشہ کھینچا کہ لوگوں کے دل جنت تک پہنچانے والے اعمال کی طرف کھنچتے چلے جائیں۔

محبت کے پیکر بنیے:  ڈاکٹر وقار انور نے اس موضوع پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ اعمال صالحہ ایمان کا تقاضا ہیں اور وہ فرض اعمال ہیں۔ جب کہ احسان کا رویہ اس سے آگے کی چیز ہے۔ محبت کا موضوع احسان کے درجے میں آتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کے لیے دل میں خیر خواہی ہو اور دوسروں کی بھلائی کے لیے ایثار سے کام لیا جائے۔ قرآن خیر کا ایک وسیع دائرہ پیش کرتا ہے اس پر عمل کرنے سے انسان خیر الناس بنتا ہے۔

دعوت کی اہمیت:  میں نے مولانا نسیم غازی فلاحی صاحب کی بہت سی تقریریں سنیں لیکن اس دن ان پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ انھوں نے خود اپنے اسلام قبول کرنے اور ان کی کاوشوں سے اہل خاندان جس طرح سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس کی روح پرور داستان سنائی کہ شرکا کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اور بھی بہت سے واقعات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ یہ ہمارا فرض عین ہے اور اگر انسانوں کے تئیں ہمارا دل بے چین ہو جائے تو یہ کام آسان ہے ورنہ پہلے قدم ہی میں انسان اس کام کا آغاز کرتے ہوئے گھبراتا ہے اور اس کے پیر لڑکھڑانے لگتے ہیں۔

محترم امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے زادِ راہ کے طور پر جو قیمتی باتیں رکھیں اور مفید مشورے دیے وہ پانچ نکات پر مشتمل ہیں:

اس اعتکافی تربیت گاہ کا ایک سوونیئر اپنے لیے منتخب کریں، یہاں سے ساتھ لے جائیں اور اسے اپنی زندگی میں سجا کر رکھیں۔ مثلا تکبیر تحریمہ کے ساتھ نماز پڑھنا، غصہ نہ کرنا، وقت ضائع نہ کرنا، دعاؤں کا اہتمام کرنا، وغیرہ۔

اپنے لیے ایک رمضان ریزولیوشن تیار کریں۔ زندگی میں کچھ کرنے کا عہد کریں۔‌ اس کی منصوبہ بندی کے ساتھ اس پر قائم رہیں۔

اس اعتکافی تربیت گاہ کے تاثرات کی ایک ڈائری لکھیں، جس میں دس ایام کے خوب صورت لمحات کا تذکرہ ہو۔

عمل میں تبدیلی لائیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں سے آغاز کریں مگر انھیں مستقل کریں۔

جائزہ و احتساب کا عمل جاری رکھیں۔اور روزانہ اس کی عادت ڈالیں۔

اعتکاف کے دوران ہر روز دو لرننگ سیشن ہوا کرتے تھے۔ ایک روحانیت سے متعلق اور دوسرا زندگی کی منصوبہ بندی سے متعلق تھا۔‌

دنیا میں اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کی زندگی پر ان کا کنٹرول نہیں ہوتا ہے، بلکہ زندگی انھیں کنٹرول کرتی ہے۔ جذبات پر انھیں قابو نہیں ہوتا بلکہ جذبات انھیں قابو میں رکھتے ہیں۔ وقت پر ان کی حکم رانی نہیں ہوتی بلکہ زندگی کی کشتی وقت کے رحم و کرم پر حالات کے تھپیڑے کھاتے ہوئے مسائل کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے۔ زندگی کی کشتی کو مقصدیت اور فوز و فلاح کے کنارے پر لنگر انداز کرانا ایک شعوری عمل ہوتا ہے۔ اس موضوع پر شرکائے اجتماع کو دس دن میں دس موضوعات کے تحت تربیت دی گئی۔

اس کے لیے سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی خوبیوں، قوتوں اور کم زوریوں کا ادراک ہو اور اس کے سامنے امکانات کی ایک بڑی دنیا جو موجود ہے اس کا اسے فہم ہو۔ اس سے استفادے کی شکلیں نکالنے کی طرف اس کا ذہن متوجہ ہو۔ زندگی کی راہ میں رکاوٹیں بھی ہوتی ہیں، انھیں کیسے عبور کیا جائے اس کا فن بھی اسے آتا ہو۔‌ شرکائے اعتکاف کو پہلے دن اس کی مشق کرائی گئی۔

قرآنی اوصاف پر مبنی چیک لسٹ فراہم کی گئی جس کی روشنی میں ہر فرد کو اپنی زندگی کا جائزہ لینا تھا۔

آج کے کاموں کے ہجوم میں کل کی ضروریات کی تیاری کی طرف خیال تک نہیں جاتا۔ تعلقات بنائے رکھنا، اپنی تعلیمی لیاقت کو بڑھانا، نئی صلاحیتیں پیدا کرنا، شخصیت کو پروان چڑھانا، زندگی کی منصوبہ بندی کرنا اور صحت کو بنائے رکھنا وہ امور ہیں جو کل کے لیے اہم ہیں مگر آج ان کا دباؤ نہیں ہوتا۔ شرکا نے اپنی اپنی زندگی کے پس منظر میں ان امور کی منصوبہ بندی کی۔

ان پر یہ بات عیاں ہوئی کہ بیک وقت ان کے کئی رول ہوتے ہیں۔ عام طور پر لوگ ان حیثیتوں کو فراموش کرکے زندگی اس طرح گزارتے ہیں کہ بعد میں انھیں پچھتاوا ہوتا ہے، کیوں کہ بہت سے لوگوں کے حقوق جو ادا کرنے تھے وہ چھوٹ گئے۔ ایسے لوگوں کی زندگیاں نامکمل اور ادھوری رہ جاتی ہیں۔ ہم میں سے ہر فرد بیک وقت بیٹا، باپ، شوہر، بھائی، ملازم یا تاجر، تنظیم کا کارکن، محلے کا فرد، مسجد کا نمازی وغیرہ ہوتا ہے اور ان سب کرداروں میں اگر اس کا ہدف متعین ہو تو زندگی منظم ہوتی ہے۔

تعلقات پیدا کرنا، تعلقات بنائے رکھنا اور انھیں خوش گوار رکھنا ایک اہم فن ہے۔ تعلقات کی ابتدا ماں باپ بھائی بہن اور بیوی بچوں سے شروع ہوتی ہے، پھر یہ خاندان اور تجارت سے آگے بڑھ کر برادران وطن اور عام انسانوں تک وسیع ہو جاتا ہیں۔ اس کے اصول و ضوابط انھیں سکھائے گئے۔

معاف کرنے کی اہمیت سے تو کسی کو انکار نہیں ہے، مگر معاف کرنے کے نفسیاتی طریقوں سے واقفیت نہیں ہوتی۔ ان مرحلوں سے گزر کر اعتکاف میں شریک لوگوں نے اپنی زندگی میں—جن جن سے بھی جس قسم کا بھی واسطہ رہا ہو—ان سب کو معاف کیا۔ معاف نہ کرنے کے نتیجے میں جو شدید جسمانی و نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کا انھیں ادراک ہوا۔

ہر کام یاب انسان کی ضرورت ہے کہ اس کی فکری نشوونما ہو، اس کی روحانی ترقی ہو، اسے اپنے جذبات میں توازن برقرار رکھنا آتا ہو، وسیع اور خوش گوار تعلقات ہوں، جسمانی لحاظ سے صحت مند ہو اور جسمانی صلاحیتوں سے مالا مال ہو، زندگی کا معاشی پہلو مستحکم ہو اور مال کی فراوانی ہو، نفس کو نفس مطمئنہ بنانے کی طرف متوجہ ہو اور ہر فرد اپنے سماج، تنظیم، جماعت، ملک و ملت اور انسانیت کے لیے مفید سے مفید تر ہو۔ زندگی کے ان آٹھ گوشوں کی بہترین منصوبہ بندی کی کوچنگ کی گئی۔

شرکائے اعتکاف نے اسمارٹ گول سیٹنگ کی۔

خدا کے نور سے معاملات کو دیکھنا، ضمیر کی آواز سننا، دل سے رہ نمائی حاصل کرنا اور پھر اعتکاف ختم کرنے سے پہلے ایک نئی شخصیت کو وجود میں لانا شرکا کے لیے ایک خوش گوار تجربہ تھا۔

شعور کی پختگی اور ذہن کی آبیاری کے ہنر سے بھی انھیں واقف کرایا گیا۔

اس تربیت گاہ سے گزرنے کے بعد شرکا نے اپنے تاثرات بیان کیے۔ جو مشترک تاثرات تھے، کچھ خاص نکات یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:

اللہ سے دعا مانگنے کا طریقہ سب سے اچھا لگا۔ دعا کی لذت اور مٹھاس کا احساس ہوا۔ اب تو دل کرتا ہے کہ جی بھر کر اللہ سے دعائیں کیا کریں اور اس سے ہم کلامی کا شرف اس طرح سے بار بار ملتا رہے کہ اس کی جناب میں حضوری کا احساس بڑھ جائے اور ہمہ دم وہ احساس ساتھ رہے۔

ہر روز سحری اور افطاری کے وقت جو اجتماعی دعائیں کی گئیں وہ بالکل نادر، انوکھی اور ذہن کشا تھیں۔ ہم نے جانا اور سیکھا کہ دعائیں ایسے کی جاتی ہیں۔

ہم سمجھتے تھے کہ اعتکاف ایک انفرادی عبادت ہے۔ مگر وہ انفرادی اوقات کیسے پرمغز، پرکیف اور پراثر گزاریں اس کا ہنر ہم نے یہاں آکر سیکھا۔ ورنہ یوں ہی دس دن بے سمت اور بے مقصد گزر جاتے۔

تمام اکابر جماعت کی مینٹرشپ ایک عظیم نعمت رہی اور اس کی قدر و قیمت کا ہم اب احساس کرتے ہیں، ورنہ اگر یہاں حاضری کی سعادت سے ہمارا دامن خالی ہوتا تو اس نعمت سے محرومی کا احساس تک ہمیں نہ ہوتا۔

ہم فقہی اعتکاف سے واقف تھے مگر مقصدی اعتکاف اور اس کی اصل روح سے واقف نہیں تھے۔ یہ گراں مایہ سرمایہ ہمیں آج ہاتھ آیا۔

 کچھ خصوصی تاثرات

اس اعتکاف نے مجھے اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کا وہ تصور دیا جس سے آج تک میں نا آشنا تھا۔ اللہ تعالی جماعت کے بزرگوں کا سایہ ہم تمام تحریکی بھائیوں پر بنائے رکھے۔

اس اعتکاف نے مجھے میرے اندر پلنے والے گناہ گار انسان سے متعارف کرایا اور اس کو پہچان کر اسے نیا انسان بنانے کا ایک تربیتی اور قیمتی نسخہ عطا فرمایا۔

مرکز میں گزرے دس دن اتنے مصروف اور دل چسپ رہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ وقت برق رفتاری سے گزر گیا۔ اس پروگرام کے بعد میں نے اپنے دل میں جھانکا تو ایک نور پایا اور خدا سے تعلق گہرا اور مضبوط محسوس ہوتا ہے۔

میں شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ اس طرح کے پروگراموں کو عوام میں بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جانا چاہیے۔ مرکزی پروگرام کے شایانِ شان دو سو سے تین سو شرکا کو اس اعتکاف سے استفادہ کرنا چاہیے تھا۔ روحانی تربیت کی عوام کو بھی ضرورت ہے، اس لیے اسے زیادہ سے زیادہ عوامی بنایا جائے۔ میں خانقاہوں میں اعتکاف کرتا رہا۔ اس بار کسی وجہ سے وہاں جانا نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی کے پروگرام میں پہلی بار شرکت کا موقع ملا۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے یہاں وہ سب کچھ ملا جو خانقاہ میں ملتا رہا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ملا۔ اس کا ایک ماڈیول بنا کر ملک کے تمام بڑے شہروں میں ہر سال اس طرح کے اعتکاف کا بڑے پیمانے پر منقد کیا جانا چاہیے۔

میں برسوں سے مرکز کی مسجد میں نماز ادا کرتا رہا لیکن کبھی موقع نہیں ملا کہ جانوں کہ جماعت اسلامی کیا چیز ہے۔ اعتکاف کے دس دن کے دوران میں نے حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کیا اور جماعت کے سلسلے میں میرا ذہن کشادہ ہوا۔ آپ کو چاہیے کہ یہ پروگرام اس محلے کے تمام لوگوں کے لیے کھول دیں تاکہ ان کی زندگیاں بھی سنور جائیں اور جماعت کے کاموں سے وہ لوگ بھی وابستہ ہوں۔

اعتکاف کے شرکا کو ان کے اعتکاف کو مفید تر اور بہتر بنانے کے لیے ایک کٹ فراہم کیا گیا جس میں ٹریننگ مینوئل، دعاؤں کی بعض نادر کتابیں، اذکار کی ایک فہرست، تجوید کی اصلاح کا ایک چارٹ، اعتکاف کے دوران اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا سوال نامہ وغیرہ شامل تھے۔

جون 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau