اسلامی معاشیات کے ترجمان

ڈاکٹر عمر چھاپرا

ڈاکٹر وقار انور

ڈاکٹر عمر چھاپرا کے بارے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کی اس رائے سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ مغربی معاشی فکر کے تنقیدی مطالعے پر ان کا کام ویسا ہی فاضلانہ، عمیق اور وقیع ہے جیسا اسلامی عقلیات کی تاریخ میں امام غزالی اور امام رازی کا کام ہے۔ اس موازنہ سے قطع نظر یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ انگریزی زبان میں جدید دنیا میں معاشیات کی کتابیں جس اسلوب میں لکھی جا رہی ہیں اس میں اسلامی معاشیات کے تعارف کا کام ڈاکٹر چھاپرا نے خوب صورتی سے کیا ہے، جس کے نتیجہ میں اسلامی معاشیات کے خد وخال واضح ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر چھاپرا پاکستانی نژاد ہیں اور سعودی عرب کے شہری ہیں۔ ان دنوں اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹرجدہ کے مشیر برائے ریسرچ ہیں۔ اس سے قبل وہ سعودی عرب کی مونیٹری ایجنسی کے سینیئر اقتصادی مشیر کی حیثیت سے سبک دوش ہوئے تھے۔ انھیں سال 1989ء میں شاہ فیصل عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اسلامی معاشیات کے موضوع پر دس وقیع کتابیں اور بہت سے تحقیقی مقالے تصنیف کرچکے ہیں۔

ہم ڈاکٹر چھاپرا کے معاشیات کے علم میں کام کا جائزہ لینے کے لیے سابقہ چار دہائی میں ان کے تحریر کردہ ایک تحقیقی مقالے اور تین کتابوں کا مطالعہ کریں گے۔

پہلی کتاب: Objectives of the Islamic Economic Order

یہ 27 صفحہ کا ایک کتابچہ ہے جسے 1979ء میں اسلامک فاؤنڈیشن، لیسٹر نے شائع کیا تھا۔ اس میں مصنف نے اسلامی معاشیات کے مقاصد اور اسلامی نظم معیشت کی ہیئت پر گفتگو کی ہے۔ اسلامی معاشیات کے مقاصد کی جو نشاندہی آج سے چار دہائی قبل مصنف نے کی تھی اس کی وضاحت وہ بعد کی کتابوں اور مقالات میں کرتے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام انسانوں کی صرف روحانی ترقی اور اخروی کامیابی کا ضامن نہیں ہے بلکہ ان کی اس دنیا کی فلاح اور ترقی کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے۔ اسلامی معاشیات کے مقاصد کو چار عناوین کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:

[1] اسلام کی اخلاقی تعلیمات کے حدود میں رہتے ہوئے معاشی فلاح و بہبود

[Economic well-being within the framework of the moral norms of Islam]

[2] اخوت انسانی اور عدل

[Universal brotherhood and justice]

[3] آمدنی کی منصفانہ تقسیم

[Equitable distribution of income]

[4] سماجی بہبود کے دائرے میں فرد کی آزادی

[Freedom of the individual within the context of social welfare]۔

ڈاکٹر چھاپرا کا کمال یہ ہے انھوں نے اپنے ہر دور کی تحریر میں ان چار نکتوں کی وضاحت کی ہے۔ یعنی آج سے چار دہائی قبل اپنے موضوع کو جس طرح بیان کیا تھا ویسے ہی آج کر رہے ہیں۔ اس کتابچے میں جو بات اختصار سے کہی ہے اسی کی تفصیل بعد کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اسلامی نظام معیشت کے خد وخال کی اس طرح وضاحت کی ہے کہ یہ سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز ہوجائے۔ ڈاکٹر چھاپرا کی ایک واضح خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی بات کے لیے قرآن وحدیث کے حوالے تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔ اس طرح عقل اور نقل دونوں طرز کے دلائل سے اپنی بات کو مضبوط کردیتے ہیں۔ تیسری خوبی یہ ہے کہ زبان سادہ اور غیر گنجلک ہوتی ہے۔ معاشیات کی فنی اصطلاحیں ہوں یا شریعت کے خالص علمی مباحث، دونوں کو سادگی سے بیان کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کسی علمی موضوع کے گہرے مباحث کو آسان زبان میں بیان کردینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بیان کو سہل ممتنع بنانا سہل نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے زبان اور موضوع دونوں پر عبور لازم ہے۔

دوسری کتاب: Towards a Just Monetary System

292 صفحات کی یہ کتاب 1985ء میں اسلامک فاؤنڈیشن، لیسٹر سے شائع ہوئی۔ مروجہ مالیاتی نظام کی خرابیوں کے جائزہ اور ان کے حل کے لیے اسلامی متبادل کی وضاحت اس کتاب کا موضوع ہے جس میں اسلامی نظام کے اصولی تعارف کے بعد مالیاتی پالیسی اور اس سے متعلق اداروں کا ذکر کیا گیا ہے اور مروجہ اداروں میں اسلامی نقطۂ نظر سے اصلاح اور مروجہ نظام سے اسلامی نظام مالیات تک کے مطلوبہ سفر (Transition)کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اصولی نوعیت کی گفتگو میں مالیات سے متعلق اسلام کے مقاصد، سود کی قران وحدیث میں تعریف اورسود کی حرمت کے احکام پر مدلل مواد یکجا کر دیا گیا ہے۔ سود سے اجتناب کر تے ہوئے زر اور بینکنگ کے مطلوبہ طریقہ کار اور متعلقہ مباحث کی وضاحت اور ان کے عملی پہلووں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کے عقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے شائع ہوئے تقریباً چار دہائیاں گزر چکی ہیں اس کے باوجود بھی یہ مباحث اور عقلی دلائل تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ کتاب میں زر، تمویل اور بینکنگ کے لیے موجود اداروں کی تنظیم نو اور نئے اداروں کے قیام کی تجاویز دی گئی ہیں۔

اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس وقت دنیا کے سامنے معیشت کے میدان میں سرمایہ داری اور اشتراکیت کے دو متبادل نظام پورے دعووں کے ساتھ موجود تھے۔ دونوں کا دور شباب تھا۔ مسلم ممالک بھی دو خیموں میں بٹے ہوئے تھے۔ اسلام کے معاشی نظام کی اصولی وضاحت اور نظری برتریت پر وقیع لٹریچر شائع ہو چکا تھا۔ سوال ان اصولوں کی عملیت کا تھا، خصوصاً سود کے بغیر مالیہ کے نظم سے متعلق۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی کی معرکۃ الآرا کتابیں “شرکت ومضاربت کے شرعی اصول” اور “غیر سودی بنک کاریِ” منظر عام پر آ چکی تھیں۔ اسی بحث کو ڈاکٹر چھاپرا کی متذکرہ کتاب نے آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر عمر چھاپرا نے کسی ملک کی پوری معیشت کی اسلامی بنیادوں پر تنظیم نو کے پیش نظر تجاویز دی تھیں۔ لیکن صورت حال یہ ہوئی کہ کوئی بھی ملک اس کار عظیم کے لیے آمادہ نہیں ہوا۔ پاکستان، سوڈان اور چند دیگر ممالک میں قابل قدر کام بھی ہوا، لیکن عشق کی وہ بے خطر جست جو شر کی [بظاہر] بے کراں وسعتوں کا قصہ تمام کر دے، آرزوئے ناتمام بن کر رہ گئی۔ اس طرح اکثر تجاویز اس کتاب کی زینت بنی رہیں۔ گرچہ اسلامی تمویل کا آخری تین دہائیوں سے زائد عرصہ میں بڑا چرچا رہا ہے۔ لیکن یہ سب افراد اور اداروں کی ذاتی کاوشیں ہی ہیں جن کو کسی حکومت کا بامعنی عملی تعاون نہیں ملا۔ اس طرح اس کتاب کے تجویز کردہ اقدامات، اصلاحات اور ادارہ جات ہنوز منتظر ہیں کہ ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ اور جب بھی ایسا کوئی مرحلہ آئے گا تو ان شاءاللہ یہ کتاب ایک مفید گائیڈ بک ثابت ہوگی۔

اس کتاب کے مباحث مالیاتی پالیسی بشمول زر اور بینکنگ تک محدود رکھے گئے تھے۔ اپنی تمام اہمیت کے باوجود مالیاتی مسائل بہرحال معاشیات کا ایک جزء ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر چھاپرا نے معاشیات کے کلی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور اس کے بعد تحریر کردہ اپنی دو کتابوں کے ذریعہ اس میدان میں قابل ذکر کام کیا ہے۔

ڈاکٹر چھاپرا اور معاشیات پر دیگر بڑے لکھنے والوں کے درمیان یہ فرق واضح طور پرمحسوس ہوتا ہے کہ یہ پوری دنیا سے خطاب کرتے ہیں، جبکہ دیگر افراد شایدصرف اہل ایمان کو مخاطب بناتے ہیں۔ ڈاکٹر چھاپرا کی تحریر کسی کو بھی مطالعہ کے لیے اس اطمینان سے دی جاسکتی ہے کہ اس کا مطالعہ کرکے وہ نہ صرف اسے سمجھ جائے گا، بلکہ اسلامی معاشیات اس پر واضح ہو جائے گی۔ یہ وصف ان کا طرہ امتیاز ہے اور راقم الحروف کی نگاہ میں اس موضوع پر ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

تیسری کتاب: Islam and the Economic Challenge

428 صفحات کی یہ کتاب1992میں اسلامک فاؤنڈیشن، لیسٹر سے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کے اشتراک سے شائع ہوئی تھی۔ اس وقت تک سوویت یونین بکھر چکا تھا اور اشتراکیت کا قلع قمع ہو چکا تھا۔ کتاب کے پیش لفظ میں پروفیسر خورشید احمد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ داری کامیاب ہو گئی ہے؟ اور اس کا یہ جواب دیا ہے کہ مثبت اقدار کے فقدان کے سبب سرمایہ دارانہ نظام بھی انسانوں کی فلاح وبہبود کا ضامن نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر چھاپرا نے اس نکتے کو مغربی دنیا کے عطا کردہ معاشی نظاموں کے علمی اور تفصیلی جائزے کے بعد پیش کیا ہے۔

سرمایہ داری اور اشتراکیت کے علاوہ مصنف نے ویلفیئر اسٹیٹ اور ڈیویلپمنٹ اکنامکس [development economics]کا مطالعہ پیش کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ یہ سب انسانی دکھوں کا مداوا نہیں کرسکے بلکہ ان کے اضافہ کا باعث بنے ہیں۔ کوئی بھی ملک غربت کے ازالے، انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل، تمام انسانوں کو اپنی معاشی کاوشوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے اور وسائل ودولت کی منصفانہ تقسیم کرنے جیسے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ دراصل ہر نظام اپنے تصور حیات[worldview]کے مطابق ہی نتیجہ خیز ہوسکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کائنات کی تخلیق کے بے معنی اور اتفاقی ہونے کے بنیادی مفروضہ پر قائم ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ مادیت اور اقدار کی نفی اور تصور افادیت [utilitarianism] ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس چیز میں لذت اور افادیت ہے وہ درست، اچھی اور مطلوب ہے اور اس کے برعکس جو مشکل ہو اور تکلیف دے وہ ترک کردینے کے لائق ہے۔ جس طرح اس خیال کے مطابق کائنات از خود چل رہی ہے ویسے ہی معیشت میں بھی انسان دخل اندازی نہ کرے۔ کیونکہ بازار کی اصلاح غیر مرئی قوتیں[invisible forces] از خود کرتی جائیں گی اس لیے معیشت کو درست کرنے کے لیے حکومت وقانون کی دخل اندازی جیسی مرئی [visible] قوتوں کی حاجت نہیں ہے۔ یہی بازار کی آزاد معیشت کا تصور ہے۔ یہ بات ناقابل تردید ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت تیز رفتار ترقی ہوئی ہے، لیکن زمین پر انسانی مسائل زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب ہو گئے۔ اس ترقی کا فائدہ سب کو نہیں پہنچا ہے، امیر اور غریب افراد کے درمیان تفاوت بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، بے روزگاری بڑھی ہے اور بحیثیت مجموعی نوع انسانی کی پریشانیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔

مرئی اور غیر مرئی قوتوں سلسلے میں، جسے معاشیات میں چھلنی کا طریقہ [filter mechanism]کہا جاتا ہے، خالص سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کے درمیان تضاد ہے کہ اول الذکر غیر مرئی چھلنی کو کافی سمجھتے ہیں جبکہ آخر الذکر مرئی چھلنی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اب دونوں فریق اپنے اصلی موقف پر قائم نہیں ہیں اور دونوں طریقہ کار کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر چھاپرا ایک تیسری چھلنی کا ذکر کرتے ہیں جسے وہ اقدار کی چھلنی [moral filter] سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ دراصل اسلامی شریعت ہے۔ وہ اس بات کے حق میں دلائل فراہم کرتے ہیں کہ اس کے بغیر بگڑی معیشت کا جہاز بھنور سے نکل کر ساحل پر نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کمال ہے کہ وہ اس بات کو معاشیات کی زبان میں اس کے ایک اصول کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اسلامی معاشیات میں اسے ہم ان کا ایک کارنامہ تصور کر سکتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ تباہیوں کی اصلاح کے لیے مشہور ماہر معاشیات کینس[Keynes] کے زیر اثر خسارہ کی تمویل[deficit finance]کے طریقہ پر ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور سامنے آیا، تاکہ انسانوں کی طلب میں اضافہ ہو۔ ڈاکٹر چھاپرا کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھی مادیت کا تصور حیات ہی کار فرما ہے۔ اس کے نتیجہ میں افراط زر ہوا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مستقبل کے وسائل کو حال میں استعمال کرنے کے لیے سرمایہ، زر کی زائد پیداوار اور سود کی بنیاد پر قرض کے ذریعہ ہی فراہم ہو سکتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں حکومتوں پر قرض کا بوجھ بہت بڑھ گیا جس کی ادائیگی کے متحمل ان کے اپنے وسائل نہیں ہو سکتے۔ دوسری خرابی زمین کے وسائل کا بے محابا استعمال ہے جس نے ماحولیات کے مسائل پیدا کردیئے۔ ڈاکٹر چھاپرا نے اسی طرح ڈیویلپمنٹ اکنامکس کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کے پاس ٹیکس میں اضافہ اور افراط زر جیسے ہتھیار ہیں جومسائل کا باضابطہ اور دیرپا حل نہیں ہیں۔ خصوصاً ٹیکس کے ذریعہ حکومتوں کی آمدنی میں محدود اضافہ ہی ممکن ہے۔

مغرب کے تمام معاشی تصورات کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد مصنف نے اسلامی تصور حیات کے تحت معاشی مسائل کے اسلامی حل پر اظہار خیال کیا ہے۔ تصور حیات کے ضمن میں وحدت الہ، خلافت، وحدت آدم، عدل اور مقاصد شریعت کے حوالہ سے معیشت کے سلسلہ میں مطلوب انسانی رویوں کو بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان تصورات کی پیدا کردہ اقدار کو اختیار کر کے ہی انسانی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

چوتھی کتاب: The Future of Economics – An Islamic Perspective

446 صفحات کی یہ کتاب2000ء میں اسلامک فائونڈیشن لیسٹر سے شائع ہوئی تھی۔ مروجہ معاشیات خصوصاً مابعد کینس معیشت کے اصولوں پر عالمانہ تبصروں کا جو کام ڈاکٹر چھاپرا نے اپنی سابقہ کتاب میں کیا تھا، اس کتاب میں اسے زیادہ اختصار سے جاری رکھتے ہوئے، اسلامی تاریخ کے حوالہ سے مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے اور اس بات پر گفتگو کی ہے کہ اس علم کو انسانوں کے لیے مفید بنانے کی راہیں کیا ہیں؟ ایک طرف مغرب سے برآمد ہوئی معاشیات کے تمام نظام اپنے اصل مقصد یعنی انسانی فلاح میں ناکام ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ وہ زوال پذیر ہیں اور ان کے لیے خود اپنے معاشی حالات کو سنبھالنا محال ہورہا ہے کجا کہ وہ دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیں۔

مروجہ مغربی معاشیات کی تمام صورتوں کی ناکامی کی فہرست طویل ہے ان کی خرابیاں اتفاقی نہیں ہیں بلکہ بنیادی نوعیت [structural]کی ہیں جن کا لازمی نتیجہ بے روزگاری، بازار کی خرابیوں میں حکومتی عمل دخل کی ناکامی، ظلم، وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نہ ہونا، افراد اور ممالک کا قرض کی ادئیگی نہ کر پانا اورقرض کا مستقل بڑھتا چلا جانا، زر میں بے تحاشا اضافہ اور اس کے نتیجہ میں افراط زر اور سٹہ بازاری کے بڑھتے رجحان کی شکل میں نظر آرہا ہے۔ مروجہ معاشی نظام پرتبصرہ کرتے ہوئے مصنف کا رویہ منفی نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک درد مند دل محسوس ہوتا ہے جو اس علم کے نادرست استعمال سے پریشان ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ یہ انسانوں کی خدمت اور ان کے درمیان عدل ومساوات [egalitarian] کا ذریعہ بنے۔

مصنف نے اپنے مباحث کے سلسلہ میں مسلمانوں کی علمی تاریخ کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ علم وتحقیق کے سلسلہ میں اسلام کے اصولوں کی وضاحت اور مقاصد شریعت کے تذکرے کے بعد انھوں نے عقل پسندی اور روایت پسندی کی تاریخ بیان کرنے کے لیے یہاں سے بات شروع کی ہے کہ معتزلہ نے جبر کا راستہ اختیار کرتے ہوئے امام احمدؒ کے خلاف حکومت کی طاقت کا استعمال کیا۔ “رائے” اور “روایت” دونوں کا ایک دوجے سے بچھڑ جانا، بعد المشرقین ہوجانا یا بوجوہ متصادم ہو جانا، ہمیشہ علمی سانحہ ہوتا ہے۔ مصنف نے انسانی معیشت پر اثر انداز ہونے والے امور کے حوالے سے مسلمانوں کے علمی سفر کی روداد بیان کی ہے اور جدید دور میں اصلاح حال کے حوالے سے ان سے نتائج اخذ کیے ہیں۔ اس علمی سفر میں انھوں نے خصوصی طور پر ابن خلدون، المقریزی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے کام اور آراء پر نگاہ ڈالی ہے۔

ہم نے اپنے اس مضمون کی ابتدا میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ڈاکٹر عمر چھاپرا کے علمی مقام کے حوالے ایک رائے کا ذکر کیا تھا۔ ایک دوسرے مقام پر انھوں نے ڈاکٹر چھاپرا کے اسلامی معاشیات کے کام کا درجہ فقہ المالیہ میں امام محمد شیبانیؒ کے کام کے برابر قرار دیا ہے۔ ہم اس رائے کو بھی قبول کرسکتے ہیں۔ موازنے سے قطع نظر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے زمانے میں اسلامی معاشیات کے مباحث کو علمی اور سادہ انداز میں بیان کرنے اور مسلم ممالک میں اگر کسی کو اسے اختیار کرنے کی توفیق ہو تو ان کے لیے نشان راہ [road map] بلکہ گائیڈ بک تیار کرنے میں، کوئی ڈاکٹر عمر چھاپرا کا ثانی نہیں ہے۔ اس موضوع پر مسلم حکومتوں کے لیے انھوں نے حجت تمام کردی ہے۔ اور جہاں تک افراد اور اداروں کی ضروریات کا تعلق ہے، ڈاکٹر چھاپرا کے کام میں ان کے لیے مفید چیزیں موجود ہیں، گرچہ یہ ان کی توجہ کا بنیادی نکتہ محسوس نہیں ہوتا ہے۔

مارچ 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau