اشاعتِ اسلام میں ركاوٹیں

محمد شہزاد

ہندوستان میں اسلام آیا۔ لیکن یہاں کی پوری آبادی نے اسلام نہیں اپنایا۔ یہ آبادی دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر کیا وجہ رہی کہ ہندوستان میں اسلام كی اشاعت اتنی نه هو سكی جتنی  انڈونیشیا(88%) و ملیشیا61%میں ہے۔ یہ سوال میرے ذہن میںتھا۔ ادھر اس موضوع پر کچھ مطالعہ کا موقع ملا۔ اس مطالعہ کی بنیا دپر چند باتیں آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔اسلام جب ہندوستان میں آیا تو بعض لوگوںنے اسلام كی اشاعت كو روکنے كی کوشش کی۔

(1)  اسلام کی خوبیاں ہندوازم میں دکھلائی گئیں: ۔اسلام ایک فکر ہے اور کسی فکر کو دوسری فکر سے  ہی روکا جا سکتا ہے۔اس لیے فکری  طور پر اسلام کا مقابلہ کیا گیا۔اور یہ بتا یا گیا کہ اسلامی فکر کی خاص باتیںپہلے سے ہندو دھرم میں موجود ہیں۔

(الف) توحید اسلام کی سب سے بڑی خوبی تھی : ۔ بعض ہندوعلماء نے یہ بات كهی کہ ہندودھرم میں بھی توحید هے۔

(ب) مورتی پوجا:۔ ہندودھرم اور مشرکانہ مذاہب میں مورتی پوجا ایک اہم جزہے لیکن بعض ہندوعلماء نے یہ نظریہ پیش کیاکہ ہندودھرم میں بھی مورتی پوجانہیں ہے۔دوسرے یہ کہ مورتی پوجا کی  فلسفیانہ تشریح کی گئی۔

(ج) مساوات:۔ اسلام کی نمایاں خوبی مساوات ہے۔ہندودھرم کےبعض علماء نے کہا کہ اس میں بھی مساوات ہے۔

(د) بھگتی تحریک : پندرہویں صدی میں بہت ساری سماجی مذہبی تحریکیں اٹھیںجو بھگتی تحریک کے نام سے جانی جاتی ہیںجو مساوات کا درس دیتی تھیں۔ ان میں خاص نام  نام دیو،رام داس ، رامانند ، کبیر، نانک اور چیتنیہ کے ہیں ۔ان سب نے مساوات کی تعلیم  دی اور اس طرح لوگوں کو یہ بتا یا گیا کہ جس اسلام کے تم گرویدہ  ہو اس اسلام کی خوبیاں پہلے سے ہندو دھرم  میں موجود ہیں۔ان کی کوشش سے جو لوگ ہندو دھرم کو چھوڑ رہے تھے وه رك گئے۔بھگتی تحریک میں نیچے ذات والوں كو باعزت زندگی مل سكی ۔انہوں نے مورتی پوجا کی بھی مخالفت کی۔

(2) ذات پات کا نظام: ۔نیچے ذات کےبعض لوگوںنے اپنی حیثیت بہتر کرنے کے لیے اسلام کو اپنایا لیکن  ذات پات کے نظام میں اعلیٰ كهے جانے والوں كی  ایک پہچان تھی اور  سرداری کا مقام تھا۔ مذہب بدلنے سے ان کی اعلیٰ پہچان ختم ہوجاتی ۔ اس لئے بڑی ذات کے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔

(3) حکمرانوںنے ا سلام قبول نہیں کیا:۔ ملیشیاء ، انڈونیشا اور افغانستان میں حاکم وقت نے اسلام قبول کیا اس لئے سارا ملک اسلام میں آگیا۔ ہندوستان کے بنگال، پنجاب، سندھ اور کشمیر میں حاکم نے اسلام قبول کیا اس لئے اکثریت نے اسلام قبول کیا۔ باقی علاقوں کے حکمراں اسلام نہیں لائے اس لئے اکثریت اسلام نہ لاسکی۔

(4) بدھ مذہب کے لوگ اسلام لائے: ۔لیکن ہندومذہب کی اکثریت نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ملیشیا، انڈونیشیا، افغانستان اور کشمیر میں بدھ حکمراں تھے اسلام لائےتواکثریت اسلام لے آئی۔

(5) پچھڑے طبقات کے لیے تحفظ(Reservation):۔ پچھڑے طبقات (SC/ST) کو باعزت زندگی نہیں مل پاتی۔ یہ لوگ ہندودھرم چھوڑکر جاسکتے ہیں۔اس لیےان کو تحفظ Reservationدیا گیا۔درج فہرست  ذاتیں جو ہند وہیں ان کے لئے ہی یہ سہولت ہے۔اگر وہ مسلمان یا عیسائی ہو جاتے ہیں تو ان کو یہ سہولت نہیں ملے گی۔

(6)  مسلمانوں سے دوری:۔ یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں کے قریب رہنے سے ہندومتاثرہوتے ہیں اور اسلام قبول کرلیتے ہیں ۔ اس لئے یہ کوشش کی گئی کہ ہندوئوں کو مسلمانوں سے دور کردیا جائے ۔دوری پیدا کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال كیے گئے ۔

(7) ہندومسلم فسادات:۔ہندو مسلم فسادات کرائے گئے تاکہ دلوں میں نفرت پیدا کی جاسکے اور مسلم اپنے محلے الگ بنائیں ۔اس طرح ہندومسلم کے ملنے کی امید کم کردی گئی۔

(8) مذہب تبدیلی مخالف بل (Anti Conversion Bill):۔یہ بل آٹھ ریاستوں میں بنایا گیا ۔ہندوستان کی آئینی دفعہ 25کے تحت ہر آدمی کو اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی ہے۔ہندوستان کی اکثریت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ مذہب تبدیلی کا حق انسان کوحاصل  ہونا چاہئے۔ حقوق انسانی کی بنیاد پر اس دفعہ کو پسند کیا جاتاہے۔ درج فہرست ذات کے لوگ بھی اس دفعہ کو چاہتے ہیں۔ لیکن ایک چھوٹا سا طبقہ تبدیلیٔ مذہب کو پسندنہیں کرتا۔ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اب سیدھے سیدھے تو تبدیلی ٔمذہب کو روک نہیں سکتے۔ تو پھر وہ کہتے ہیں کہ تبدیلی ٔ مذہب میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ دھوکاFraudسے یا لالچ سے نہیں ہوا ہے ۔ اس لئے مذہب کی تبدیلی ضلع انتظامیہ.(D.M)کے سامنے ہونی چاہئے۔ یہی مذہب تبدیلی مخالف بل Bill) (Anti Conversion ہے۔ اس طرح تبدیلی مذہب و مشکل بنا دیا گیا ہے۔

(9) اسلام کو بدنام کیا گیا:۔ اسلام اپنے آپ میں ایک کشش رکھتا ہے۔ اس کے سادہ قوانین ، مساوات اللہ سے سیدھے تعلق جیسی باتیں کشش رکھتی ہیں۔ اس لئے اسلا م سے دوری پیداکرنے کے لئے اسلام کو بدنام کیا گیا۔

اس میں دو طرح کی باتیں ہوئیں۔ ایک تواسلام کو بدنام کرنا دوسرا رسولؐ کی زندگی کو بدنما بنا کر پیش کرنا۔

(10)  داعی میں خوف پیدا کرنا:۔ دعوت کا کام کرنے والوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اس کے لئے جو لوگ دعوت کا کام کرتے ہیں ان کو پریشان کیا گیا۔

تدارك

(1) روابط قائم کئے جائیں:۔  اہم بات یہ ہے کہ ہندومسلم روابط قائم کئے جائیں جس سے ان کے بیچ میں دوری کم ہوسکے ۔ہندومسلم ایک ساتھ ملیں جلیں گے تو جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہوں گی۔انفرادی ربط بڑھایا جائے۔

(2) اسلام کی خوبیو ں کو اجاگر کیا جائے ۔ جیسے توحید، مساوات اور سادگی وغیرہ۔

(3) ذات پات کے نظام کو ختم کیا جائے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی ذات پات کا نظام ہے جس ذات پات کو چھوڑکر وہ اسلام کی طرف آئے وہ یہاں بھی ذات پات کا نظام پاتے ہیں ۔اس لئے اس نظام کو ختم کیا جائے اور مساوات کو بڑھاوا دیا جائے ۔

(4) حکمراں طبقے پر بھی کوشش کی جائے :۔ داعیوں نے عام طورپر نچلے ذات والوں پر کوشش کی ہے لیکن حکمراں طبقے پر بھی کوشش ہونی چاہئے اور ان کو آخرت کی بڑی کامیابی کے لئے دعوت دی جائے۔

(5) اسلام کا عملی نمونہ پیش کیا جائے:۔ بعض مسلمانوں کا عمل اچھانہیں ہے ۔اس لئے ہندو مسلمان کو دیکھ کر متاثرنہیں ہوتے۔ وہ اسلام کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں كی اصلاح كی جائے۔

(6) خوف کو ختم کیا جائے۔ اللہ کے تعلق سے یہ خوف ختم ہوسکتا ہے۔موت کا ڈر ختم کیاجائے ۔ جہاں ضرورت ہو قانونی لڑائی لڑی جائے ۔ جن لوگوں پر مظالم ہورہے ہیں ان کا مسلم ملت کوساتھ دیناچاہئے۔

اگست 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau