امت مسلمہ کی منصبی ذمّے داریاں

(2)

مولانا محمد جرجیس کریمی

دنیا میں آج مسلمانوں کے درمیان انتشار نظرآتا ہے۔ اس کا اہم سبب آپسی اختلافات کافروغ اور اجتماعیت و وحدت کا فقدان ہے۔ ملکی سطح پر بھی امت میں متعددتنظیمیں اور ادارے ہیں۔ مزیدبرآںامت مختلف مسلکوں میں تقسیم ہے عالمی سطح پر مسلم ممالک الگ الگ خانوں میں بٹے ہوئے ہیں، اتحادو اتفاق کے جو ایک دو پلیٹ فارم نظر آرہے ہیں، جیسے مسلم پرسنل لا بورڈ یا آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز ﴿او آئی سی﴾ وغیرہ یا تو رسمی طورپر اتحاد کے مناظر آتے ہیں یا ایسے مسئلے میں اتحاد نظرآتا ہے جو ملت کے لئے بہت زیادہ مؤثر نہیں ہیں۔

۴- علم کو فروغ دینا

انبیاء  کی بعثت کاایک مقصد یہ بیان کیاگیا ہے کہ وہ اپنی قوم کو علم سکھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴿الجمعہ:۲﴾

’’وہی ہے جس نے امّیوںکے اندر ایک رسول خود ان ہی میں سے مبعوث کیا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے ، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘

علماء  امت کو وارث انبیاء  کہاگیاہے اور یہ بتایا گیا کہ انبیاء  مال و دولت کی وراثت نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ علم ووصی کی وراثت چھوڑکر دنیا سے جاتے ہیں۔ ﴿ابوداؤد:۳۶۴۱، ابن ماجہ:۲۲۵﴾

یہی وجہ ہے کہ امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ دین و علم سیکھنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے پر مامور کیاگیا ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے ۔ ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ          ﴿التوبہ:۱۲۲﴾

’’اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے۔ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ ﴿غیرمسلمانہ روش سے﴾ پرہیز کرتے۔‘‘

علم کا حاصل کرنا نہ صرف ہر مومن کا فرض ہے بلکہ اس کی تعلیم و تبلیغ بھی ضروری ہے اور قرآن مجید میں کتمان علم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد ہے:

انَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ﴿البقرہ:۱۵۹﴾

’’جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں دراں حالانکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہ نمائی کے لئے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں۔ یقین جانو اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘

اسلام میں علم کی بڑی فضیلتیں وارد ہیں اور علماء  کو نہ صرف عاصی ممتاز قرار دیاگیا ہے بلکہ عبادت گزاروں پر بھی فضیلت جتائی گئی ہے۔ قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تو سب سے پہلے پڑھنے کا حکم دیاگیااس کے بعد دیگر احکام نازل ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم و دین سیکھنے اور سکھانے کو ایک مثال سے سمجھایا ہے۔ ارشاد ہے:

۱-            اللہ تعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مبعوث کیاہے اس کی مثال بارش کی سی ہے۔ زمین پر بارش نازل ہوئی۔ اس کے زرخیز حصے نے پانی جذب کیا اور سبزی اور سبزہ اگایا اور زمین کے ایک ایسے ٹکڑے پر بارش ہوئی جو بنجر تھی، اس نے پانی سنبھال کر رکھا اس سے اللہ نے انسان کو فائدہ پہنچایا۔ لوگوں نے وہ پانی پیا، سینچائی کی اور کھیتی کی۔ اور زمین کے ایک ایسے ٹکڑے پر بارش ہوئی جو چٹیل تھی اس نے نہ پانی روکا نہ سبزہ اگایا۔ یہی حال اس شخص کا ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہوئی ہدایت سے اسے نفع پہنچایا پس اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ اور یہی حال اس کا ہے جس نے اس سلسلے میں سرے سے کچھ توجہ ہی نہیں کیا اور نہ اس نے اس ہدایت کو قبول کیا جس کو دے کر میں بھیجا گیاہوں۔‘‘ ﴿مسلم:۲۲۸۲﴾

علم کا سب سے قابل اعتماد ذریعہ وحی ہے، جس کا سرچشمہ خود ذات الٰہی ہے۔ اس لئے اسلام میں قرآن مجید اور احادیث نبویہ ﷺ  کی تحصیل و تعلیم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہے:

مامن قوم یجتمعون فی بیت من بیوت اللہ یتعلمون القرآن و نیدارسون بیہم الاحفتہم الملائکۃ وغشیتم الرحمۃ وتنزلت علیہم الکنیۃ وذکر اللہ فیمن عندہ ﴿مسلم:۲۲۹۹﴾

’’جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں رکی ہوتی ہے قرآن سیکھتی ہے اور قرآن کا مذاکرہ کرتی ہے تو فرشتے ان کو چھالیتے ہیں اور رحمت انھیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے ان کا ذکر کرتا ہے۔‘‘

اسلام میں تحصیل علم کے مقصد کی بھی وضاحت کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اس کی خشیت کو اولیت حاصل ہے اور تحصیل علم کو دنیوی اور وقتی و سطی مقاصد سے پاک کیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

من تعلم علاما یبتغی بہ وجہ اللہ لا یتعلمہ الا یعصب عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنۃ ﴿ابوداؤد: ۳۶۶۴﴾

’’وہ علم جس سے اللہ کی رضا تلاش کی جاتی ہے اگر کوئی اسے دنیا کمانے کے لئے حاصل کرتا ہے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا۔‘‘

بعض دوسری روایات میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اگر تحصیل علم کا مقصد علماء  سے مسابقہ آرائی ہو یا ان پڑھ لوگوں پر فوقیت جتانا ہو یا شہرت و ریا و نمود ہوتو یہ بھی اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوگا اور ایسا شخص جہنم رسید ہوگا۔‘‘ ﴿ترمذی: ۶۲۵۴﴾

اسلام نے علم کے فروغ کو مفت اور بلااجرت امت مسلمہ کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:

قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنo  ﴿ص:۸۶﴾

’’کہو میں تم سے اس پر کسی اجرت کا طلب گار نہیں ہوں اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘

۷-امتِ بشارت و سہولت

انبیاء  کی بعثت کاایک مقصد قوموں کو مختلف جکڑبندیوں اور طوق و سلاسل سے نجات دلانا بھی ہے۔ چاہے وہ باطل عقائد اور توہمات کی جکڑبندیاں ہوں یا نفسانی خواہشات کے طوق ہوں یا انسانوں کی غلامی کی زنجیر یں ہوں۔ اس طرح کے تمام سلاسل اور طوق کو کاٹنا اور انسانیت کو ان سے نجات دلانا انبیاء  کا مقصد رہاہے۔ ارشاد ہے:

إِالَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ         ﴿الاعراف:۱۵۷﴾

’’جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھاہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بُری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہراتے ہیں اور گندی چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔‘‘

آسانی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو آسان اور قابل فہم اسلوب و پیرایہ میں اتارا، کہ جس کی تفصیلات واضح اور سمجھ میں آنے والی ہیں۔ اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان، اس کے احکام پر عمل کرنا آسان اور اس کو یاد کرنا ابھی آسان۔ کسی بھی پہلو سے اس کو مشکل نہیں بنایاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے س مہربانی کاحوالہ بھی دیا ہے۔ ارشاد ہے۔

فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا ﴿مریم:۹۷﴾

’’ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت آسان کردیا ہے کہ تو اس کے ذریعہ پرہیزگاروں کو خوش خبری دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرادے۔‘‘

قرآن مجید نہ صرف سمجھنے کے اعتبار سے آسان ہے بلکہ اس کے احکام اور تعلیمات پر عمل بھی سہل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ                  ﴿المائدہ:۶﴾

’’اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں ڈالنا چاہتابلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کاہے‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

ہُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ    ﴿الحج : ۷۸﴾

’’اس نے تمہیں منتخب کیا اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی‘‘

شریعت کے کئی احکام میں حسب استطاعت تخفیف کی گئی ہے مثلاً معذوروں کے لئے جہاد ، روزہ، حج، زکوٰۃ اور نماز میں تخفیف کی گئی ہے اور قضا اور کفارے کی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ليْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ  ﴿التوبہ:۹۱﴾

’’کمزوروںپر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیرخواہی کرتے ہیں ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں وضاحت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بلکہ آسانی پیدا کرنے والے اور مسلم کی حیثیت سے مبعوث کیاہے۔ ﴿مسلم:۲۰۰۴﴾’’ لہٰذا اے مسلمانو! تم بھی لوگوں سے دین کے معاملے میں سختی نہ کرو بلکہ آسانی پیدا کرو اور شہادت دینے والا بن کر رہو۔‘‘ ﴿بخاری:۳۹﴾

اللہ تعالیٰ نے پہلے پچاس وقت کی نمازیں فرض کی تھیں مگر وہ نہ صرف پانچ کردی گئیں بلکہ ان کا ثواب پچاس وقتوں کے برابر کردیاگیا۔ ﴿مسلم:۲۵۹﴾

اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے نیکی اور بدی کے ثواب و گناہ میں فرق کیا ہے جو شخص نیکی کرتا ہے تو اس کو اس کی نیکی سے زیادہ دس گناہ سے سات سو گنا تک اجر ملے گا مگر جو بدی کرتاہے تو اس کو اس کی بدی کے بقدر سزا ملے گی۔ ﴿مسلم:۱۳۱﴾

اللہ تعالیٰ نے دل میں پیدا ہونے والے وساوس و خطرات کو معاف کیا ورنہ اگر ان کا حساب ہوتو کوئی بھی شخص گرفت سے نہ بچ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ﴿البقرہ:۲۸۶﴾

’’اور کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ہے ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘

ان تمام تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام آسانی پیدا کرنے والا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے لوگ آسان پسند ہوتے ہیں اور لوگوں کو آسانی اور سہولت کی طرف بلاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

ان الدین یسرولن یشادالدین احد الاغلبہ فسدّوا وقاربوا و ابشروا و استعینوا بالفدوۃ والروحتہ وشی من الدلجۃ ﴿بخاری ۳۹﴾

دین آسان ہے اور دین میں جو سختی اختیار کرے گا اس پر غالب ہوکر رہے گا ﴿یعنی وہ دین سے بے زار ہوجائے گا﴾ تو میانہ روی اختیارکر اور دین کے قریب رہو، ثواب کی امید میں خوش رہو، صبح و شام اور اخیر رات کی سرگرمی ﴿اس سے مراد ان اوقات میں عبادت ہے﴾ سے مدد چاہو۔‘‘

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau