انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس

شناخت اور صنفی شناخت کا بیانیہ (15)

ڈاکٹر محمد رضوان

اس مضمون میں شناخت کے بیانیے کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ شناخت کا بیانیہ جو بڑے زور و شور کے ساتھ +LGBTQنے اپنے آپ کو سند (Validate) دینے کے لیے استعمال کیا ہے، وہ کن کن عوامل سے تشکیل پاتا ہے۔ کون کون سے عوامل شناخت کے احساس کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

شناخت کی تشخیص کے عوامل

شناخت کے پیچیدہ نظام اصطلاحات (Jargon) میں جائے بغیر آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شناخت اصل میں اس احساس کا نام ہے جو فرد اپنے داخل اور خارج میں اپنے لیے محسوس کرتا ہے۔ مثلًا میری کئی شناختیں ہیں۔ میں ایک مسلمان ہوں۔ میں ایک انسان ہوں۔ میں ایک پروفیسر ہوں۔ میں ایک والد ہوں۔ میں ہندوستان کا شہری ہوں وغیرہ۔

اب یہ شناخت مختلف پہلوؤں اور حیثیتوں کا مرکب ہے۔ مثلًا میں ایک انسان ہوں یہ شناخت میرے اختیار یا قبضہ قدرت میں نہیں ہے۔ کیوں کہ میں بہ طور انسان وجود میں آیا ہوں۔ اس لیے میں انسان ہوں۔ اسے طے شدہ شناخت (Determined Identity ) کہا جاسکتا ہے۔ اب اگر میرے ظاہری اعضا مرد کے ہوں تو مجھے مرد کہا جاتا ہے اگر عورت کے ہوں تو عورت کہا جاتا ہے۔ لیکن بلوغت کو پہنچتے وقت بہت سے افراد اپنے آپ کو ظاہری حیاتیاتی مظاہر کی طرح محسوس نہیں کرتے۔ اسے صنفی اضطراب (gender dysphoria) کہا جاتا ہے جس پر اس سے پہلے تفصیل سے بات آچکی ہے۔ چناں چہ ظاہری جنسی اعضا کے اعتبار سے کسی کی ایک شناخت مرد کی ہو سکتی ہے اور دوسری شناخت وہ ہو سکتی ہے جو فرد خود محسوس کرتا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ داخلی اعتبار سے وہ اپنے آپ کو ایک عورت یا کوئی اور شے محسوس کرتا ہو۔

شناخت ایک پیچیدہ اور کثیر الجہت تخلیق ہے جو انفرادی، معاشرتی، ثقافتی اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ شناخت کی تشکیل اور ارتقا مختلف عناصر سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم عوامل بیان کیے جاتے ہیں جو شناخت کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں:

ثقافتی پس منظر اور ورثہ (Cultural Background and Heritage)

شناخت کے سلسلے میں سب سے زیادہ جس پہلو پر زور دیا گیا ہے اور بہ طور خاص جوڈتھ بٹلر (Judith Butler) اور اس قبیل کے جتنے مابعد جدیدیت کے مفکرین ہیں جو جنس اور جنسی تھیوری پر کام کرتے ہیں انھوں نے اس نقطے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے کہ شناخت دراصل ایک تخلیق ہے۔ وہ اس سماج میں ہونے والے ہر اس عمل سے متاثر ہوتی ہے جس میں فرد نشوونما پاتا ہے اور اپنے ارد گرد کے سماج کی سمجھ کا ایک محل تخلیق کرتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے جوڈتھ بٹلر کی کتاب جنڈر ٹربل۔ [1]

اس لیے شناخت کے حوالے سے مغرب، مشرق، مشرق بعید، افریقہ اور دنیا کے مختلف براعظموں میں پائے جانے والے ثقافتی اثرات شناخت کی تشکیل کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب کے افراد اور سماج اور مشرق کے افراد اور سماج کے درمیان شناخت کا بہت بڑا فرق ہے اور شناخت کی تخلیق کے سلسلے میں جو حساسیت اور بعض اوقات غیر ضروری حساسیت مغرب کے معاشرے میں پائی جاتی ہے یا وہاں کے اشرافیہ، قانون سازوں اور پالیسی سازوں میں پائی جاتی ہے، وہ حساسیت یا غیر ضروری حساسیت مشرق اور مشرق بعید کے معاشروں میں نظر نہیں آتی ہے۔ اسی لیے ابتدا میں شناخت کا ڈسکورس ہمارے لیے ایک اجنبی ڈسکورس تھا لیکن +LGBTQ شناخت نیز نسوانیت کی تحریکات نے اس پورے ڈسکورس کو مغرب سے بہت دور دراز علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔ اس لیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا میں شناخت پر ضروری اور غیر ضروری زور دیا جانے لگا ہے۔

ثقافتی پس منظر اور ورثے کے عوامل کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جو مغرب میں شناخت کے تئیں غیر ضروری طور پر حساس معاشرے میں پلتا اور بڑھتا ہے وہ اس بچے سے جو افریقہ کے کسی دور دراز علاقے میں پلا بڑھا ہو مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ روایتی مغربی بیانیے، ثقافتی اثرات، زبان اور روایتوں سے نامانوس ہوتا ہے، جس سے مغرب کا بچہ گزرتا ہے۔ چناں چہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ شناخت بڑی حد تک ایک سماجی تخلیق ہے اور وہ ثقافت سے متاثر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ “صرف” سماجی تخلیق نہیں ہے بلکہ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر شناخت کے احساس کے غیر ضروری حصوں پر زور نہ دیا جائے تو اس سے ایک عام بچہ جو اس طرح کی حساسیت کے پہلو سے معتدل ماحول میں پروان چڑھے گا وہ شناخت کے ان منفی پہلوؤں سے متاثر نہیں ہوگا جن سے آج کا مغربی بچہ متاثر ہوتا ہے۔ اصلًا شناخت پر غیر ضروری زور بچے پر ایک طرح کا ثقافتی دباؤ ڈالتا ہے جس سے تعامل کرنے کا ملکہ اس بچہ کے پاس نہیں ہوتا۔ اس پہلو سے اسے غیر ضروری ثقافتی دباؤ کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک آج کے مغرب کے معاشرے میں شناخت کے حوالے سے یہ غیر ضروری ثقافتی دباؤ مغرب کے ہر بچے کو خواہی نہ خواہی جھیلنا پڑ رہا ہے۔

ثقافتی اثرات شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زبان، روایات، رسم و رواج اور ورثہ تعلق کے احساس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اکثر فرد کی ثقافتی شناخت کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں.

خاندانی حرکیات اور پرورش (Family Dynamics and Upbringing)

خاندان ایک بنیادی سماجی اکائی ہے جو شناخت کو تشکیل دیتی ہے۔ پرورش، خاندانی اقدار، اور خاندان کے اندر تعلقات ایک فرد کے احساس نفس کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں. اس حوالے سے ان تحقیقات کا جائزہ بڑا دل چسپ ہوگا جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ عام طور پر +LGBTQافراد کے بچے غیر +LGBTQافراد کے مقابلے میں زیادہ +LGBTQکے رجحان کی طرف نظر آتے ہیں۔ چناں چہ تحقیقات دکھاتی ہیں کہ مرد ہم جنس پرست افراد کے بچے زیادہ تر مرد ہم جنس پرست ہوئے ہیں۔ اسی طرح عورت ہم جنس پرست جوڑوں کے ذریعے پرورش کردہ بچے زیادہ تر عورت ہم جنس پرستی کی طرف مائل پائے گئے۔ چناں چہ عمومی شناخت ہو یا صنفی شناخت وہ خاندان کی حرکیات اور افراد خاندان کی شناخت سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

ذاتی تجربات (Personal Experiences)

انفرادی تجربات، خاص طور پر زندگی کے اہم واقعات اور موڑ شناخت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثبت یا منفی تجربات، کام یابیاں اور چیلنج کسی کی شناخت کے احساس کو تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں. اس ضمن میں کثیر تعداد میں باوثوق تحقیقات اسے ثابت کرتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے بچوں میں مرد ہم جنس پرستی کا رجحان اس طرح کے کسی منحرف جنسی تجربے سے گزرنے کے بعد پیدا ہوا۔ اسی طرح عورت ہم جنس پرستوں میں بھی ہم جنس پرستی کا رجحان اپنے کسی قریبی رشتے دار یا عزیز کے ذریعے جنسی استحصال کا شکار ہونے کے بعد پیدا ہوا۔ جنسی ہراسانی یا جنسی صدمے سے دو چار ہونے کا تلخ تجربہ اس لڑکے یا لڑکی کے مرد ہم جنسیت یا عورت ہم جنسیت کی طرف مائل ہونے کا سبب بنا۔ لیکن اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ کثیر تعداد میں ایسے بھی کیس سامنے آئے ہیں جن میں بچپن میں کسی جنسی تجربے کا شکار نہ ہونے کے باوجود انحرافی جنسی رویے کی طرف میلان پایا گیا۔ چناں چہ اس بات کو علمی اور اکیڈمک انداز میں سمجھنے پرکھنے اور رکھنے کی ضرورت ہے کہ صد فیصد ایسا نہیں ہے کہ بچپن میں پیش آنے والے جنسی تجربات کے بعد ہی لوگ جنسی انحراف کی طرف مائل ہوئے بلکہ اس کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ اس طرح کے تجربات سے گزرے بغیر بھی شناخت اور صنفی شناخت متاثر ہوتی ہے۔

سماجی ماحول اور ساتھیوں کا اثر (Social Environment and Peer Influence)

ساتھیوں کے ساتھ بات چیت اور وسیع تر سماجی ماحول، بشمول دوست، ہم جماعت اور ساتھی شناخت کی ساخت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سماجی قبولیت، تعلقات اور معاشرتی اصول فرد کی شناخت کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

سماجی ماحول بطور خاص محلے اور اسکول وغیرہ کا ماحول بھی شناخت اور صنفی شناخت کے پورے پیراڈائم پر غیر معمولی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جنس اور جنسیت (Gender and Sexuality)

صنفی شناخت اور جنسی رجحان شناخت کے لازمی اجزا ہیں۔ صنف اور جنسیت سے متعلق معاشرتی توقعات، ثقافتی اقدار اور انفرادی تجربات شناخت کے ان پہلوؤں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

معاشرتی توقعات میں سب سے اہم بول چال کے صیغے، کپڑے پہننے کے انداز وغیرہ ہوتے ہیں۔ مثلًا ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے انداز کے کپڑے پہنے گا۔ میں آ رہا ہوں، میں جارہا ہوں جیسے صیغے استعمال کرے گا۔ اس سے آگے بڑھ کر توقع کی جاتی ہے کہ مرد روئے گا نہیں۔ مرد خاندان کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ مرد عورت کو کما کر کھلانے کا ذمہ دار ہے۔ مرد کو گھر کے باہر کے سارے معاملات دیکھنے ہوں گے۔ یہ تمام معاشرتی توقعات ہیں۔ اسی طرح سے ثقافتی اقدار ہوتی ہیں۔ چناں چہ بہت سی ثقافتوں میں مرد کے لیے مخصوص رول ہوتے ہیں۔ افریقہ کے قبائل میں یہ ثقافتی رول مغرب یا مشرق سے مختلف ہیں۔ لیکن ثقافتی اختلافات سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر تمام ثقافتوں کو ایک ہی برش سے پینٹ کر دیا جائے جیسا کہ جوڈتھ بٹلر اور دیگر ما بعد جدیدیت کے ماہرین جنس سے ہوا ہے تو یہ بحث صحیح سمت میں نہیں رہ پاتی ہے۔ یہ مفکرین مختلف ثقافتوں کی موجودگی کو قبول تو کرتے ہیں لیکن اس کے بعد کے مرحلے میں ایک ہی برش سے سب کو پینٹ کرنے لگتے ہیں اور یہ ایک طرح کا مغالطہ ہے کیوں کہ جب آپ ایک سفید فام مغربی معاشرے کی اصطلاحات، تصورات اور ان پر مبنی اور ان کے ذریعے ارتقا پذیر اداروں کے دائرے میں رہ کر تمام دنیا کے لیے شناخت اور صنفی شناخت کا پیراڈائم متعین کرتے ہیں تو یہ پرفریب مغالطہ ہوتا ہے۔

بہرحال اس ما بعد جدیدی مظہر کو اگر ہٹا بھی دے جائے اور مقامیت پر مبنی نقطہ نظر (Localizationist view) کو سامنے رکھیں تو بھی کچھ بنیادی آفاقی ثقافتی رول ہیں جو مرد کے لیے ہیں اور کچھ رول ہیں جو عورت کے لیے ہیں۔ اور یہ ثقافتی رول انسانی تہذیب کے ظہور پذیر ہونے کے بعد سے اب تک تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ موجود رہے ہیں۔ چاہے وہ مادر سری سماج ہو چاہے پدر سری سماج ہو یا ان دونوں کے درمیان کا کوئی سماج ہو یا قبائلی رسوم و رواج ہوں۔ ان تمام میں کچھ بنیادی ثقافتی مظاہر ہمیشہ سے ایک رہے ہیں اور غالبًا ہمیشہ ایک رہیں گے۔ جیسے غذا، سائبان اور تحفظ فراہم کرنا مرد کی ذمے داری سمجھا جاتا رہا ہے[2]۔

نسل اور نسلی تشخص (Ethnicity and Race)

نسلی تشخص اور نسلی پس منظر شناخت کی تشکیل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تجربات شناخت کے حوالے سے مختلف ہو سکتے ہیں، جو اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ اس نسل سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے آپ کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

مذہبی عقائد اور روحانیت (Religious Beliefs and Spirituality)

مذہبی عقائد اور روحانیت اکثر شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی خاص مذہب یا روحانی فریم ورک کے ساتھ وابستگی فرد کے اقدار، طرز عمل اور مقصد کے مجموعی احساس کو متاثر کر سکتی ہے۔

مثلًا ہر مذہب میں جنسیت اور جنس اور شناخت کے لیے مختلف تصورات دیے گئے ہیں یہ بجائے خود ایک انتہائی دل چسپ موضوع ہے کہ مذہبی تعلیمات شناخت اور صنفی شناخت کو کس طریقے سے منسلک کرتی ہیں اور مزید یہ کہ ساختی مذاہب اور غیر ساختی مذاہب، شناخت، صنفی شناخت اور جنسی شناخت کے حوالے سے کس طرح جدید ڈسکورس کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ اس موضوع پر ابھی کام باقی ہے۔ عام طور پر جو تحقیقی کام ہوا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ مذہب عورت اور مرد کے رول کو کس طرح متاثر کرتا ہے یا مذہبی تعلیمات کس طرح عورت اور مرد کے رول اور حیثیت کے لیے ہدایات اور فریم ورک دیتے ہیں۔ بطور خاص اس میں بھی یہ زاویہ زیادہ مشہور اور مقبول ہے کہ کس طرح مذہب عورت کو مرد سے کمتر بتاتا ہے، اس کے حقوق کو سلب کرتا ہے، اس کے استحصال کے لیے بنیادیں فراہم کرتا ہے اور بطور خاص کس طریقے سے ایک پدر سری سماج کو تشکیل دیتا ہے۔ لیکن یہ تمام مفروضات اور تحقیقات ایک خاص قسم کے ذہنی شاکلے کے ساتھ کی جاتی ہیں اور ان میں تعصب کا در آنا عین ممکن ہے۔ دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ بہت سی مذہبی کتب بطور خاص مغرب میں عہد نامہ قدیم اور مشرق میں منوسمرتی وغیرہ اپنے اندر اس طرح کی تعلیمات رکھتی ہیں کہ جن سے عورت مخالف بیانیہ تشکیل دینے کا مواد مل جاتا ہے اور عورتوں کے کمتر درجے پر ہونے کی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں۔

قومیت اور شہریت

قومی شناخت اور قومیت و شہریت کے مختلف بیانیے، ان کی تعریفات، ان کے گنجلک تصورات اور بطور خاص ہندوستان میں جاری قومیت اور شہریت کے بیانیے بہت دل چسپ انداز میں فرد کی قومی شناخت سے تعامل کرتے ہیں۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکا کہ شناخت کئی حیثیتوں میں ہوتی ہے۔ مثلًا ہندوستان کے جغرافیائی حدود میں پیدا ہونے والے بچے کی شناخت ہندوستانی کی ہوتی ہے۔ اب یہ شناخت کس طریقے سے اس کی مذہبی شناخت کے ساتھ تعامل کرتی ہے اس پر بڑے دل چسپ دائرے وجود میں آتے ہیں اور اسی کے تحت دائیں بازو کے وہ مخصوص سوالات آجاتے ہیں کہ آپ پہلے مسلمان ہیں یا پہلے ہندوستانی ہیں۔ بہرحال شناخت کے حوالے سے قومیت اور جغرافیائی حدود، نیشن اور سٹیٹ کے تصورات و مظاہر اور فرد کی ان سے آگہی یا فرد پر ان بیانیوں کا اثر جیسے تمام عوامل فرد کی قومی یا شہری شناخت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تعلیمی پس منظر اور فکری اثرات (Educational Background and Intellectual Influences)

تعلیمی تجربات اور دانش ورانہ اثرات شناخت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارے اور علم کا حصول انسان کے عالمی نقطہ نظر اور شناخت کے احساس کی تشکیل کرتا ہے۔

فرد کے تعلیمی تجربات، جس اسکول اور کالج میں اس کا داخلہ ہوا، جن اساتذہ نے اس کے ذہنی ارتقا میں رول ادا کیا، جن ساتھیوں کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا رہا، یہ سب عوامل اس کی شناخت پر بڑا اثر ڈالتے ہیں۔

میڈیا اور پاپولر کلچر

بڑے پیمانے پر تحقیقات کے ذریعے اب یہ بات تقریبًا پائے ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بچے میڈیا اور مقبول عام ثقافت کا اثر غیر معمولی طور پر قبول کرتے ہیں۔ جاپان میں ہوئی ایک تحقیق نے واضح طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اینیمے اور پوپ کلچر جاپان کے بچوں اور بطور خاص ان بچوں میں جو تین گھنٹے یا اس سے زائد اس کلچر کا سامنا کرتے ہیں، منفی نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ یہ منفی نتائج شناخت کے حوالے سے ہیں۔ جو بچے اس پوپ کلچر اور اینیمے کلچر کا ماس میڈیا کے ذریعے سے سامنا کرتے ہیں، ان میں سے 70 سے 73 فیصد تک بچے ڈپریشن، عدم تحفظ اپنی جنس اور صنف کے تئیں کنفیوژن اور مستقبل کے سلسلے میں مایوسی کے شکار پائے گئے ہیں۔ [3] یہ تحقیق واضح طور پر بتاتی ہے کہ +LGBTQ اور دیگر شناخت کے وہ علم بردار جو یہ بیانیہ تخلیق دے رہے ہیں کہ یہ سب کچھ طبعی اور فطری ہے، انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے، اور فرد اس معاملے میں بے بس اور مجبور ہے، غلط موقف رکھتے ہیں۔ اس طرح کی تحقیقات ہم کو یہ بتاتی ہیں کہ طبعی اور فطری حصہ اگر موجود ہے بھی تو غالبًا اس کا اثر بہت کم ہے۔ اصلًا یہ پاپولر میڈیا اور ثقافتی یلغار بچوں کو ان تصورات اور خیالات کے روبرو کرتا ہے جن کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ان کے دماغ میں اپنی عمر کے اعتبار سے نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ کنفیوژن، ڈپریشن اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔

معاشی حیثیت اور پیشہ (Economic Status and Occupation)

معاشی عوامل، جیسے سماجی و اقتصادی حیثیت اور پیشہ بھی شناخت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ روزگار، گھر اور خاندان کے مالی حالات طرز زندگی، اقدار اور معاشرتی تعامل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مغرب میں اس ضمن میں ایک وسیع لٹریچر تیار ہو رہا ہے جو معاشی حالات اور معاشی حیثیت کی بنیاد پر طرز زندگی کو شناخت، صنفی شناخت اور +LGBTQکے ڈسکورس سے جوڑتا ہے۔ اس لٹریچر میں مختلف نقطہ ہائے نظر ابھر کر آ رہے ہیں اس لیے ان کی بنیاد پر کوئی تجزیہ پیش کرنا مشکل ہے لیکن یہ بات اس لٹریچر سے ابھر کر آ رہی ہے کہ ان عوامل کا کچھ نہ کچھ اثر شناخت اور صنفی شناخت پر ضرور ہوتا ہے۔

ذاتی اقدار اور عقائد (Personal Values and Beliefs)

عقیدہ انفرادی اقدار و اصول شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان داخلی اقدار کے ساتھ فرد اعمال اور انتخاب کا ایک مجموعی کینوس تشکیل دیتا ہے اور اس طرح اپنے داخلی شناخت کے احساس کو منضبط کرتا ہے۔

اوپر دی گئی تفصیلات سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ شناخت ایک کثیر الجہت عمل ہے اور انفرادی شناخت چاہے وہ جس حیثیت میں ہو متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو کسی ایک عامل تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے۔

صنفی شناخت کے حوالے سے

شناخت کا ایک اہم پہلو صنفی شناخت بھی ہے۔ ذیل کی سطروں میں اب ان عوامل کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو صنفی شناخت کے لیے ذمہ دار کہے جا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ اصل میں صنفی شناخت کہا کسے جاتا ہے۔

صنفی شناخت سے مراد کسی فرد کا اپنی جنس کے بارے میں گہرا داخلی احساس ہے، جو پیدائش کے وقت اسے تفویض کردہ جنس کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور بعض اوقات نہیں بھی رکھتا ہے۔

صنفی شناخت ذاتی شناخت کا ایک پیچیدہ اور کثیر الجہت پہلو ہے جو حیاتیاتی، نفسیاتی، معاشرتی اور ثقافتی عوامل کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔

اس لیے جو لوگ ببانگ دہل اس بات کو کہتے ہیں کہ میں جیسا محسوس کر رہا ہوں یہ عین فطری ہے، یہ جینی اعتبار سے فیصل ہو چکا ہے، یہ میرے ڈی این اے میں لکھا ہے، یہ میرے کروموزوم کی وجہ سے ہے، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ جینی جبریت کا نتیجہ ہے، غلط بات ہے یا کم از کم آدھی صحیح ہے۔

کیوں کہ تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صنفی شناخت کا احساس اور اس سے ابھرنے والا صنفی اضطراب صرف حیاتیاتی عوامل سے فیصل نہیں ہوتا ہے۔ صنفی اضطراب کی تفصیل کے لیے دیکھیے۔ [4]

ذیل میں ہم صرف ان عوامل کا تذکرہ کریں گے جو وسیع تر تحقیقات سے صنفی شناخت پر اثر انداز ہونے کے لیے عام سائنسی برادری میں تسلیم شدہ ہیں۔

حیاتیاتی عوامل (Biological factors)

اس سے قبل کے مضامین میں صنفی شناخت اور حیاتیات کے رول پر تفصیل آچکی ہے۔ [5]

حیاتیاتی عوامل بطور خاص ماں کا جنسی رجحان، باپ کی صنفی اور جنسی شناخت، دوران حمل ماں کا ذہنی شاکلہ، دوران حمل ماں کا جنسیاتی اور فزیولوجی اعتبار سے رحم مادر میں مختلف ہارمون کا افراز (Secretion) ہونا بطور خاص اینڈروجنس وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے۔[6]

یہ بات اب تقریبًا ثابت ہو چکی ہے کہ کچھ حیاتیاتی عوامل ایسے ضرور ہیں جو صنفی شناخت کے احساس کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ صرف اور صرف حیاتیاتی عوامل صنفی احساس کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

نفسیاتی عوامل (Psychological factors)

ادراک کا ارتقا: جیسے جیسے بچے شعوری طور پر ترقی کرتے ہیں، وہ صنفی تصورات کو سمجھنا اور اپنے شعور کا حصہ بنانا شروع کرتے ہیں۔ ادراکی عمل، بشمول خود آگہی اور شناخت کا احساس کسی فرد کی صنفی شناخت کو تشکیل دینے میں کردار ادا کرتا ہے۔

چناں چہ نفسیاتی تحقیقاتی میدان میں ایک وسیع لٹریچر اس بات سے بحث کرتا ہے کہ کس طریقے سے فرد اپنے آپ کو مرد اور عورت کے حوالے سے محسوس کرتا ہے۔ چناں چہ فرائیڈ سے لے کر کارل یونگ (Karl yung) تک مختلف ماہرین نفسیات نے مختلف انداز میں ان عوامل کو منطبق کیا ہے جو صنفی احساس کی تشکیل میں رول ادا کرتے ہیں۔ مثلًا یہ دیکھا گیا کہ بہت سے والدین کسی لڑکی کی خواہش کرتے ہیں لیکن ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے لڑکی کی طرح کپڑے پہناتے ہیں اس سے لڑکیوں کے انداز میں کلام کرتے ہیں۔ ایسے بچے جن کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنایا گیا ہے، وہ ان بچوں کے مقابلے میں جن کے ساتھ ایسا رویہ نہیں اپنایا گیا، صنفی اضطراب کے زیادہ شکار پائے گئے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے اس لیے کہ عام طور پر LGBTQ+ افراد یا صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد یہ کہتے ہیں کہ اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں ہے۔ ہمارے اندر اس طرح کا احساس ہو رہا ہے کہ ہم غلط جسم میں قید ہیں۔

یہاں پر پھر اس بات کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ ایسا صد فیصد نہیں ہوتا ہے بلکہ بڑی تعداد میں وہ بچے بھی ہیں جن کی نارمل طریقے پر والدین نے پرورش کی (نارمل سے مراد اگر وہ لڑکے تھے تو لڑکوں ہی کے انداز میں ان کی اٹھان ہوئی یا وہ لڑکیاں تھیں تو لڑکیوں ہی کے انداز میں انھیں پالا گیا) اس کے باوجود ان میں سے بہت سے صنفی اضطراب کا شکار ہوئے۔

دونوں قسم کی تحقیقات کی موجودگی میں زیادہ معتدل اور علمی طور پر دیانت دارانہ رویہ یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ بعض بچے جینیاتی اعتبار سے صنفی اضطراب کا نشانہ ہوتے ہیں اور جیسے ہی وہ کسی وجہ سے اس کے لیے تحریک پاتے ہیں صنفی اضطراب ان کے اندر سرایت کر جاتا ہے اور فروغ پانے لگتا ہے اور کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں اس جینیاتی عنصر کے موجود نہ ہونے کے باوجود ان کی اٹھان اس طرح ہو جاتی ہے کہ وہ صنفی اضطراب کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور اسی طریقے پر پروان چڑھنے لگتے ہیں۔

ضمن میں اس تحقیق کا حوالہ دینا ہوگا جو اس سے پہلے آ چکی ہے۔ قریب میں یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ تقریبًا اس جنرل ڈسفوریا کے وہ افراد جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ غلط جسم میں قید ہیں انھوں نے پیدائش کے وقت اپنی تفویض کردہ جنس کی مخالف جنس کو سرجری اور ہارمون کی گولیوں کے ذریعے سے اختیار کیا ان میں سے 70 فیصد افراد واپس پیدائش کے وقت تفویض کردہ جنس کی طرف لوٹ گئے۔ یعنی انھوں نے دوبارہ سرجری کروائی اور پہلے کی طرح مرد یا عورت بن گئے۔ [7]

سوشلائزیشن(Socialization)

خاندانی اثر و رسوخ: خاندان سوشلائزیشن کے ذریعے ابتدائی صنفی شناخت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین، دیکھ بھال کرنے والے اور خاندان کے ارکان، موجود معاشرے کے ثقافتی مظاہروں کے اعتبار سے بچوں کی یعنی لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت کرتے ہیں اور ان کے رول کو فیصل کرتے ہیں۔ لڑکے کس انداز میں کھائیں، بولیں، چلیں اور پہنیں ان تمام کی کیفیت سازی ہوتی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کی کیفیت سازی ہوتی ہے اور صنفی شناخت میں یہ کیفیت سازی غیر معمولی رول ادا کرتی ہے۔ اس لیے اس بات کو بار بار زور دے کر کہنا ضروری ہے کہ تربیت اور خاندان کا ماحول اور وہ ذرائع ابلاغ جن سے ایک بچے کو والدین گزارتے ہیں، وہ اصل میں اس بات کو فیصل کرتے ہیں کہ بچہ صنفی اعتبار سے کیا بنے گا۔ اسی طریقے سے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ محض یہ دو عوامل یعنی جینیاتی اور ماحولیاتی ہی اصل نہیں ہے بلکہ صنفی شناخت کی تشکیل کا عمل انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ مثلًا کئی مطالعہ جات میں یہ پایا گیا کہ کوئی بچہ ٹی وی اسکرین پر کسی ہیروئین کو دیکھتا ہے یا کسی اینیمے کے کردار کو دیکھتا ہے تو وہ منظر اس کے اندر خاص قسم کے صنفی احساس کو مہمیز کرتا ہے۔ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ تو میں ہوں۔ حالاں کہ وہ لڑکا ہے لیکن اس کے بعد سے وہ اس ہیروئن یا اینیمے کردار کی طرح بننا چاہتا ہے۔ چناں چہ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ خاندانی ماحول میں بھی بہت سارے ایسے کردار ہو سکتے ہیں جن کی نقالی کر کے بچے اپنی صنفی شناخت کو تشکیل دیتے ہیں۔

ثقافتی اور معاشرتی اصول (Cultural and Societal Norms)

صنفی کردار: مردانگی اور نسوانیت سے وابستہ کرداروں اور طرز عمل کے بارے میں معاشرتی توقعات اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ افراد اپنی صنفی شناخت کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ صنفی کردار مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں مختلف ہوتے ہیں۔

ذاتی تجربات (personal experiences)

زندگی کے تجربات: ذاتی تجربات، بشمول تعامل، تعلقات اور زندگی کے واقعات، کسی فرد کی اپنی صنفی شناخت کے تصور کو تشکیل دے سکتے ہیں۔ مثبت یا منفی تجربات خودی کے ادراک کو متاثر کر سکتے ہیں۔

صنفی اظہار: جس طرح افراد لباس، ہیئر اسٹائل اور دیگر ذاتی انتخاب کے ذریعے اپنی جنس کا اظہار کرتے ہیں۔

اوپر دی گئی تفصیل سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ شناخت اور صنفی شناخت دونوں محض کسی ایک عامل کے ذریعے سے فیصل نہیں ہوتی ہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور کثیر الجہت عوامل کا جال ہے جو صنفی شناخت اور شناخت کے حوالے سے موجود ہوتا ہے۔ ان شاءاللہ آگے آنے والی سطروں میں ان تمام عوامل کو اسلامی تعلیمات کس طرح منضبط کرتی ہیں اور کس طرح اسلامی تعلیمات انھیں ایک رخ دیتی ہیں اس پر تفصیلی بات آئے گی۔

حواشی

[1] Butler J : Gender trouble : feminism and the subversion of identity, 1990 Routledge Classics, New York 1990,

[2] Families Across Cultures A 30-Nation Psychological Study , James Georgas John W. Berry and Çi dem Katçbapp. 186 – 240 DOI: https://doi.org/10.1017/CBO9780511489822.009  Publisher: Cambridge University Press ,Print publication year: 2006

[3] Liu Y, Liu Y, Wen J. Does anime, idol culture bring depression? Structural analysis and deep learning on subcultural identity and various psychological outcomes. Heliyon. 2022 Sep 11;8(9): e10567. doi: 10.1016/j.heliyon.2022.e10567. PMID: 36158100; PMCID: PMC9489955

[4] Glidden D, Bouman WP, Jones BA, Arcelus J. Gender Dysphoria and Autism Spectrum Disorder: A Systematic Review of the Literature. Sex Med Rev. 2016 Jan;4(1): 3-14. doi: 10.1016/j.sxmr.2015.10.003. Epub 2016 Jan 8. PMID: 27872002

[5] http://www.zindgienau.com/Issues/2023/June2023/Print_Page_84.asp

[6] Ibid

[7] Littman L. Individuals Treated for Gender Dysphoria with Medical and/or Surgical Transition Who Subsequently Detransitioned: A Survey of 100 Detransitioners. Arch Sex Behav. 2021 Nov;50(8): 3353-3369. doi: 10.1007/s10508-021-02163-w. Epub 2021 Oct 19. PMID: 34665380; PMCID: PMC8604821

مارچ 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau