مسلم خاتون کا مثالی کردار

محمد محفوظ فلاحی

(جامعۃ الحکمہ بھوپال کی طرف سے منعقد کئے گئے اجتماع طالبات وخواتین میں یہ خطاب پیش کیا گیا )

جنتی عورت

عورت خِلقۃ کمزور جسم وجان رکھنے والی ہستی ہے ۔ اسی کے ساتھ وہ ایک پر کشش چمکتا ہیرہ بھی ہے ۔ اگر انسانوں کا مزاج منصفانہ اور ہمدردانہ ہو تووہ کمزور وجود کو سہارا دے گا۔   باپ ہے تواس کی تربیت کرے گا۔ شوہرہے تو وہ اسے اپنی حفاظت فراہم کرے ۔جنتی عورت کی پُر کشش شخصیت کو تمثیلی پیرائے میں بیان کیا گیاہے : وہ ایسی جیسے کہ چھپائے ہوئے انڈے ہوں ،بیض مکنون ۔ یا ایسی جیسی کہ موتی ،مونگے اور ہیرے ہوں کانھم الیاقوت والمرجان  حدیث میں یہی تشبیہ کچھ یوں ہے کہ وہ شیشہ کے آبگینہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جارہے تھے ، لوگ ذرا تیز تیز چلنے لگے تو آپ نے فرمایا رویدا القواریریعنی دھیرے چلو، خیال رکھوساتھ میں یہ شیشہ کے آبگینے ہیں ۔

ان تشبیہات میں عورت کی شخصیت کے دو پہلوبیان کئے گئے ہیں پھوٹ جانے اور ٹوٹ جانے کااشارہ کمزوری کا ہے اور سفیدی ، اور شفافیت کا اشارہ حسن وجمال کا ہے ۔ جنتی عورت کودنیا میں عورتوں کے لئے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے ۔ ان کی شرم وحیا اور عفت کو جن الفاظ میں ڈھال کر پیش کیاہے وہ یہ ہیں : قٰصرات الطرف عین ’’ یعنی ان پر شرم وحیاایسی چھائی ہوگی کہ وہ اپنی نگاہیں نیچے کئے ہوئے ہوں گی‘‘حور مقصورات فی الخیام ’’ وہ گوری چٹی اور بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی جو خیموں جیسی قیام گاہوں میں محصور ومحفوظ ہوں گی ۔ خیرات حسان  یعنی انتہائی حسین ہوں گی ، حسان یعنی خوب رو اور ظاہری شکل وشباہت میں دل لبھانے والی ۔ اس سے پہلے جوصفت آئی وہ مقدم ہے وہ خیرات ہے یعنی خوب سیرت اوراچھی صفات اور اچھے کردار کی عورتیں ۔

 اعلی صفات وکردار

یہ ہے جنتی عورت کا ماڈل ، یہ وہ روپ ہے جس میں ڈھل کردنیا کی عورتیں جنت میں پہنچیں گی ۔ جنت ان کے لئے ہے جو اس خبر کو یقینی طور پر حق سمجھیں اور اپنے آپ کو ان صفات کا حامل بنائیں جو ہمارے رب کو ہم سے مطلوب ہیں ۔ دنیامیں عورت کو دیا گیا موزوں لقب المحصنات ہے ۔ حضرت مریم کی صفت بیان کی گئی ہےوہ عصمت وعفت کی حفاظت ہی ہے والتی احصنت فرجھا  المحصنات کا لقب سورہ النساء میں کئی بار استعمال ہوا ہے ۔

آج ‘تہذیب نوی ‘ کے مدعیان کے سامنے عورت کے کئی لا ینحل مسائل ہیں جو حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔جس بات کا بڑا غلغلہ ہے وہ ہے تحفظ نسواں ، قرآن پاک کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ ومااوتیتم من العلم الا قلیلا یعنی تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے ، اتنا کم کہ حواس سے تو کچھ سامنے کی چیزوں کی جانکاری حاصل ہوسکتی ہے اور بس ۔ اللہ تعالی نے فرمادیا :ومالھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ان الظن لا یغنی من الحق شیئا’’ یعنی انہیں اس کا یقینی علم تو حاصل نہیں ہے ۔محض وہ قیاس اور اندازہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ، حقیقت تویہی ہے کہ ان کی یہ قیاس وگمان پر مبنی جانکاری کوئی حیثیت نہیں رکھتی حقیقت اور یقینی علم پر مبنی جان کاری کے مقابلہ میں‘‘ ۔

 یقینی علم وحی الٰہی ہے

ان مسائل سے متعلق لوگوں کے پا س جو علم ہے وہ کچھ نہیں کے زمرہ میں ہے ۔اس کا علم صرف خالق کائنات کے پاس ہے ۔ خود خدائے ذوالجلال نے فرمادیاہے کہ ان علینا للھدی  فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون ’’ جب حقیقۃ ً انسان کوتاہ عقل اور کم علم ہے تو اس کا کوئی بر تر حل ہونا چاہئے تو جناب باری کی طرف سے فضل ومہربانی کا پروانہ آجاتاہے ‘‘۔ یہ ذمہ داری ہم نے لی ہوئی ہے کہ ہم تمہیں زندگی کے ہر معاملے میں صحیح رہنمائی دیں گے ۔ بس تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ جب بھی میری یہ ہدایت تم تک پہنچ جائے تم اس کی پیروی کرنا ۔جو کوئی اس ہدایت نامہ کی روشنی میں اپنی پوری زندگی گزارے گا تو اسے پھر نہ ڈرنا ہے اور نہ غم زدہ ہونا ہے ‘‘۔

 عورتوں کے مسائل

قرآن مجید میں ہر ایک کے لئےزندگی کے سارے امور میں جو جامع تعلیمات آئی ہیں ان میں سے عورتوں سے متعلق تعلیمات کا مختصرا تذکرہ کیا جائے گا۔ تاکہ حقوق نسواں کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے اور مساوات مردوزن کا نعرہ لگانے والوں کے سامنے دین حق کی تعلیمات نکھر کر ہمارے سامنے آئیں ۔ ان میں سے ایک حجاب ،دوسرا طلاق اور تیسرا وراثت کا مسئلہ ہے۔

پردہ اور حجاب

عورت جسم وجان کے اعتبار سے کمزور ہے ، اسے تحفظ کی ضرورت ہے ۔اسی طرح اس کے جسم کی خلقت ، آواز کاآہنگ خود زینت اور پرکشش ہے ۔ اگر اس کوچھپایا نہیں  جائے گا تویہ تباہ کن فتنہ بن جائے گا ۔ مرد اپنی جسم وجان کی بناوٹ میں مضبوط اور قوی ہے ۔تغلب اس کی جبلی صفت ہے ۔ اس  کے بڑھے ہوئے شہوانی جذبات کو حالات کی سازگاری  کی ایک چنگاری بھی آتش فشاں بنا سکتی ہے ۔ یہ مسلمات ہیں جن پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب عورت کو شیطانوںنے ان کے حصہ کا رول دیاہوا ہے کہ انہیں بن سنور کر زینت وآرائش سے دلوں کولبھانا ہے ۔

یہ بات ثابت ہوگئی کہ عورت کی فطرت تحفظ چاہتی  ہے اور معاشرے کی پاکیزگی عورت کی عفت ، پاک دامنی اور حیاسے متعلق ہے ۔ اب اس سے متعلق خالق فطرت کا فرمان سنئے : لاتدخلوا بیوتا غیر بیوتکم / لا تدخلوھا حتی یوذن لکم / وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا ھو ازکی لکم ’’کسی کو اپنے گھر کے علاوہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہیں ہونا ہے ۔ اگر واپس ہونے کے لئے کہا جائے تو پلٹ جاؤ ، یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے‘‘ ۔

غض بصر وحفظ فروج کا حکم

مردوں اورعورتوں دونوں کے لئے غض بصراور حفظ فروج کا حکم ہے : قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم / قل للمؤمنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن یہ ان سب کے لئے زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے ۔ آج کے ماحول میں ابلیسی نظریات نے ان تمام باتوں کو معمولی بنادیا ہے۔

 بد کاری پرسو کوڑے یا سنگ ساری کی سزا

قرآن پاک کی نظر میں اس صورت میں دونوں مجرم ہیں اور دونوں کے لئے حکم ہے : فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ  ’’اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو‘‘ ان دونوں میں سے ہر ایک کو سوکوڑے مارو ۔ حدیث پاک میں ہے کہ اگر وہ شادی شدہ ہوں تو دونوں کو سنگ سار کردو ۔

معاشرے کو پاکیزہ بنانے کے احکام

معاشرے کو پاکیزہ بنانے ، عورت کو محفوظ کرنے کے لئے مزید احکام دئے گئے ہیں ۔ عورت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تحفظ اورمعاشرے کی پاکیزگی کے لئے وہ اپنے حسن وجمال اور زینت وآرائش کو چھپائے اور اپنے آپ کو ہوس پرستوں کا کھلونا بنانے سے بچائے ۔ کیسی واضح تعلیمات دی گئی ہیں ۔ اللہ فرماتا ہے : لا یبدین زینتھن / ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن / ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی / یدنین علیھن من جلابیبھن ’’ عورت سر تا پیر زینت ہی زینت ہے ،کیسے وہ اپنے جسم کے کسی بھی حصہ کی نمائش کرسکتی ہے ؟ کیسے اس کا گلاکھلا ہوسکتا ہے اور کیسے آستینیں چھوٹی ہوسکتی ہیں ؟عورت کا لباس ، اس کے بال ، اس کے ہاتھوں میں لگی مہندی اور اس کے زیورات جو وہ پہنتی ہے ،حتی کہ برقع بھی اگروہ رنگین اور چمکیلاہو تو وہ بھی زینت ہے ۔ تو اس طرح زینت کی ان ساری چیزوں کو چھپانا ہے ۔یہ ہیں :لا یبدین زینتھن  کے معنی ۔آگے مزید یہ بات فرمادی کہ سر ،گردن ،سینہ پر دوپٹہ یا اوڑھنی ڈالے رہیں ۔ ولیضربن بخمرھن ۔گھر کے محرم افراد کے سامنے وہ اپنی زینت کھول سکتی ہے الا ما ظھر منھا ۔تیسری آیت میں فرمایا کہ تم جیسا جاہلیت اولی یعنی پہلی جاہلیت کے دور میں بناؤ سنگار کرتی تھیں ویسا بناؤسنگار مت کرو ۔ اب یہ جاہلیت آخری یا جاہلیت جدیدہ کا دور ہے جس میں یہ لت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے تو اس لت سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اوپر بیان کردہ آخری آیت  میں صریح طور پر باہر نکلتے وقت پردہ کاحکم ہے ۔جِلباب جس کی جمع جلابیب ہے اس سے مرادایسی ڈھیلی ڈھالی چادر ہے جس سے سر اور چہرہ کا بیشتر حصہ اور پورابدن ڈھک جائے ۔ بعد کے زمانے  میں اس کی مناسب شکل برقع رائج ہوگئی ہے ،مقصود ہے پورے بدن کا ڈھانکنا اور جمہور علماء کے نزدیک تو عام حالات میں چہرہ بھی ڈھانکنا ہے ۔

بہ حالت مجبوری طلاق دینا

معاشرہ اس بات کو ہمیشہ سے ایک ضرورت سمجھتارہاہے کہ ایک مرد اور ایک عورت ضابطہ کے مطابق ایک بندھن میں بندھ جائیں ، اسی کو نکاح کہا جاتا ہے ۔جولوگ انسان کے بنائے ضابطوںکو اصل مانتے ہیں ان کے یہاں ضابطہ بند ذمہ داریوں کے بار کو لینے والے بندھن سے ہٹ کر بھی تعلقات قائم ہو جاتے ہیں ۔دین حق میں سارے آزاد شہوت رانی کے راستے مسدود ہیں ۔ قرآن میں ہے :محصنین غیر مسافحین ولا متخذی اخدان / محصبنات غیر مسافحات ولامتخذات اخدان ۔ کھلے عام زنا کاری اورچوری چھپے شہوت رانی عورت مرد دونوں کے لئے حرام اور ممنوع ہے ۔حیات انسانی یا نسل انسانی کو باقی رکھنے ،انسانی تمدن کوجاری رکھنے اور اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لئے اس رشتہ و تعلق کو قائم کرنے کا حکم دیا ۔ مرد کے لئے لازم ہے کہ واجب مہر ادا کرکے عورت اور خانداں کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے سر لے ۔ ولامۃ مؤمنۃ خیر / ولعبد مؤمن خیر ۔ کم حیثیت اور اموال واشیاء کی ملکیت سے خالی ایک لونڈی یاغلام نکاح کے زیادہ لا ئق ہے باحیثیت ، مالدار اور ایمان سے عاری شخص سے ۔ جس طرح نکاح ایک ضرورت ہے ،اس کو انجام پانے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے ،انتہائی سادہ طریقے سے یہ عمل میں آجاتاہے ،جب تم نے ان کا مہر ادا کردیا ہو ۔اذا آتیتموھن اجورھن ۔ اسی طرح یہ بھی ایک ضرورت ہے کہ اگر کسی سبب  سے عورت اور مرد میں ناچاقی ہوگئی  ہے ، زندگی میں کسی سبب وہ راحت حاصل نہیں جو نکاح کی غرض ہے تو اس بندھن سے آزاد ہونا بھی آسان ہونا چاہئے ۔حکمت کا تقاضہ ہے کہ تعلق کے انقطاع کا معاملہ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہئے ۔ فوجداری نہیں بلکہ سول اور نجی جھگڑے بھی اگر ایک مرتبہ عدالت میں پہنچ جائیں تو وہاں کاغذات کے طومار اور فائلوں کے انبار میں مسائل دب کر کچھ غائب ہوجائیں گے ،کچھ بہت عرصہ کے بعد دبے ہوئے ڈھیر سے نکلیں گے اور کچھ چل بسنے کےبعد نکل کر آئیں گے ۔ پھر وکیل چکر لگوائیں گے اوررقم اینٹھیں گے ۔ اس لئے اللہ نے اس فیصلہ کا اختیار مرد کو دے دیا ہے اور کچھ معمولی اور واجبی شرطوں کے ساتھ عورت کو بھی خلع کا حق دیا ہے ۔ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مرد نے زبان تالو سے لگائی اور ایک ہی سانس میں تین طلاق کہہ کر چھٹی کردی ۔ اس حرکت کو نا محمود ،مکروہ اور بدعت یعنی نامانوس اور مسلم روایت سے ہٹکرمن مانی ڈگر اختیار کرنا کہا گیا ہے ۔

طلاق میں مدت اور تعداد کی قید

ضابطہ طلاق کو قرآن پاک میں دیگر معاشرتی مسائل کے مقابلہ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے ۔ عموماً عرب میں رواج یہ تھا کہ بیوی کو معلق چھوڑے رکھنا کوئی معیوب نہیں تھا ۔اسی طرح جتنی بار طلاق دی جائے ،اسکی گنتی لا حاصل تھی ۔ قرآن پاک نے ان باتوں کی اصلاح کردی ۔ بیوی کو اپنے سے دور رکھنا اگر اصلاح اور تنبیہ کے لئے ہے ،ایذاء اور مضرت کے لئے نہیں ہے تو اس کی تحدید ہونی چاہئے ۔ قرآن مجیدنے اسکی تحدید کردی کہ یہ مدت صرف چار مہینہ کی ہے ۔اسکے بعد لا محالہ طلاق دینا ہے ، یہ عورت کی ضرورت اور اس کے لئے فائدہ مند ہے ۔ للذین یولون من نساءھم تربص اربعۃ اشھر ۔ اسی طرح طلاق اپنی مرضی سے جب چاہا دے دی اور جب چاہا رجوع کرلیا ، اس کو بھی محدود کردیا الطلاق مرتان ۔ بس دو بار رجوع کرنے کا حق دیا ہے ۔ تیسری بار میں یہ حق ختم ۔ اب عورت کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ ایسے مرد کے ساتھ نہ رہے جو نہ اس کی عزت نفس کا خیال کرتا ہے اور نہ اس کے حقوق ادا کرتا ہے ۔اس ضابطہ کے تحت مرد کے مطلق اختیار کو مقید اور پابند سلاسل بنادیا گیا ۔

طلاق مرد کو دیناہے لیکن سوچ سمجھ کر

طلاق مرد کو دینا ہے ، طہر کی حالت میں دیناہے ، وقفہ میں دینا ہے اور تین ماہ عورت کو عدت گزارناہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ گھر ایک تنظیمی یونٹ (ادارہ ) ہے ۔اس یونٹ کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے اختیار اور فیصلہ ایک ہی شخص میں مرکوز کیا جاتا ہے ۔ اگر اختیار میں یکساں برابر کی شرکت ہوگی تو مسائل بڑھ جائیں گے ۔ اگر نظم کا بکھرنا ایک ضرورت ہے تو اسکی تحدید ہونی چاہئے تاکہ بلا ضرورت یہ نظم نہ بکھرے ۔ قرآن پاک میں ہے :فان عزموا الطلاق / ان طلقتم النسا ء ان آیات میں طلاق کی نسبت مرد کی طرف کی ہے یعنی طلاق کا مطلق اختیار مرد کو ہے ۔ دوسری بات یہ ہے طلاق حیض کی حالت میں نہیں دینا ہے ۔حیض کی حالت عورت کے معمول کی حالت سے مختلف ہوتی ہے اور مرد کے لئے بھی ایک طرح کی قدغن لگی ہوتی ہے ،اس لئے حکم یہ ہے کہ فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدۃ ۔یعنی طلاق دینے کا وقت ایسا ہو کہ اس میں عدت کا شمار کرنا ممکن اور آسان ہو اور یہ حالت طہر کی ہوتی ہے ۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ طلاق کا اچھا اور بہتر ضابطہ یہی ہے جس کو حسن اور احسن کہا گیا ہے ۔ سوچ سمجھ کر طلاق دینا ہے ۔ ایک طلاق دے کر چھوڑ دیں یا اگر دینا چاہیں تو دو طلاق دے کر چھوڑ دیں ، اس شکل مین تین مہینہ کے اندر رجوع ہوسکتاہے اور اگر تین مہینے گزر گئے ہیں تو ازسر نو مہر مقرر ہوکر اور دوبارہ شرائط طے ہوکر دونوں کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ۔ تین طلاق کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح طلاق کا یہ طریقہ حکیمانہ ہے جس میں غوروفکر اور نظر ثانی کا کافی موقع رہتاہے ۔ اب ایک بات اور لازم ہے کہ تین ماہ عورت کو عدت گزارنا ہے شوہر کے گھر میں میلا ن طبع کے لئے یہ حالت کافی ہے ۔

عور ت کو خلع کا حق

اگر عورت کو شکایت ہے اور وہ الگ ہونا چاہتی ہے تو اس کو مشروط طور پر خلع کی اجازت ہے یہ بھی اس لئے کہ وہ یہ فیصلہ کافی سوچ سمجھ کر لے ،محض جذبات میں آکر نہ لے ۔جن معاشروں میں یہ موقع دوطرفہ ہے یعنی طلاق کا اختیار دونوں کو حاصل ہے وہاں خاندانوں کے بکھرنے کی رفتار تیز ہے ۔ فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ ۔ اگر اندیشہ یہ ہوجائے کہ اس رشتہ میں اللہ کی طرف سے عائد کردہ حقوق اور ذمہ داریاں نہیں نبھائی جارہی ہیں تو اس شکل میں بیوی کچھ دے دلاکر اپنا پیچھا چھڑالےگی ۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ ابھی تک ساری ذمہ داریاں مرد اٹھارہا تھا اب کیونکہ اب وہ علیحدگی چاہ رہی ہے ،اس لئے اسے ( زیادہ سے زیادہ) مہر کے بقدر ہرجانہ دینا پڑے گا ۔ یہ ہے خلع جو اسے مرد سے چھٹکارہ دلادے گا ۔

وراثت میں عورتوں کی حصہ داری

عورتوں کی ملکیت کا معاملہ اور وراثت میں حصہ داری کو اسلام نے روز اول سے تسلیم کیا ہے ۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب ما اکتسبن یعنی مردوں کا حصہ ہے ان کی کمائی میں اور عورتوں کا حصہ ہے ان کی کمائی میں ۔دیگر قدیم وجدید قوانین میں نرینہ اولاد کی وراثت تسلیم کی جاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ مرد رشتہ دار کی ۔ اب ہندوستان میں بیٹے اور بیٹی کی برابر کی حصہ داری کا قانون بنا ہے ، لیکن معاشرتی روایتوں کے مفقود ہونے کی وجہ سے ملک میں اس پر عمل تقریبا نا موجود ہے ۔ اسلام میں عورتوں کوکتنی حیثیتوں میں وراثت میں حصہ داری ہے ، اس کی مختصر وضاحت اس طرح ہے کہ بیٹی کی حیثیت میں اگروہ اکیلی ہو، نہ بھائی شریک ہو اورنہ بہن تو منقولہ وغیر منقولہ ساری جائداد میں سے آدھا تنہا اس کا ہوگا ۔ فلھا النصف ۔اگر ایک یا کئی بہنیں شریک ہیں توان دو یا ان سب کا دوتہائی ہوگا اور صرف ایک تہائی کسی اور کے لئے ہوگا فلھن ثلثا ماترک ۔اگرایک یا کئی بھائی اوربہن بیک وقت موجود ہوںتوتناسب میں دو بہن کا حصہ ایک بھائی کے برابر ہوگا ۔للذکر مثل حظ الانثیین  اسی طرح ماں کی حیثیت میں بھی اسے ایک شکل میں تہائی اور دوسری شکل میں چھٹا حصہ ملتا ہے۔ ولابویہ لکل واحدمنھما السدس / ولامہ الثلث کچھ شکلیں ایسی بنتی ہیں جس میں بہن سگی ہو ، علاتی ہو یا اخیافی اسے حصہ ملے گا ۔ ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھماالسدس / وھم شرکاء فی الثلث / ولہ اخت فلھا النصف / فان کانت اثنتان فلھما الثلثان مما ترک ۔ ہمارے مسلم معاشرے میں بھی اس سلسلے میں بڑی لا پرواہی موجود ہے ۔لیکن جن گھرانوں میں دینداری  ہےوہاں شریعت کا یہ قانون روایت کی شکل میں موجود ہے ۔ نجی ملکیت ہو، آبائی جائدادہو یازراعتی وتجارتی ملکیت ہو سب کی حصہ داری میں  عورت مالک اور شریک ہوگی ۔ یہ ہے ہماری شریعت اور اللہ کا دیا ہوا منصفانہ قانو ن  ۔

قرآ ن کا پیغام طالبات وخواتین کے نام

اب ہم اپنی ماؤوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو یہ قرآنی پیغام دینا چاہتے ہیں جو قرآن کی سورہ احزاب میں مؤمنین کی ماؤوں یعنی ازواج مطہرات کو دیا گیا ہے ۔یا ایھالنبی قل لازواجک ان کن تردن اللہ ورسولہ والدار الآخرۃ / وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن / واقمن الصلؤٰۃ۔۔۔ / واذکرن ما یتلی تمہارا مطمح نظر اللہ ، اس کا رسول اور دار آخرت ہے اگر اللہ پیدا کرکے یوں ہی چھوڑ دیتا ، صرف روزی کا انتظام کردیتا اور ہدایت کی نعمت سے نہ نوازتا تو ہم روشنی کے بغیر دنیا میں بھٹکتے رہتے اور بالآخر اپنے برے انجام سے ایک دن دوچار ہوجاتے، لیکن اللہ تعالی نے ہم پر مہربانی فرمائی اوراپنا رسول مبعوث فرماکر ہمارے لئے صحیح راہ اختیار کرنا آسان کردیا اور ہمیں یہ بات بتادی کہ تمہاری منزل یہ چند روزہ دنیا نہیں ہے بلکہ آخرت کا گھر ہے ۔ اگر تم یہ سب کچھ مانتے ہو اور اسی کی چاہ میں رہتے ہو تو اللہ کا یہ یقینی وعدہ ہے کہ ایسے خوب کاروں اور حسن عمل سے آراستہ عورتوں کے لئے اجر عظیم ہے ۔

دوسری بات یہ فرمائی کہ تمہارا دائرہ عمل گھر ہے ۔ گھر میں ٹک کر بیٹھی رہو ۔ خلط ملط والی دنیا تمہار ے دائرہ سےباہر ہے ۔ بچوں کی تعلیم وتربیت ،اور اپنے معاشرے کی عورتوں کی رہنمائی کرو ۔اپنے دائرہ کی دنیا گھر سے باہر کی بھی ہو سکتی ہے، جیسے گرلزاسکول، لیڈی ہاسپٹل ،عورتوں کی فیکٹری وغیرہ ۔دین نا آشنااور ہدایت سے محروم سماج سے اپنے آپ کو بچا کر رہو ۔اس معاشرے میں جو بننے سنورنے ، تھرکنے ناچنے اور گانے کا ماحول ہے،عریاں اور شہوانیت زدہ ماحول ہے اور جس طرح زیب وزینت اور آرائش وزیبائش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، اس سے بچ کر رہو ۔قرآن مجید جس جاہلیت او لی سے بچنے کی بات کررہاہے  ، اس سے بہت زیادہ فحاشی اور عریانیت جدید جاہلیت کے دور میں ہو رہی  ہے ۔ اس سے دوری بنا کر رکھنا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ قلب وروح کا گندہ ہونا تشویشناک ہے ۔رجس یعنی شرک کی نجاست سے اپنے آپ کو پاک کرنا  ہے  اوراسی طرح  ہر طرح کی روحانی واخلا قی گندگی کو دور کرنا ہے ۔اس کے لئے حکم دیاکہ تم نماز قائم کرو یعنی بڑے اہتمام سے اوقات کی پابندی کے ساتھ ۔ دوسرا حکم یہ دیاکہ اللہ نے جو تمہیں رزق دیا ہے اس کو خرچ کرکے اپنے دل کا تزکیہ کرو اور اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت دو۔مزید یہ بات کہی کہ اللہ ورسول کی سچی اطاعت کرو۔ جیسے ہی یہ بات سامنے آئے کہ یہی اللہ کی مرضی اور حکم ہے توفورا اس پر عمل کرنے کے لئے لپک پڑو ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے دل ودماغ اور روح وقلب کے اندر جو آلائش وگندگی ہے اس کو ہٹا دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے ۔

ان آیتوں میں آخری بات جو ازواج نبی سے کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کی موجودگی کی وجہ سے تمہارے گھر علم وعرفان کا مرکز بن گئے ہیں ۔ کتاب وسنت کا جو علم تمہارے گھروں میں برس رہاہے ، احکام الٰہی کا فیضان اور نبوی اعمال وسنن کے جو چشمے جاری ہوگئے ہیں، ان سے خود فیضیاب ہونے کے ساتھ ہی امت کو فیض یاب کرنے کی ذمہ داری اول درجے میں تم پر آتی ہے ۔  ازواج نبی کو دعوت ،تعلیم اور اشاعت واقامت دین کا نشانہ دیاگیا کہ اپنی پوری توانائی وطاقت اس میں صرف کریں ۔ازواج نبی کا اسوہ ہماری باعزیمت عالمات ،متعلمات اور معلمات کے لئے یہی ہے ۔

اگست 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau