انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس

اسلام اور LGBTQ+ کا بیانیہ

ڈاکٹر محمد رضوان

پچھلے سلسلہ مضامین میں اسلام اور شناخت کے بیانیہ پر تفصیل آ چکی  ہے۔ اب آگے کے سلسلے مضامین میں اسلام اور  LGBTQ+ کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔ یہ گفتگو درج ذیل پہلوؤں پر مرکوز ہوگی۔

  1. LGBTQ+ اور اسلامی تعلیمات و اصول میں جنس اور جنسیت اور ان میں تعامل۔
  2. LGBTQ+، جدید لٹریچر اور اسلامی تعلیمات کا استنباط اور استخراج (بطور خاص انحراف اور کجی کے حوالے سے)۔
  3. LGBTQ+ اور اس سے قریب تر انحرافی جنسی رویوں جیسے صنفی اضطراب وغیرہ کے عملی مسائل اور عالم اسلام میں ہو رہے علمی و عملی کام کا تجزیہ۔
  4. ہم صنفی کشش (SSA) کے جدید مباحث اور اسلام کا بیانیہ۔

1.LGBTQ+ اور اسلامی تعلیمات و اصول میں جنس اور جنسیت اور ان میں تعامل:

LGBTQ+ کا نفسی معاشرتی ڈسکورس اپنے بنیادی اور اساسی تصورات اور اصطلاحات کے اعتبار سے اسلام کے جنسی تصورات سے مغائر ہے۔

اسلام کے نزدیک (بنیادی مآخذ یعنی قرآن و سنت کے حوالے سے) جنس صرف’ ذکر و انثی‘یعنی مادہ اور نر ہے۔

یا أَیهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى۔(سورة الحجرات:  ۱۳)

[لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔]

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم کو جوڑوں میں پیدا کیا۔

وَمِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ‏۔  (الذاریات:  ۴۹)

[اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو ]

وَاَنَّه خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىۙ‏ (النجم:  ۴۵)

[اور یہ کہ اُسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ۔ ]

أَلَمْ یكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِی یمْنَىٰ ‎﴿٣٧﴾‏ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ‎﴿٣٨﴾‏ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَینِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ (القیامة:  ۳۷-۳۹)

‏ [کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے۔ پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔]

البتہ یہاں ایک لطیف نکتہ ہے۔ قرآن میں اس کی تو صراحت ہے کہ جنس دو ہیں اور ہر جنس کا جوڑا ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ ان دو طرح کی جنس کے علاوہ کوئی جنس ہو ہی نہیں سکتی؟۔ LGBTQ+ ڈسکورس کے وہ عناصر جو مذہبی تعلیمات سے تعامل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں دو جنسوں کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور قسم کی جنس نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ عمومی طور پر دو جنسیں ہوتی ہیں۔ وہ قرآن کے عموم والا اصول بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن میں جا بجا عموم کے حوالے سے باتیں آئی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بس وہی عموم صحیح ہے بلکہ وہ بیان ہی اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ عموم ہے۔

جدید جنسی تھیوری کے مطابق جنسیت سیالیت لیے ہوتی ہے۔ یعنی کوئی شخص انسانی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف جنسی رجحان کا حامل ہو سکتا ہے۔ لیکن اسلام کی مجموعی جنسی تعلیمات اس تھیوری کی تائید نہیں کرتی ہیں بلکہ اسلام میں جنس دو واضح خانوں میں قید ہے۔ اس کا ثبوت وہ تعلیمات ہیں جو نر اور مادہ کے ملاپ سے بقائے نسل انسانی اور سکون و مودت کے لیے جوڑوں کی تخلیق کے حوالے سے پائی جاتی ہیں۔ ان میں سیالیت کے مشاہدےاستثناءہیں وہ عموم نہیں ہیں۔ جنسی سیالیت پر تفصیلات کے لیے دیکھیے۔[1]

اس لیے بنیادی طور پر اسلامی اصولوں سے نکلنے والے جنسی ڈسکورس میں جنسیت سیالیت زدہ نہیں ہے بلکہ وہ واضح طور پر دو خانوں میں منقسم ہے۔

جنسی حقوق اور انسانی حقوق کا فرق:  LGBTQ+ لا محدود انفرادی حقوق کے پیراڈایم میں کام کرتا ہے۔ جب کہ اسلام میں متاثر کن انفرادی حقوق کا کینوس ایک خاص فریم کے تحت ہے۔ یہ فریم اسلام کے بنیادی فلسفہ ’عبد‘اور فلسفہ’ خلیفة الارض‘سے تعلق ہے۔

اسلام LGBTQ+ افراد کے انسانی حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے لیکن وہ ان کے جنسی حقوق کے سلسلے میں بہت واضح طور پر ممانعت کرتا ہے۔ اس کے لیے قرآن مجید میں حضرت لوط کی قوم سے متعلق آیتیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

عام طور پر LGBTQ+ افراد جو اسلام سے LGBTQ+ ڈسکورس کے لیے دلیل لاتے ہیں وہ اس طرح کی آیات کی وہ تاویل بیان کرتے ہیں جو نہ قرآن کی مجموعی ساخت سے میل کھاتی ہیں اور نہ ہی قرآن کے الفاظ میں اس کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ ہی ان الفاظ کے معانی قرآن کی مجموعی  ہرمینیات (hermeneutics)سے ثابت کیے جا سکتے ہیں۔

چناں چہ جنسی حقوق کے متعلق قرآن اور احادیث سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ دو مخالف صنفوں میں نکاح کے بعد ہی وجود میں آتے ہیں۔

باہم جنس پرست شادی (same-sex marriage) کے وہ قائلین جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں کہتے ہیں کہ دو بالغ افراد بھی نکاح کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں چاہے ان کی جنس کوئی بھی ہو۔ لیکن یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔

LGBTQ+ افراد ایک عجیب طرز استدلال اختیار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نکاح ایک معاہدہ ہے جو دو بالغ افراد کے درمیان ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے صنف مخالف کا ہونا ضروری نہیں ہے! اسلام کے حوالے سے یہ ایک بودی دلیل ہے۔ اسلام میں نکاح ایک مقدس بندھن ہے اور اس کی غرض و غایت اسلامی نظام عقیدہ اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی تہذیب میں بالکل واضح ہے اور وہ غرض و غایت یہ ہے کہ دو مخالف جنس کے افراد اپنی جنسی ضرورتوں کی تکمیل کریں،  اطمینان اور مودت حاصل کریں اور ان سے نسل انسانی کی بقا کا سامان ہو۔  LGBTQ+  افراد صرف تلذذ کے پیراڈائم میں جنسی حقوق کو دیکھتے ہیں جب کہ اسلام تلذذ کے ساتھ ساتھ انسانی تہذیب کی بقا اور اس کے نشو و نما کے لیے ایک وسیع تر پیراڈائم دیتا ہے۔ چناں چہ اسلام ایک فطری مذہب ہونے کی حیثیت سے وسیع کینوس پر جنسی حقوق اور جنسی تلذذکے دائرے منضبط کرتا ہے۔ وہ بقائے نسل انسانی کے بہت فطری اور آسان طریقے کو تجویز کرتا ہے ( یعنی دو مخالف جنسوں کے ملاپ سے وجود میں آنے والی نئی زندگی) اور اس لیے اسلام کے نزدیک دو مخالف جنسوں ہی میں نکاح ممکن ہے جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہے وہ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔

جنسی تلذذ کے حوالے سےیہ بات اب اعلی تحقیقی معیار سے ثابت کی جا چکی ہے کہ ہم جنس پرست افراد صنف مخالف سے جنسی تلذذ حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ ہم جنس سے تلذذ حاصل نہ کریں تو تا عمر جنسی تلذذ سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے حقوق کے لیے کام کر رہی تنظیمیں اس کی بڑی دہائی دیتی نظر آتی ہیں۔ [2]

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ورلڈ ویو میں ہر وہ تلذذ جو اسلام کے اخلاقی فریم کے باہر ہو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ دینی نصوص میں اس حوالے سے واضح ہدایت موجود ہے۔

”من استطاع الباءة فلیتزوج، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج، ومن لم یستطع فعلیه بالصوم، فإنه له وجاء“

(جس کے پاس قدرت ہو وہ شادی کرلے، یہ نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے میں زیادہ معاون ہوگا اور جو اس کی قدرت نہ رکھے وہ روزے رکھے، وہ اس کے لیے ضبط نفس کا ذریعہ ہے۔)

اس پر یہ افراد کہتے ہیں یہ حدیث تو ان کے لیے ہے جو ایک خاص مدت کے بعد جب نکاح کے قابل ہوں گے تو تلذذ حاصل کر لیں گے۔ لیکن ان ہم جنس پرستوں کا کیا جو یہ تلذذ حاصل ہی نہیں کر پائیں گے کیوں کہ وہ حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ تو کیا ان کے لیے ہمیں ” ہمدردانہ“سوچ نہیں رکھنی چاہیے؟ ان سے compassion نہیں رکھنا چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ  یقینًا رکھنا چاہیے لیکن ہمدردانہ سوچ یا ان کے درد کو محسوس کرنا ایک بالکل علیحدہ شے ہے اور ان کے انحراف کی طرف داری کرنا اور اسلام کے بنیادی جنسی پیراڈائم، اسلام کے دیے گئے بنیادی جنسی اصولوں اور اسلام کی جنس کے متعلق واضح تعلیمات کی خلاف ورزی کرکے جا کران کے جنسی انحراف کو درست نہیں کہا جاسکتا۔

اسلام جنسی اور جنسی تصورات اور اس سے متصل فحاشی کے پیراڈائم کے سلسلے میں بہت زیادہ حساس ہے اور ہم جنس پرست تلذذ صریح نصوص کی بنیاد پر بالاتفاق حرام ہے۔ اسلام ہر اس روزن کو بند کرتا ہے جہاں سے فحاشی کے در آنے کا اندیشہ ہو۔ اس لیے وہ نکاح کے رشتے میں دو مخالف صنفوں کے درمیان ایک ’عہد‘کے تحت جنسی تعلق کو جائز قرار دیتا ہے اور اس سے باہر کے ہر رویے کو’ انحراف‘سے تعبیر کرتا ہے۔

انحرافی جنسی رجحانات LGBTQ+ ’بیماری‘یا حالت یا کچھ اور

یہ ایک انتہائی اہم پیراڈائم ہے۔ عام طور پر اس پر بات نہیں ہوتی ہے کہ اسلام LGBTQ+ کو کیسے دیکھتا ہے۔ کیا یہ ایک بیماری ہے؟ اگر یہ بیماری ہے تو پھر فقہی تعبیرات کے حوالے سے اس پر الگ انداز سے نظر ڈالی جائے گی۔ اگر یہ عام رجحان ہے، بالکل نارمل ہے تو بات الگ ہو جائے گی۔

جیسا کہ اس پورے سلسلہ مضامین میں بارہا اس کا تذکرہ آچکا کہ مرد اور عورت ہم جنس پرستی ان معنوں میں نارمل نہیں ہے جیسا کہ یہ ڈسکورس ہمیں دکھاتا ہے۔ اور یہ ان معروف معنوں میں بیماری بھی نہیں ہے کہ جیسا کہ بعض مذہبی حلقے اسے باور کراتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اسے ایک خاص نفسیاتی حالت(psychological condition)سے تعبیر کرنا چاہیے۔ اور اس سے گزر رہے افراد کو ان کی نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ کرکے دیکھنا چاہیے۔

یہ اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات اور اسلام کے وسیع تر اخلاقی فریم ورک میں اجتماعی نقطہ نظر کے علاوہ انفرادیت کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے اسلامی تعلیمات تمام LGBTQ+ افراد کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکتی ہیں بلکہ ان کی تقسیم کی جائے گی اور پھر اس تقسیم کے مطابق  شرعی اعتبار سے ان پر ’حکم‘لگایا جائے گا اور ان کے ساتھ تعامل میں اس تقسیم کا خیال رکھا جائے گا۔

۱۔ ایک قسم کے افراد وہ ہیں جو اس انحرافی رویے پر اصرار کرتے ہیں، اس سے حظ اٹھاتے ہیں اسے نارمل جنسی رجحان مانتے ہیں۔ اس پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کرتے۔ اس سے توبہ کا ارادہ نہیں کرتے وہ دراصل صریح نص کا انکار کرتے ہیں۔ لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کے حوالے سے قرآن مجید میں آٹھ مرتبہ اس طرح کے لوگوں کا تذکرہ آیا ہے۔

خاص طور سے ملاحظہ ہو: سورة الاعراف: 84-80،  سورة هود83-74، سورة النمل:  54-58، سورة العنکبوت: 35-28۔

اس فعل کی شناعت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اس میں تصور ‘فحش’ اور اس سے جڑی وعیدیں جوڑ دی جائیں۔ بالخصوص زنا کے پورے پیراڈائم سے اگر اس کو جوڑ دیا جائے تو تصویر صاف ہو جاتی ہے۔

قرآن میں’ زنا‘کے قریب بھی نہ جاؤ کا تذکرہ جا بجا ہے۔

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا۔ (الاسرا-۳۲)

۲۔ دوسری قسم کے افراد وہ ہیں جو اس رجحان سے نبرد آزما ہیں ان کے لیے اللہ نے خوش خبری دی ہے۔

لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ (الزمر:۵۳)

(اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔)

چناں چہ وہ افراد جو ہم جنس پرست خواہشات سے نبرد آزما ہیں اسے دل سے برا سمجھتے ہیں۔ گناہ میں مبتلا ہونے پر توبہ کرتے ہیں ان کے لیے توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم جنس پرستی سے متعلق خیالات جو انسان کے بس میں نہیں ہیں، اگر دل میں آتے ہیں تو ان پر  انسان کا مواخذہ نہیں ہے، جب تک کہ وہ انھیں اختیار کرنے کا ارادہ نہ کرلے۔ یہاں ایک لطیف نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھنا، اپنے تزکیے کی طرف مستقل متوجہ رہنا، ہر اس محرک سے بچنے کی کوشش کرنا جو اس قسم کے خیالات کسی شخص کے اندر پیدا کر سکتا ہو، فحش قسم کے ماحول سے دور رہنا، فواحش کے ارتکاب کے سلسلے میں ہمیشہ چوکنا رہنا عین مطلوب ہے۔

اس لیے وہ افراد جو اس سے نبرد آزما ہیں ان سے تعامل و گفت وشنید کے وقت اس بنیادی اسلامی اصول کا دھیان رکھنا چاہیے۔ انھیں مایوسی سے دوچار کرنے کے بجائے ان کے اندر مزاحمت کا داعیہ بڑھانا چاہیے۔

۳۔ تیسری قسم ان افراد کی ہے جو اس سے سخت متوحش ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اس وقت موجود طریقہ علاج اور اس کی بنیاد پر ہونے والی تحقیقات واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ جنسی رجحان کی تبدیلی کا کام انتہائی مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ لیکن جدید نفسیات میں ہو رہی ابتدائی تحقیقات سے امید کی کرن روشن ہوتی نظر آ رہی ہے۔

پچھلے ۵۰ برسوں میں جنسی رجحان اور اس کی تبدیلی کے سلسلے میں تحقیقات ختم ہوچکی ہیں۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ جنسی رجحان تبدیل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ادھر کچھ دنوں میں اس طرح کی تحقیقات آنا شروع ہوگئی ہیں جن میں معنویت کی تشکیل (meaning making )، کسی اعلی مقتدرہ  کے ساتھ وابستگی انسان کو جنسی رجحان یا شناخت کے حوالے سے مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ مثلًا دیکھیے [3]

جدید تحقیقات کا سب سے زیادہ متضاد پہلو یہ ہے کہ اگر یہ مانا جاتا ہے کہ جنسیت سیالیت لیے ہوئے ہے یعنی فرد کی جنسیت اور اس کا جنسی رجحان متعین نہیں ہوتا ہے بلکہ سیالیت لیے ہوئے ہوتا ہے تو پھر یہ کیسے مان لیا گیا کہ آج اگر کسی کا رجحان ہم جنس پرستی کی طرف ہے تو کل کو وہ رجحان غیر ہم جنس پرستی کی طرف نہیں ہو سکتا۔ اب لا محالہ دو ہی امکان بچتے ہیں۔

(1) یا تو جنسی سیالیت والی تھیوری کو غلط مانا جائے۔

(2) یا یہ مانا جائے کہ ہم جنس پرستی بھی جنسی سیالیت کا ہی ایک جز ہے اور اسے غیر ہم جنس پرستی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔

مزے دار بات یہ ہے کہ یہ ڈسکورس بیک وقت دو متضاد باتوں کو تسلیم کرتا ہے۔LGBTQ+ ڈسکورس کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس کو سیلیکٹیو (selective) طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ پچھلے ۶۰ برسوں میں ہم جنس پرستی کو غیر ہم جنس پرستی سے تبدیل کرنے کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی نئی تحقیق نہیں ہوئی۔ ۱۹۷۳ سے پہلے کی تمام تحقیقات کا حوالہ دے کر ہی یہ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی تبدیلی نا ممکنات میں ہے۔

4۔ چوتھی قسم ان افراد کی ہے جو دو جنسیے یا (bi-sexual) ہوتے ہیں۔ یہ دونوں جنسوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور دونوں جنسوں سے جسمانی تعلق بنانے کے قابل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو کسی ایک جنس سے تعلق بنانے کے لیے موڑنا آسان ہوتا ہے۔ متعدد ماہر نفسیات گفتگو میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دو جنسے اگر مضبوط قوت ارادی کے ساتھ آگے آئیں تو انھیں کسی ایک جنس کی طرف مائل کرنا بہت آسان ہے۔

دیگر محرک (trigger) کی عدم موجودگی میں وہ بالکل ایک نارمل غیر ہم جنس پرست کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

محرک کی موجودگی میں انھیں خود ضابطگی (self-restraint)کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔

دو جنسیے اور ان کے جنسی رجحان کی تبدیلی اس بات کے امکانات روشن کرتی ہے کہ خالص ہم جنس پرست افراد میں اصولی طور پر جنسی رجحان کی تبدیلی ممکن ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اصولی طور پر ہی یہ مان لیا گیا ہے کہ

(1) ہم جنس پرستی کوئی ایب نارمل جنسی رویہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک نارمل جنسی رجحان کا امتداد (extension)ہے۔

(2) اس کو کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے۔

اس لیے جنسی رجحان کی تبدیلی کے سلسلے میں کوئی کوشش ہی نہیں کرنی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ انفرادی حقوق کی گہار لگانے والے ان افراد کی حقوق تلفی میں کوئی عار نہیں سمجھتے جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا یہ جنس پرستی کا رجحان غیر ہم جنس پرستی سے تبدیل کر دیا جائے۔

چناں چہ ہم جنس پرست افراد کے لیے ایڈووکیسی گروپ ہیں۔ ان کے مسائل پر تحقیق کے لیے فنڈ ہیں، تنظیمیں ہیں، حقوق کی لڑائی کے لیے لابیاں ہیں۔ لیکن یہی سب اس اکثریت میں موجود اقلیت کے لیے، جو اپنا جنسی رجحان تبدیلی کرنا چاہتی ہے، موجود نہیں ہے۔

جنسی رجحان کی تبدیلی کے خواہش مند افراد میں بھی قسمیں ہوتی ہیں۔

(1) وہ جو اصلًا (genuinely) ایسا کرنا چاہتے ہیں یہ ان کے اندر کی آواز ہوتی ہے۔

(2) وہ جو سماج اور والدین کے دباؤ کے تحت ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

(3) وہ جو اپنے خاندان اور نسب کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں فکر مند ہوتے ہیں۔ اور نارمل طریقے سے اولاد کا حصول چاہتے ہیں اور اس لیے چاہتے ہیں کہ وہ صنف مخالف سے تعلق بنانے میں کام یاب ہوں۔

چناں چہ ایسے تمام افراد کے لیے کیا مواقع ہیں؟ اس پر یہ ڈسکورس مکمل طور پر خاموش ہوجاتا ہے۔ اب اس ضمن میں حرکت پیدا ہوئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پہلی دو اقسام پر سے اگر سماجی اور ثقافتی دباؤ ہٹا دیا جائے تو وہ اپنے جنسی رجحان کو لے کر خوش و خرم رہ سکتے ہیں۔

تیسری قسم کے افراد مددگار تولیدی ٹکنالوجیوں (assisted reproductive technologies) کا استعمال کرکے والدین بن سکتے ہیں اور اپنے خاندان اور حسب و نسب کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

اس لیے اب کہا جا رہا ہے کہ اگر سماج کا ماحول ایسا بنا دیا جائے جہاں پر تمام طرح کی جنسیت کو عام جنسیت مانا جائے، جنسی دوئی کے باہر کے تمام جنسی مظاہر کو عوام کی تائیید حاصل ہو تو عمومی فضا  ایسی بنے گی کہ لوگ ہر طرح کی جنس کا تجربہ کریں گے، کسی بھی جنسی شناخت پر مطمئن ہوں گے اور ہر طرح کے جنسی تلذذ کو maximize کر سکیں گے۔ اور یہ معاشرہ کی تہذیبی نشأة ثانیہ ہوگی۔ فاعتبروا یا الاولی الابصار۔

اوپر دی گئی ‘نسبتًا’ وسیع تقسیم کی مزید تقسیم در تقسیم کی جا سکتی ہے اور اس میں نئی categories کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بنیادی آئیڈیا یہی ہے کہ اسلامی تعلمیات اور جنسیت کے ڈسکورس میں بالکل عموم والے انداز میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ تعامل نہیں دکھایا جاسکتا۔ بلکہ اس پورے ’طیف‘میں انتہائی باریکی سے تقسیم کی جائے گی اور پھر انفرادی حیثیت میں بھی دیکھا جائے گا کہ فرد کا معاملہ کیا ہے پھر اس کے بعد احکام نافذ کیے جائیں گے۔ مثلًا اسلامی تاریخ میں مخنثوں کا جا بجا تذکرہ ہے۔

موجودہ دور میں  hermaphrodites، intersex کے حقوق کے سلسلے میں کافی زور و شور سے بحث جاری ہے۔ اس طرح کے حاشیہ زدہ گروہ کے حقوق کے سلسلے میں سماج کو حساس ہونا چاہیے۔ یہ ایک آفاقی قدر بھی ہے کہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ اسلامی تعلیم تو اس ضمن میں بہت واضح ہے۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَینِ وَالْأَقْرَبِینَ۔ (النساء: ۱۳۵)

[اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔]

لیکن LGBTQ+ ڈسکورس  اپنے نفسانی فحش کو بڑی چالاکی سے ان حاشیہ زدہ گروہوں کے حقوق کی آڑ میں چھپا دیتا ہے۔

قدیم اور کلاسیکی اسلامک لٹریچر میں مخنثوں کے حوالے سے بہت کچھ موجود ہے۔ جدید دور میں ان کی تقسیم درج ذیل طریقے سے کی جاتی ہے۔

ان میں سے ہر ایک قسم کے ساتھ معاملے پر تفصیلی کلام موجود ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیئے۔[4]اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

۱۔ کسی بھی مخنث یا intersex کی حتمی جنس معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس کے لیے دیکھیے۔ [5]

۲۔ جس جنس کی جانب زیادہ رجحان ہوگا اس جنس کی طرف یکسو کرنے کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کیا جائے گا۔

۳۔ شرعی احکام کا نفاذ تبدیل شدہ جنس کے حوالے سے ہوگا۔ جیسے وراثت میں حصہ وغیرہ۔

جدید دور میں اس کی عملی مثال ملیشیا میں ملتی ہے جہاں پر اس طرح کے معاملات کے لیے ایک بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے ممبران مختلف میدانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے جنسیت کے ماہر ‘علما’ نفسیاتی ماہرین وغیرہ۔ حالیہ دنوں اس بورڈ کے متعدد ایسے معاملات کے سلسلے میں دیے گئے فیصلوں کے بارے میں دیکھیے۔ [6]

intersex یا hermaphrodites کے ساتھ عام طور پر transgender کو خلط کر دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں تک transgender افراد کے سلسلے میں یہ مانا جاتا تھا کہ یہ افراد دراصل GID کا شکار ہیں یعنی یہ وہ افراد ہیں جو پیدائش کے وقت تفویض کردہ شناخت (لڑکا یا لڑکی) سے مطمئن نہیں ہو پاتے اور اپنے آپ کو مخالف جنس کے جسم میں قید سمجھتے ہیں۔

عام طور پر transgender دو قسم کے ہوتے ہیں۔

(1) ایک وہ جنھیں پیدائش کے وقت، ثانوی جنسی اعضا کی بنیاد پر’ نر‘جنس تفویض کی جاتی ہے لیکن بلوغت سے پہلے یا بلوغت کے بعد وہ اپنے آپ کو ایک لڑکی کی طرح محسوس کرتے ہیں اور مزید یہ کہ وہ اپنے آپ کو اس جسم میں قید سمجھتے ہیں۔

(2) جنھیں پیدائش کے وقت مونث جنس تفویض کی گئی تھی لیکن وہ بلوغت یا بلوغت سے پہلے اپنے آپ کو لڑکے کی طرح محسوس کرتے ہیں اور مزید یہ کہ اپنے آپ کو کسی لڑکی کے جسم میں قید محسوس کرتے ہیں۔

صنفی اضطراب اور transgender افراد کے سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کا جائزہ درج ذیل پہلوؤں سے ہو سکتا ہے:

۱۔ صنفی اضطراب سے نبرد آزما افراد کے سلسلے میں کیا اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ جس جنس سے متعلق اپنے آپ کو محسوس کرتے ہوں اس کے لیے جراحی طریقے یا ہارمونل تھراپی کے ذریعے انھیں اسی جنس کے مطابق ڈھال دیا جائے؟

۲۔ اس اصول کے لیے کیا بنیادیں ہوں گی کہ فرد کے احساسات کے مطابق اس کے خارجی جسم کو ڈھالا جا سکتا ہے؟

۳۔ کیا جراحی یا ہارمونل تھراپی اس صریح نص کے خلاف مانی جائے جس میں اللہ کی خلق کی تبدیلی سے متعلق وعید ہے؟

۴۔ مقاصد شریعت کے وسیع تناظر میں صنفی اضطراب سے نبردآزما افراد کے لیے کیا اجتہادی گنجائش موجود ہے؟

ہم سمجھتے ہیں اوپر دیے گئے چاروں پہلو بہت تفصیلی بحث چاہتے ہیں۔

۱۔ (conversion therapies) کے سلسلے میں با قاعدہ تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ قطعی (fool proof) نہیں ہیں۔ یعنی وہ افراد جو صنفی اضطراب  کے شکار تھے جنھیں جراحت یا ہارمونل تھراپی کے ذریعے جنسی عبوریت (gender transitioned) کے عمل سے گزارا گیا تو ان میں سے ۶۰٪ دوبارہ اپنی پیدائش والی شناخت پر لوٹ گئے۔[7]

اسلامی اصول کے مطابق جب تک یہ کامل طور پر ثابت نہ ہو جائے کہ اس طرح کی تھراپی صد فی صد کام یاب ہوتی ہے۔ فرد کے وسیع ترین مفاد میں، اور دیگر کسی دوسری صورت کی عدم موجودگی میں اسے اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جب یہ ثابت ہی نہیں ہو پا رہا ہو کہ صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد صنف کی تبدیلی کے بعد ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں تو پھر کن بنیادوں پر اس کا فیصلہ لیا جائے!

اس لیے جب تک یہ فیصل نہیں ہو جاتا کہ CT کے نتائج across spectrum صحیح ہیں اور پھر اس کے بعد فقہائے کرام یہ اجتہاد کرتے ہیں کہ CT ہونا چاہیے تب تک ہر قسم کی CT ممنوع رہے گی۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ CT کے غیر معمولی ذیلی اثرات ہوتے ہیں۔ مقاصد شریعت کے تحت ‘ضرر’ کا جو پہلو آتا ہے اس حوالے سے ان غیر معمولی ذیلی اثرات کے ساتھ کیا CTکو روبہ عمل لانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر علمی کام اور بحث و مباحثہ ہنوز باقی ہے۔

حوالہ جات

[1] Katz-Wise SL, Todd KP. The current state of sexual fluidity research. Curr Opin Psychol. 2022 Dec;48:101497. doi: 10.1016/j.copsyc.2022.101497. Epub 2022 Oct 25. PMID: 36401908; PMCID: PMC10289116.

[2] https://www.mpvusa.org/sexual-diversity

[3] Eytan S, Ronel N. From Looking for Reason to Finding Meaning: A Spiritual Journey of Recovery From Sexual Trauma. J Interpers Violence. 2023 Jun;38(11-12):7404-7425. doi: 10.1177/08862605221145723. Epub 2023 Jan 29. PMID: 36710496.

[4] Muhsin SM, Yahya F, Parachottil R, Shaikh S, Chin AHB. Sex Reassignment Surgery, Marriage, and Reproductive Rights of Intersex and Transgender People in Sunni Islam. Arch Sex Behav. 2024 Feb 21. doi: 10.1007/s10508-024-02813-9. Epub ahead of print. PMID: 38383942.

[5] Zainuddin AA, Mahdy ZA. The Islamic Perspectives of Gender-Related Issues in the Management of Patients With Disorders of Sex Development. Arch Sex Behav. 2017 Feb;46(2):353-360. doi: 10.1007/s10508-016-0754-y. Epub 2016 Apr 21. PMID: 27102604; PMCID: PMC5272885.

[6] Zabidi T. Analytical Review of Contemporary Fatwas in Resolving Biomedical Issues Over Gender Ambiguity. J Relig Health. 2019 Feb;58(1):153-167. doi: 10.1007/s10943-018-0616-0. PMID: 29681005; PMCID: PMC6338795.

[7] Littman L. Individuals Treated for Gender Dysphoria with Medical and/or Surgical Transition Who Subsequently Detransitioned: A Survey of 100 Detransitioners. Arch Sex Behav. 2021 Nov;50(8):3353-3369. doi: 10.1007/s10508-021-02163-w. Epub 2021 Oct 19. PMID: 34665380; PMCID: PMC8604821.

مئی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau