انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس +LGBTQ اور چرچ

ڈاکٹر محمد رضوان

پچھلے مضمون میں قدرے تفصیل سے بائبل کا بیانیہ اور +LGBTQکے تعامل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب اس مضمون میں +LGBTQ اور چرچ کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی جاتی ہیں۔

یہ بات بہت دل چسپ ہے کہ ہم جنس پرستی کے سلسلے میں بائبل کی بہت واضح آیات ہونے کے باوجود عیسائیت میں ہم جنسیت کو لے کر زبردست اختلافات موجود ہیں، جن کا تذکرہ پچھلے مضمون میں آیا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر خود چرچ کے حوالے سے +LGBTQ اور چرچ کے تعامل میں غیر معمولی تفاوت اور رنگارنگی ہے۔

یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ کسی بھی ساختی مذہب کی طرح عیسائیت میں بھی بہت سارے فرقے ہیں جن کے لیے عام طور پر ڈینومنیشن (denomination) کی اصطلاح رائج ہے۔ مختلف ڈینومنیشن کے مختلف چرچ ہیں۔ یہ ڈینومنیشن یا فرقے کس طرح وجود میں اتے ہیں؟ ڈینومنیشن یا فرقہ دراصل عبادت کے طریقہ کار، بائبل کی تشریح و تفسیر میں اختلافات، بائبل کی تعلیم سے استخراج و استنباط اور بائبل میں خدا مسیح اور روح کے سلسلے میں مختلف نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ پھر یہ مختلف ڈینومنیشن آگے چل کر عبادتوں کی مخصوص حالت و کیفیت اور تفصیلات کی بنیاد پر مختلف چرچوں کو وجود بخشتے ہیں اور اب سینکڑوں قسم کے چرچ موجود ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت عیسائیت میں 11 ہزار کے قریب چھوٹے بڑے مختلف فیہ مکاتب فکر موجود ہیں۔[1] خالص اکیڈمی سطح پر عیسائیت میں فرقہ واریت کو درج ذیل خاکہ دکھلاتا ہے۔[2]

چرچ کے سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ چرچ کی اپنی ساخت ہے اس کی اپنی درجہ بندی ہے اور ایک طویل عرصے میں وہ ارتقا پذیر ہوئی ہے، اس لیے جب یہ کہا جاتا ہے کہ +LGBTQ کے تعلق سے چرچ کا کیا نقطہ نظر ہے، تو اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں چرچ کی گورننگ کونسل اور ان کی مشاورتی کمیٹی بائبل سے استخراج و استنباط کے لیے بنائے گئے ماہرین کے گروپ اور چرچ کے بشپ یا سب سے بڑے مذہبی رہ نما مثلًا پوپ فرانسیس اس سلسلے میں کیا موقف رکھتے ہیں۔

چرچ کے سب سے بڑے مذہبی رہ نما پوپ کہلاتے ہیں اور یہ ویٹیکن سٹی میں ہوتے ہیں۔ پوپ کا انتخاب ایک پیچیدہ لیکن منظم عمل ہے۔

اس سے قبل عام طور پر عیسائیت کے سب سے بڑے مذہبی رہ نما نے عوامی سطح پر کبھی بھی ہم جنس پرستی یا انحرافی جنسی رویوں سے متعلق کوئی بات نہیں کہی تھی لیکن پوپ فرانسیس اس ضمن میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے ہم جنس پرستی اور انحرافی جنسی رویوں کو لے کر ایسے بیان دیے ہیں جن سے اس ڈسکورس کے ماننے والوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ناقدین ان بیانات کو پوپ کے روایتی موقف کے سلسلے کی کڑی کی حیثیت میں دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ موقف عام عیسائی موقف کے نسبتًا خلاف ہے جو بائبل کے لغوی معنی پر اصرار کرنے والے افراد لیتے ہیں۔ پوپ فرانسیس نے حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ +LGBTQ یا ہم جنس پرستی کو گناہ مانا جائے، اسے جرم نہ تصور کیا جائے۔ یہ ایک بڑی معنی خیز بات ہے۔ گناہ کا تصور عیسائیت میں دیگر ساختی مذاہب کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ عیسائی تعلیمات کی موٹی موٹی تشریح کے مطابق عیسی مسیح نے تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ صلیب پر چڑھ کر ادا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ جرم کی سزا دی جاتی ہے اور گناہوں کو معاف کیا جاتا ہے۔ چوں کہ عیسائیت بجائے خود معافی، عفو و درگزر، محبت و شفقت اور رحم سے عبارت ہے، اس لیے انحرافی جنسی رویہ رکھنے والے لوگ یا ہم جنس پرست افراد تمام کے تمام اصل میں ہماری محبت اور شفقت کے حق دار ہیں۔

اس حوالے سے پوپ فرانسیس کے تمام بیانات پر ایک باقاعدہ تحقیقی نظر ڈالی جائے تو ایک خاص منظر نامہ ہمارے سامنے آتا ہے۔

پوپ فرانسیس نے ستمبر 2021 میں ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے سول یونینوں کی عوامی طور پر حمایت کی تھی۔ یہ بات بڑی دل چسپ ہے کیوں کہ شادی کا تصور، بائبل کی روایتوں کے مطابق ایک مرد اور ایک عورت کے حوالے سے ہے۔ پوپ فرانسیس نے زور دے کر کہا ہے کہ سماجی معاہدے کے تحت دو مردوں کا یا دو عورتوں کا ایک ساتھ رہنا دراصل شادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سماجی یونین ہے۔ چناں چہ انھوں نے کہا کہ دو بالغ اور فیصلے کا اختیار رکھنے والے افراد اگر ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو چرچ کو انھیں دعاؤں سے نوازنا چاہیے۔ لیکن یہ شادی نہیں ہوگی بلکہ ایک سماجی معاہدہ ہوگا اسی طرح سے فرانسیس نے انھیں “بہت سے لوگوں کے لیے اچھا اور مددگار” قرار دیا تھا لیکن چرچ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہے۔[3]

فرانسیس نے متعدد مواقع پر اس بات کی تصدیق کی کہ خدا اور یسوع اب بھی ہم جنس پرست کیتھولکوں سے محبت کرتے ہیں۔ انھوں نے اکثر جگہوں پہ کہا ہے کہ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے یسوع کسی سے ناراض نہیں ہوں گے۔ اسی تسلسل میں ان کے اس بیان کو دیکھنا چاہیے جو انھوں نے اگست 2018 میں دیا تھا پوپ فرانسیس نے کہا تھا کہ ہم جنس پرست لوگ ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں موجود رہے ہیں اور ہم جنس پرست بچوں کے والدین کو انھیں گھر سے باہر نہیں نکالنا چاہیے اور نہ ہی ان پر ملامت کرنی چاہیے۔[4] اس سے تھوڑا اور اگر ماضی میں جائیں اور ان کے انتخاب کے فوراً بعد یعنی سنہ 2013 میں پاپائیت میں آنے کے بعد پوپ فرانسیس نے اکثر کیتھولکوں پر زور دیا ہے کہ وہ +LGBTQ ارکان کو چرچ میں خوش آمدید کہیں اور ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے سول یونینوں کی حمایت کریں۔ [5]

فرانسس کا +LGBTQ کمیونٹی کے بارے میں زیادہ روادارانہ تبصرہ ان کے پیشروؤں کے مقابلے میں ایک قابل ذکر انحراف کہا جا سکتا ہے۔ مثلًا ان سے قبل کے پوپ جان بینیڈکٹ سولہویں پوپ ہیں، جنھوں نے 2005 میں لکھا تھا کہ ہم جنس پرستی “ایک داخلی اخلاقی بیماری ہے۔‘‘[6] اس پر +LGBTQ افراد اور گروہوں میں غیر معمولی ہلچل مچی تھی اور انھوں نے بڑے زور و شور سے عیسائیت کو عملًا انحرافی جنسی رویوں کے مکمل خلاف باور کرانا شروع کیا تھا۔ +LGBTQ کے تئیں سخت موقف کا ایک اور اظہار چرچ کے ذریعے سےسنہ 2008 میں ہوا۔ بینیڈکٹ کی پاپائی کے تحت ویٹیکن نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی مخالفت کی تھی جس میں ہم جنس پرستی کو عالمی سطح پر جرم کے زمرے سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔[7] اسی تسلسل میں اگر ہم ماضی کی طرف سفر کریں تو پوپ جان پال دوم، کا تذکرہ ضرور آئے گا جنھوں نے 1978 سے 2005 تک چرچ کی قیادت کی، انھوں نے صاف صاف ہم جنس شادی کی اجازت دینے والے قوانین کو خاندانی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا اور 2000 میں روم میں منعقد ہونے والے مشہور زمانہ اور انحرافی جنسی رویوں کا ورلڈ ویو رکھنے والوں کے مطابق ایک تاریخی ورلڈ پرائڈ فیسٹیول کے بارے میں اپنی “تلخی” کا اظہار کیا، جسے انھوں نے شہر کی “مسیحی اقدار کے خلاف جرم” قرار دیا۔[8]

چرچ کے دو عظیم رہ نماؤں کی دو مختلف آرا کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ +LGBTQ کے تئیں مثبت رجحان کا ارتقا نسبتًا حال کے سماجی اور ثقافتی منظر نامے میں ہوا ہے۔ اس سے قبل ویٹیکن سٹی کی جانب سے +LGBTQ کے سلسلے میں عوامی طور پر ہم جنس پرستی کا لفظ تک استعمال کرنا برا سمجھا جاتا تھا۔

اس تجزیے کے بعد یہ جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے کہ جدید دور میں وہ کون سے چرچ ہیں جو +LGBTQ افراد کے سلسلے میں مثبت موقف رکھتے ہیں، ان کی مختصر تاریخ اور ان کے ذریعے لیے گئے ان فیصلوں کا تذکرہ کیا جائے جنھوں نے +LGBTQ کے ڈسکورس کو عیسائیت کی سند فراہم کرنے میں بہت اہم رول ادا کیا ہے۔

ایپسکوپل چرچ (امریکہ)

+LGBTQ کی حمایت میں غالبًا سب سے پہلے چرچ کے جس فرقے نے آگے بڑھ کر اپنا کردار نبھایا ہے وہ یہی چرچ ہے۔ ایپسکوپل چرچ کے ارتقا اور اس کی موجودہ پوزیشن کی تاریخ بہت دل چسپ ہے لیکن وہ یہاں ہمارا موضوع نہیں ہے۔

مختصرًا، اس کی جڑیں چرچ آف انگلینڈ میں موجود ہیں اور اس کی ابتدا بھی وہیں سے ہوئی تھی 1600 کی دہائی کے اوائل میں انگریزی نو آبادیات نے امریکی کالونیوں میں اس چرچ کو قائم کیا اس کے بعد امریکی انقلاب اور امریکی ازادی کے ساتھ ہی اس کے تعلقات انگلینڈ سے منقطع ہو گئے۔ اس چرچ کا بغور مطالعہ بتاتا ہے کہ اصل میں یہ رد عمل والی مذہبیت سے متعلق ہے اس لیے اس کی پوری ارتقا کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے عیسائی مذہب میں موجود بہت سارے روایتی بیانیوں کے خلاف جا کر کے موقف اختیار کیے ہیں انھی میں سے ایک موقف +LGBTQ کا بھی ہے۔

چرچ کے حوالے سے 2003 میں اس چرچ نے رابنسن نامی اعلان شدہ مرد ہم جنس پرست کو پادری کی سند تفویض کی۔ اسی طرح 2012 میں اس چرچ نے ہم جنس پرست شادیوں کی اجازت دی اور اس کی سرپرستی کی۔

ایپسکوپل چرچ +LGBTQشمولیت اور مساوات میں سب سے آگے رہا ہے۔ یہ کھلے عام +LGBTQ پادریوں کو منظم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ہم جنس شادیوں کی حمایت کرتا ہے۔

امریکہ میں انجیلی لوتھرن چرچ (ای ایل سی اے)

اس چرچ نے 2009 میں ایک تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے عورت ہم جنس پرست اور مرد ہم جنس پرست افراد کو پیسٹرز کی حیثیت سے چرچ میں مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی۔ اسی طرح 2013 میں اس چرچ نے اعلان یافتہ مرد ہم جنس پرست گائے ارون کو پادری کی خلعت سے نوازا۔

ای ایل سی اے +LGBTQ پادریوں تک کو آپس میں شادی کی اجازت دیتا ہے، اور یہ ہم جنس پرستوں کی یونینوں کے تصور کی حمایت کرتا ہے۔ اس چرچ نے انحرافی جنسی رویے رکھنے والے تمام افراد کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

یونائٹیڈ چرچ آف کرائسٹ (یو سی سی)

اس چرچ کی تشکیل ایک وسیع تحریک کا حصہ تھی یہ کرسچن تحریک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اٹھی تھی جس کا مقصد مختلف مسیحی روایت کے درمیان، مختلف فرقوں اور درجہ بندیوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا تھا اسی کے ساتھ ساتھ یہ تحریک دراصل ایک آزاد اور مذہب کے ایک نسبتًا معتدل، تصور کو عام کرنے کے لیے برپا کی گئی تھی۔

یو سی سی +LGBTQ مسائل پر اپنے ترقی پسند موقف کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ +LGBTQ افراد کی چرچ میں شمولیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اور کھلے عام ہم جنس پرست پادریوں کی خدمات حاصل کرتا ہے اور اس چرچ میں ایک فرد ہم جنس پرست ہوتے ہوئے بھی پادری کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔

پریسبیٹیرین چرچ (یو ایس اے)

یہ چرچ بھی عیسائیت میں اور بائبل کے مختلف اختلافی مسائل میں اعتدال کے رویے کی حمایت کے لیے جانا جاتا ہے۔ 2011 میں اس چرچ نے اپنی مجلس منتظمہ میں ووٹنگ کے ذریعے سے ہم جنس پرست مردوں، ہم جنس پرست عورتوں اور ہم جنس پرست پادریوں کے لیے اور ان کی خدمات کو حاصل کرنے کے لیے جگہ بنائی اور 2014 میں اس چرچ نے ہم جنس پرست شادیوں کو عیسائی قانون کے تحت جائز مان لیا۔

ریفارمڈ چرچ ان امریکہ (آر سی اے)

آر سی اے چرچ +LGBTQ اور دیگر انحرافی جنسی رویہ رکھنے والے افراد کے سلسلے میں قابل ذکر موقف رکھتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ عیسی مسیح کی تعلیمات اصلًا عفو و درگزر، محبت اور شفقت سے عبارت ہیں اور دنیا کے تمام انسان بشمول +LGBTQ کے افراد اللہ کے بندے ہیں اور اللہ ان سے محبت رکھتا ہے، اس لیے انھیں گناہ اور جرم کی نظر سے نہ دیکھتے ہوئے محبت اور عفو و درگزر کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔

پینٹی کوسٹل چرچ انٹرنیشنل کی توثیق

پینٹی کوسٹل چرچ کسی ایک واحد چرچ کا نام نہیں ہے، بلکہ بہت سارے چرچ اپنے آپ کو پینٹی کوسٹل چرچ کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو پینٹی کوسٹل تحریک سے وابستہ مشترکہ خصوصیت رکھنے والے چرچ اختیار کرتے ہیں۔ یہ چرچ دراصل عیسائیت میں موجود تصور خدا کے ذاتی تجربے پر زور دیتا ہے۔ روحانی تجربے اور ذاتی دین پر اس کا اصل فوکس ہوتا ہے۔ پینٹی کوسٹل چرچ کے مختلف پادری، بشپ اور علما +LGBTQ کے تحت مختلف رجحان رکھتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر بلکہ 90 فیصد سے زیادہ پینٹی کوسٹل چرچ +LGBTQ کو کھلے عام قبول کرتے ہیں۔ یہ چرچ اور اس کے ماننے والے لوگ ہم جنس پرست شادیوں کے لیے، عیسائیت اور عیسائی تعلیمات سے جواز لانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

یقینًا اس چرچ کے بعض علما اور پادری یہ کہتے ہیں کہ +LGBTQاور بطور خاص مرد ہم جنس پرستی اور عورت ہم جنس پرستی کے لیے عیسائیت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

میٹروپولیٹن کمیونٹی چرچ (ایم سی سی)

ایم سی سی بھی عیسائیت کا ایک فرقہ ہے اور اس کا اپنا چرچ ہے۔ اس کی بنیاد ہی اس نقطے پر رکھی گئی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ ہمہ گیر اور کثیر الجہات بنایا جائے۔ یہ +LGBTQ کمیونٹی کی تصدیق کرتا ہے اور ہم جنس پرست افراد کی شادیوں کا انعقاد کرتا ہے۔

یونائٹڈ چرچ آف کینیڈا

یہ چرچ پروٹسٹنٹ فرقے کا سب سے بڑا چرچ مانا جاتا ہے۔ یہ 1925 میں قائم ہوا۔ دیگر دوسرے پروٹیسٹنٹ چرچوں کی طرح یہ بھی عیسائیت میں سدھار اور اصلاحات کا حامی چرچ ہے۔ 1992 میں اس نے پہلی بار ڈاکٹر برینڈ ہاکس کو چرچ میں منسٹر مقرر کیا اور اس طرح سے پہلا چرچ بن گیا جس نے کسی اعلان یافتہ ہم جنس پرست شخص کو منسٹر بنایا۔

+LGBTQ اور چرچ کے تعامل کو مثبت انداز میں دکھاتا ہوا اوپر کا یہ تجزیہ اس لیے بہت اہم ہو جاتا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو قارئین یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ تمام تبدیلیاں جو اصولی سطح پر، بنیادی سطح پر اور ماخذ کی سطح پر عیسائیت میں کی گئی ہیں وہ دراصل اس غیر معمولی ثقافتی اور اخلاقی دباؤ کا نتیجہ ہے، جو عیسائیت کے اصولی نظام پر پڑا جب اس کی اخلاقیات کا زوال شروع ہوا۔ اس لیے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ تمام کے تمام فرقے جو عیسائیت میں 19 ویں صدی کے بعد وجود میں آئے، وہ تمام کے تمام دراصل ایک خاص سیاسی، ثقافتی اور سماجی منظر نامے سے عبارت ہیں اور +LGBTQ ایجنڈا کے تحت انھوں نے اس دباؤ کو قبول کیا اور اس کے بعد انھوں نے بنیادی اصلاحات، بنیادی اصولوں میں ترمیم، استنباط اور استخراج کا راستہ اپنایا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیت اور چرچ اور +LGBTQکے حوالے سے عیسائیت میں +LGBTQ کی قبولیت کا ایک متوازی ڈسکورس قائم ہو چکا ہے۔ +LGBTQ تناظر میں یہ متوازن ڈسکورس بڑی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ جدید +LGBTQکا ڈسکورس یہ چاہتا ہے کہ مذہب میں اس کے لیے گنجائش نکلے۔ وہ اس بات سے لاعلم اور بے خبر نہیں ہے کہ عیسائیت کے اصلی اور الہامی اصول میں شادی جنسی تسکین اور جنسی اخلاقیات بالاصل جنسی دوئی” ہی” کے اندر ہے۔ لیکن اس نے بڑی چالاکی سے اور بڑی محنت شاقہ کے بعد عیسائی علما کے بڑے طبقے کو اپنی اخلاقی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی کوششوں کے ذریعے سے یہ باور کرایا ہے کہ عیسائی تعلیمات کو دور جدید سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں موجود قدامت پرستانہ تصور حیات کو نوچ کر پھینک دیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام کے تمام چرچ اس بات کے لیے راضی ہو گئے۔ اور تمام کے تمام چرچ، عیسائیت کے تمام کے تمام فرقے اور بائبل کے بہت سارے علما سب کے سب اس سیلاب میں بہہ گئے۔ نہیں، بلکہ اب بھی بہت سے چرچ ہیں جو مرد ہم جنس پرستی اور عورت ہم جنس پرستی اور اسی کے ساتھ ساتھ +LGBTQکے پورے کینوس کو عیسائی تعلیمات کے مخالف سمجھتے ہیں ان کا تذکرہ بھی ذیل میں کیا جاتا ہے۔

مشرق کا گرجا گھر

مشرق کا چرچ، جسے مشرق کا آشوری چرچ بھی کہا جاتا ہے۔ اس چرچ پر عام طور پر قدامت پرستی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن اس چرچ کے پیرو کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ یہ چرچ شادی کے حوالے سے اصل عیسائی تعلیم پر یقین رکھتا ہے یعنی یہ کہ شادی صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ چرچ مرد ہم جنس پرستی اور عورت ہم جنس پرستی دونوں کو عیسائی تعلیمات کے خلاف سمجھتا ہے اور یہ اپنے پادریوں کو ایسے کسی سماجی معاہدے کے سلسلے میں مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو ایک مرد اور عورت کے درمیان نہ ہو کر دو مردوں یا دو عورتوں کے درمیان ہو۔

مشرقی آرتھوڈوکس

اورینٹل آرتھوڈوکس چرچ، جسے قبطی آرتھوڈوکس چرچ اور آرمینیائی اپوسٹولیک چرچ، وغیرہ کے حوالوں سے بھی جانا جاتا ہے، اسے بھی عام طور پر قدامت پسند مذہبی پوزیشن رکھنے والے چرچ کی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ چرچ بھی شادی کے روایتی موقف کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے جنسی دوئی کے باہر کے انحرافی رویوں کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔

مشرقی آرتھوڈوکس، عیسائیوں کے اندر ایک شدت پسند فرقے کی حیثیت سے متعارف ہیں اور یہ بائبل کے لغوی معنی پر اصرار کرتے ہیں اور بائبل کے استنباطی اور استخراجی بیانیوں کو رد کرتے ہیں اور شادی اور جنسی اخلاقیات کے سلسلے میں اصول پسند ہوتے ہیں۔

رومن کیتھولک چرچ

رومن کیتھولک چرچ بھی +LGBTQ کے خلاف اپنے موقف کے لیے جانا جاتا ہے اور یہ جنسی اخلاقیات اور جنسی دوئی کے باہر کے کسی بھی قسم کے تعلق کو عیسائی تعلیمات کے خلاف مانتا ہے۔ اپنے پادریوں منسٹروں اور بشپوں کے سلسلے میں بائبل کی اخلاقیات کے لیے اس کے اندر غیر معمولی حساسیت پائی جاتی ہے۔

بحالی پسند تحریکیں(Restortionist Movements)

بحالی پسند تحریکیں، جیسے مسیح کے گرجا گھر یا مسیح کے شاگرد، +LGBTQمسائل پر اپنے نقطہ نظر میں مختلف ہیں۔ کچھ بحالی پسند گروہ شادی اور جنسیت کے بارے میں زیادہ روایتی خیالات پر عمل پیرا ہیں، جب کہ دوسرے زیادہ جامع ہوسکتے ہیں۔ یہ اکثر مخصوص جماعت اور بائبل کی تعلیمات کی اختیار کردہ تشریح پر منحصر ہوتا ہے۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ان فرقوں کے اندر انفرادی اعتقاد رکھنے والے مختلف نظریات کے حامل ہوسکتے ہیں اور ہر روایت کے اندر بحث اور پیش رفت جاری ہوسکتی ہے۔ مزید براں +LGBTQ مسائل پر عقائد کا منظر نامہ وقت کے ساتھ ترقی کرسکتا ہے۔

سدرن بیپٹسٹ کنونشن (ایس بی سی)

جنوبی بیپٹسٹ کنونشن، ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سب سے بڑے پروٹسٹنٹ فرقوں میں سے ایک ہے۔ عام طور پر +LGBTQمسائل پر قدامت پسند خیالات رکھتا ہے۔ ایس بی سی نے ہم جنس پرستوں کی شادی اور کھلے عام ہم جنس پرست پادریوں کی تنظیم کے خلاف موقف اختیار کیا ہے۔

یونائیٹڈ میتھوڈسٹ چرچ (یو ایم سی)

یونائیٹڈ میتھوڈسٹ چرچ تاریخی طور پر +LGBTQمسائل پر قدامت پسند موقف رکھتا ہے۔ یہ گرجا گھر سرکاری طور پر کھلے عام ہم جنس پرست پادریوں کی تقرری اور ہم جنس پرست شادیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

لوتھرن چرچ- مسوری سائنوڈ (ایل سی ایم ایس)

ایل سی ایم ایس، ایک قدامت پسند لوتھرن فرقہ مانا جاتا ہے اور اس پر یہ الزام ہے کہ یہ شادی اور جنسیت کے بارے میں روایتی خیالات رکھتا ہے۔ یہ کھلے عام +LGBTQپادریوں کی تنظیم کی حمایت نہیں کرتا اور ہم جنس پرستوں کی شادی کی مخالفت کرتا ہے۔

+LGBTQاور چرچ کے بیانیوں کا تعامل جو مخالفت اور موافقت کی دوئی کے باہر بھی ہے اور اپنے اندر بہت سا گرے ایریا رکھتا ہے۔ وہ یہ دکھاتا ہے کہ مخصوص ثقافتی حالات نے عیسائیت میں مختلف فرقوں کو جنم دیا اور اس کے بعد بطور خاص +LGBTQ کے ساتھ تعامل نے ان فرقوں میں ہم جنس پرستی اور دیگر سماجی اور ثقافتی مسائل کو لے کر کے مزید فرقوں کے ارتقا کے لیے زمین ہم وار کی ہے۔ چناں چہ اب چرچ اور جدید جنسیت (بشمول انحرافی جنسی رویے اور مرد و عورت ہم جنس پرستی) وسیع ترین کینوس پر مختلف رنگوں کے ساتھ ہم کو نظر آتے ہیں۔

عیسائیت میں موجود مختلف فرقے اور ان فرقوں میں موجود فرقے در فرقے اور ان کے مختلف مکاتب فکر +LGBTQکے سلسلے میں مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ دیگر ساختی مذاہب کے مقابلے میں عیسائیت میں بائبل کی لغوی اور معنوی افہام و تفہیم اور تفسیر و تشریح میں اصولوں کی سطح پر جو مسائل در آئے ہیں وہ مذہبی افراد کے لیے ایک لمحہ فکر ہیں۔

+LGBTQکا ڈسکورس کس طرح سے چرچ کے ساتھ تعامل کرتا ہے؟ یہ بجائے خود ایک ابھرتا ہوا تحقیق کا میدان ہے۔ مذہبی ارتقائیت کے ماہرین اس بات پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ یہاں ان سب آرا کا محاکمہ تو ممکن نہیں ہے لیکن قارئین کی سہولت اور دل چسپی کی خاطر کچھ ایسے سوالات کا سرسری تذکرہ کیا جاتا ہے جو اس میدان میں تحقیق کے طالب ہیں۔

+LGBTQکا بیانیہ اور چرچ کے تعامل کے ارتقا کی مختصر تاریخ کن معاشرتی اور ثقافتی مراحل سے گزری ہے؟

عیسائیت میں موجود فرقہ بندی اور اس کی بنیاد پر وجود میں آئے مختلف چرچ +LGBTQکے جواز کو کس طرح ثابت کرتے ہیں؟

عیسائیت میں موجود گناہ اور جرم کے تصورات کس طرح سے اس تعاون پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

ہم جنس پرست شادیوں کے تصور اور دو محبت کرنے والوں کا ملاپ جیسے تصورات کس طرح سے بائبل کے تصور شادی سے مختلف ہیں اور چرچ کس طرح سے ان کے درمیان توافق کی تلاش کرتا ہے؟

وہ کون سے معاشرتی اور ثقافتی اور سیاسی عوامل ہیں جو چرچ کو +LGBTQکے موافق بنانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں؟

کیا بائبل کے مختلف نسخے اور بائبل میں محبت، عفو و درگزر اور عیسی مسیح کے ذریعے گناہوں کا کفارہ اور اس جیسے دوسرے تصورات بائبل کی تشریح کو فطری طور پر +LGBTQ کے گناہ اور جرم کے ڈھیلے ڈھالے استخراج کے لیے آسان بناتے ہیں؟

حوالہ جات:

  1. Johnson, Todd, Gina Zurlo, Albert Hickman & Peter Crossing. 2016. ‘Christianity 2017: Five Hundred Years of Protestant Christianity’, International Bulletin of Missionary Research, 1/12: 2-12
  2. https://www.cmcsoxford.org.uk/hikmah-blog/christians-muslims-sectarianism#christian-overview-sectarianism
  3. https://apnews.com/article/pope-francis-gay-rights-ap-interview-1359756ae22f27f87c1d4d6b9c8ce212
  4. https://www.americamagazine.org/faith/2020/09/17/pope-francis-parents-lgbt-children-god-loves-your-children-they-are
  5. https: //www.bbc.com/news/world-europe-23489702
  6. Mullady B. Pope Benedict XVI on the Priesthood and Homosexuality. Linacre Q. 2011 Aug;78(3): 294-305. doi: 10.1179/002436311803888311. Epub 2011 Aug 1. PMID: 30082950; PMCID: PMC6026964.

7.

8.ibid

فروری 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau