قرآن کریم میں تصور تکریم انسانیت

مولانا محمد جرجیس کریمی

احسن تقویم

قرآن کریم میں انسان کی کرامت ، فضیلت و اہمیت کے مختلف حوالے ملتے ہیں جن میں اس کی دوسری مخلوقات کے مقابلے میں اعلی درجہ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو عطا کئے جانے کا تذکرہ کیا گیا ہے ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی پیدائش ، فطرت اور وجود کے اعتبار سے اشرف و اکرم ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ،ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْن  (التین:۴۔۵)

’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے پھر اسے الٹاپھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا ‘‘۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد بہترین شکل و صورت میں اس کا پیدا کیا جانا ہے ۔(تفسیر ابن جریر طبری ،سورۃ التین۔ تفسیر ابن کثیر الدمشقی ،دیکھئے متعلقہ آیت کے ذیل میں ۔)موجودہ دور میں نظریہ ڈارون کے قائلین نے انسان کو درجہ انسانیت سے گراکر اس کا شجرہ نسب بندر سے ملا دیا ہے مگر قرآن مجید نے انسان کو انسان ہی کی حیثیت سے پیدا کرنے کا ٹھوس ثبوت فراہم کیا ہے ۔ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں تکریم بنی آدم کے حوالے سے اس کو پاکیزہ روزی عطا کئے جانے اور بحر و بر میں سوار کیے جانے کا تذکرہ آیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلَی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلا(الاسراء: ۷۰۔)

’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ بنی آدم کو بزرگی عطا کی اور انہیں خشکی وتری میں سوار کیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت بخشی‘‘ ۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں کہ انسان کے لیے کائنات کی بہت سی چیزوں کو مسخر کردیا گیا ہے ، خشکی میں سواری کے لیے جانور وں اور حیوانوں کو اس کے تابع کردیا گیا ہے اور سمندر میں سواری کے لیے کشتی اور جہاز بنانے کا اس کو ہنر عطا کیا گیا ہے مزید اس کو ہر طرح سے پاکیزہ ، حلال اور لذیذ غذا فراہم کی ہے اور ان مذکوراعتبارات سے اس کو دوسری بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے ۔(تفسیر الطبری لابن جریر الطبری ، دیکھئے متعلقہ آیت کے ذیل میں )

 خلافت ارضی

قرآن مجید کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو خلافت ارضی عطا کی ہے اور جب اس کی تخلیق عمل میں آئی تو ملائکہ (فرشتوں)  کو اس کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ، انسان کی تخلیق کے وقت فرشتوں نے یہ اشکال قائم کیا تھا کہ یہ مخلوق زمین میں خون خرابہ اور فتنہ و فساد مچائے گی ، تسبیح و تحمید کے لیے ہم کافی ہیں اور اللہ کی عبادت و اطاعت کے لیے ہم ہمہ وقت حاضر ہیں مگر اللہ تعالی نے جواب میں اپنے لامحدود علم و حکمت اور فرشتوں کی کم علمی کا حوالہ دیا اللہ تعالی کا ارشا دہے ۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء  کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِیْ بِأَسْمَاء  ہَـؤُلاء  إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ ۔قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔قَالَ یَا آدَمُ أَنبِئْہُم بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ ۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْن  (  البقرۃ :۳۰۔۳۶۔)

’’اور( اے پیغمبر اس حقیقت پر غور کرو )جب ایسا ہوا تھا کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا : میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ فرشتوں نے عرض کی کیا ایسی ہستی کو خلیفہ بنایا جارہاہے جو زمین میں خرابی پھیلائے گی اور خون ریزی کر ے گی ؟حالاںکہ ہم تیری حمد و ثنا کرتے ہوئے تیری پاکی و قدوسی کا اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے کہا میری نظر جس حقیقت پر ہے تمہیں اس کی خبر نہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے نظام بگڑ جائے گا )تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ انہوں نے عرض کیا ’’نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں عطا کیا ہے ۔ حقیقت میں سب کوجاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ ۔ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتادیے تو اللہ نے فرمایا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے ۔ اور جو کچھ تم چھپائے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں ۔ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور انکار کرنے والا بن گیا‘‘ ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو خلیفہ بنانے کا کیا مطلب ہے ۔ کیا اللہ تعالی نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا یا ہے یا زمین میں آباد کسی پیش رو مخلوق کا خلیفہ بنایا ہے یا انسان کا انسان کی جانشینی مراد ہے ۔ مفسرین نے تینوں باتیں کہی ہیں ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انسان سے پہلے زمین پر جنوں کی آبادی تھیں ۔ جب انہوں نے فتنہ فساد مچایا تو انہیں سمندروں ، پہاڑوں اور جنگلات میں منتشر کردیا گیا اور ان کی خلافت بنی نوع انسان کو عطا کی گئی ہے ۔ دوسرا مفہوم یہ ہے اللہ تعالی نے اپنے احکام کے نفاذ و اجراء کے لیے انسان کو اپنا خلیفہ بنا یا ہے ۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان خود ایک دوسرے کی جانشینی کریں گے اور زمین کی خلافت ادا کریں گے جیساکہ عملا دیکھا جارہا ہے ہر آنے والی قوم سابقہ قوم کا جانشین اور اس کا خلیفہ ہوتا ہے۔(دیکھئے تفسیر الطبری ، محمد بن جریر الطبری ، تفسیر القرطبی ، تفسیر ابن کثیر الدمشقی ،تفہیم القرآن ، سید ابو الاعلی مودودی ، تدبر قرآن امین احسن اصلاحی ۔)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔

ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلاَئِفَ فِیْ الأَرْضِ مِن بَعْدِہِم لِنَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُون (یونس:۱۴۔)

’’پھر ہم نے تم لوگوں کو ان کے بعد زمین کا خلیفہ بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم لوگ کیسے اعمال انجام دیتے ہو ‘‘۔

تعلیم اسماء کی تفسیر میں مختلف اقوال منقول ہیں جن میں روئے زمین پر آئندہ آنے والے تمام انسانوں ، جانوروں اور تما م چیزوں کا علم عطا کیا گیا تھا ، بعض اقوال کے مطابق جملہ انبیاء و رسل اور صالحین کے نام بتائے گئے تھے غرض اس سے جو بھی مراد ہو مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں حضرت آدم علیہ السلام کی شرف و عزت کا بیان ہو اہے ۔(دیکھئے مذکورہ بالا تفاسیر )مسجود ملائکہ ہونا ، اس بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ انسان کی اللہ تعالی کی طرف سے عظیم کرامت و فضیلت ہے جس کا ذکر آیت مذکورہ میں ہوا ہے ۔ احادیث میں بھی مسجود ملائکہ کے ضمن میں حضرت آدم علیہ السلام کی شرف و عزت کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ واقعہ تعلیم اسماء سے پہلے کا ہے ۔ جیساکہ مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے ۔ مفسرین نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ فرشتوں کا سجدہ کرنا بطور عبادت کے نہیں تھا بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اظہار کے لیے تھا ۔( دیکھئے حوالہ سابق)

بار امانت

انسان کی تکریم و فضیلت کا ایک حوالہ قرآن مجید میں اطاعت اختیاری کی وہ امانت کا دیاہے ، جسے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے منع کردیا جب کہ اللہ نے ان کے سامنے اس عظیم ذمہ داری کے اٹھانے کا حکم دیا تو وہ اس کے متحمل نہ ہوسکے اور انہوں نے معذرت کردی کہ اس بار گراں سے انہیں معاف رکھا جائے ، مگر انسان نے اسے اٹھالیا اس سے قرآن مجید یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جسامت اور جثہ کے اعتبار سے انسان کائنات کی نہایت کمزور اور حقیر ہستی ہے مگر عزم و ارادہ اور معنوی اعتبار سے وہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بناء آسمانوں سے اونچا ، زمین سے وسیع او رپہاڑوں سے زیادہ مضبوط و بلند ہے یہ انسان کے اشرف و افضل ہونے کا ایک اور حوالہ ہے جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَۃَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَن یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْإِنسَانُ إِنَّہُ کَانَ ظَلُوماً جَہُولاً (الحزاب:۷۲)

’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ۔ بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے‘‘۔

آیت کے آخر میں انسان کے ظلوم وجھول کے القاب سے یاد کیا گیا ہے اس بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ یہ انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس کی بنا ء پر وہ اس امانت کا اہل قرار پایا ۔ وہ یہ ہے کہ یہ امانت متقاضی تھی کہ انسان کے اندر متضاد داعیہ موجود ہوں تاکہ اس کی آزمائش ہوسکے کہ وہ ان متضادداعیوں کی کشاکش کے اندر اپنے رب کی اختیاری اطاعت کے عہد کو کس  طرح نباہتا ہے اور اس کی ذمہ داریوں سے کس طرح عہد ہ برآ ہوتا ہے چنانچہ وہ ’’ظلوم ‘‘ اور ’’جہول ‘‘ بنا یا گیا ۔ ظلم عدل و حق کا ضد ہے اور جہل ، اس کو کہیں گے جو علم و حلم کی اس صلاحیت کے باوجود جہل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہو ۔ یہی کشاکش انسان کی آزمائش ہے اور یہ اس کے تمام شرف کی بنیاد ہے ۔ اگر وہ ظلم کی راہ اختیا رکرنے کی آزادی رکھنے کے باوجود محض اپنے رب کی رضا کی خاطر عدل کی راہ پر استوار رہتا ہے اور اپنے سفلی جذبات کے اتباع کی آزادی کے باوجود محض رب کے خوف سے اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے تو بلا شبہ اس کا مرتبہ فرشتوں سے بھی اونچا ہو ا ۔ اس لیے کہ ان کو خدا کی بندگی کی راہ میں کسی کش مکش سے دوچار نہیں ہونا پڑتا ہے ۔ ان کا راستہ بالکل ہموار اور ان کا مزاج ظلم و جہل کے محرکا ت سے ناآشنا ہے ۔ (تدبر قرآن ، امین احسن اصلاحی دیکھئے آیت مذکورہ کی ذیل میں)

تسخیر کائنات

قرآن مجید میں انسان کے شرف و تکریم کا ایک حوالہ اس کے لیے چیزوں کے مسخر کردیے جانے کا آیا ہے ۔ اللہ تعالی نے کائنات کی بزم سجائی ہے اور یہاں طرح طرح کی چیزیں پیدا کی ہیں ۔ زمین آسمان ، سورج ، چاند ، دن و رات، ہوا ، بارش ، حیوانات اور دوسری اشیاء ۔ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت سے ان چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کردیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِیْ الْبَحْرِ بِأَمْرِہِ وَسَخَّرَ لَکُمُ الأَنْہَارَ۔ وَسَخَّر لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنَ وَسَخَّرَ لَکُمُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ  (ابراہیم :۳۲۔۳۳)

’’اللہ وہی تو ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور آسمانوں سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے ۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کردیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کردیا ۔ جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کردیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات و دن کو تمہارے لیے مسخر کردیا ‘‘۔

تسخیر کے معنی کسی کو مطیع و فرمان بردار بنا کر بلا کسی اجرت و معاوضہ کے کسی کی خدمت میں لگا دینے کے ہیں چناں چہ سورج ، چاند ، ہوا ، بادل اور دیگر اشیاء کی تسخیر کا جو حوالہ آیا ہے اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ یہ سب چیزیں انسان کے قابو میں ہیں اور ان کو جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے ان کو مسخر کر کے انسان کے نفع رسانی اور اس کی خدمت میں لگا دیا ہے اور یہ دن رات خدمت میں لگے رہنے کے باوجود انسان سے کسی اجرت یا معاوضہ کے طالب نہیں ہوتے ۔ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسِ وَمَا أَنزَلَ اللّہُ مِنَ السَّمَاء ِ مِن مَّاء  فَأَحْیَا بِہِ الأرْض بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِن کُلِّ دَآبَّۃٍ وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَیْنَ السَّمَاء  وَالأَرْضِ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَ

’’جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات دن کے پیہم ایک دوسرے کے  بعد آنے میں ، کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اوراور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں بارش کے اس پانی میں جسے اللہ تعالی نے اوپر سے برسایا ہے ۔ پھر اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلایا ، ہواؤں کی گردش اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کئے گئے ہیں بے شمار نشانیاں ہیں ۔ عقل سے کام لینے والوں کے لیے ‘‘۔  قرآن مجید میں انسان کے لیے کائنات اور اس کی چیزوں کے مسخر کئے جانے کا حوالہ درجنوں مقامات پر آیا ہے اور اس کو اللہ تعالی کی طرف سے ایک بڑی فضیلت و شرف قرار دیا گیا ہے ‘‘۔

عقل و تمیز

انسان کے شرف و عزت کا ایک حوالہ قرآن مجید میں اس کی عقل و تمیز کا دیا گیا ہے اللہ تعالی نے انسان کو حواس خمسہ ظاہرہ اور عقل کی ایک قدر مشترک سے نوازا ہے ۔ حواس خمسہ ظاہرہ یعنی دیکھنے ، سننے ، چھونے ، سونگھنے اور محسوس کرنے کی قوتیں فکر و نظر کا مواد مہیا کرتی ہیں ، فکر و نظر عقل کو متحرک کرتی ہے ، عقل سے قرآن مجید کا تخاطب اتنا واضح اور نمایاں ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، قرآن عقل کو جگا تا ہے ، بیدار کرتا ہے ، گردو پیش کے حقائق سے دوچار کرکے چونکا تا ہے اور جھنجھوڑتا ہے چناں چہ قرآن مجید میں جابجا ’’ افلا یتدبرون ‘‘ ’’ افلا یتفکرون ‘‘ ’’ لآیات لاولی الالباب ‘‘ وغیر ہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ قرآن مجید میں عقل سے کام نہ لینے والے کو بدترین چوپائے سے تشبیہ دی گی ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

انَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُونَ(الانفال:۲۲)

’’یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ‘‘۔

جہنم میں جب جہنمی ڈالے جائیں گے تو وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر ہم دنیا میں عقل و خرد سے کام لیتے تو آج جہنم کی آگ میں نہ جل رہے ہوتے ارشاد ہے :

وَقَالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ أَصْحَابِ السَّعِیْر(الملک : ۱۰)

’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج بھڑکتی ہوئی آگ میں نہ جل رہے ہوتے‘‘ ۔

مختلف معاملات میں انسان کو اپنے دفاع کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جان و مال اور عزت ، آبرو کے یہاں کتنے ہی دشمن ہیں جو اس کی گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن غورکریں کہ خالق نے دیگر حیوانات اور مخلوقات کو پیدا ئشی طور پر ان کے دفاع کے اوزار و آلات عطا کیے ہیں ۔ سردی ، گرمی میں فطری ضروریا ت کی تکمیل کے لیے ان کے جسموں کو ایسا بنایا ہے کہ ان سے وہ اپنی حفاظت کرتے ہیں ۔ دشمن کے حملوں سے بچنے کے لیے سینگ ، پنجے اور زہر جیسے اسلحوں سے ان کو لیس کیا ہے مگر انسان کا معاملہ الگ ہے اس کوظاہری طور پر کوئی اسلحہ نہیں دیا بلکہ اس چیز کو بھی اس کی عقل پر منحصر کردیا ۔ انسان اپنی عقل کو استعمال کرکے دشمنوں سے مقابلہ کرتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور اس کو دشمن کے مقابلے کے لیے پہلے سے تیار رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَأَعِدُّواْ لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِیْنَ مِن دُونِہِمْ لاَ تَعْلَمُونَہُمُ اللّہُ یَعْلَمُہُمْ   (الانفال: ۶۰)

’’طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا  رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے ، مگر اللہ جانتا ہے‘‘ ۔

لباس اور ستر پوشی

انسان کے شرف  وعزت کی ایک قسم اس کی ستر پوشی بھی ہے ۔ دنیا کی دیگر مخلوق اس سے عاری ہیں مگر اللہ تعالی نے انسان کو نہ صرف ستر پوشی کا حکم دیا بلکہ اس کے لیے لباس بنانے کے اسباب پید ا کئے اس کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء اٰتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللّہِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُون۔(الاعراف: ۶۰ٰ)

’’اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا کہ تمہارے جسم کے قابل شرم  والے حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ، اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے‘‘ ۔

اللہ تعالی نے اپنی اس آیت میں انسان پر ایک احسان کا ذکر کیا ہے جس کا نام لباس اور زیب وزینت کی چیزیں ہیں ۔ جن سے اس کی ستر پوشی اور خوبصورتی حاصل کرنے کی ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے ۔ آیت میں یہ بھی کہا گیا کہ ستر پوشی اور لباس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالی کا تقوی حاصل کرے ۔ بظاہر وہ خوبصورت لباس میں ملبوس ہو اور معرفت اِلٰہی سے ناآشنا ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔(تفسیر ابن کثیر دیکھے آیت محولہ بال کے ذیل میں ۔)

انسانی جان کی حرمت

دنیا کی ساری آبادی ، اس کی بہاریں اور سرگرمیاں انسانوں کے دم سے ہیں ۔ اور انسان کی زندگی کی بقا کا انحصار اس پر ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی جان کے درپے نہ ہوں ورنہ یہ دنیا ویران ہوجائے گی اور یہاں کی سب بہاریں جاتی رہیں گی ۔ اسلام میں اسی لیے ایک آدمی کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص نا حق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیات انسانی کے احترام سے خالی ہے لہذا وہ ایسے ہی ہے جیسے پوری انسانیت کا گویا اس نے قتل کردیا ہو اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاس جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا   (المائدۃ:۳۲)

’’اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ ’’ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔

انسانی جان کی صرف یہی قدر و قیمت نہیں ہے کہ اس سے دنیا کی آبادی ہے بلکہ وہ ارض پر انسان کا وجود قدرت کا انمول تحفہ بھی ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت ہونی چاہیے اسلام میں اس لیے خودکشی حرام ہے کیوں کہ اس سے خالق کی اس گراں قدر نعمت کی انتہا ئی درجہ بے قدری ہوتی ہے چناں چہ خود آدمی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی جان کو ہلاک کرلے ۔ یہ بھی اللہ تعالی کی نظر میں ایسا جرم ہے جیسا کہ دوسرے فرد کو قتل کرنا ۔ ارشاد ہے :

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً۔ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ عُدْوَاناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَاراً وَکَانَ ذَلِکَ عَلَی اللّہِ یَسِیْرا۔(النساء:۲۹۔۳۰)

’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین جانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہر بان ہے جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ تعالی کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ‘‘۔

انسانی جان کی حفاظت اور اس کے احترام کی یہی وہ مصلحت ہے جس کی وجہ سے اسلام میں قتل کی سزا سخت ترین رکھی گئی ہے یعنی جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا تو اس کو بھی بدلے میں قتل کردیا جائے گا ۔ کیوں کہ اس نے جس طرح انسانی جان کی حرمت پامال کیا ہے اب اسے جینے کا حق نہیں پہنچتا ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاص(المائدۃ: ۴۵)

’’ہم نے ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کا برابر بدلہ ‘‘۔

آیت بالا پر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی جان کی حرمت کا دائرہ محض جان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تمام انسانی اعضاء تک وسیع ہے یعنی اگر کسی انسان کے کسی عضو کو بھی تلف کیا جائے یا نقصان پہنچایا جا ئے تو اس کے بقدر اس سے قصاص لیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ انسانی جان کی حرمت میں عزت و آبرو اور مال اور عقل کی حفاظت بھی شامل ہے اسی وجہ سے ان چیزوں پر دست درازی پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں ۔

نبوت و رسالت کا سلسلہ

اللہ تعالی نے جب انسان کو پید اکیا اور اس کو جنت میں ٹھہرایا پھر جب اس کو زمین پر اتار ا تو اس سے وعدہ کیا کہ تمہاری اور تمہارے نسل کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری کیا جائے گا چناں چہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کرحضرت محمد ﷺ تک دنیا کے تمام اقوام و ملل کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء و رسل آئے جنہوں نے اپنی اپنی قوم کو اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور ان کو ہدایت کی راہ بتائی ، دنیا کی کسی مخلوق کے لیے اللہ تعالی نے یہ اہتمام نہیں کیا ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

قلنَا اہْبِطُواْ مِنْہَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مِّنِّیْ ہُدًی فَمَن تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ(البقرۃ:۳۸)

’’ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں‘‘ ۔

قرآن مجید کی دسیوں آیات میں سلسلہ نبوت و رسالت کی توضیح و تصریح کی گئی ہے ۔ ایک جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء  فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْن(الانعام: ۸۹)

’’وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ، اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس کے منکر نہیں ہیں‘‘ ۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :

رُّسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللّہُ عَزِیْزاً حَکِیْمًا(النساء: ۱۵۶)

’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گے تھے تاکہ ا ن کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے ‘‘۔

سلسلہ نبوت و رسالت کا خاتمہ حضرت محمد ﷺ پر ہوا اور اللہ تعالی کی طرف سے آخری کتاب قرآن مجید کی شکل میں اترا جس کو اللہ نے لوگوں کے لیے شفاء اور رحمت قرار دیا ہے ۔ ارشاد ہے :

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاء  وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (بنی اسرائل : ۸۲)

’’ہم نے اس قرآن میں سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے ‘‘۔

آخرت کی جواب دہی

اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو شرف و عزت بخشنے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ حضرت انسان کے لیے آخرت اور جنت تیار کیا ہے یہ شرف انسان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہے ۔ اسلام میں زندگی کا صرف دنیاوی تصور نہیں پایا جاتا ہے بلکہ ا سمیں آخرت کا تصور بھی موجود ہے اور وہی زندگی انسان کی اصل اور دائمی زندگی ہوگی ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَمَا ہَذِہِ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا لَہْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ (العنکبوت:۶۴)

’’اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگرایک کھیل اور دل کا بہلاوا ، دراصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ‘‘۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْل(التوبہ:۳۸)

’’دنیوی زندگی یہ سروسامان آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے ‘‘۔

جنت و جہنم کا تذکرہ قرآن مجید میں باربار کیا گیا ہے اور انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان دو ٹھکانوں میں سے ایک ٹھکانہ کا انتخاب وہ خود کرلے۔ جنت ایک ابدی آرام گاہ ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے نیک بندوں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ اس کی وسعت آسمانوں و زمین کی طرح ہے ، اس میں ہرطرح کی نعمتیں ہیں ۔ وہاں آرام ہی آرام ہے ، جو جنت میں داخل ہوگیا وہ سدا خوشی اور خوشحال کی حالت میں رہے گا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَسَارِعُواْ إِلَی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْن(آل عمران :۱۳۳)

’’اور دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمان جیسی ہے اور خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے‘‘۔

قرآن کی درجنوں آیات میں جنت کی نعمتوں اور آسائشوں کا تذکرہ تفصیل سے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی تکریم دنیا  کے ساتھ اور آخرت میں بھی کرنا چاہتا ہے بشرط کہ وہ ایمان کی روش پر قائم ہو اور اعمال صالحہ انجام دے ۔

اگست 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau