دستور جماعت اسلامی ہند

فہم اور تقاضے

سید شکیل احمد انور

عام طور پر ’دستور‘ سے مراد  رسم و رواج ‘ طریقہ عمل ‘ رائج الوقت اطوار و آداب اور اخلاق و غیرہ ہوتے ہیں لیکن عنوان میں جس دستور کا ذکر ہے اس کے لحاظ سے اس کے معنیٰ ہیں : بنیادی اصول ‘ ضابطہ عمل او ر وہ قانونی دستاویز (Constitution) جس پر کسی اجتماعی نظام کی تشکیل ہوئی ہو۔

عام تنظیموں و جماعتوں کے دستور میں بالعموم جماعتی اغراض و مقاصد ‘ تنظیمی ڈھانچہ و عہدیداروں کی ذمہ داریاں اور سرگر میوں کے خدو خال کا سرسری خاکہ دیا جاتاہے عقیدہ و نصب العین اور طریق کار کے اصول ‘ ارکان کی اجتماعی ‘ و اخلاقی ذمہ داریاں اور ان کا معیار مطلوب و ذمہ داروں کے اوصاف و کردار وغیرہ کابیان نہیں ہوتا۔اسے شخصی معاملہ قرار دے کر اسے فرد کی مقصد ی لگن و تنظیمی وابستگی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن دستور جماعت میں ایک اسلامی اجتماعیت کا کامل نقشہ موجود ہے یعنی بحیثیت مسلمان ہمیں کس عقیدہ پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے اورکیسی اجتماعی زندگی گذارنی ہے جس سے اس عقیدے سے ہماری وابستگی کا عملی اظہار ہو ہماری زندگی کامقصد کیا ہواور ہماری حرکت و عمل کا معیاری طریقہ کیا ہو ؟ عام وابستگان کی ذمہ داریوں کی مطلوبہ کیفیت کیا ہےاور ہمارے ذمہ داروں کے اوصاف کیا ہیں ؟ ان سب سوالوں کا جواب دستورِ جماعت میں دیاگیا ہے۔

کسی عام دستورملکی کی پابندی کا احساس عام شہر ی کو ‘ جتنا کچھ ہوتا ہے اس کو بیان کرنا ضروری نہیںلیکن دستور جماعت میں صرف رضائے اِلٰہی محرک ہے اور اخروی نجات کے حصول کو انتہائے مقصود قرار دیاگیا ہے۔ اسلامی اجتماعیت کی مثالی جھلک دور نبوی و صحابہ کرامؓ میں تھی اور جب بھی تاریخ میں اس اسلامی اجتماعیت کا احیاء ہو ا دنیا نے بسر و چشم اس کی برکات کامشاہدہ کیا۔

نہیں ہے  نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی

اس دستور جماعت کے اجزاء وابستگان کی پوری زندگی پر حاوی ہیں اور انکی دنیوی سرگرمیوں کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کا احاطہ نہ کیاگیا ہو۔ اس لحاظ سے یہ مستقبل کی کسی اسلامی ہئیت اجتماعی کے دستور اساسی کے مانند ہے فی الحال اس کے زیراختیار و اقتدار کوئی زمین و علاقہ تو نہیں ہے مگر اس سے وابستہ افرادو ذمہ دار خود کواس کے نظام امر و اطاعت سے مربوط پاتے ہیں گویا ایک اسلامی امارت کے تحت زندگی بسر کر رہے ہوں۔ضرورت ہے کہ یہ دستور اپنے الفاظ و معنی کے ساتھ جلوہ افروز ہو ماضی میں اجتماعیت کی جھلک دور نبوی میں صحابہ رضوان علیہ اجمعین کی جماعت میں نظر آئی تھی عبد اللہ بن مسعود ؓکی روایت سے ظاہر ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ؐ کی صحبت اور اقامت دین کے لئے صحابہ کرام کو چُن لیا تھا۔ فریضہ اقامت دین ان بزرگان دین کے لئے کسی تقریر کاموضوع نہیں بلکہ متاع حیات تھا جس کی تشریح محض الفاظ سے نہیں بلکہ  اعمال سے ہوتی تھی۔

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا

مشاہدہ ہے کہ بالفعل وابستگان  اس معیار مطلوب سے دور ایک رسمی مجلسی زندگی بسر کرتے نظرآتے ہیں مگر اس جماعت کے لوگوں پر ابتدائی دور میں  ایسے مراحل بھی گذرے ہیں جب انہوں نے نظم جماعت کے تقاضوں کو نہایت سنگین حالات میں بھی پورا کیا اور صبر و ہمت ‘ ایثار و قربانی اور حکمت و دانائی کاثبوت دیا تاکہ اللہ کو راضی کرسکیں اور آخرت کے اجر کے مستحق ہوں۔

دستور جماعت (۵) حصّوں اور (۷۵) دفعات پر مشتمل ہے۔ ابتدائی اہم دفعات میں عقیدہ، طریق کار، رکنیت کی ذمہ داریاں و معیار مطلوب کا تذکرہ ہے۔ یہ یکم رمضان المبارک ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۳/اپریل ۱۹۵۶ء سے نافذالعمل ہے ہجری سنہ کے لحاظ سے گذشتہ سال یکم رمضان المبارک ‘ ۱۴۳۵ھ میں یہ دستور ۶۰ سال پورے کر چکا ہے۔ تاسیس جماعت کا سن  ۱۳۶۰ھ ہے یعنی بر صغیر میں یہ جماعت ۷۵ سال سے سرگرم ہے۔

جماعت کا عقیدہ اور نصب العین اور ارکان کی ذمہ داری

عقیدہ کے معنٰی ہیں : جس پر پختہ یقین کیا جائے جس کو انسان اپنے دین کی اساس بنائے اور اس پر اعتقاد رکھے۔ انگریزی میں اس مفہوم کوادا کرنے کے لئے  Tenet, Doctrine,Creed اور  Fundamental article of faithکے الفاظ رائج ہیں۔

جماعت نے کلمئہ طیّبہ کو اپنا عقیدہ تسلیم کیا ہے جو امت مسلمہ کا بنیادی عقیدہ ہے۔ توحید باری تعالیٰ (یعنی ذات‘ صفات‘ حقوق و اختیارات کے معاملے میں اللہ کو ہی واحد و یکتا ماننا) اور رسالت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ‘ پر پختہ یقین رکھنے کے ساتھ عقیدہ توحید و رسالت کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان کے مطابق اپنی ساری زندگی بسر کرنا ایک حقیقی مسلمان پر واجب ہے۔

کلمئہ طیّبہ کے بنیادی عقیدہ کی تشریح دستور جماعت میں اس طرح کی گئی ہے :

’’اس عقیدہ کے پہلے جُز اللہ تعالیٰ کے واحد الٰہ ہونے اور کسی دوسرے کے الٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہی اللہ ہم سب انسانوں کا معبود بر حق اور حاکم تشریعی ہے(زندگی بسر کرنے کے اصول اور قانون عطا کرنے والا،ان پر عمل کرنے کا حکم دینے والا اور آخرت میں محاسبہ کرنے والا۔ انگریری میں (LEGAL SOVEREIGN / LAWFUL RULERہے )جو ہمارا اور اس پوری کائنات کا خالق ‘ پر وردگار مدبّر (The Ruler) مالک اورحاکم تکوینی (The Creator)ہے۔ پر ستش کا مستحق اور حقیقی مطاع Genuine Ruler (Obeyed)صرف وہی ہے اور ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔

دستور جماعت میں اس حقیقت کوتسلیم کرنے کے گیارہ تقاضے بیان کئے گئے ہیں جن پر عملدر آمد کر کے ایک شخص موحّد (مسلم و مومن ) بنتاہے ۔

عقیدہ رسالت کا اقرار کلمہ طیّبہ کا دوسرا جز و ہے اس کے بارے میں دستور جماعت میں تشریح کی گئی ہے ۔ ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معبود بر حق اور سلطان کائنات کی طرف سے روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو جس آخری نبی کے ذریعہ قیامت تک کے لئے مستند ہدایت نامہ اور مکمل ضابطہ حیات بھیجا گیااور جسے اس ہدایت اور ضابط کے مطابق عمل کرکے ایک مکمل نمونہ قائم کرنے پر مامور کیاگیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘‘

دستور جماعت میں اس امر واقعی کو تسلیم کرنے کے چھ لوازمات بیان کئے گئے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اقرار رسالت کی تہہ میں حبّ نبوی اور پیروی سنت کا جو ہر پوشیدہ ہے اور مثالی اسلامی زندگی کے لئے اس کو اپنے ظاہر و باطن میں سمود ینا ضروری ہے۔

جماعت نے جو نصب العین اختیار کیاہے وہ اقامت دین ہے آج کسی مسلمان سے زندگی کا نصب العین دریا فت کریں تو کوئی شاذونادر ہی یہ کہے گا:

مری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

کیونکہ بچپن سے ہی انکے کانوں میں دنیوی ترقی و خوش حالی کاتصور بٹھا دیا جاتاہے (ڈاکٹر بنوں گا! انجینئر بنوں گا) اور وہ لوگ بھی جو نماز کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہیں اقامت دین کے الفاظ زبان پر نہیں لاتے حالانکہ :    الصلاۃ عمادُالدّین

اس لئے جماعت نے اپنے ارکان پر یہ ذمہ داری دستور میں ڈالی ہے کہ وہ عام طور پر روابط میں اور خطابات عام میں بھی عامۃ المسلمین کو عقیدہ و نصب العین تفصیل سے اور و ضاحت سے بتلایا کریں ۔اِقامتِ صلوۃ تو حِکومت اسلامی کا فریضہ ہے :

الَّذِیْنَ اِن مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَ ئَ اتَوُاالزَّکَوٰۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنکَرِ (سورہ الحج : ۴۱(

ارکان کی ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری درج ذیل ہے:

’’اگر وہ کسی مجلس قانون ساز کا رکن ہو تو شرعی حدود کے دائرے میں اپنا کام انجام دے اور ایسی قانون سازی کی مخالفت کرے جو غیر منصفانہ یا شریعت سے متصادم ہو‘‘ اس دستوری  ذمہ داری کو بخوبی سمجھنے کی ضرورت ہے اِس سیاق میں سیکولر جمہوری نظام کے سلسلہ میں جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ (اگست ۱۹۷۰ء ) کی قرار داد قابلِ غور ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کی ایک کتاب ’’تحریک اسلامی ایک تاریخ ایک داستان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ اس میں مولانا مرحوم نے وضاحت فرمائی ہےکہ

’’ جماعت اسلامی کی دعوت ‘‘نامی کتابچہ انہوں نے پاکستانی وابستگان جماعت کے لئے لکھا تھا کہ وہاں اسلامی نظام کے قیام کے لئے انہیں کس طرح تحریک چلانی ہے (جبکہ ہندوستانیوں کے لئے انہوں نے مدراس کے اجتماع میں ایک مستقل لائحہ عمل دے دیا تھا) ۔

اتفاق یہ ہے کہ ان کا یہ کتابچہ یہاں ہندوستان میںبھی گذشتہ ۶۷سال سے شائع ہو رہا ہے جماعت کی قیادت کو حالات کے اِس فرق کی تفہیم میں خاصی مشقّت اٹھانی پڑی بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب سنبھلناچاہئے اور موجودہ حالات میں جبکہ ہندو تواعناصر آگے بڑھ چکے ہیں مومنانہ فراست کا ثبوت دینا چاہئے۔

ہماری عمومی دعوتی تقریریں عقیدے و نصب العین کی وضاحت کے لئے ہوا کرتی ہیں؟ یا حالات حاضرہ پر تبصرے اور مسائل حیات انسانی اور آج کل کی مشکلات کا حل ڈھونڈنے میںہم اپنی ساری لسانی و قلمی طاقت لگا دیتے ہیں ؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہمیںآخرت میں بھی دینا ہوگا اور دستور جماعت بھی ہمارے جواب کا منتظر ہے ! جماعت کے بارے میں جو غلط تاثر عامۃ المسلمین میں ہے اور نصب العین کے فر سودہ ہو جانے کا جو تذکرہ ہونے لگا ہے وہ نہ ہوتا اگر ہماری تر جیحات میں اور ہمارے اظہار خیال میں عقیدہ اور نصب العین کو سر فہرست رکھاجاتا۔ اسی طرح طریق کار کے تحت دستور میں’’ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب ‘‘ کے  الفاظ موجود ہیں، سخت حیرت ہوتی ہے  جب بعض دانشوران کرام  کا اندازِ فکر سامنے آتا ہے جنہیں لفظ انقلاب سے الرجی ہوتی ہے ایسے ہی ایک دانشور کوجب جماعت کے مطلوبہ صالح انقلاب پر خطاب کی دعوت دی گئی تو انہوں نے اپنے مقالے کا خاصہ حصہ لفظ  انقلاب کی وضاحت اور اس سلسلے میں اپنے ذہنی تحفظات کے اظہار میں لگا دیا۔ یہ جملہ دستور جماعت کا حصّہ ہے اور اس سلسلہ میں شرح صدر حاصل ہونا ضروری ہے۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کی کتاب تفہیمات حصہ سوم کا ایک اہم اقتباس قابل غور ہے

’’تحریک اسلامی کے کار کنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انہیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعہ سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہئے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعہ سے بر پا ہوتاہے عام دعوت پھیلائیے ۔ بڑے پیمانے پر اذہان و افکار کی اصلاح کیجئے۔ لوگوں کے خیالا ت بدلئے اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجئے اور اس کو شش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا مرد انہ وار مقابلہ کیجئے۔اس طرح بتدریج جو انقلاب پر با ہوگا وہ ایسا پائیدارو مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محونہ کر سکیںگے جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔ (صفحہ ۴۷۶)

نظم جماعت کے سلسلہ میں دستور میں مقامی سطح سے لے کر مرکزی ذمہ داروں تک کے اوصاف کا بیان موجود ہےانہی اوصاف کی پرورش پر جماعت کی صحت کا دارو مدار ہے اگر ان میں کوئی کمی نظر آتی ہے تو پہلے خود پر نظر کریں کہ ان اوصاف کی آبیاری میں کتنا وقت اور سرمایہ حیات لگایا ہے؟ ارکان جماعت اچھے اوصاف کے حامل ہوں توذمہ دار بھی خالص معیار کے حامل ہوںگے ۔ دستور کا پانچواں حصہ متفرق امور سے متعلق ہے اس میں دفعہ ۶۸ کی زد سے تمام ارکان کو بچنے کی فکر کرنا چاہئے ۔

)۱(وہ شرائط رکنیت سے کبھی قولاً و عملاً انحراف نہ کرے ۔

)۲(ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہ کرے۔

)۳(جماعت کی پالیسی سے انحراف نہ کرے۔

)۴(جماعت کے نظم اور اس کی اخلاقی و دینی حیثیت کو نقصان نہ پہنچائے ۔

)۵( اس کے بے عملی جماعت سے اس کی وابستگی پر شبہ نہ پیدا کرے۔

مرکز اور حلقہ جات کی مجالس شوریٰ کے فیصلوں کاطریقہ کار

٭ دین میں مشورے کی  اہمیت

قرآن حکیم میں تین مقامات پر مشورہ کا ذکر ہے:

)۱(فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَا وِرْ ھُمْ فِیْ الاَمرِ (آل عمران۱۵۹(

’’ان کے قصور معاف کرو ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کوبھی شریک مشورہ رکھو۔‘‘

)۲(وَاَمْرُھُمْ شُوْرَیٰ بَیْنَھُمْ (الشوریٰ : ۳۸(

’’اہل ایمان اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ۔‘‘

)۳(فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَتَشَاوُرٍفَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا۔ (البقرہ: ۲۳۳(

’’لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں)۔‘‘

سورۃ الشوریٰ کی مذکورہ بالا آیت میں اسلامی اجتماعیت کا اہم اصول بیان ہوا ہے اس اجتماعیت کے اوصاف کا پس منظرسامنے رہے (جو کچھ بھی تم لوگوں کودیاگیاہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سرو سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں جوبڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصّہ آجائے تو درگذر کر جاتے ہیں جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تواس کامقابلہ کرتے ہیں)مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں :

رفع نزاع میں قرآن میں تین اصولی ہدایات دی گئی ہیں:

٭پہلی ہدایت اہل ذکر کی طرف رجوع

فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (الانبیاء، آیات نمبر ۸(

’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو‘‘ (اہل الذکر وہ لوگ ہیں جو علم کتاب و سنت کے حامل ہوں ۔)

٭دوسری ہدایت اولی الامر کی طرف رجوع

وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۝۰ۭ  (النساء، آیت نمبر ۸۳(

’’اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتاہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں حالانکہ وہ اس کو رسول تک اور اپنے اولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے وہ لوگ جو ان کے درمیان کنہ نکا ل لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

٭تیسری ہدایت شوریٰ کا انعقاد

اَمْرُھُمْ شُوْرَیٰ بَیْنَھُمْ (الشوریٰ، آیت نمبر۳۸(

’’ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتاہے۔‘‘

ان تینوں اصولوں کو جمع کرکے دیکھا جائے تو تمام نزاعات میں فَرُ دُّوہُ اِلیٰ اللہ واالرَّسُوْلِ کامنشا پورا کرنے کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں وہ ’’اہل الذکر ‘‘ سے رجوع کریںاور وہ انہیں بتائیں کہ ان معاملات میںخدا اور رسول کا حکم کیاہے۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لئے اہمیت رکھنے والے مسائل تووہ اولی الامر کے سامنے لائے جائیں اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریںکہ کتاب اللہ سے اور سنت رسول اللہ کی روسے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق و صواب ہے۔ ‘‘ (تفہیمات جلد سوم، ص: ۵۸۔۵۶(

یہ کسی نظام اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ ہے جماعت اسلامی ہند کی اجتماعیت وابستگان جماعت کی زندگی کو منظم کرنے اور انہیں تحریک اقامت دین کے تحت اجتماعی زندگی بسر کرانے کی ایک شعوری کوشش ہے یہ اجتماعیت دستور جماعت کے بموجب نظام امر و اطاعت و شورائی طرز فیصلہ کے تابع ہے یہ نظام گذشتہ ۷۵ سال سے قائم و سرگرم ہے جماعت جب تک ابتدائی حالت میں تھی مجلس شوریٰ کا انتخاب امیر جماعت کی صوا بدید پر تھا اجتماع الہ آباد (۱۹۴۶) کے بعد مجلس شوریٰ کے انتخاب میں ارکان جماعت سے استصواب کیا جانے لگا۔ موجودہ دستورجماعت (نافذالعمل : ۱۹۵۶) کے مطابق اب مرکزی مجلس شوریٰ کا انتخاب مجلس نمائندگان کرتی ہے ۔ اور تنظیمی حلقوں کی مجالس شوریٰ کاانتخاب متعلقہ حلقوں کے ارکان جماعت کرتے ہیں۔  یہ انتخاب ایک میقات (چار سا ل ) کے لئے ہوتاہے ۔

معیار انتخاب

مرکزی مجلس شوریٰ کی رکنیت کے انتخاب میں جب ذیل اوصاف کو ملحوظ رکھنا ہے :

)۱( وہ مجلس کی رکنیت یا کسی جماعتی منصب کا امید واریاخواہشمند نہ ہو ۔

)۲(فہم دین تقویٰ امانت داری ‘ تدبر و اصابت رائے ‘ معاملہ فہمی‘ تحریک اسلامی کی مزاج شناسی اور اس سے وابستگی دستور جماعت کی پابندی اور راہ خدا میں استقامت کے لحاظ سے بہ حیثیت مجموعی مجلس نما ئندگان کے ارکان میں بہتر ہو۔

حلقہ کی مجلس شوریٰ کے لئے بھی یہی اوصاف ہیں البتہ اس کا حلقہ انتخاب متعلقہ تنظیمی حلقہ کے تمام ارکان ہیں۔ جس طرح مرکزی مجلس شوریٰ امیر جماعت کی امداد و مشورے کے لئے ہے اور وہ تمام اہم معاملات میں جن کاجماعت کی پالیسی اور نظم پر قابل لحاظ اثر پڑتاہے اس سے مشورہ لے گا۔ یہی صورتحال حلقہ کی مجلس شوریٰ کی ہے البتہ اس کا دائرہ کار حلقہ کے جماعتی کام اور سرگرمیاں ہیں۔ امیر حلقہ تمام اہم معاملا ت میں اپنی مجلس سے مشورہ کرے گا۔

مجلس شوریٰ کے فیصلوں کا طریقہ کار

مرکز اور حلقوںکی مجالس شوریٰ اپنے سالانہ اجلاس اپنے دائرہ کار کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ ایجنڈوں کے مطابق منعقد کرتی ہیں۔ ان ایجنڈوں کو دستور جماعت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ سالانہ اجلاس کے علاوہ بھی ان مجالس کے انعقاد کے مواقع دستور جماعت میں بیان کردے گئے ہیں۔ فیصلوں کا طریقہ کار بھی درج ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کاطریقہ دستور جماعت کی دفعہ ۳۹ میں درج ہے اسکے بموجب (الف) فیصلے اتفاق رائے سے  ہوں اس کی سعی ہوگی (ب) اتفاق رائے نہ ہوسکے تو امیر جماعت معہ ایک تہائی ارکان مجلس کی رایوں کے مطابق فیصلہ ہو گا ۔ (ج) بنیادی پالیسی کی تشکیل یا اس میں ترمیم کے مسئلہ میں حاضر ارکان مجلس کی تین چوتھائی تعداد اس کے حق میںہو یا نصف ارکان مجلس معہ امیر جماعت اس کے موئید ہوں تو فیصلہ ہو جائے گا بصورت دیگر معاملہ اختلافی قرار پائے گا اور مجلس نمائندگان میں بموجب دفعہ ۲۰ طے پائے گا۔

حلقہ کی مجلس شوریٰ کے فیصلے کا طریقہ دستور جماعت کی دفعہ ۵۰ کے بموجب اس طرح ہے ۔ ’’ اتفاق رائے نہ ہوسکنے کی صورت میں فیصلہ کثرت آراء سے ہوگا اور رائے شماری کے وقت صدر مجلس (امیر حلقہ ) کی رائے بھی ایک رائے قرار پائے گی البتہ رایوں کے برابر برابر منقسم ہو جانے کی صورت میں فیصلہ اُن  آراءکے مطابق ہو گا جن میں صدر (امیر حلقہ ) کی رائے شامل ہو۔

نوٹ : (دفعہ ۵۱) مجلس کے فیصلے تابع تو ثیق امیر جماعت قرار دیے گئے ہیں لیکن مجلس کی رائے میں کسی خاص معاملے میں فوری قدم اٹھانا ناگز یر ہو تو توثیق حاصل ہو جانے سے قبل بھی امیر حلقہ قدم اٹھا سکتاہے۔

مجلس شوریٰ کا مقام :

اسلامی اجتماعیت میں شوریٰ کے نظام کی ابتداءعہد نبوی کے مبارک دور میںہوگئی تھی۔ مولانا مودودی کی رائے میں کسی اسلامی اجتماعیت کے اولی الامر (اس کے امیر مع مجلس شوریٰ) وہ بااختیار ادارہ ہیں جو باہمی مشورے سے مختلف معاملات و مسائل کے بارے میں قرآن و سنت کے منشاء و حکم کاتعین کرنے کا مجاز ہے (تفہیمات سوم ، ص ۶۵) دستور جماعت میں جو شورائی نظام تجویز کیاگیا ہے اس کی تشکیل میں دینی واخلاقی اوصاف کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اسلئے اس کودنیوی مفادات و تعصّبات سے بالا تر رکھاگیاہے اس ادارہ کی مثالی فعالیت و کارکردگی کاانحصار جماعت کی مجموعی دینی و اخلاقی صورتحال پر ہے۔ وابستگان جماعت میں بالعموم اخلاقی اوصاف جس قدر قوی ہوں گے اس کی مناسبت سے ہی یہ ادارہ بھی بہترہوگا۔

مارچ 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau