غرض محبت الہی کی کسوٹی صرف کتاب وسنت کا پورا اتباع ہی ہے۔ اس کسوٹی پر اپنے کو کستے رہنا محض ایک بہتر کام نہیں بلکہ انتہائی ضروری کام ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس بات کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہوسکتا کہ حصولِ محبت کے باب میں ہماری کوششیں فی الواقع کس حد تک کام یاب ہو سکی ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ یہ اندازہ نہیں ہوسکتا، بلکہ ساتھ ہی یہ خطرہ بھی لاحق رہے گا کہ انسان محبت کے نام پر فریبِ محبت کا شکار ہو جائے۔ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتا رہے کہ اللہ تعالی کی محبت اس کے باطن کو گرماتی جارہی ہے مگر حقیقت میں وہ صحیح محبت کا سوز نہ ہو۔ یہ خطرہ اس لیے لاحق رہے گا کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس کی فطرت میں جوش اور بے تابی ہے، وہ رہ رہ کر بے قابو ہوجاتا اور ہوش کے تقاضوں کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے سامنے اصل کارفرما طاقت اس کا ذوق ہوتا ہے، نہ کہ محبوب کی پسند اور ناپسند کا خیال۔ حالاں کہ غیر اللہ کی محبت میں چاہے جو بے راہ روی بھی برداشت کر لی جاتی ہو مگر اللہ کی محبت میں جو اصل میں عقلی محبت ہے نہ کہ طبعی، کوئی نا معقولیت گوارا نہیں کی جاسکتی۔ اور اس کے حق میں سب سے بڑی نا معقولیت یہ ہے کہ انسان اس میں اپنے ذوق کو دخیل ہونے کا موقع دے دے اور اللہ سے محبت اپنی پسند کے مطابق کرے۔ جن طریقوں اور جن اعمال و مشاغل کو چاہے اختیار کرے اور جن سے چاہے بے تعلق ہو جائے۔ یہاں اس اتباعِ ذوق کی اور اس انتخاب کی قطعاً کوئی آزادی نہیں ہے۔ یہ آزادی اگر جان بوجھ کر اختیار کی جائے تب تو کفر ہے اور اگر نا دانستگی میں اپنائی جائے تو بھی کچھ کم محرومیوں کا سبب نہیں۔ جس شخص کو اس گھاٹے سے بچنا ہو اسے اتباعِ کتاب وسنت کی میزان ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھنی چاہیے۔ (اساسِ دین کی تعمیر، ص ۶۰)
محبتِ الٰہی کی کسوٹی
آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:







