حاکمیت الٰہ کی بحث

احراز الحسن جاوید

گمراہیاں جب دین کے پردے میں جلوہ نمائی کرنے لگیں تو بہت کم لوگ ان سے بچ پاتے ہیں۔ نفس انسانی کی کمزوریاں جلد ہونے والے فائدوں پر بڑی جلدی لپکتی ہیں۔ تحریک اسلامی کا امتیاز یہ تھا کہ اس نے خالص اسلام کو پیش کیا اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ لیکن یہ دعوت عمل اپنے جلو میں بڑی استقامت ، صبر اور قربانیاں چاہتی تھی۔ دور اوّل کے لوگوں نے واقعی قربانیاں دیں۔ اپنے خون سے اس کی آبیاری کی۔ تحریک کی توسیع ہوتی رہی۔ لیکن تحریک کے لئے مستقل صبرواستقامت اورقربانی یہ مرحلہ بڑے ہی اولوالعزم کا طالب تھا۔ عجلت پسند طبیعتیں بہت جلد اس سے اُکتانے لگیں۔ وہ دین اور اس کی اقامت کے راستے میں رکاوٹیں اور موانع دُور کرنے کی جدوجہد کے بجائے اس میں شارٹ کٹ تلاش کرنے لگے۔ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو جو ایک آفاقی اور کائناتی دین ہے۔ اسلامی تحریک نے بڑے صبرواستقامت کے ساتھ مخالفتوں کے بحرِبے کراں سے گزرتے ہوئے۔ مصیبتوں کی مار جھیلتے ہوئے۔ دن رات کی محنت شا قہ کے بعد دین کو اس کے صحیح اور اصل روپ میں پیش کیاتھا۔ جس نے عالمی پیمانے پر ان تمام سلیم الفطرت لوگوں کو متاثر کیا جو اسلام کو زمین پر سربلند کرنا اور دیکھنا چاہتے تھے اور ہیں۔

اب یہ اللہ کی مشیت ہے کہ کبھی ساڑھے نوسوسال کی سخت جدوجہد اور محنت درکار ہوتی ہے اور کبھی اپنے آخری رسول کے ذریعے ۲۳سال کے قلیل عرصے میں دین غالب آتا ہے اور اس کے مخالف مغلوب ہوتے ہیں۔ پھر کیا ساڑھے نوسوسال کی محنت کوناکامی کا عنوان دیاجاسکتاہے۔ ہرگز نہیں۔ ہمارا کا م کوشش اور محنت کرنا اور صحیح سمت میں گامزن رہنا ہے۔  چاہے اس کام میں نسلیں گزرجائیں۔ یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا پابند نہیں۔ اس کی راہ آسانیوں سے بھری ہو یہ بات بھی اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ سارے حالات اس کی نگاہ میں ہیں وہ غافل نہیں ہے۔

مولانا سلطان احمد اصلاحی صاحب معروف عالم دین ہیں۔انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں اور اب بھی لکھ رہے ہیں۔ ان کی تصانیف کی فہرست ان کے رسالہ علم وادب میں پابندی سے شائع ہوتی ہے۔ اس فہرست میں پہلانمبر جس کتاب کاہے اس کا نام ہے ’’مذہب کا اسلامی تصور‘‘ بڑی معرکۃ الآرا، نہایت مدلل اور وقیع کتاب ہے جناب سلطان صاحب نے بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ یہ کتاب خاکسار کو مرحمت فرمائی تھی جس پر ان کا بہتر شکر گزار ہوں۔ اس کتاب میں ان کی بیشتر بلکہ ساری باتوں کاجواب ہے وہ آج کل جماعت اسلامی کے پیش کردہ تصور حاکمیتِ الٰہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں۔ جناب سلطان احمد اصلاحی صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’جماعت اسلامی کی حاکمیت الٰہ کی تیار کردہ تھیسس کے لا طائل ہونے کے ساتھ کتاب اللہ میں عبادت اور دین کی اصطلاحات کا مفہوم اصلاً محدود ہے اور یہی محدود ومفہوم ان کا بنیادی مفہوم ہے۔‘‘ (علم وادب جنوری مارچ ۲۰۱۴ء ،صفحہ۷۶)

مولانا سے گزارش ہے کہ جب اللہ  سارے جہان کا رب ہے تو اس کادین محدود کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ خود اپنی کتاب میں دین کا وسیع تصور پیش کرتے ہیں۔ اس کے وسیع تصور کے ضمن میں انہوں نے پہلے علامہ ابن تیمیہ ؒ کا بصیر افروز بیان لکھاہے۔ پھر شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ سے ایک نہایت قیمتی اقتباس دینےکے بعدانہوں نے خود جو کچھ کہا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے۔

’’ اس کے بعد موصوف (حضرت شاہ ولی اللہؒ) نے اس مسئلہ کی جو وضاحت کی ہے وہ محدود تصور مذہب کی کہُرپوری طرح چھانٹ دینے والی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیر بحث میں ’’اقامت دین ‘‘ کے الفاظ سے وحدت دین کی جو بات کہی گئی ہے اور جسے پورے انبیائی جماعت کامشترکہ سرمایہ قرار دیاگیا ہے اس کا تعلق ، جب کہ عام طور پر غلط فہمی ہے، دین کے کسی خاص جز اور مذہب کے محدود تصور سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ چیز ایک خاص انداز میں دین وشریعت کے پورے مجموعے کو شامل ہے۔ اپنی پوری زندگی میں قدری احکام پر عمل اور اس کی انفرادی واجتماعی جملہ اور وسائل میں اس کی نازل کردہ شریعت کی بے لاگ پیروی یہ کچھ آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوص نہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام ہر دور اور ہرزمانہ میں اسی ایک پیغام کے داعی اور علمبردار رہے ہیں ’’اقامت دین ‘‘ کے لفظوں میں انبیائی دعوت کی جس مشترکہ بنیاد کی طرف اشارہ کیاگیا ہے اس کا تعلق مجرد عقائد اور معروف عبادات ہی سے نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ نکاح وطلاق ، عدل وانصاف کا قیام، مظالم کاازالہ، حدودوتعزیرات کا نفاذ اور اعدائے دین سے جہاد وقتال وغیرہ اجتماعی زندگی  کے اہم ترین امور ومعالات بھی اس کے اندر اُسی طرح  شامل ہیں۔ یہی اصل دین ہے جس کی طرف آیت کریمہ میں ’’اقامت دین‘‘ کے الفاظ سے اشارہ کیاگیا ہے اور اس مکی سورہ کے اندر اس کا حوالہ  دے کر آخری پیغمبرؐکی دعوت کی نسبت سے اہل عرب کی وحشت واجنبیت کو دور کرنا ہے کہ تمہاری طرف سے اس پیغام اور اس دعوت کی مخالفت کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی جب کہ یہ کوئی نیا پیغام اور نئی دعوت نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیزہے جو پوری انبیائی جماعت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔‘‘ (مذہب کا اسلامی تصور(۲۵۸، ۲۵۹)

مگر دیکھئے کہ اب مولانا کیاکہتے اور لکھتے ہیں، فرماتے ہیں:

’’دین کا کلیت پسندانہ تصور اور حکومت الٰہیہ کے قیام کا نعرہ مولانا مودودیؒ کے ذہن کی پیدا وار ہے قرآن سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں اور یہ بے اعتدالی کا شکار ہے اور اس میں جرمن فاشزم کی بو نظر آتی  ہے۔ ہٹلر نے نعرہ دیا تھا۔ ایک حکمراں، ایک قوم ،ایک نظام ، مولانا مودودیؒ نے اس کا متبادل فراہم کیا۔ ایک انسان، ایک خدا، ایک نظام۔‘‘   (علم وادب اکتوبر، دسمبر۲۰۱۰ء، صفحہ۱۱)

(جاری)

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau