جماعتِ اسلامی ہند کے اجتماعات کے حوالے سے اخبارات کے مختلف رویے رہے۔ بعض مرتبہ اجتماع کی خوب سراہنا کی گئی اور بعض مرتبہ کسی اجتماع کے خلاف خوب پروپیگنڈا بھی کیا گیا۔
تقسیم سے پہلے جماعتِ اسلامی کا مشرقی ہند کا اجتماع پٹنہ میں منعقد ہوا۔ ۱۹۴۷ کا سن تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کی کشمکش اپنی انتہا پر تھی۔ اجتماع میں جماعت نے اپنا اصولی پیغا م سنانے کےلیے سبھی کو مدعو کیا۔ کوئی اور لیڈر تو نہیں آیا البتہ گاندھی جی شریک ہوئے۔ اس کے بعد ایک طرف کانگریسی پریس اور اخبارات اس اجتماع کو یہ رخ دینےکی کوشش کی کہ جماعت کانگریس کی ہم خیال ہے اور اس مقصد سے مولانا امین احسن اصلاحی کی تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تو دوسری طرف مسلم لیگی اخبارات نے جماعت کے خلاف خوب زہر اگلا۔
رام پور کے اجتماع سے پہلے
جماعتِ اسلامی ہند کی تشکیل کے بعد اس کا پہلا اجتماع ۱۹۵۱ میں رام پور میں ہوا۔ اس اجتماع سے پہلے اسے روکنے کی مختلف کوششیں ہوئیں اور اس اجتماع کے بعد بھی اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔
پہلے تو یہ غلط بات پھیلائی گئی کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کی میٹنگ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے ووٹوں کو منظم اور طاقت ور کرنا ہے۔ چنانچہ متعدد اخباروں میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ :
‘‘معلوم ہوا ہے کہ کل ہند جماعتِ اسلامی کا سالانہ اجلاس رامپور میں ۲۰ لغایة ۲۲ اپریل تک منعقد ہوگا ۔ جس میں تمام ہندوستان سے جماعتِ اسلامی کے لیڈر شریک ہوں گے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے اور بھی مسلمان لیڈروں کو دعوت دی گئی ہے ۔ وہ سب مل کر اس بات پر غور کریں گے کہ مسلمان سیاست میں کس طرح حصہ لیں اور کوئی ایسی سیاسی جماعت میں شریک ہوں کہ انھیں آنے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں مل سکیں۔’’ (مدینہ ۲۸ مارچ ۱۹۵۱)
اسی قسم کی خبروں کے پیش نظر اجتماع سے پہلے مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعتِ اسلامی ہند نے ایک مفصل بیان دیا جو مقامی اور بیرونی اردو، انگریزی اخبارات میں شائع ہوا۔ بیان میں اس غلط اطلاع کی تردید کی گئی اور اجتماع کا مقصد واضح کیا گیا۔
خدا کا شکر ہے کہ اس بیان کے بعد اخبارات کی طرف سے غلط بیانی کا سلسلہ رک گیا۔ لیکن رامپور کے دو مقامی اخبارات نے اس کے باوجود ایک ہی تاریخ میں قریب قریب یکساں الفاظ میں ، رامپور میں اجتماع کے منعقد ہونے پر اس بنا پر اعتراض کیا کہ اس سے فرقہ پرور عناصر کو رامپور کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع مل جائے گا۔
ان نوٹوں کے شائع ہونے سے پہلے ہی مقامی طور پر ایک حلقہ کی طرف سے اجتماع کی مخالفت شروع ہو چکی تھی ، اس لیے یہ مناسب سمجھا گیا کہ ان نوٹوں کے ذریعہ جو اندیشے ابھر سکتے ہیں ان کی بروقت تردید کر دی جائے۔ چنانچہ امیر جماعت نے اخباروں کو مراسلہ بھیج کر ایسے تمام اندیشوں کا قلع قمع کیا۔
ان روز ناموں نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا ، ان کو خود شہر کے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ حلقوں میں بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔
اللہ کا شکر ہے کہ مسلم اخبارات کے اندیشے غلط ثابت ہوئے اور اجتماع کامیاب اور پر امن طریقے سے منعقد ہوا۔ شہر کے ماحول پر اس کے بہت اچھے اثرات واقع ہوئے لیکن اس کے باوجود بعد بعض ہندی اخبارات میں اجتماع کے حوالے سے غلط بیانیاں شائع کی گئیں اور بالکل بے بنیاد الزامات لگائے گئے، جیسے یہ کہ جماعتِ اسلامی کے کارکن تین دن برابر خفیہ میٹنگ کرتے رہے اور ان میں فرقہ وارانہ منافرت بڑھانے کے منصوبے بنائے گئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ ملک کی سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوکر اندر سے ان کی جڑیں کھودنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وغیرہ۔
قیم جماعت کی طرف سے وضاحتی بیان بھیجا گیا جو ان اخبارات نے شائع نہیں کیا لیکن اردو اخبارات نے شائع کیا۔ اس میں واضح کیا گیا کہ جماعت کا یہ اجتماع اور سبھی اجتماعات کھلے اور علانیہ ہوتے ہیں، ان میں غیر مسلم حضرات بھی شریک ہوتے ہیں اور یہ کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا جماعت کے طے شدہ طریقہ کار کے خلاف ہے۔ جماعت تو ملک سے نفرت اور ظلم کو مٹانے کا عزم رکھتی ہے۔
ایک غیر مسلم جناب گھنشیام داس جو گنگوہ سے آئے تھے اور شریک اجتماع ہوئے تھے انھوں نے بھی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ایک مراسلہ بھیجا جو ان اخبارات نے شائع نہیں کیا مگر اردو اخبارات نے شائع کیا۔
مثبت تبدیلی
ہمارا اندازہ ہے کہ پٹنہ اور رام پور کے اجتماعات کے بعد پریس کا رویہ جماعتِ اسلامی ہند کے اجتماعات کے سلسلے میں تبدیل ہوا۔ اس کی وجہ ان اجتماعات کے بہت نمایاں مثبت اثرات اور اخبارات کی زہر افشانیوں کے مقابلے میں جماعت کے ذمے داران کا احسن رد عمل تھا۔
۱۹۷۴ میں جب دہلی میں اجتماع عام ہوا تو بہت سے انگریزی اور ہندی اخبارات میں اس کی درست رپورٹنگ ہوئی۔ مشہور صحافی کلدیپ نیر نے دی اسٹیٹس مین کے اداریہ میں اجتماع کی تحسین کی اور ہندی ہفت روزہ دنمان میں جناب شیام لال شرما نے پورے صفحہ کی رپورٹ لکھی۔
البتہ دائیں بازو کے ہندی اخبارات میں یہ سلسلہ جاری رہا۔ ۱۹۶۷ میں حیدرآباد میں اجتماع عام ہوا تو جن سنگھی ہفت روزہ پانچ جنیہ کی ۲۷ نومبر کی اشاعت میں اس اجتماع کے حوالے سے خوب زہر اگلا گیا۔اس تحریر کا عنوان تھا جماعتِ اسلامی ہند کے آل انڈیا اجتماع میں بغاوت کی فضا۔ اور نعرہ دین کا نقشہ پاکستان کا۔ (دعوت ، ۷ دسمبر۱۹۶۷)
مشمولہ: شمارہ نومبر 2024