منشیات کا بڑھتا ہوا رواج

(3)

مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی

منشیات کے رواج کے بنیادی اسباب و محرکات

اس وقت پور ی دنیا میں منشیات کے استعمال کا جو عام رواج چل پڑا ہے، خاص طور سے نوجوان نسل جس بری طرح سے نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے، وہ ہر صاحب فکر کے لئے بے حد تشویش ناک صورت حال ہے، تمام احتیاطی تدبیروں کے باوجود منشیات کے استعمال کی شرح میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، دولت کی ہوس نے سرمایہ داروں کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ مسلسل منشیات کے کاروبار کو مختلف خوش نما ٹائٹلوں کے ساتھ بڑھاوا دے کر نوجوانوں کو جسمانی و اخلاقی، اقتصادی و معاشرتی ہر اعتبار سے بد حالی کی آخری سطح تک پہنچانے کے درپے ہوچکے ہیں، مختلف خورد و نوش کی چیزوں(مثلاً چاکلیٹ وغیرہ) میں مخفی طور پر نشہ آور مادے شامل کر کے نوجوانوں کو ان کاعادی بنایا جاتا ہے اوراس طرح پھر ان کو منشیات کا خوگر کردیا جاتا ہے ، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پہلے سے کہیں زیادہ آج محسو س کی جاسکتی ہے:

’’میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے، لیکن اس کوشراب کانام نہیں(بلکہ کوئی اورنام) دیں گے۔ ‘‘( نسائی/۵۶۶۱)

معاشرے میں نشے کی لعنت عام ہونے کے اسباب و محرکات کیا ہیں؟ ذیل میں ان سے متعلق چند اہم امور کا جائزہ لیا جارہا ہے :

(۱) ایمانی جذبہ اور خوف خدا کی کمی

ہمارے سماج میں منشیات کی وباء عام ہونے کی سب سےپہلی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ایمانی جذبات کمزور اور سرد پڑگئے ہیں، بے خوفی اورجرأت بڑھ گئی ہے، اللہ کا خوف رخصت ہورہا ہے، موت کی یاد سے غفلت عام ہے، آخرت کی فکر اور بارگاہ رب العزت میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار باقی نہیں رہا ہے ، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گناہوں کی طرف لوگ سرپٹ دوڑے جارہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کی لگام ان کے نفس کے قبضے میں ہے، اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب انسان دین و شریعت کی لگام اپنے اوپر سے ہٹا دیتا ہے، توپھر اللہ کی امان سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کو پرواہ بھی نہیں ہوتی کہ وہ ہلاکت کے کس کھڈ میں جاگرا، قرآن میں فرمایا جارہا ہے:

’’بلاشبہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ،اور ا گر اللہ کے علم میںان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو سننے کی توفیق دے دیتا،لیکن اب جب کہ ان میںبھلائی بھی نہیں ہے، اگر ان کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منھ موڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘‘                                                                            ( الانفال/ ۲۲-۲۳)

معلوم ہوا کہ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق اسی کے حصہ میں آتی ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو، اگر کسی کے دل میں حق کی طلب ہی نہ ہو اور وہ غفلت کی حالت میں زندگی بسر کررہا ہو اور نفس کا غلام بن چکا ہو، تووہ حق سمجھنے سے محروم ہوجاتا ہے، اور سمجھ بھی لے تو اسے پلٹنے اور عمل خیر کی توفیق نہیں ملتی، بلکہ وہ بدستور اپنی مجرمانہ غفلتوں میںمبتلا رہتا ہے ۔

اسی حقیقت کو اگلی آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

’’جان لو کہ اللہ انسان اوراس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ۔‘‘(الانفال/۲۴)

یعنی جس کے دل میں حق کی طلب ہوتی ہے اگر اسے گناہ کا تقاضا ہو، مگر وہ طالب حق کی طرح اللہ سے طالب مدد ہوجائے تواللہ ا سکے اورگناہ کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اوراس کے قدم گناہ کی راہ پر چلنے سے محفوظ ہوجاتے ہیں، اور جس کے دل میں حق کی طلب ہی نہ ہو اور وہ اللہ کی طرف رجوع بھی نہ ہوتا ہو وہ توفیق خیر سے محروم اور گناہوں میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے ۔

مزید فرمایا گیا:’’جب انہوں نے کج روی اختیار کی تواللہ نے ان کے دلوں کو کج کردیا، اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔‘‘  (الصف / ۵ )

احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جو بندہ اللہ کے دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے اللہ اس کوتوفیق سے نوازتا ہے، جواللہ سے نصرت کاطالب ہوتا ہے ، اللہ اس کی مددکرتا ہے، جو اللہ کی طرف رجوع ہوتاہے اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک ایمانی جذبات کم زور رہیں گے، اور اللہ و آخرت کا خوف دلوں میں پیدا نہیں ہوگا، گناہ کے راستے سے واپسی نہیںہوسکے گی، آج منشیات کے رواج عام کا بہت بنیادی سبب یہی ہے کہ امت ایمانی قوت سے محروم اور بارگاہ الٰہی میں باز پرس کی حقیقت سے بے فکری اور بے خوفی میں مبتلا ہے۔

(۲) اخلاقی تعلیم و تربیت کا فقدان

اولاد کو بنانے یا بگاڑنے میں سب سے نمایاں کردار گھر کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا ہوتا ہے، اگرو الدین یا ذمہ داران اپنی اولاد کی ٹھوس اور پختہ دینی تعلیم اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کی فکر کریں گے، ان کے شب و روز کی تمام مشغولیات کی حکمت کے ساتھ نگہ داشت رکھیں گے، ان کو منکرات اور فواحش کے راستوں پرجانے سے روکیں گے، وہ تمام اسباب اور ذرائع جو بگاڑ کے راستے پر لے جاتے ہیں( جن میں آج خاص طورسے ٹی وی، انٹر نیٹ وغیرہ کا طوفان شامل ہے) یا تو اپنانے نہیں دیں گے یا بے حد حساسیت اور بیدار مغزی کے ساتھ اپنی نگرانی میں ان کا صرف مثبت اورمفید استعمال ہی ہونے دیں گے، تبھی اولاد گناہوں سے محفوظ رہ سکے گی۔

آج صورت حال یہ ہے کہ زندگی کے ہنگاموں اور مشغولیات میں والدین کو اپنی اولادکی دینی و اخلاقی تربیت کی فرصت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ضروری ہونے کا انہیں احساس ہے، ٹی وی اور رقص و سرود کاکلچر گھر سے لے کر بازار تک اور اسکول سے لے کر تقریبات تک بالکل عام ہے، خلوت کی زندگی میں جوانی کی دہلیز پر پہونچتی اولاد موبائل، نیٹ وغیرہ کے ذریعہ کیا کررہی ہے، وہ بے حیائی کی راہ پر کس طرح جارہی ہے اور منشیات کی لعنت میں کس طرح مبتلا ہورہی ہے، اس کی کوئی فکر والدین کو نہیں رہتی ہے، نتیجہ سامنے ہے کہ نوجوانوں کی وہ نسل سامنے آرہی ہے جو شراب کی رسیا اور بگاڑ کا مرکب ہے۔

(۳) بے کاری اور بے روزگاری

بے کاری اور کسی مثبت، صحت مند اور مفید مشغولیت کا نہ ہونا انسان کو بگاڑ کی راہ پر لے جانے کا بہت طاقت ور ذریعہ ہوتا ہے، ایسے لوگوں تک شیطان کی رسائی بہت آسانی سے ہوتی ہے، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

’’اگر دل میں اللہ کی محبت نہ ہو توشیطان کی محبت جگہ بنالیتی ہے، پھر شیطان دل کواپنے قابو میں کرلیتا ہے ، جیسے جانور کو قابو میں کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ شیطان انسان کو ہلاکت کے گڈھوں تک پہونچا ہی دیتا ہے۔‘‘ ( المخدرات: عائض/۱۹)

اس لئے مثبت اور مفید مشغولیات میں لگے رہنا بہت بڑی نعمت ہے اور بگاڑ سے سلامتی کا ذریعہ بھی ہے، موجود ہ حالات میں جب معاشی بد حالی کا دور دورہ ہے، ایک بہت بڑاطبقہ بے روزگاری کی زندگی گزار رہا ہے، اور مایوسی، نفسیاتی کرب اور اضطراب کا شکار ہے، اور یہ کرب بسا اوقات اسے اپنے غم غلط کرنے کے لئے شراب و نشہ کے مہلک راستے پر لے جاتا ہے، یہ بھی سماج میں نشے کے عموم کا ایک سبب ہے۔

(۴) بری صحبت

نوجوانوں میں نشے کی لت کا ایک محرک نشے باز ساتھیوں کی صحبت و رفاقت بھی ہے، بری صحبت کے بدترین اثرات عقل و نقل سب سے ثابت ہیں، ارشاد نبوی ہے:

’’آدمی اپنے دوست کے طریقے پر کاربند ہوتا ہے، اس لئے دوستی سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ کس سے دوستی کی جارہی ہے۔‘‘ (ابو داؤد)سلف صالحین کے اقوال میں ہے: ’’د ل کے لئے بروں کی صحبت اور ان کے برے افعال کو دیکھنے سے زیادہ ضرررساں چیز کچھ اور نہیں ہے۔ ‘‘                                              (الاخوۃ/جاسم المہلہل/۳۸)

عموماً یہ مشاہدہ ہے کہ شراب و نشے سے دور آدمی جب غلط صحبت میں آتا ہے تواس کی زندگی اس لعنت سے آلودہ ہوئے بغیر نہیں رہتی، آج ہمارے نوجوانوں میں اپنے نام نہاد’اسٹیٹس‘ کو بحال رکھنے کے لئے اپنے دوستوں کا جو ’ سرکل‘ بنانے کا فیشن چل پڑا ہے وہ عیاش، بے حیا، اخلاق باختہ، شراب و کباب کے عادی نوجوانوں کا سرکل ہوتا ہے، وہاں کسی دین دار، با شرع، صالح، دینی خدمات سے وابستہ جوان کو داخلے ہی کی اجازت نہیں ہوتی، اور پھر اس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی انہیں بروں کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے ، اور اپنا سب کچھ داؤں پر لگا بیٹھتا ہے۔

(۵) یورپ کی اندھی نقالی اور غلامی

ہمارے معاشرہ میںمنشیات اور دیگر فواحش کے عام ہونے کے پیچھے بنیادی کردار ہماری اندھی نقالی اورغلامی کے مزاج کا ہے، اسلام کا مکمل علم نہ ہونے، اپنی دینی تعلیمات پر بصیرت واعتماد نہ ہونے اور روح کے بجائے مادے کو ترجیح دینے کے مزاج کی وجہ سے امت کی اکثریت مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب اور منکرات سے لبریز کلچر کی اندھا دھند نقالی اور غلامی کرتی ہے۔سماج میں مغرب زدگی کا ایک سبب مادیت اور خدا بیزاری اور اخلاقیات سے محروم مغربی نظام تعلیم کا عام فروغ ہے، دوسرا سبب میڈیا کے فحش، مخرب اور منفی پروگرام ہیں، اور اسی مغرب پرستی نے ہمارے سماج میں دیگر لعنتوں کے ساتھ منشیات کی لعنت کوبھی پروان چڑھایا ہے، اور یہ خمار اس وقت تک نہیںاترے گا جب تک نقالی اورغلامی کا مزاج ختم نہ ہوجائے۔

(۶) بے شعوری میں نشہ آور گولیوں کامقوی دوا سمجھ کر استعمال

ایک طبقہ جوانوں میں وہ بھی ہے جو بگاڑ پھیلانے والوںکی طرف سے رائج نشہ آور گولیوں کے جھانسے میں آکر انہیں مقوی دوا سمجھ کر استعمال کرلیتا ہے، اور اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس طرح اس نے نشے کا زہر اپنے وجود میں اتار لیا ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ ان دواؤں کا عادی ہوجاتا ہے،اور پھر یہ عادت اسے برباد کرڈالتی ہے، یہ بھی معاشرے میں منشیات کے رواج کا ایک سبب ہے۔

سماج کو نشے کی لعنت سے بچانے کی بنیادی تدبیریں

سماج میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور سماج کو اس برائی سے بچانے کے لئے کیا تدبیریں ہوسکتی ہیں، ذیل میں چند ضروری امور کا ذکر کیا جاتا ہے :

(۱) ایمانی جذبات او راللہ کا خوف بیدار کرنا

تما م برائیوں کے سد باب اور ہر نوع کی مجرمانہ عادتوں کو ختم کرنے کے لئے اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایمانی جذبات بالکل بیدار کردیئے جائیں، اوراللہ کا خوف جگا دیا جائے، برائیوں سے نفرت پیدا کرنے کا سب سے کارگر نسخہ ایمانی جذبات کی بیداری اوراللہ کی بارگاہ میں جواب دہی کا مکمل استحضار ہے ، قرآن میں صحابہ کے تذکرے میں آیا ہے :

’’اللہ نے تمہا رے لئے ایمان کومحبوب اور دل پسند بنادیا اور تم میں کفر ، فسق اور نافرمانی کے کاموں کی نفرت پیدا کردی۔‘‘ (الحجرات/۷)

اللہ کا خوف اور فکر آخرت وہ مضبوط زنجیر ہے جو انسان کو معاصی کے راستے پر چلنے سے بالکل روک دیتی ہے۔

(۲) موثر دینی و اخلاقی تربیت

والدین کی طرف سے گھروں میں اور اساتذہ کی طرف سے تعلیم گاہوں میں ایساماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے کہ اولاد خیر کی طرف راغب ہو، برائیوں سے نفرت کرنے والی بنے، منشیات کے مضر اثرات سے باخبر ہو، ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ نشہ سمیت تمام جرائم سے بالکلیہ نفرت کرنے والے بن جائیں، کردار سازی میں تعلیم وتربیت کاکردار سب سے بنیادی ہوتا ہے اوراس حوالے سے سب سے بڑھ کر ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ صحیح خطوط پر اولاد کی رہنمائی کریں، ان کی نگرانی رکھیں، ان کو برے ماحول سے اور مخرب اخلاق امور و عناصر و اسباب سے مکمل بچائیں۔

 قرآنی و دینی تعلیم

نصوص، تجربات اورمشاہدات سب سے ثابت ہوچکا ہے کہ جوافراد قرآنی اوردینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں، اور اسے اپنا مشغلہ بنالیتے ہیں وہ بالعموم جرائم سے محفوظ رہتے ہیں، اور بطورخاص نشے بازی اور اس جیسے گناہوں سے تو بالکل الگ رہتے ہیں، صاحب ایمان سماج میں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے تمام متعلقین کے لئے قرآن کی اور بنیادی دینی تعلیم کو ضروری سمجھے، زندگی کا سفر اس کے بغیر صحیح سمت میں جاری نہیں رہ سکتا او رمنشیات سمیت دیگر جرائم سے تحفظ کے لئے بھی یہ بنیادی ضرورت ہے۔

(۴) بے کاری اور بے روزگاری کے خاتمے کی کوشش

مثبت، صالح، اور مفید مشاغل میں مشغولیت انسان کو گناہوں کے راستے سے روکتی ہے، انسان بالکل خالی ہو اور کوئی صالح مشغلہ نہ رکھتا ہو تو بسا اوقات نفس و شیطان کے مکائد اور وساوس اسے منشیات اور دیگر جرائم کی راہ پر لے جاتے ہیں، اس لئے حتی الامکان صالح مشاغل میں مشغول رہنے کی کوشش ہونی چاہئے۔اسی طر ح بے روزگاری اور پھر اس کی وجہ سے آنے والے افلاس کی صورت حال انسان سے وہ سب کچھ کرا سکتی ہے جو نہیں کرنا چاہئے، مایوسی اور اضطراب کی کیفیات انسان کو منشیات کا عادی بھی بنادیتی ہیں، اس لئے سماج سے بے روزگاری کے خاتمے کی مہم میں سب کا حصہ ہونا چاہئے، کسی بے روزگار کو روزگار فراہم کرنا یا اس ضمن میں تعاون کردینا اسوہ ٔ نبوی ہے اور اعلیٰ درجہ کا عمل خیر ہے،اور گناہوں سے بچانے کا بابرکت کام بھی ہے، دنیا میں رائج الوقت معاشی نظام تجربات کے بعد ناکام ثابت ہوچکے ہیں، معاشی ناہمواریوں اورغربت و بے روزگاری کا خاتمہ اگر کسی نظام کے ذریعہ ہوسکتاہے تو وہ اسلام کا برکت اور عدل و مواسات پر مبنی معاشی نظام ہے، سماج کے ذمہ داران کو اس حوالے سے بھی حتی المقدور اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

(۵) بری صحبت سے گریز اوراچھی صحبت کا التزام

انسان کو خیر و طاعت کے راستے پر اچھی صحبت ہی گامزن رکھتی ہے، نیک افراد کی صحبت میں انسان کے دل و نگاہ سب ہوشیار رہتے ہیں، غفلت حملہ آور نہیں ہوتی، قرآن میں تمام اہل ایمان کو سچے اور نیک بندوں کے ساتھ رہنے کا صریح حکم بھی دیاگیا ہے، اور یہ اشارہ بھی فرمادیاگیا ہے کہ اس کے بغیر گناہوں سے بچنا اور تقوی کی منزل تک پہنچنا دشوار ہوتا ہے، اسلاف کے مواعظ میں بھی صراحت ہے کہ:

نیک افراد کی ہم نشینی دل میں نیکی کے جذبات پیدا کردیتی ہے۔(الاخوۃ:جاسم المہلہل/۳۸)

منشیات سمیت تمام برائیوں سے دور رہنے کا یہ کارگر نسخہ ہے کہ برے لوگوں کی ہم نشینی سے بالکل اجتناب کیا جائے اوراچھے ،دیندار اور نیک افراد کے ساتھ رفاقت رکھی جائے۔بروں کے ساتھ ہم نشینی رکھنے والا اگر برائی میں خود مبتلا نہ ہو لیکن اپنے رفیقوں کی برائی پر خاموش تماشائی رہے تو وہ بھی مجرم قرار پاتا ہے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس کچھ ایسے لوگوں کو لایا گیاجن پر شراب نوشی کا الزام تھا، انہوں نے حکم دیاکہ ان کو سزا دی جائے، کسی نے عرض کیا کہ ان میں بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے خود تو شراب کو ہاتھ نہیںلگایا لیکن مجلس میںموجود تھے،اس پرحضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ پھر تو سزا کا آغاز ان ہی سے ہونا چاہئے اس لئے کہ انہوں نے قرآن کے اس حکم کو نظر انداز کردیا جس میں فرمایا گیا ہے کہ تم قرآن کے انکار و استہزاء کی مجلس میں مت شریک ہوورنہ تم انہیں کی صف میں شمار ہوگے۔(النساء/۱۴)

(۶) شراب نوشی کی سزا کی تنفیذ

جرم پر بندش لگانے کا ایک موثر اور مجرب طریقہ متعین شرعی سزا کی تنفیذ ہے، اسلام ایک طرف شراب نوشی کے دینی و دنیوی نقصانات بیان کرتا اور عند اللہ اس کی شناعت اور اخروی سزاؤں کو واضح کرکے دلوں میں شراب سے دوری اورنفرت کے جذبات مضبوط کرتا ہے، دوسری طرف مے نوشی کے مکمل انسداد کے لئے شریعت نے اس پر ۸۰؍ کوڑوں کی حد بھی متعین کی ہے، دنیا کے جن قوانین میں بھی شراب نوشی کوجرم بتایا گیا اور اس پر پابندی لگائی گئی اور اس پر بے پناہ دولت خرچ کی گئی، اس کا الٹا اثر ہوا، بالآخر امریکہ میں ہار مان کر دوبارہ مے نوشی کو قانونی اجازت دی گئی، ہندوستان میں بھی قانونی طور پر شراب کے ممنوع ہونے کے باوجود حکومت کی سرپرستی میں شراب کا کاروبار ناسور کی طرح معاشرے میں رائج ہے، جس سے آنے والی تباہی عیاں ہے،شراب کے کاروبار کو تجارتی و اقتصادی نقطۂ نظر سے بے حد مفید قرار دے کراس کے حق میں گنجائش کا پہلو خوب بیان ہوتا ہے مگر اس کے تباہ کن مضر اور زہریلے اثرات و نتائج پر نظرہو تو چندمعمولی اور حقیر فائدے ان خطرنانک نقصانات کے سامنے پرِکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیںرکھتے، اسلام نے اسی لئے اس پرحد متعین کی ہے، اور موجوددور میں اس کی سزا کی تنفیذ شراب نوشی پر روک لگاسکتی ہے، اس کا اعتراف انصاف پسند غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔

(۷) ٹھوس اور منصوبہ بند مسلسل منشیات مخالف اصلاحی مہم

سماج سے منشیات کی لعنت ختم کرنے کے لئے سماج کے مصلحین کی طرف سے مسلسل منصوبہ بند مہم چلائی جائے، افسوس کا مقام یہ ہے کہ سماجی اصلاح کاعلم اٹھانے والے افراد اور تحریکات کی طرف سے منشیات سے پاک سماج کی تشکیل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اور موثر اقدام نہیں ہورہا ہے۔بنیادی ضرورت ہے کہ ایک ہمہ گیر تحریک کے انداز میں اس پر کام کیا جائے، سماج کے تمام طبقات تک یہ پیغام پہنچایا جائے، نشہ کے نقصانات سے ہر سطح پر لوگوں کو باخبر کیا جائے، ان تمام اسباب وعوامل پر بند لگانے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہوں، اگر ایک طرف شراب سے منع کیا جائے گا اور دوسری طرف شراب کی دوکانیں بھی پرمٹ کے ساتھ کھلی رہیں گی تو اس تضاد کا نتیجہ سماج کے بگاڑکی بھیانک شکل کے سوا اور کیاہوگا؟ جب تک ہر سطح پرمنشیات کے خلاف تحریک نہیں چلائی جائے گی، اور ہوٹل ، دو کا ن  ، تقریب، پروگرام ہر جگہ سے شراب کلچر بالکل ختم نہیں کیا جائے گا، اس لعنت کاخاتمہ نہیں کیا جاسکے گا۔

مئی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau