ذرائع ابلاغ کا آزادانہ کردار اور اسلام

ابرار احمد اجراوی

ذریعۂ ابلاغ خواہ وہ اخبار ہو یا ریڈیو، ٹیلی ویژن ہویا انٹرنیٹ اس کی اہمیت اور اس کی اثر انگیزی ہردور میں مسلم رہی ہے۔ انسانی معاشرے کی بقا اور تعمیر وترقی کے لیے ابلاغ و ترسیل اتنا ہی ضروری ہے، جتناکہ غذا اور پناہ گاہ۔انسانی نقطئہ نظر سے دیکھا جائے توترسیل دو طرفہ سماجی عمل ہے اور اس دور میں بھی جب منہ سے نکلی ہوئی آواز نے الفاظ اور منقش تحریر کاجامہ زیب تن نہیں کیا تھا اور انسان اشارے کنایے،حرکات وسکنات اور لمس و شعور کی مددسے اپنی ترسیل و ابلاغ کی ضروت کی تکمیل کیا کرتاتھا، ابلاغ اور ترسیل کے وسائل انسانی معاشرے میں اہمیت کے حامل تھے، اور آج کے برق رفتار عہدمیں تو اس کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ ولبر شرم نے صحیح کہا ہے:’’عوامی ذرائع ترسیل دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ترسیلی شعبے کے بعض ماہرین نے کسی مہذب انسانی معاشرے کی تعمیر وترقی میں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے ساتھ ذرائع ترسیل وابلاغ کو چوتھے ستون کی حیثیت دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے ساتھ انسانی معاشرے کی ترقی مربوط ہے۔ اگر یہ ذرائع ترسیل نہ ہوتے، تو انسانی معاشرہ تہذیب وثقافت کے شائستہ تصور سے محروم رہتا اورجہالت و ناخواندگی کے اندھیروںمیں بھٹک رہا ہوتا۔

انسانی زندگی میں ابلاغ و ترسیل کو شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنے خیالات و جذبات اور افکار و نظریات کے اظہار کے لیے اگر اس کو موقع نہ ملے تو وہ ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوکر مضطرب اور بے چین ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف تمام ممالک کے دستور میں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی اور فطری حق کی ضمانت دی گئی ہے، بلکہ اس حق کو سلب کرنے والے عوامل ومحرکات پر بھی قدغن لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آج انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں آنے والے انقلابات نے دنیا کو چھوٹے سے گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج آپ کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا مشاہدہ کر نا اور اس پر بر جستہ اپنی رائے دینا اوراس کو  وسیع پیمانے پر پھیلانا ممکن ہے۔ انٹرنیٹ کی ایجاد  کے بعد تو ساری کائنات ایک چھوٹے سے بکس میں قید ہوگئی ہے اور آپ جب اور جس وقت چاہیں اس کے ذریعے کائنات کے طول و عرض کی سیر کرسکتے ہیں۔ آج ذرائع ابلاغ کا دائرہ کافی وسیع ہوگیا ہے۔ بلاگ نگاری، ای میل، ٹویٹر، اسکائپ اور فیس بک کی وساطت سے اپنے خیالات کی ترسیل ممکن ہے۔اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ وغیرہ ذرائع ابلاع کے اہم ستون ہیں۔

ابلاغ کے غیر اسلامی تصورات

ذرائع ابلاغ کو آزادچھوڑدینے یا اس کو قانون وضابطے کا پابند بنانے کے تعلق سے، ماضی میں بہت سے نظریات وتصورات رائج تھے۔ انھی میں سے ایک مقتدرانہ نظریہ ابلاغ ہے، اس کے بانیوں میں مشہور فلسفی افلاطون کا نام سر فہرست آتا ہے۔ذرائع ابلاغ کو پابند سلاسل کرنے اور حکومت و ریاست کو مکمل با اختیار بنانے کے حوالے سے افلاطون کا یہ قول بڑا مشہور ہے کہ:’’اگر ریاست میں اختیارات کو بہت سے افراد میں تقسیم کردیا جائے توریاست کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے حاکم کو چاہیے کہ ریاست کے انتظام میں عوام کے عمل دخل کو محدود کردے۔‘‘( تاریخ صحافت ، افتخار کھوکھر، ص: ۱۸۸) اس نظریے کی رو سے تمام اختیارات صرف اور صرف ریاست کو حاصل تھے، حکومت وقت ہی سارے سیاہ و سفید کی مالک ہوا کرتی تھی۔ابلاغ و ترسیل کے تمام ذرائع پر حکومت اور سربرآوردہ طبقے کا مکمل کنٹرول تھا۔ اخبارات اور صحافیوں کے پیروں میں حکومت اور مقتدر طبقے نے پابندیوں کی زنجیر ڈال رکھی تھی، وہ کوئی ایسا مواد مشتہر نہیں کرسکتے تھے، جس میں حکومت اور فرماں روائے وقت یا حکومتی اہل کاروں کی پالیسیوں پر جرح و تنقید کی گئی ہو۔ پریس کو حکومت کی پالیسیوں میں مداخلت سے باز رکھنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان کو رو بہ عمل لانے میں کسی عوامی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اور عوام حکومت کی ہر جائز اور ناجائز خواہش کی تکمیل میں خاموش رول ادا کرتے رہیں۔گویا اس نظریہ  نے انسانوں کو فکر و نظر اور اظہار رائے کی آزادی سے کلیتاً محروم کر دیا تھا۔ یہ نظریہ پندرہویں اور سولہویںصدی تک جاری رہا۔آج بھی بہت سے عرب اور غیر عرب ممالک میں یہ نظریے دوسرے ناموں سے نافذ العمل ہے جس کے تحت حکومت کی مرضی اور منشا کے خلاف کسی کو بھی حرف شکایت زبان پر لانے کی اجازت نہیں۔ لیکن جب  بعض مسلم ممالک کی حکومتوں  نے ساری حدیں توڑ دیں اور پانی سر سے اونچا ہو گیا تو عرب کے جوشیلے نوجوانوں نے فطری آزادی کو حاصل کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں وہ جدو جہد کی ہے، جس سے عرب کی ماضی کی تاریخ ناآشنا ہے۔ مصراور لیبیا کے انقلابات نے اس سچائی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ انسانی آزادی کو سلب کرنے والی طاقتوں کے لیے اس روئے ارضی پر کوئی جگہ نہیں ہے۔

قید و بند سے عبارت اس نظریے کے رد عمل کے طور پر ایک دوسرے نظریہ نے جنم لیا، جو کلّی آزادی کا حامی تھا۔ یہ نظریہ تاریخ میں آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ کے طور پر جانا گیا۔چوں کہ اس عہد میں سائنسی دریافتوں نے انسان کو عقلیت کا سبق سکھایا تھا اوروہ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی اس کو اپنی زندگی میں رو بہ عمل لاتاتھا۔ اس لیے انھوں نے ما قبل  کے نظام حکومت میں عائدقید و بند سے آزادی کے لیے ایک ایسے نظریے کا سہارا لیا، جس میں فرد کو ساری آزادی میسر تھی۔آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ کو امریکی حکمرانوں نے خوب شہہ دی اور سب سے پہلے امریکی دستور میں یہ ترمیم کی گئی کہ کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی، جس سے تحریرو تقریراور ذرائع ابلاغ کی آزادی پر حرف آتا ہو۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حکمراں طبقوں نے اس نظریہ کو اپنے ملکوں میں خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ مقتدرانہ نظریہ ابلاغ میں تمام اختیارات ریاست اور حکمراں طبقے کو حاصل تھے، اس کے بر عکس آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ میں ہر فرد کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ وہ جو چاہے، جس طرح چاہے اور جس کے خلاف چاہے تقریر اور تحریر کے سہارے اس کا اظہار کر سکتا ہے۔مملکت یا حاکم وقت کو اس کے دست وبازو کو پکڑنے اوراس کو مہر بلب کرنے کا حق نہ ہوگا۔

کمیونسٹ نظریہ ابلاغ بھی اشتراکیت کے عروج کے دنوں میں کافی موضوع بحث رہا۔اس نظریے میں اظہاررائے اور فکر و نظر کی آزادی کو حکومت کی پالیسیوں کی تشہیر تک محدود کردیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اس بات کے پابند تھے کہ وہ عوام میں جاکر انھیں حکومت اور پارٹی کی پالیسیوں سے آگاہ کرائیں اور مملکت کے بنیادی نظریے یعنی کمیونزم کی تشہیر کریں اور اس نظریے کو اپنانے کے لیے عوام کی ذہن سازی کریں۔ مطلب یہ کہ کمیونسٹ نظریہ ابلاغ بھی کسی نہ کسی شکل میں مقتدرانہ نظریہ ابلاع کا ہی چربہ تھا۔ اس میں بھی عوام مجبور و مقہور اور مہر بلب تھے۔ یہ سارے نظریات افراط و تفریط کا شکار تھے، کسی مہذب سماج  اور انسانی معاشرے میںنہ تو کسی فرد کو مکمل اظہار کی آزادی دی جاسکتی ہے کہ وہ شتر بے مہار بن جائے اور آزادی اظہار کے پردے میں دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ اور نہ  انسانوں کی فکر و نظر کی آزادی کوبے جاقانون و اصول کا سہارا لے کر اس طرح قید و بند کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے فطری اور پیدائشی حق کے لیے بھی آواز بلند نہ کرسکیں۔(تلخیص ازتاریخ صحافت، ص:۱۸۷ تا ۲۰۰)

ذرائع ابلاغ کا اسلامی تصور

پریس اور میڈیا ہمارے ترقی یافتہ دور کی ایجاد کردہ اصطلاحیں ہیں۔آج سے چودہ سو سال قبل ان ناموں اور اس قسم کی اصطلاحات سے انسانوں کے کان مانوس نہیں تھے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام، جو حیات سے لے کر ممات اور فرد کی خانگی زندگی سے لے کر معاشرتی اور سیاسی زندگی کے تمام مسائل کو محیط ہے، اس میں ذرائع ابلاغ یا پریس کے حوالے سے قرآن و حدیث میں احکام اور ہدایات نہ دی گئی ہوں۔اسلام ایک مکمل نظام حیات کا نام ہے۔اسلام زندگی کے ہر شعبے میں انسانوں کی رہ نمائی کے لیے قانون وضع کرتا ہے۔پریس یا میڈیا فکر و نظر کی آزادی کا ہی نام ہے، جس میں صحافی اور رپورٹر سامعین اور قارئین کو اپنی فکر و نظر سے کام لے کر ایسا سچا اور با مقصد مواد دیتا ہے، جس کو وہ صحیح اور معتبر تصور کرتا ہے۔ فکر و عمل کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا باب پریس اور میڈیا کی آزادی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ایک مثالی اسلامی ریاست میں عقیدے اور مذہب کی آزادی کے ساتھ فکر و نظر کی بھی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

اسلام چوں کہ رہتی دنیا تک لیے ایک جامع دین بن کر آیا ہے۔ اس لیے اس میں میڈیا اورپریس کے حوالے سے بھی ضابطہ اور قانون موجود ہے۔اسلام میں میڈیا کی کتنی اہمیت ہے اور ان ذرائع ابلاغ کو انسانی زندگی میں کتنا بڑا اور اہم مقام حاصل ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں ان آیتوں کا مطالعہ اور ان کے مفاہیم میں غور کرنا چاہیے جن سے اسلام کے داعیانہ پہلو پر روشنی پرتی ہے۔ مثلاً:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ،(نحل:۱۲۵) وَلْتَکُن مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی  الْخَیْر (آل عمران: ۱۰۴)کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٌ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَر(آل عمران: ۱۱۰) وَذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرَیٰ تَنْفَعُ الْمُوْمِنِیْن، (ذٰریات:۵۵)

ان آیات  میں اسلام کے جس آفاقی پیغام کے ابلاغ وترسیل کا امت مسلمہ کو حکم دیا گیا ہے، کیا اس کی وسیع اور عالمی پیمانے پردعوت اور اشاعت،  سائنس و ٹکنالوجی کے اس دور میں ذرائع ابلاغ کے سہارے کے بغیر ممکن ہے۔

اسلامی نظریہ ابلاغ کسی انسانی فکر کا زائیدہ یا محض عقلی بنیادوں پر انسانوں کا تیار کردہ نہیں ہے ،وہ قرآ ن وحدیث سے ماخوذ و مستنبط ہے۔ انسان کی فطری آزادی سے لے کر ذرائع ابلاغ کی آزادی تک کا سارا نظام عمل انہی اسلامی احکام و ہدایات پر مبنی ہے۔اس نظریے میں جہاں ذرائع ابلاغ کو اظہار رائے کی آزادی دی گئی ہے، وہاں اس کو بہت سی اخلاقی شرائط اورسماجی و معاشرتی قوانین کا پابند بھی بنایا گیا ہے۔تا کہ دیگراسلامی نظریات کی طرح یہاں بھی توازن و اعتدال برقرار رہے۔اس نظریے  میں نہ مقتدرانہ نظریہ ابلاغ کی طرح انسانوں کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کیا گیا ہے اور نہ ہی آزای پسندانہ نظریہ ابلاغ کی طرح ایسی بے مہار آزادی دی گئی ہے کہ فرد کی آزادی کے پردے میں دوسرے انسانوں کی آزادی پر شب خون مارا جائے اور ان کی  نجی زندگی میں  مداخلت کی جائے۔ اگر آزادیٔ  اظہار کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کے اس سر کش گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیا جائے، تو یہ دین و ایمان کے ساتھ اخلاقیات کو بھی پیروں تلے روند کر رکھ دے گا۔

اسلام میں اظہار کی آزادی محض ایک انسانی حق ہی نہیں، بلکہ یہ امت مسلمہ اور ذرائع ابلاغ کا ایک دینی اور اخلاقی فرض بھی ہے۔ اس لیے نہ کوئی فرد، نہ کوئی حکومت اور نہ کوئی ادارہ انسانوں سے ان کی فطری آزادی کو سلب کرسکتا ہے، اور نہ اس کو چیلنج کرسکتا ہے۔ البتہ اتنی شرط ضرور عائد کی جائے گی کہ کوئی بھی ذریعہ ابلاغ کسی ایسی خبر یا بات کی تشہیر نہ کرے، جس سے مفاد عامہ کو زد پہنچے۔ جو اسلامی اقدار کے منافی ہو اور جس میں انسانیت اور انسانی سماج کی تعمیرکے بجائے تخریب کے عوامل پنہاں ہوں۔ اسلام میں ذرائع ابلاغ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے عوام الناس تک سچی اور صحیح خبر پہنچائی جائے۔ ذرائع ابلاغ سچ کے اظہار میں کسی لالچ یا مداہنت کا شکار نہ ہوں۔ ذرائع ابلاغ صرف ایسی معلومات کی اشاعت کریں، جن سے سامعین اور قارئین کے اندر نیکی اور تقوی کا عنصر پیدا ہو۔ وہ کسی ایسی خبر کی اشاعت سے باز رہیں، جس کا مقصد ان کی اخلاقیات پر حملہ کرنا ہو اور اس سے دوسروں کی دل آزاری یا دوسرے ادیان و ملل کی تحقیر ہو۔

ذرائع ابلاغ کے اساسی اصول واقدار

 فکر ونظر کی آزادی:

اسلام نے فکر و نظر کی آزادی کے ساتھ ہمیشہ آزادی رائے کا احترام کیا ہے اور ہر کس و ناکس کو اپنی بات رکھنے کا فطری حق دیا ہے۔ عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر، عہد بنی امیہ اور بنی عباسیہ تک کی پوری اسلامی تاریخ اس قسم کے واقعات سے لبریز ہے۔ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے کس درجہ شدت کے ساتھ حریت رائے کے تصور کی پرورش کی ہے اور اس کو انسانی معاشرے کا لازمی جز بنانے کی سعی کی ہے۔اسلام نے صرف آزاد مردو خواتین ہی نہیں، بلکہ غلاموں کو بھی اس حق سے محروم نہیں رکھا ہے۔ ذرا غزوۂ احد کا وہ واقعہ اپنے ذہنوںمیں تازہ کیجیے جب جلیل القدر صحابۂ کرامؓ کی یہ رائے تھی کہ کفار مکہ سے جنگ کے لیے مدینے سے باہرنکلنا مناسب نہیں ہے اور یہیں رہ کر جنگ کی جائے۔ لیکن معقول اسباب کی بنیاد پرچند نوجوانوں کی یہ رائے تھی کہ جنگ کے لیے مدینے کی آبادی سے باہر نکلنا زیادہ مناسب ہے۔اسی طرح غزوۂ خندق کے موقع پر مدینے سے باہر خندق کھودنے کا فیصلہ آپﷺ کا ذاتی عمل نہیں تھا بلکہ حضرت سلمان فارسیؓ کے باہمی مشورے سے خندق کھودی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حصرت عمر فاروقؓ جنگی قیدیوں کے قتل اور انھیں فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے بارے میں مختلف الرائے تھے۔اسلام میں فکر و نظر کی آزادی کی ہی دین ہے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے خلیفہ کا دست و بازو پکڑ سکتا ہے۔ چنانچہ جب ایک قبطی نے حضرت عمر بن عاصؓ اور ان کے بیٹے کی شکایت خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار  میں کی  تو حضرت عمرؓ نے نہ صرف یہ کہ اس  شخص کو فوری انصاف دلایا تھا، بلکہ انھیں سخت ڈانٹ بھی لگائی تھی۔ اور فرمایا تھا:

’’تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنالیا جبکہ وہ آزاد پیدا ہوئے تھے‘‘۔

اسی قسم کا واقعہ خلیفۂ چہارم حضرت علیؓ سے بھی منقول ہے۔ انھوں نے فرمایا تھا:

’’ایہا الناس ان آدم لم یلد عبدا ولا امۃ وان الناس کلہم احرارا‘‘

’’لوگو!  آدم کی اولاد غلام یا باندی  نہیں تھی۔ سبھی لوگ آزاد ہیں‘‘۔(نہج السعادۃ، ج:۱)

اسلام میں قیاس کو چوتھا فقہی اصول قرار دیا گیاہے، فقہاء اور ائمہ کے درمیان مسائل میں اختلاف اظہار رائے کی آزادی کی ایسی مثال ہے،جس سے دوسرے مذاہب و ادیان تہی دست ہیں۔ فقہ میں جہاں چار بڑے مسالک کے ماننے والے ، دنیا کے مختلف گوشوں میں کہیں کم تو کہیں زیادہ موجود تھے، وہیں اس کے شانہ بشانہ فقہ اوزاعی، فقہ داؤد ظاہری اور فقہ جعفری و غیرہ  کے ماننے والے بھی روئے زمین پر موجود تھے، جن کی تقلید کرنے والوں کو نہ توکم تر سمجھاجاتا تھا اور نہ ہی اقلیت اور اکثریت کی  بنیاد پر ان سے تعرض کیاجاتا تھا۔ فقہ میں تو ہم رجال ونحن رجال کا اصول چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی استاد کے مختلف شاگردوں نے دلائل کی بنیاد پر اپنے استاد کے نظریے سے اختلاف کیا ہے۔ بلکہ حدیث کے مطابق کسی غیر منصوص مسئلے میںغور و فکر کرنے والا ہر مجتہد اجر  پاتا ،خواہ اس کا اجتہاد غلط ہی کیوں نہ ہو۔ معلوم ہواکہ اسلام آزادی فکر و نظر کا امین اور نقیب ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، بشر طیکہ اس کی رائے نص صریح سے متصادم نہ ہو۔

ذیل میں  ان چندآزادیوں سے بحث کی جائے گی، جو اسلام نے فکر و نظر اور اظہار رائے کی آزادی کے تحت ذرائع ابلاغ کو عنایت کی ہیں۔

حکومت وقت سے سوال اور باز پرس کرنے کا حق:

اسلامی نظریہ ابلاغ کے مطابق صحافی اور اخبار نویس کو ملک کی سب سے بڑی اتھارٹی سے بھی سوال کرنے کا حق ہے۔ ایک صحابی نے حضرت عمرؓ سے بھری مجلس میں یہ سوال کیا تھا کہ ہر صحابی کو تو مال غنیمت سے ایک چادر ملی ہے، آپ کے بدن پر یہ دو چادر کیسی ہے؟  حضرت عمرؓ نے خلیفہ ہونے کے باوجود اس پر ناگواری کا اظہار نہیں کیا تھا اور انتہائی سنجیدگی سے یہ جواب دیا تھا کہ ایک چادر تو میرے حصے کی ہے اور دوسری چادر میرے بیٹے کے حصے کی ہے۔ اس سے بڑی آزادی کیا کسی بھی جمہوری ملک میں کسی فرد یا ادارے کو میسر ہے۔ یہ صرف اسلام کا امتیاز ہے۔ اسلام نے ہمیشہ شورائی نظام فکر و عمل کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی ہے ، جمہوریت شورائیت کا ہی دوسرا نام ہے۔جمہوری نظام میں جہاں ریاست اور ملک کے ہر کس و ناکس کو حکمرانوں کے انتخاب کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے، وہیں شورائی نظام میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے۔ شورائی نظام میں ہر فرد کی شرکت ضروری نہیں، بلکہ صرف اہل الرائے لوگ انتخاب کا قانونی حق رکھتے ہیں۔ شورائی نظام کے مفقود ہونے کی وجہ سے ہی بہت سے عرب ممالک میں فکر و نظر کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ عوام حکومت وقت کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرنے سے محروم ہیں۔ فکر و نظر کی آزادی کو سلب کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بہت سے ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دوسرے ممالک کے دست نگر اور محتاج بنے ہوئے ہیں اور وہاں کی فکری اور تخلیقی صلاحیتیں دوسرے ملکوں کے کام آرہی ہیں۔ ان ممالک میں کسی ایسی چیز کی اشاعت کا حق فرد کو حاصل نہیں ہے، جس سے حکومت کی پیشانی پر بل آتا ہو۔ یہی سبب ہے کہ وہ اپنی تحریروں اور اپنے افکار و نظریات سے عوام کو روشناس کرانے کے لیے امریکہ اور یورپ کے ممالک کا رخ کرتے ہیں، جہاں ان کے خیالات و نظریات کا فراخ دلی سے استقبال کیا جاتا ہے۔علمی تحقیق اور فکری پرورش کے لیے آزادی اظہار کی سہولت ناگزیر ہے۔ ہم چند صدیوں پہلے تک اگر دنیا کے نقشے پر چھائے ہوئے تھے اور نئی نئی تحقیقات سے دنیا کو روشناس کرارہے تھے تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہمارے یہاں اختلاف اور اظہار مافی الضمیر کی آزادی ہر کس ناکس کو میسر تھی۔

ظلم اور نا انصافی کے خلاف احتجاج کی آزادی:

اسلام نے فرد کے ساتھ ادارے اور ذرائع ابلاغ کو جو آزادیاں دی ہیں، اس میں ایک اہم حق احتجاج کا بھی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو جہاں کہیں بھی ظلم اور نا انصافی ملے، اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے اور مظلوموں کی حمایت میں انسانی غیرت اور حمیت کا ثبوت دینا چا ہیے۔ قرآن کریم کی آیت ہے :

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْئِ اِلَّا مَنْ ظَلَمَ۔  (نساء، ۴۸)۔

’’اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیاگیا ہو‘‘

حدیث شریف ہے:

من را ی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع، فبلسانہ ومن لم یستطع فبقلبہ وذٰلک اضعف الایمان ۔

’’جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے اس کااظہار کرے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے دل میں برا سمجھے۔ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے‘‘۔

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:

افضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر۔

(ترمذی کتاب الفتن، حدین نمبر: ۲۱۷۴)

’’سب سے بڑا جہاد ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا ہے‘‘۔

(جاری)

جولائی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau