اسلامی تحریک، اور کامیابی وناکامی کی بحث

مولانا ابوللیث اصلاحی ندویؒ

ہمارے لیے سب سے اہم اور قابلِ توجہ بات ظاہر ہے یہی ہے کہ سب سے پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ ہم نے اپنی زندگی کا جو مقصد و نصب العین متعین کیا ہے اس کے ساتھ ہمارے تعلق و وابستگی کی کیا نوعیت ہے اور ہم اپنے فکر و عمل کے دائروں میں اس کو اور اس کے تقاضوں کو کہاں تک ٹھیک طور سے ملحوظ رکھ رہے ہیں۔

اس سلسلے کی سب سے پہلی بات جو میرے نزدیک خاص اسی موضوع سے متعلق ہے، کامیابی یا ناکامی کی وہ بحث ہے جو ان دنوں ہمارے بہت سے رفقا کا موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ جب ہم ایک مقصد کے لیے اٹھے ہیں تو اس میں اپنی کامیابی یا ناکامی کے تصور کو ہم اپنے ذہنوں سے الگ نہیں کر سکتے، اس پر غور و فکر کرنا یک گونہ ایک فطری امر ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس بحث سے زیادہ لگاؤ ہماری ایک کمزوری کا بھی پتا دیتا ہے، یعنی اس بات کا بھی مظہر ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنے کام میں وہ انہماک نہیں ہے جو ہمیں کامیابی و ناکامی کے تصور و احساس سے یک گونہ بےنیاز کردے ۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس بحث سے کچھ اس بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ ہم خدا نخواستہ اپنی کامیابی کے امکانات سے یک گونہ مایوس ہیں اور اس لیے ہم اس بحث سے اپنے لیے تسکین و اطمینان کا سامان فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی مقصد کو اس طرح اپناتا ہے کہ وہی اس کی زندگی کا واحد نصب العین ہے اور اسے ہر حال میں اپنی زندگی اس مقصد کی نذر کر دینی ہے تو وہ بس اس مقصد کے حصول میں شب و روز منہمک رہتا ہے، نہ مایوسی اس کے قریب کبھی بھٹکتی ہے اور نہ وہ اس بحث میں اپنا وقت گنواتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب یا ناکام ہوگا۔ اس لیے اگر ہمارے رفقاء ہندوستان میں تحریک اسلامی کی کامیابی یا ناکامیابی کے سوال سے اس حدتک تعلق رکھیں کہ کامیابی کی تدبیریں اور ناکامیابی کے اسباب سامنے آ سکیں، تب تو اس بحث کی گنجائش نکل سکتی ہے اور یہ ہمارے لیے مفید بھی ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ اس بحث میں اس لیے پڑتے ہیں کہ یہ بحث ان کے لیے دل جمعی واطمینان کا ذریعہ بنے تو مجھے اندیشہ ہے کہ یہ بحثیں اطمینان و دل جمعی سے زیادہ انتشار و اضطراب کا باعث بنیں گی اور مفید ہونے کے بجائے ہمارے لیے مضر ثابت ہوں گی۔ بنا بریں میری خواہش ہے کہ اس بحث کے ساتھ فطری حد سے آگے اور مذکورہ غرض کے ما سوا کوئی غرض اور واسطہ نہ رکھا جائے۔ رہی یہ بات کہ اس بحث کی ضرورت ہمارے رفقا کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کمزور دل لوگوں کے لیے ہے جو جماعت کی دعوت کو حق سمجھتے ہوئے بھی محض اس لیے اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ان کو مستقبل میں اس کی کامیابی کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں تو ان کی خاطر اس بحث کو روا رکھنا، جب کہ اس سے کچھ غلط اثرات ہم پر بھی مرتب ہو سکتےہیں، کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔ اور میرے خیال میں اس طرح کے لوگوں کے لیے اہم تر ضرورت یہ نہیں ہے کہ اس طرح کی بحثوں سے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کو سب سے پہلے اس پر مطمئن کیا جائے کہ یہی وہ واحد مقصد ہے جسے وہ اپنا سکتے ہیں۔ یہ بات اگر ان کے دل میں بیٹھ جائے تو آگے ان کے اطمینان کے لیے اور کسی بحث کی ضرورت نہ ہوگی ۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو ایسے لوگوں کو اس طرح کی بحثوں کے ذریعہ مطمئن کرنا بہت دشوار ہے۔ آپ خود غور فرمائیں کہ مستقبل میں اپنی کامیابی کے جو امکانات بھی آپ بیان کریں گے یہ کچھ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص ان کو تسلیم بھی کر لے۔ اور جب اطمینان کی بنیاد یہ ٹھہری کہ ہم عقلی طورسے کامیابی کے کچھ امکانات لوگوں کے سامنے پیش کر دیں تو کیا دوسرے لوگ ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ حالات کو کسی اور زاویے سے دیکھیں اور وہ ان سے آپ کے برعکس نتائج اخذ کر لیں۔ ایسے لوگ اس طرح کی دلیلوں سے کس طرح مطمئن کیے جا سکتے ہیں؟۔ اور یہ بحث کا وہ پہلو ہے جس کی طرف میں اصلاً بھی رفقا کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں، یعنی ہمیں اس طرح کے لوگوں کو مطمئن کرنے یا نہ کرنے کے سوال سے قطع نظر بجائے خود یہ طے کر لینے کی ضرورت ہے کہ اقامت دین کا جو مقصد ہمارے سامنے آیا ہے اسے ہم نے اس لیے اپنایا ہے کہ ہمیں اس کی کامیابی کے امکانات نظر آ رہے ہیں یا اس لیے کہ چاہے اس کی کامیابی کا کوئی امکان ہو یا نہ ہو، ہمارے کرنے کا کام بہر حال یہی ہے؟۔ اس لیے ہمیں ہر صورت میں یہی کرنا ہے اور بالفرض ہم خدا نخواستہ ناکام بھی ہو جائیں تو بھی ہم ان شاء اللہ کامیاب ہی ہیں۔ بشرطے کہ ہم نے مقصد کے لیے جد و جہد میں کوتاہی نہ کی ہو۔ اگر یہ بات بہت واضح طور سے ہمارے رفقا کے ذہنوں میں نہ ہوگی تو یہ بات تو بہت ہلکی ہے کہ مقصد کے ساتھ ان کا لگاؤ کوئی مضبوط لگاؤ نہ ہوگا، اس سے بڑی بات یہ ہے کہ مقصد کا صحیح تصور ہی ان کے سامنے نہ ہوگا۔ ہمارا مقصد اقامتِ دین کی جد و جہد کے ذریعہ رضائے الٰہی اور آخرت کی فوز و فلاح ہے، نہ یہ کہ ہم عملاً اپنی اس جد و جہد کو دنیا میں پھولتا پھلتا دیکھ لیں۔ اس لیے اگر دنیا میں اپنی کامیابی کو ہم اپنا مدعا ٹھہرا لیں یا یہی بات ہماری جد و جہد کی اصل محرک بن جائے تو یہ تو در حقیقت ہماری ناکامیابی ہوگی نہ کہ کامیابی۔ میں یہاں اس موقع پر خاص طور سے قرآن مجید کی ان آیتوں کی طرف اشارہ کروں گا، جن میں خود رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اپنی سعی و جہد کے نتائج کو اللہ کے حوالے کیجیے، اور ان سے یک سو ہو کر اپنے فرض کی انجام دہی میں لگے رہیے:

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ(سورہ رعد، آیت نمبر 40)

یا تو ہم تم کو بعض ان چیزوں کو دکھا دیں جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے یا اس سے پہلے تم کو وفات دے دیں، تمھارے اوپر صرف پوری طرح پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، حساب کی ذمہ داری ہم پر ہے۔

وَلِلَّـهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ(سورہ ھود، آیت نمبر 123)

آسمانوں اور زمینوں کی چھپی ہوئی باتیں اللہ ہی کے پاس ہیں اور اسی کی طرف ہر کام لوٹتا ہے، سو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور جو کچھ تم کرتے ہو، تیرا رب اس سے بےخبر نہیں ہے۔

بلکہ قرآن کی بعض آیتوں سے تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کامیابی و ناکامی کو دیکھنا تو درکنار، کمالِ اطاعت و تفویض کے جذبے نے تو بعض اللہ کے مخلص بندوں کی زبان سے یہ بھی کہلوایا ہے کہ کسی خاص طریقہ کی پیروی بجائے خود ہمارا مقصد نہیں ہےبلکہ یہ اللہ کے حکم پر موقوف ہے اور وہ جس طریق کا بھی ہمیں حکم دے ہم اس کے پابند ہیں۔ چناں چہ حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:-

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَاۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَاۚ  وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا (سورہ اعراف، آیت نمبر89)

ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے اگر تمھاری ملت میں ہم لوٹ آئیں جب کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی ہے اور ہم سے ممکن نہیں ہے کہ ہم تمھاری ملت میں پھر لوٹ آئیں الّایہ کہ اللہ جو ہمارا مالک ہے ایسا چاہے۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

اس بحث کا ایک اور پہلو بھی شدت کے ساتھ ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب کبھی ہم کامیابی کے امکانات پر غور یا گفتگو کریں تو ہمارا نقطۂ نظر بھولے سے بھی وہ نہ ہو جو ایک مادہ پرست کا ہوتا ہے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض ظاہری اسباب و حالات کو سامنے رکھ کر کریں۔ ہماری دعوت کی تو بنیاد یہ ہے کہ ہم اس کائنات کا ایک خالق و مالک تسلیم کرتے ہیں اور اس کائنات کے جملہ ہست و بود کو اسی کے دستِ قدرت کے تصرف و تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم اس بحث میں اس کی کارسازیوں اور دعوتِ حق کے لیے اس کی نصرتوں کو نظر انداز کر کے کوئی رائے قائم کریں گے تو یہی نہیں کہ ہم کسی صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ اس طرح تو ہم اپنے ایک بنیادی تصور کو خود اپنے ہاتھوں ملیامیٹ کر دیں گے۔ قرآن مجید کو آپ شروع سے لے کر آخر تک پڑھ جائیں اس میں انتہائی نامساعد حالات میں بھی آں حضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی تسکین و اطمینانِ قلب کا اگر کوئی نسخہ تجویز کیا گیا ہے تو وہ اللہ کی کارسازیوں اور نصرتوں پر اعتماد و توکل کا نسخہ ہے، نہ کہ محض ظاہری حالات کی سازگاریوں یا مستقبل کے خوش آئند امکانات کا۔ حتیٰ کہ اگر اس طرح کی کسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو اسے محض اللہ کی نصرت و تائید اور کارسازی ہی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو آپ غور سے دیکھ جائیں، تقریباً ہر صفحہ میں آپ کو یہی درس ملے گا۔ اور یہی نہیں بلکہ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر کبھی بہ تقاضائے بشریت یہ پہلو مسلمانوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا ہے تو اس پر انھیں تنبیہ بھی کی گئی ہے اور اس کا انھیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا ہے۔ مثلاً جنگ حنین کے موقع پر مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد اور فراوانیِ ساز وسامان پر کچھ تکیہ ہو گیا تھا جس کا نتیجہ وقتی شکست کی شکل میں انھیں بھگتنا پڑا اور اللہ کی سرزنش بھی انھیں سننی پڑی:-

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ   ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ ۔ ثُمَّ أَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ(سورہ توبہ، آیت نمبر 25،26)

اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمھاری مدد کر چکا ہے، ابھی غزوۂ حنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) اس روز تمھیں اپنی کثرتِ تعداد کا غرّہ تھا مگر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے، پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرینِ حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں۔

پس اسباب و حالات پر تکیہ کرنے کے بجائے ہمیں بھی اللہ کی کارسازی و نصرت پر تکیہ کرنا چاہیے۔ نعم المولیٰ و نعم النصیر۔

(اشارات، زندگی ، جنوری 1956)

مشمولہ: شمارہ جنوری 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau