قیادت کا قرآنی تصور

تھوڑا وقت نکال کر کسی قریب کی کتابوں کی دکان پر جائیں یا ٹرین کے پلیٹ فارم پر جاکر تھوڑی دیر انتظار کریں۔ اس دوران اپنا موبائل نکال کر ایک آدھ منٹ کی ریل (reel) یا اس سے زیادہ طویل ویڈیو دیکھیں۔ یہ مختصر لمحات آپ کے ذہن کو ایک نئی تحریک دینے کے لیے کافی ہوسکتے ہیں۔ ہر جگہ قیادت کو لے کر کوئی نہ کوئی تصور موجود ہے جو ہمیں باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ ہماری رہ نمائی کرسکے، ہماری صلاحیتوں کو شناخت کرکے ہمارے معاشرے کے مسائل کا حل پیش کرسکے۔ چاہے سماجی یا سیاسی معاملہ ہو، ہمارے کام کرنے کی جگہ ہو، یا ہمارے خاندان سے متعلق ہو، ہر جگہ ’’قیادت‘‘ کا لفظ گونجتا دکھائی دیتا ہے۔ امت مسلمہ اور اس کی اصلاحی تحریکات بھی اس شور سے متاثر نظر آتی ہیں۔ اس تعلق سے بہت سی کوششیں بھی ہوچکی ہیں اور ایسا لٹریچر بھی موجود ہے جو قرآنی نظریات کو جدید مغربی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بنظر غائر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ دونوں دھارے ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ چل رہے ہیں۔

اگر قرآن مصدر ہدایت (ھدی)، حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا (فرقان)، وضاحت (تبیان) اور فیصلہ کن (حکم) ہونے کا دعوی کرتا ہے تو یقینًا اسی سے یہ رہ نمائی بھی لینی چاہیے کہ قیادت کا مفہوم کیا ہے۔ درحقیقت قرآن کا اپنا منفرد عالم گیر نظام اور ایک علمی نقطہ نظر ہے جو ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اور ان بنیادوں سے مربوط تصورات باہم ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

وَنَزَّلْنَا عَلَیكَ ٱلْكِتَـٰبَ تِبْیـٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِینَ (النحل: 89)

(اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔)

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ یهْدِی لِلَّتِی هِی أَقْوَمُ (بنی إسرائیل: 9)

(یقیناً یہ قرآن اُس طریقے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔)

قرآن اس راستے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ راست، سب سے زیادہ برحق، اور ہر پہلو سے سب سے زیادہ معتدل اور متوازن ہے۔

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ (الزمر: 23) (اللہ نے سب سے اچھی کتاب نازل کی ہے۔)

اگر قرآن ہی بہترین کلام ہے، تو پھر اس کے شایانِ شان یہی ہے کہ وہ اپنے تصوراتی اور فکری جہان کی تشکیل اور تعبیر خود کرے، نہ کہ اس کے تصورات کو کسی بیرونی فکری نظام کے پیمانوں سے سمجھا جائے۔

إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا یوحَىٰ إِلَی ۚ (الانعام: 50) (میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔)

چناں چہ ایک لازمی نتیجہ کے طور پر ہمیں نبی کریم ﷺ جیسی عظیم ہمہ جہت شخصیت ایک نمونہ کے طور پر ملتی ہے جو وحی کی روشنی میں ہدایت کا راستہ دکھائی ہے۔ قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے اور وہ ہدایت کے لیے ہمیں درکار تمام امور کی وضاحت کرتا ہے اور ایک ایسی راہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے، ایسے میں ہمارا اصل کام یہ ہے کہ ہم قرآن کو خود اپنے اسلوب، اپنی اصطلاحات اور اپنے معیار کے مطابق قیادت کے مسئلے کی وضاحت کرنے دیں۔ ہماری جستجو کا آغاز ہماری خود ساختہ درجہ بندیوں، تصورات اور فکری سانچوں سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان بنیادی تصورات سے ہونا چاہیے جنھیں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اختیار فرمایا اور ہمارے سامنے آشکار کیا۔

اس مضمون میں اسلامی تحریکات کے لیے قیادت کے قرآنی تصور کو تلاش کیا جائے گا۔ وہ کون سی اقدار ہیں جو اس کی بنیادوں سے نکلتی ہیں اور ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہیں۔ اور اس سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدار ہمیں لیڈر بننے کی ترغیب دیتی ہیں یا ایک عبد؟ ایک لیڈر اور عبد کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اور اگر قرآنی اقدار ہمیں لیڈر بننے کی دعوت دیتی ہیں تو اس کے لیے مناسب طریقہ کار کیا ہے؟

درجہ ذیل تین وسیع عنوانات کے تحت ہم قیادت کے قرآنی ماڈل کا تجزیہ کریں گے:

  • قیادت کا قرآنی تصور۔
  •  قیادت کی قرآنی اصطلاحات۔
  •  تحریک اسلامی کی قیادت۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مکمل طور پر قیادت کے قرآنی تصور کے مطالعہ پر مرکوز ہے۔ اس موضوع کے دیگر پہلوؤں پر آئندہ مضامین میں گفتگو کی جائے گی۔

عبدیت(Follower) یا لیڈرشپ؟ قرآن کی روشنی میں قیادت کا تصور

قیادت کے تئیں قرآنی نظریہ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنے پر منکشف ہوتا ہے کہ قرآن      رہ نما بننے سے زیادہ عبدیت (اللہ کی اطاعت گزاری اور کامل پیروکاری) پر زور دیتا ہے۔ قرآن کا بنیادی تصور ماڈرن سیکولر فلسفہ کی بالکل ضد ہے، جو انسان کو مکمل طور پر خود مختاری کے مواقع فراہم کرنے اور رہ نمائی کے منصب پر براجمان ہونے پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ قرآن کا عالم گیر نظریہ خدا کی حاکمیت اور انسانی تابعداری پر زور دیتا ہے۔ اس حقیقت پر انسان کی توجہ تب ہوتی ہے جب وہ جان لے کہ وہ خدا کا بندہ ہے اور اس کی مطلق اطاعت اس پر فرض ہے۔ قرآن یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی عظمت خود قائد بننے میں نہیں بلکہ عبدیت اختیار کرنے میں ہے۔ قرآنی نقطہ نظر کے مطابق حقیقی اختیار انسان کو تبھی حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنے خالق کے سپرد کردے۔

آج کے دور میں قیادت کو ایک قیمتی صلاحیت، سیکھنے کے قابل ہنر اور قابل حصول منصب سمجھا جاتا ہے۔ لوگ قیادت کو ایک ایسی منزل تصور کرتے ہیں جس تک پہنچنا مطلوب ہو۔ لیکن قرآن میں قیادت کا تصور بالکل مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق قیادت کوئی حق، منصب یا ذاتی خواہش نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے جو صرف اُن لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو آزمائشوں میں اللہ کے سامنے مکمل سپردگی ثابت کر دیتے ہیں۔ قرآنی تصور میں قیادت، بندگی کے امتحان میں کام یابی کے بعد وجود میں آتی ہے؛ یہ سفر ایمان کا مقصد نہیں بلکہ اس کا ثمر ہے۔ قیادت ایک انعام ہے، کوئی ہدف نہیں؛ ایک نتیجہ ہے، منزل نہیں۔

قرآن نے قیادت کے لیے متعدد اصطلاحات استعمال کی ہیں جیسے کہ خلیفہ، امام، قائد، امیر، حکم، قوام، وغیرہ، جو قیادت کے اصل مفہوم اور اس کے بنیادی معنوی خدوخال متعین کرتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحات کا آئندہ کے مضامین میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا، یہاں ہم قیادت میں عبدیت کے مخصوص پہلو کا احاطہ کریں گے۔

مثال کے طور پر ’’خلیفہ‘‘ کی اصطلاح پر غور کیجیے۔ اس کے مفہوم میں عبدیت کا تصور پوری گہرائی کے ساتھ شامل ہے۔ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو کسی کی غیر موجودگی میں اس کے امور کی نگرانی اور ذمہ داری سنبھالتا ہے؛ یعنی وہ اس کا نائب، نمائندہ اور امین ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک خودمختار حاکم کی نہیں، بلکہ اُس ذات کے تابع اور جواب دہ نمائندے اور پیروکار کی ہوتی ہے جس نے اسے یہ ذمہ داری سونپی ہو۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ مختلف مواقع پر مختلف معنوی جہات کے ساتھ استعمال ہوا ہے:

اوّل: کسی کے بعد آنے والا یا جانشین (Successor):

فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ (الأعراف: 169) پھر ان کے بعد ایسے لوگ اُن کے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے.

اس آیت میں خَلفٌ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے اسلاف کے بعد آئے اور ان کی جگہ لے کر ان کے وارث بنے۔

دوم: اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین میں حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا (Allah‘s Vicegerent)

یا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِیفَةً فِی الْأَرْضِ فَاحْكُم بَینَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (ص: 26) (اے داؤدؑ! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔)

پس خلیفہ، در حقیقت عبد ہی ہوتا ہے؛ ایسا بندہ جو خود اللہ کا پیروکار، اس کا نائب اور زمین پر اس کی امانت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی رہ نمائی کرتا ہے،مگر اپنی حقیقت میں ہمیشہ ایک تابع اور فرماں بردار رہتا ہے۔

خلافت کسی حکم راں یا قائد کے سر کا تاج نہیں، بلکہ ایک ایسے مخلص متبع کی بھاری ذمہ داری ہے جس کا دل اپنے رب کے حضور جھک چکا ہو۔ یہ اس روح کی پُردرد مگر دل آویز کیفیت کا اظہار ہے جس نے بارگاہِ الٰہی میں اپنے نفس کو مکمل طور پر توڑ دیا ہو؛ جو قیادت کی خواہش نہیں رکھتی بلکہ صرف اتباع کی آرزو مند ہوتی ہے۔ وہ رہ نمائی کی طلب گار نہیں، بلکہ بندگی اور پیروی کی طالب ہوتی ہے اور اسی اخلاص کے صلے میں اللہ اسے دوسروں کی رہ نمائی کا منصب عطا فرما دیتا ہے۔

جب خلافت کو عبدیت کے زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو سامنے ایک ایسا قائد نہیں آتا جو اپنی شخصیت، وقار اور اقتدار کا رعب بٹھا رہا ہو، بلکہ ایک لرزتے ہوئے انسان کی تصویر ابھرتی ہے، جو تاریکیوں میں کھڑا ایک ایسی عظیم امانت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جس کی ہیبت سے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ وہ اقتدار کی شان کا نہیں، بلکہ بندگی کی لرزش کا پیکر ہوتا ہے۔ اس کی عظمت اس کی برتری میں نہیں، بلکہ اس احساسِ ذمہ داری میں ہوتی ہے کہ اس کے کندھوں پر وہ امانت رکھی گئی ہے جس کا بوجھ اٹھانے سے پہاڑ بھی عاجز آ گئے تھے۔ خلیفہ خود کے پیچھے چل رہے پیروکاروں (Followers) کے ہجوم کونہیں دیکھتا، اس کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں صرف اپنے آگے کے نقش قدم پر جمی ہوتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے مبارک قدم کے انمٹ نقوش ہیں۔ وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتا بلکہ سنبھل کر محتاط قدموں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، جیسے کسی غلام کو اس کے آقا نے پانی سے بھرا برتن تھمایا ہو اور وہ اسے لیے احتیاط کے ساتھ صحرا میں چل رہا ہو کہ برتن سے ایک قطرہ بھی چھلکنے نہ پائے۔

خلیفہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ انسان جان لے کہ وہ عین آفتاب نہیں محض اس کا سایہ ہے۔ وہ خود ایک صدا نہیں بلکہ احکامات الٰہیہ کی ایک مدھم بازگشت ہے۔ خدا کے سامنے یہ خود سپردگی دل میں ایک رقیق احساس پیدا کرتی ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہی ہے کہ وہ اپنی شناخت کو خدا کی راہ میں مکمل طور پر فنا کردے تاکہ خدا کی ہیبت و جلالت اس کے اندرجلوہ افروز  ہو۔  انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ کسی شئے کا مالک نہیں،کسی چیز کا خواہش مند نہیں، بلکہ وہ خود اپنے آپ میں کچھ نہیں سوائے ایک ایسے سچے عاشق کے جو تنہا چلنے سے انکاری ہو، یہ احساس اس کے دل میں ایک عمیق سکون پیدا کرتا ہے۔

کچھ سوالات اور ان کے جوابات

یہاں قارئین کے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ ہم مسلمان تو قائد ہیں، ہم کسی کے پیروکار کیسے ہو سکتے ہیں؟ بحیثیت امت مسلمہ ہماری شناخت رہ نما ہونے میں ہے نہ کہ پیروکار ہونے میں۔ اگر     امت مسلمہ کو واضح طور پر قیادت و سیادت کی قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے تو ہم اپنے آپ کو پیروکار کے روپ میں کیوںکر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا یہ طرزِ فکر انسان میں محکومیت اور بے بسی کی ذہنیت پیدا نہیں کرتا؟ اگر انسان خود کو صرف ایک عبد سمجھے، تو پھر وہ قیادت کے لیے درکار قوت، عزم اور جرأت کیسے پیدا کر سکتا ہے؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم اپنی مفردات اور عالم گیر نظریہ کے ذریعے قیادت کے جس تصور کو پیش کرتا ہے وہ عبدیت ہی سے شروع ہوتا ہے، آزمائشوں اور اطاعت میں ثابت قدمی کے ذریعے ہی آگے بڑھتا ہے اور آگے چل کر جب امامت کے منصب پر وہ فائز ہوتا ہے تو کسی ذاتی جستجو یا کوشش اور ٹریننگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ خدا کی جانب سے ودیعت کی گئی ایک امانت کے طور پر ہوتا ہے۔ قرآن ہی میں ہمیں ایک ایسے قائد کی مثال مل جاتی ہے جسے عظیم ترین نعمتوں، صلاحیتوں اور علم و اختیار سے نوازا گیا تھا مگر وہ قیادت کے قرآنی فلسفے کو سمجھنے میں ناکام رہا۔ قرآن ہمیں ابلیس کا واقعہ سناتا ہے۔ اسے ایک بلند مقام اور عظیم مرتبہ عطا کیا گیا تھا، مگر وہ اس منصب سے محروم ہوگیا، کیوں کہ وہ عبد بننے میں ناکام رہا۔ اس کی بنیادی خرابی اللہ پر ایمان کی کمی، اللہ کی قدرت یا اس کے کامل اختیارات کے انکار میں نہیں تھی۔ اس کی اصل لغزش عبدیت میں تھی۔ وہ پیروی کرنا نہ سیکھ سکا اور نہ ہی اللہ کا سچا بندہ بن سکا۔ اس کے نزدیک قیادت کی بنیاد اس کا منصب، اس کی سابقہ خدمات، اس کی صلاحیتیں، اس کی ممتاز خصوصیات اور اس کی ذاتی برتری تھی۔ وہ یہی سمجھ بیٹھا کہ یہی چیزیں اسے قیادت کا مستحق بناتی ہیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں وہ ٹھوکر کھا گیا، اور اسی لمحے اس کی عظمت، اس کی عبادت اور اس کا بلند مقام سب بے معنی ہو گئے۔

قرآن ایک اور مثال ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کرتا ہے، جنھیں عبدیت کے امتحان میں بار بار آزمایا گیا۔ سخت ترین آزمائشوں میں کھرا اترنے کے بعد ہی انھیں خوش خبری سنائی گئی کہ انھیں انسانوں کے لیے امام چنا گیا ہے۔

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّیتِی ۖ قَالَ لَا ینَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ (البقرة: 124)

(اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ کو اُس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور اُس نے وہ سب پوری کر دکھائیں۔ فرمایا، میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ ابراہیمؑ نے عرض کیا، اور میری نسل سے بھی؟ فرمایا، میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچ سکتا۔)

’’فأتمھن‘‘ میں اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے عبدیت کا حق ادا کیا اور آزمائشوں میں پورے اترے جس کے بعد ہی انھیں امامت و قیادت سے نوازا گیا۔ معلوم ہوا کہ قیادت کوئی حاصل کی جانے والی چیز نہیں، یہ عطیہ خداوندی ہے جو عبدیت میں کمال حاصل کرنے پرعطا ہوتی ہے۔ چناں چہ ہمیں عبدیت کے بنیادی تقاضے یعنی امتحان اور آزمائش میں پورا اترنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَیءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ (البقرة: 155)

(ہم ضرور تمھیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، اور مال و جان اور پھلوں کے نقصان سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔)

قرآن کا طریقہ کار بالکل واضح ہے، ہمیں چاہیے کہ خدا کی بندگی اور عبدیت کا مظاہرہ کریں جس پر وہ ہمیں قیادت وسیادت سے نوازے گا۔ بنیادی طور پر ہماری توجہ عبدیت کے درجہ کے حصول پر ہونی چاہیے نہ کہ قیادت و سیادت کے حصول پر۔

اب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ امت مسلمہ دنیا کی تمام اقوام کی قائد ورہ نما ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم ہمیں ایک ایسی قوم کی بہترین مثال پیش کرتا ہے جو ہم سے پہلے گزری اور اسے تمام قوموں کی پیشوا اور لیڈر قرار دیا گیا۔

یا بَنِی إِسْرَائِیلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی أَنْعَمْتُ عَلَیكُمْ وَأَنِّی فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِینَ  (البقرة: 122)

(اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو جو میں نے تم پر کی تھی، اور یہ کہ میں نے تمھیں دنیا کی سب قوموں پر فضیلت دی تھی۔)

یہاں بنی اسرائیل کا ذکر ہے، ایسی امت جس کو پے در پے انبیا اور کتابیں عطا کی گئیں۔ اس قوم کے سرکردہ افراد بدترین جرائم کے مرتکب ہوئے جن کا تصور بھی مشکل ہے، جیسے کہ انبیا کا قتل اور   وحی الٰہی میں تحریف۔ باوجود اس کے ان سے بار بار درگزر کیا گیا اور انھیں موقع دیا گیا کہ وہ عبدیت کے مفہوم کو سمجھ لیں اور’’سمعنا و أطعنا‘‘ (ہم نے سنا اور اطاعت کی) کا موقف اختیار کرلیں مگر انھوں نے ’’سمعنا و عصینا‘‘ (ہم نے سنا اور نافرمانی کی) کا موقف اپنایا۔

آخر کار بنی اسرائیل اقوام عالم کی سیادت سے معزول کر دیے گئے، اس لیے کہ وہ عبدیت کے بنیادی فلسفہ کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ ان کی جگہ دوسری امت کو یہ قیادت سونپی گئی۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کریم کیوں بار بار ہم سے اختیار، حکم رانی اور قیادت سے پہلے اطاعت، صبر اور اس پر توکل کرنے پر زور دیتا ہے۔ جب بندہ عبدیت کے مقام کو پالیتا ہے تو اس کے اندر ایک منفرد قوت اور قائدانہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے جسے قرآن اس طرح بیان کرتا ہے۔ ’’ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا یمْشِی بِهِ فِی النَّاسِ‘‘ (الانعام: 122) اور اس کے لیے ایک نور پیدا کیا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔

اس بنیادی فلسفہ کو ایک حدیث قدسی کی روشنی میں زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف     اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ فرائض کے ذریعے مجھ سے جتنا قریب ہوتا ہے کسی اور محبوب چیز کے ذریعے نہیں ہوتا۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔ اور مجھے کسی کام میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مجھے مومن کی جان لینے میں ہوتا ہے، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اسے تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: ۶۵۰۲)

قرآن مجید کی یہ آیات اس بات کو مزید واضح کرتی ہیں:

فَاذْكُرُونِی أَذْكُرْكُمْ (البقرة: 152) (پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا۔ )

وهو معكم أینما كنتم (الحدید: 4) وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔

معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث ایک ہی جوہری حقیقت پر زور دیتے ہیں، خدا کا قرب تبھی حاصل ہوتا ہے جب اس کے اوامر کی اطاعت کی جائے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔ جب ایک مومن خدا کے حضور حقیقی معنوں میں مکمل خود سپردگی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سماعت، اس کی بصارت اور اس کا عمل بن جاتا ہے۔ چناں چہ وہ ایک ایمان اور روشنی کا مینار بن جاتا ہے جس کی لوگ اقتدا کرتے ہیں، جس کا فرشتے ذکر کرتے ہیں اور روحانی قوتیں اس کے حق میں ہوجاتی ہیں۔ قیادت کے تئیں عبدیت کا تصور ہی قرآن کا مطمح نظر ہے۔

عبدیت ایک ایسا خاص نور ہے جو انسان کے باطن کو منور کر دیتا ہے، اور یہی نور اسے حقیقی معنوں میں قیادت کے منصب کا اہل بناتا ہے۔ اس لیے ہماری اصل جدوجہد قیادت کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ عبدیت کے مقام تک پہنچنے کے لیے ہونی چاہیے۔ جب انسان سچا عبد بن جاتا ہے تو قیادت اس کے پیچھے خود چل کر آتی ہے۔ مومن کی اصل قوت اس کے منصب، صلاحیت یا وسائل سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے مضبوط تعلق سے جنم لیتی ہے۔ یہی تعلق اسے ایسی فکری، نفسیاتی اور روحانی استقامت عطا کرتا ہے کہ موت کا تصور بھی اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔

قرآن نے قیادت کے بجائے عبدیت کو مرکزِ توجہ کیوں بنایا ہے؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے:

اوّل، قرآن انسانی نفس اور فطرت کو کس زاویہ نظر سے دیکھتا ہے؟

دوم، ناکام قیادت کی جڑیں کہاں پیوست ہیں، اور وہ کون سی باطنی کم زوریاں ہیں جو ایک قائد کو اس کے منصب سے گرا دیتی ہیں؟

نفس انسانی (Human Self):

قرآن کریم نے متعدد مقامات پر نفس انسانی کا نیچر اور اس کی فطری قوتوں اور کم زوریوں کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ نفس انسانی کو سمجھنے کے لیے انسانی انا کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہ معاملہ اس قدر نازک ہے کہ ذرا سی غفلت انسان کو خود پرستی یا شرک کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : الشرك فی أمتی أخفى من دبب النمل على الصفا ’’میری امت میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔‘‘ 1 حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا الأنداد هو الشرك، أخفى من دبب النمل على صفاة سوداء فی ظلمة اللیل۔ ’’أنداد‘‘ (یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو برابر کا مد مقابل بنانا) دراصل شرک ہے۔ یہ اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کا نفس اور انا ہماری سوچ سے کہیں زیادہ باریک، پیچیدہ اور فریب دینے والی حقیقت ہے۔ یہ انسان کی بہترین نیتوں اور اعلیٰ ترین اعمال پر بھی غالب آسکتی ہے اور انھیں آلودہ کر سکتی ہے۔ انسانی فطرت کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ وہ اقتدار، اختیار اور غلبہ کی خواہش رکھتی ہے۔ قوت اور اختیار کی کشش انسانی شخصیت کی ساخت میں گہرائی سے پیوست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان فطری طور پر اثر و رسوخ چاہتا ہے، اقتدار کا طالب ہوتا ہے اور دوسروں پر غالب آنے کی خواہش اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

عبدیت اس پوری توجہ کا رخ انسان کی ذات سے ہٹا کر اللہ تعالیٰ کی طرف موڑ دیتی ہے۔ جب کہ قیادت کو بطورِ مقصد اختیار کرنا انسان کی نگاہ کو مسلسل اپنی ذات، اپنی حیثیت اور اپنی برتری پر مرکوز رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نفس کے لیے فریب کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اگر اقتدار کی یہ خواہش تزکیہ نفس اور صحیح رہ نمائی کے بغیر پروان چڑھے، تو یہی انسان کو طغیان اور بالآخر شرک کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ابلیس بھی اسی جال میں گرفتار ہوا تھا۔ اس کی لغزش کا آغاز اللہ تعالیٰ کے انکار سے نہیں، بلکہ اپنی ذات، اپنی فضیلت اور اپنے استحقاق کے احساس سے ہوا۔ انسان اس آزمائش کے لیے اس لیے بھی زیادہ حساس ہے کہ اسے فطری طور پر کم زور پیدا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِیفًا (اور انسان کم زور پیدا کیا گیا ہے۔) (النساء: 28)

یہ کم زوری صرف جسمانی نہیں، بلکہ اخلاقی، نفسیاتی اور باطنی بھی ہے۔ چناں چہ جب اقتدار کی خواہش اور انسانی کم زوری ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں تو قیادت ایک نہایت خطرناک آزمائش بن جاتی ہے۔ چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھائی:‘‘اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ (اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے کسی چیز کو تیرا شریک ٹھہراؤں، اور میں تجھ سے ان گناہوں کی معافی مانگتا ہوں جنھیں میں نہیں جانتا۔ )

ناکام قیادت

قرآن مذہبی قیادت کے حوالے سے ایک سنگین خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کو اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ (التوبة: 31) (انھوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے۔ )

مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں امام رازی نے ایک اہم روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک صحابی عدی بن حاتمؓ، جو قبول اسلام سے قبل عیسائی تھے، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انھوں نے اپنے علما اور مذہبی پیشواؤں کی عبادت کی ہو یا انھیں خدا کے برابر درجہ دیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہوا کہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے اور تم ان کی بات مان لیتے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی ان کی عبادت کرنا ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ حقیقت سکھاتی ہے کہ جب قیادت اپنی صحیح سمت، فکری بنیاد اور نظریاتی بصیرت سے محروم ہو جائے تو وہ ایک بڑے انسانی گروہ کو بھی گم راہی اور ہلاکت کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔ اگر قائد خود درست طور پر اللہ کی ہدایت پر قائم نہ ہو اور اس کی شخصیت صحیح رخ پر استوار نہ ہو، تو اس کی قیادت رحمت کے بجائے آزمائش بن جاتی ہے۔ ایسا قائد کبھی اپنی ذاتی خواہشات، رجحانات اور نفسانی میلانات کا اسیر بن جاتا ہے، اور کبھی غیر محسوس انداز میں اپنے پیروکاروں، عوامی دباؤ یا گروہی خواہشات سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً وہ لوگوں کی رہ نمائی کرنے کے بجائے خود ان کے رجحانات کا تابع بن جاتا ہے۔

قرآن اس خطرے سے بچنے کا راستہ بھی بتاتا ہے۔ جب ایک قائد کی نگاہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا پر مرکوز ہو، تو نہ وہ اپنی خواہشات کا غلام بنتا ہے اور نہ لوگوں کی پسند و ناپسند اس کے فیصلوں کا معیار بنتی ہے۔ اسی لیے قرآن کی نگاہ میں قائد کی پہلی اور بنیادی شناخت عبد کی ہے، نہ کہ صاحبِ اقتدار کی۔ اس کی اصل حیثیت اللہ کے بندے کی ہے، اور قیادت اس کی ثانوی ذمہ داری ہے۔ جب بندگی اس کی اصل پہچان بن جاتی ہے تو قیادت اس کے لیے اقتدار کا ذریعہ نہیں، بلکہ امانت اور ذمہ داری بن جاتی ہے۔ ایسا قائد ہی لوگوں میں بہترین قائد ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی قیادت انسانی خواہش یا ذاتی استحقاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور تائید کا مظہر ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ اللہ کی نصرت، رہ نمائی اور برکت کا مستحق بنتا ہے۔ قرآن کی حکمت کے مطابق، ایک قائد سب سے پہلے عبد ہوتا ہے، اور قیادت، اللہ کی بندگی کا لازمی اور فطری نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ابتدائی ہدف۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

قیادت کا قرآنی تصور

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223