فارغین مدارس کا مطلوبہ کردار

محمد انس فلاحی سمبھلی

ملت اسلامیہ کا یہ امتیازی اور خصوصی پہلو ہے کہ اسے جو قرآن عطا کیا گیا ہے ۔اس کا آغاز ہی اقرأ(پڑھنا ) سے ہوتا ہے ۔ تعلیم وتعلّم ، درس وتدریس ، مشق وتمرین اور سیکھنا سیکھانا ہی امت پر اولین فریضہ ہے ۔ چونکہ علم کے بغیر معرفت خداوندی حاصل نہیں ہوسکتی ۔یہی وجہ ہے کہ ملت میں بعثت نبوی ؐ سے ہی تعلیم وتعلّم میں اشتغال رہا ہے اورا س کے طفیل میں بڑے بڑے دانشورا ور مفکرین پیدا ہوئے ۔جنھوں نے اپنے مسند درس سے ہزروں کی تعداد میں تشنگان علم کی پیاس بجھائی ہے اور لازوال علم وحکمت کے موتی اور گوہر نایاب کو اپنی تصنیفات وتالیفات میں سمو دیا ہے۔

مدرسہ مفہوم اورتاریخ

درس وتدریس کی جگہ کو مدرسہ کہتے ہیں ۔ملت میں مدرسہ کی بنیاد حضورؐ کے وہ ارشادات بنے جن میں علم دین کے حصول کیلئے ترغیب دی گئی ہے اوراس راہ میں نکلنے والے کو برکت وثواب کی بشارت سنائی گئی ہے ۔ حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا:مامن رجل سلک طریقا یطلب فیہ علما الاّ سھل اللہ لہ بہ طریقا الی الجنۃومن ابطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ (۱)’’جوآدمی بھی علم کی خاطر سفر کرے گا تواللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا ‘‘۔

یہی وجہ تھی کہ مسجدنبوی ؐ کے باہر چبوترے پر تشنگان علم بیٹھے رہتے تھے اور وہیں انہوں نے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا ۔تاریخ ان کو اصحاب صفہ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ وہی سب سے پہلا مدرسہ ہے ۔مدارس کا آغاز مدرسہ نظامیہ بغدادیہ (۴۸۵ھ/۱۰۹۲ء) (جسے معروف مورخ فلپ ہٹی نے عظیم اسلامی یونیورسٹی قرار دیا ہے) سے باضابطہ درس گاہ کی شکل میں یہ نظام تعلیم جاری ہوا اور اس کو مروج ہوئے کم وبیش ۹ صدیاں گزر چکی ہیں۔

مدرسہ نظامیہ(٭حاشیہ دیکھئے) پہلا ایسا مستقل ادارہ ہے جو خالصتاََ تعلیم کے فروغ کی غرض سے ادارہ جاتی سطح پر قائم کیا گیا ، اس سے قبل قائم ہونے والی درسگاہیں زیادہ تر مساجد کے ساتھ ہوتی تھیںجن میںدرسگاہ مسجد نبوی ؐ(۱ھ)مسجد کوفہ (۱۷ھ) جامع عمرو بن العاص قاہرہ(۲۰ھ)جامع منصور بغداد (۱۴۵ھ)اور جامعہ قرویین مراکش(۲۵۴ھ)وغیرہ بطورخاص نمایاں ہیں۔ مصر ، بغداد ، دمشق کے علاوہ قرطبہ و غرناطہ میں یہی نظام تعلیم مسلمانوں میںرائج رہا ہے۔(۲) ہندوستان میں ساتویں صدی میں مسلمانوںکی آمد کے بعد ہی سے مدارس کے قیام کا آغاز ہو گیا تھا ۔ چنانچہ ملتان میں ناصر الدین قباچہ نے جو وہا ں کا حکمراںتھا ایک مدرسہ تعمیر کرایا۔ مشہور عالم ومصنف قاضی سراج (متوفی ۶۵۸ھ )کا بیان ہے کہ اس مدرسہ کا انتظام وانصرام ان کے سپرد تھا ۔ آٹھویں صدی ہجری تک ہندوستان میں اسلامی مدارس قائم کرنے کا رواج عام ہو گیا تھا ۔ چنانچہ علامہ مقریزی کی روایت کے مطابق سلطان محمد تغلق (۷۲۵ھ۔ ۷۵۲ھ)کے عہد حکومت میں صرف دہلی میں ایک ہزار مدرسے موجود تھے ۔ مدارس کے لیے شاہی خزانہ سے تنخواہیں مقرر تھیں۔ تعلیم اس قدر عام تھی کہ کنیزیں تک قرآن مجید کی حافظ وعالم ہوتی تھیں۔مدارس میں علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ معقولات اور ریاضی کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ (۳)

مسلم عہد میں علم ایک اکائی تھی علم دین اور دنیوی وعصری علم کی تقسیم کی قطعََاکوئی روایت نہیں ملتی۔ اس عہد میں مدارس دونوں علوم یعنی دینی اورعصری علوم کا جامع ہوتے تھے۔ یہ تفریق ہر گز نہیں تھی کہ یہ دینی مدرسہ ہے اور یہ عصری مدرسہ یا تعلیم گاہ ہے ۔ چنانچہ وہاں طلبہ قرآن وسنت ، حدیث وفقہ کے ساتھ ساتھ طب، سماجیات ، معاشیات ، کیمیا ، فلکیات ، نباتات ،حیوا نات اور فلسفہ ومنطق کی تعلیم بھی حا صل کرتے تھے۔ لیکن لارڈ میکاولے کے استعماری تصور علم اور نصاب تعلیم کو ۱۸۳۵ء میں لاگو کرنے کے بعداس جامع روایتی نظام تعلیم کو نہ صرف کلی طور پر نظر انداز کردیا گیا (۴)بلکہ اسے ذہن سے بھی ختم کردیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں مسلمانوں نے از خود نصاب تعلیم کی اس تفریق کو گوار اہی نہ کیا بلکہ اس پر رضامند بھی ہوگئے ۔ اب علم کی دوتقسیمیں ہوگئیں دینی تعلیم اور دنیو ی اورعصری تعلیم۔

مدارس کے قیام کا اصل مقصد:

مدارس کے قیام کے مقصد کو جاننے کے لیے موجودہ ہندوستان میں قائم ہونے والے چند بڑے اور نمائندہ اداروںکی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے ۔تاکہ مدارس کے قیام کے مقاصد کی تفہیم میں تسہیل ہو ۔نمائند ہ اداروں میںدارالعلوم دیوبند(۱۸۶۶ء) دارالعلوم ندوۃا لعلما(ء ۱۸۹۶ء) اور جامعۃ الفلاح (۱۹۶۲ء) ہیں ۔ ان مدارس کے قیام میں علماء کی بڑی جدوجہد رہی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ تینوں مدارس کسی نہ کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔مثلا دارالعلوم دیوبند جنگ آزادی کی ناکامی کے بعدپیدا ہونے والی کمی اور ملی تہذیب وثقافت کے احیاء کے لیے قائم کیا گیا ۔ ندوۃ العلماء اور جامعۃ الفلاح کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تاکہ ان میں ایسا نصاب تعلیم رائج کیا جائے جو قدیم وجدید کا سنگم ہو ۔

دار العلوم دیوبند

دارالعلوم کے قیام کا تاریخی پس منظرکا ذکر کرتے ہوئے مرتب ’’تاریخ دارالعلوم‘‘سید محبوب رضوی رقمطراز ہیں :’’۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب دہلی اجڑی اور اس کی سیاسی بساط الٹ گئی تو دہلی کی علمی مرکزیت بھی ختم ہوگئی اور علم ودانش کا کارواں وہاں سے رخت سفر باندھنے پر مجبور ہوگیا اس وقت کے اہل اللہ اور خصوصیت سے ان بزرگوں میں جو اس خونیں انقلاب سے خود بھی گذر چکے تھے اور مسلمانوں کی نعشوں کو خاک وخون میں تڑپتا ہوا دیکھ چکے تھے۔ یہ فکر و اضطراب لاحق ہوا کہ علم ومعرفت کے اس کارواں کو کہاں ٹھکانہ دیا جائے ۔

اس وقت بنیادی نقطہ نظر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے دینی شعور کو بیدار رکھنے اور ان کی ملی شیرازہ بندی کیلئے ایک دینی اور علمی درس گاہ کا قیام ناگزیر ہے، اس مرکزی فکر کی روشنی میں حضرت نانوتویؒ اور ان کے رفقاء خاص مولاناذوالفقار علی ؒ، مولانا فضل الرحمن ؒاور حاجی محمد عابدؒ نے یہ طے کیا کہ اب دہلی کے بجائے دیوبند میں یہ دینی درسگاہ قائم ہونی چاہئے‘‘۔(۵)

۵ محرم ۱۲۸۳ھ بمطابق ۳۰مئی ۱۸۶۶ کو چھتہ کی قدیم مسجد کے کھلے صحن میں انار کے ایک چھوٹے سے درخت کے سائے میں نہایت سادگی کے ساتھ کسی رسم تقریب کے بغیر دارالعلوم کاا فتتاح عمل میںآیا۔(۶) دارالعلوم دیوبند کا قیام جن مقاصد کے لیے عمل میں لاگیا ان کی تفصیل دارالعلوم کے قدیم دستور اساسی میں حسب ذیل بیان کی گئی ہے ۔

۱۔قرآن مجید، تفسیر ،حدیث ،عقائد اور کلام اور ان کے علوم کے متعلقہ ضروری اور مفید فنون کی تعلیم دینا اور مسلمانوں کو مکمل طور پر اسلامی معلومات بہم پہنچانا ،رشد وہدایت اور تبلیغ کے ذریعہ اسلا م کی خدمت انجا م دینا ۔

۲۔اعمال واخلاقِ اسلامیہ کی تربیت اور طلبہ کی زندگی میں اسلامی روح پیدا کرنا ۔

۳۔ اسلام کی تبلیغ واشاعت اور دین کا تحفظ ودفاع اور اشاعت اسلا م کی خدمت بذریعہ تحریر وتقریر بجالانااور مسلمانوں میں تعلیم وتبلیغ کے ذریعہ سے خیرالقرون اور سلف وصالحین جیسے اخلاق واعمال اور جذبات پید اکرنا ۔

۴۔ حکومت کے اثرات سے اجتناب اور احتراز اور علم وفکر کی آزادی کو برقرار رکھنا۔

۵۔ علوم دینیہ کی اشاعت کے لیے مختلف مقامات پر مدارس عربیہ قائم کرنا اور ان کادارالعلوم سے الحاق ۔(۷)

یہ وہ مقاصد ہیں جن کے احیاء کے لیے دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا اور جس کے قیام کے سلسلے میں اکابردیوبند نے انتھک جدوجہد کی ۔

ندوۃ العلماء :مسلمانوں کا ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جس کے ابتدائی دور کا مولانا شبلی کی مذہبی ، تہذیبی اور سیاسی سرگر میوں سے بہت گہر اتعلق ہے ۔یہ ادارہ ۱۸۹۶ء مغربی عقائد رکھنے والے سرکاری ملازمین ،علماء اور صوفیاء کی کوششوں سے لکھنؤ میں قائم ہوا ۔(۸)

تحریک ندوۃ العلماء کے روح رواں مولانا محمد علی مونگیری ؒ کی صراحت کے مطابق قیام دارلعلوم کے چار مقاصد تھے ۔

۱۔ علوم وفنون کی تکمیل ۔

۲۔ علوم دینیہ خصوصا علم میں کلا م کمال پید اکرنا تاکہ الحاد و دہریت کا مقابلہ کیا جاسکے علم فقہ میںتبحر پیدا کرنا تاکہ عبادات ومعاملات میںعلماء کے فتاوی مستند وواجب العمل ہوں۔

۳۔ مسلمانوں میں اسلامی اخلاق اور شائستگی پید اکرنا اور ان کو عمدہ اطوار اور عادتوں کا خوگر بنانا ۔

۴۔طلبہ میں اعلی ظرفی وفراح حوصلگی پید اکرنا اور انہیں پست حوصلگی اور بے توقیری سے بچانا ۔(۹)

مولانا حبیب الرحمن شیروانی نے انیسویں سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنؤ میں خطبہ صدارت میں قیام ندوہ کے مقاصد پر گفتگوکرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اصلاح نصاب ورفع نزع کو اپنے مقاصد میں داخل کرنے سے ندوۃ العلماء کا مقصد یہی تھا کہ برباد کن مشاغل سے توجہ ہٹاکر ضروری امور کی جانب مائل کرے ،نصاب میں ایسی ترمیمیں کی جائیں جن کے ذریعہ سے حالیہ ضرورتوں کو پورا ہونے کا سامان ہو ۔ (۱۰)

پرفیسر رشید احمد صدیقی نے ندوۃ العلماء کو علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کے مابین خلیج کو پورا کرنے کے لیے پل قرار دیا ہے ۔ (۱۱)

یہ ہیں وہ مقاصد اور پس منظر جس کے پیش نظر ندوۃ العلماء کوقائم کیا گیا جس میں مختلف مذاہب کے علماء نے بہم مل جل کر اور باہمی مشورے وتعاون کے بعد اس کو نئے نصاب تعلیم کے مطابق قائم کیا ۔

جامعۃ الفلاح :

یہ مدرسہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا ۱۹۶۲ء میں جامعۃ الفلاح کی شکل میں متعار ف ہوا ۔ جامعہ کے مقاصد حسب ذیل ہیں ۔

۲۹ جون ۱۹۶۴ء کے اجلاس انتظامیہ میں جامعۃ الفلاح کے مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد طے کیے گئے ۔

٭ایسے افراد تیار کرنا ۔

۱۔جو قرآن وسنت کا گہرا علم اور صحیح دینی بصیرت رکھتے ہوں ۔

۲۔ جن کی نظر وقت کے اہم مسائل پر ہو اورجو غیر اسلامی افکار ونظریات سے بخوبی واقف ہوں۔

۳۔جو اسلامی اخلاق وکردار کے حامل ہوں ۔

۴۔ جن میں احیائے دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کا صحیح جذبہ ہو ۔

۵۔ جو گروہی ، جماعتی اور فقہی اختلافات سے بالا تر ہو کر وسعت قلب ونظر کے ساتھ معاشرے کی اصلاح و تعمیر کا فریضہ انجام دے سکیں ۔

٭ایسا نصاب زیر عمل لانا جس میں دینی اور دنیوی تعلیم کا بہترین امتزاج ہو اور جو جامعہ کی ا ساس سے ہم آہنگ ہو ۔

٭اسلام کی خدمت کیلئے د ور جدید کے تقاضوں کے مطابق فکری ، عملی اور تحقیقی مواد فراہم کرنا۔

٭فنی، تکنیکی اور پیشہ وارانہ تعلیم کا اس طرح نظم کرنا کہ جامعہ کا بنیادی مقصد متاثر نہ ہو۔

اغراض ومقاصد کی یہ مفصل تشریح دراصل اس جامع مقصد ہی کی تفسیر ہے جو ۱۳جولائی ۱۹۶۱ء کو جامعہ اسلامیہ کی مجلس تعلیمی نے قصبہ کی مغربی مسجد میں طے کیا تھا۔(۱۲)

فارغین مدارس کا مطلوبہ کردار

دینی مدارس کے فارغین کا مطلوبہ کردار کیا ہو ،نیز وہ کیا کام انجام دیں، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں، اس ضمن میں چند بنیادی اور اہم باتیں یہ ہوسکتی ہیں۔

اخلاص و للہیت

سب سے اہم اور ضروری چیز جو کسی بھی عمل کی قبولیت کیلئے شرط ہے وہ اخلاص ہے ۔ اگرکسی نیک عمل کی پشت پر نام ونمود یا ریاکاری ، جاہ ومنصب کی طلب ہو تو وہ عمل عنداللہ قابل قبول نہ ہوگا ۔ اس لیے فارغین مدارس اپنے علم کو نام نمود ، جاہ ومنصب کی طلب کا ذریعہ نہ بنائیں ۔اپنے اندر خوف خدا اور خوف آخرت کو مستحضر رکھیں ۔ ا ن کا مقصودومطلوب رضائے الہی ہو ۔ سماجی ، ملی اور ملکی کی سرگرمیوں میں بھی حصہ صرف رضائے الہی کی خاطر لیں ۔ اپنی تحریر وتقریر کوبھی محض اشاعت دین کا ذریعہ بنائیں۔ اس سے اپنی بڑائی منوانایاا پنے آپ کو سماجی سطح پر بڑا کہلوانے کا جذبہ کارفرما نہ ہو ۔ المیہ یہ ہے کہ یہ چیز فارغین مدار س میں تو کیا بڑے بڑے علماء میں بھی نظر نہیں آتی اسی لیے جب کسی کام میں اونچ نیچ کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تووہ اسے اپنی انا کامسئلہ بنالیتے ہیں۔وجہ یہی ہے کہ ان کے اندار اخلاص وللہیت مفقود ہوتی ہے۔ اسی لیے اپنے اندر اخلاص وللہیت پیدا کریں۔

علم میں گہرائی اور گیرائی

اپنے مطالعہ میں وسعت پیدا کریں ۔ صرف درسی کتابوں کا مطالعہ و استفادہ کو ہی کافی ناسمجھیں بلکہ غیر درسی مطالعہ کو اپنے علمی غذا کے لیے ضروری سمجھیں غیر درسی مطالعہ ہی اصلا طالب علم کے اندر تفکر وتدبر ،تحقیق وتنقید کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعدیہ تصور نا کریں کہ انہوں نے آٹھ یا دس سال لگا کر بہت پڑھ لیا ۔ بلکہ مزید تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ایسی اکیڈمیز کا رخ کریں جہاں رہ کر یکسوئی کے ساتھ خارجی کتابوں کا مطالعہ کرسکیں ۔یا پھر یونیورسٹی کا رخ کریں۔آج کی اس تیز رفتار دنیا میں فارغین مدارس کے لیے بے شمار مواقع ہیں۔ بشرطیکہ وہ اس کی صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ الغرض علم میں گہرائی و گیرائی کے لیے متنوع موضوعات ومضامین کامطالعہ کریں تاریخ ،سیاسیات ، معاشیات اور سائنسی علوم کو بھی اپنے مطالعہ میں رکھیں ۔ معروف ومستند اخبارات ورسائل سے بھی استفادہ کرتے رہیں ۔

وسعت و قلب نظر

عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ مدارس کے فارغین تنگ نظراورخشک مزاج ہوتے ہیں۔کسی سے کوئی معاملہ ہوجائے تو وہ اسے اپنی ذات کا مسئلہ بنالیتے ہیں ۔ عصری تعلیم گاہوں کے طلبہ کے سلسلے میں وہ بہت متشدد ہوتے ہیں۔انہیں وہ بے دین اور بے راہ رو سمجھتے اور گردانتے ہیں ۔چونکہ ان کے خیال میںدین اور دینی تعلیم انہوں نے ہی پڑھی اور سمجھی ہے اور وہ ہی اس کے اصل وارث ہیں ۔ اسی لیے وہ دوسروں کو خاطر میں لاتے ہی نہیں !۔ ٹوپی ،کرتہ ،پجامہ کو وہ دینی شناخت تصور کرتے ہیں۔اس کے برعکس لباس پہننے والے کو وہ عجیب وغریب نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔مشاہدہ میں یہ بات بھی بارہا آتی ہے کہ جب کوئی یونیورسٹی کا طالب علم یا پروفیسر کسی دینی موضوع پر گفتگو کرتا ہے یا دین کی دعوت دیتا ہے تو تنگ نظر فارغین مدارس اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہیں ۔کیونکہ ان کی دانست میں دین کی تبلیغ کے لیے ضروری ہے کہ داعی ومبلغ ٹوپی ،کرتہ، پجامہ میں ملبوس ہو۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنے کو وسعت قلب ، وسعت نظر اور خوش مزاج بنائیں انا و ذاتیات سے بالاتر ہوکر ملی مفاد کے لیے کام کریں۔ دین کاصحیح تصور از خو د سمجھیں اور ملت کواس سے روشناس کرائیں ۔

بصارت و بصیرت

مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ فارغین مدار س دنیاکے احوال وکوائف سے نا بلد ہوتے ہیں۔ زمین سے اوپر اور زمین سے نیچے کی باتیں ہی وہ جانتے ہیں جنت ودوزخ کے بارے میں تووہ خوب جانتے ہیں لیکن زمین پر کیا ہورہا ہے ملک وملت کن مسائل سے دوچار ہیں۔سماج ومعاشرے میں کیا واقعات وحوادث رونما ہو رہے ہیں۔ دنیا میں کیا ترقی وتنزلی ہو رہی ہے وہ ان کے کانوں کو چھوکر بھی نہیں گزر تا ۔ اخبارات ورسائل،کا مطالعہ وہ نہ کے برابر کرتے ہیں ، ٹی وی پر نیوز دیکھنا تو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتاچونکہ ان کے یہاں توٹی وی دیکھنا مطلقا حرام ہے ۔(حالانکہ بعض طلبہ فلم بینی کے بھی عادی نظر آتے ہیں)اس لیے انہیں حالات سے واقفیت پیدا کرنی ہوگی۔ بصارت کے ساتھ بصیرت بھی اپنے اندر پیدا کرنی ہوگی ۔ اگروہ زمانہ شناش نہ ہوںگے تو بھلا اسلام کی کیا اشاعت وترویج کرینگے!۔

دعوت دین

اسلام ایک دین دعوت ہے اس کی جملہ خصوصیات میں سے یہ ایک اہم خصوصیت ہے۔ وہ دنیا کے تمام انسانوںکو اپنا پیروکار بنانا چاہتا ہے اسلام اپنے ماننے والوں پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ دعوت دین کا کام انجام دیں ۔امت مسلمہ کو خیر امت کا لقب بھی اسی بنا پر دیا گیا ہے کہ وہ ا مر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالعمروف وتنھون عن االمنکر وتومنون باللہ (۱۳) ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروپ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت وصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو برے کاموں سے روکتے ہو اوراللہ پر ایمان رکھتے ہو ‘‘۔ دعوت دین کی ذمہ داری بحیثیت مجموعی پوری امت پر فرض ہے۔ چاہے وہ علماء وحکماء ہو ں یا عوام البتہ علماء کی ذمہ داری زیادہ ہے چونکہ وہ علوم نبوت کے وارثین ہیںاور قرآن وسنت کے جاننے والے ہیںاس لیے انہیں دعوت دین کے سلسلے میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بیشتر فارغین مدار س یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ دعوت دین غیر مسلموں میں ثانوی کام ہے اول اور اہم کام مسلمانوں کی اصلاح ہے ۔اسی نقطہ نظر کی وجہ سے کہ فارغین مدارس کی اکثریت غیر مسلموں میں دعوت کے تعلق سے غافل یا دانستہ طور پر اس سے دور رہتی ہے۔ اس لیے فارغین مدارس کو دعوت کی اہمیت وافادیت کو سمجھنا چاہیے اورحتی الامکان اس کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے۔

معاشرتی اصلاح

ہمارے معاشرے کی جو صورتحال ہے اس سے ہر خاص وعام واقف ہے ۔اس موضوع پر بیشتر لوگ لکھتے اور بولتے ہیں البتہ نتیجہ لا حاصل رہتا ہے ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں منظم انداز سے کوئی کام نہیں ہورہا ہے فارغین مدارس اس سلسلے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں وہ اپنے مقام پر ایک ٹیم برائے اصلاح معاشرہ بنائیں اور معاشرے میں رائج برائیوں کی اولین فرصت میں نشاندہی کریں اور ان کے سد باب کے لیے موزوں ومناسب لا ئحہ عمل بنائیں برائیوں میںملوث افراد سے تنہائی میں ملیں انہیں برائی کا نتیجہ وانجام سے باخبر کریں گفتگو کاا نداز ناصحانہ ہو حاکمانہ اور جابرانہ ہرگز نہ ہوورنہ اس سلسلے کی کوئی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتی ۔

سماجی وملی سرگرمیوں میں حصہ

ہر فرد کسی ناکسی سماج یا قوم وملت سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اپنے سماج اور قوم وملت سے محبت رکھتا ہے فارغین مدارس بھی سماج سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے انہیں سماجی، ملی اور ملکی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ملک وملت میں ہونے والے اصلاحی وتعمیری کاموں کے سلسلے میں سوچتے رہنا اورکچھ کرتے رہنا چاہیے ۔کیونکہ ایک ملت کا فرد اور ایک ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے یہ ان پر فرض بھی ہے کہ وہ ملک وملت کے تعلق سے فکر مند رہیں اور تعمیر وترقی کی راہ ہمورا کریں۔

ملکی مسائل سے واقفیت اور اصلاحی کوششیں

ہندوستان کا شہری ہونے کی نسبت سے ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ملکی حالات سے باخبر رہیں ملک کے خارجی وداخلی مسائل پر نگاہ رکھیں۔ ہمارا ملک ہندوستان آج جن بڑے مسائل سے دوچار ہے وہ یہ ہیںمعاشی بدحالی، غربت وافلاس ، مہنگائی ،کرپشن اور دہشت گردی ۔فارغین مدارس کی ہندوستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ مسائل کے تعلق سے اسلامی حل پیش کریں اورا س کے لیے عوام میں بیداری پید اکریں معاشی بدحالی کے خاتمہ کا جو حل اسلام نے پیش کیا ہے اس کو حکمرانوں کے سامنے پیش کریں۔ ملکی مسائل کے حل کیلئے ذمہ داران کو مفید مشورے دیں اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے حتی الامکان خود بھی کوشش کریں۔

فارغین مدارس کی انجمن

فارغین مدارس کی ایک مشترکہ انجمن اور تنظیم ہونی چاہیے تاکہ باہمی ربط وتعلق ، الفت ومحبت اور گفت وشنید کی راہ ہموار ہو سکے نیز وہ باہم مل جل کر ملت اسلامیہ کیلئے نتیجہ خیز کوششیں کرسکیں۔ اگر اس طرح کی کوئی تنظیم یا ایسا کوئی پلیٹ فارم بن جائے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس کے ذریعہ ملی وحدت ، اتحاد بین المسلمین کی راہ ہموار ہوگی ۔

فارغین مدارس کی موجودہ صورتحال

یہ بات مسلمہ حقیقت رکھتی ہے کہ ماضی میں مدارس ہی نے ملک وملت کی خاطر جانیں قربان کی ہیں ۔مدارس سے ہی ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی ۔ان کا لمحہ لمحہ دین کی خاطر صرف ہوتا تھا ۔جس کی شہادتیں تاریخی کتا بیں پیش کرتی ہیں ۔البتہ موجودہ فارغین مدارس کی صورتحال قابل تشویش اور افسوسناک ہے ۔مدرسہ میں آٹھ دس سال تعلیم حاصل کرنے کے باوجود وہ اس لائق نہیں ہوتے کہ وہ لوگوں کیسامنے دین کا صحیح تصور پیش کر سکیں وجہ یہ ہے کہ وہ خود ہی اس سے نابلد ہوتے ہیں۔فارغین مدارس کا جائزہ لیا جائے تو چند چیزیں سامنے آتی ہیں۔

مسلکی تعصب وتشدد

مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ میںبالعموم مسلکی تعصب وتشدد پایا جاتا ہے ۔ وہ مخالف مسلک کسی فرد یا طالب علم کو برادشت کرنے کی صلاحیت نہیںرکھتے ۔وجہ ظاہر ہے ہر مدرسہ اپنا ایک الگ مسلک اور نقطہ نظر رکھتا ہے ۔ اور مدرسے کے منہج وطریقہ کے مطابق پڑھنے کے بعد طالب علم کا ذہن اپنے مسلک کے تعلق سے متشدد نہیں ہوگا تو پھر اور کیا ہوگا ؟۔ملی انتشار وافتراق کا ایک اہم سبب یہی فارغین مدارس بنتے ہیںچونکہ وہ اپنے مسلک کے علاوہ دوسروں کو ناحق اور باطل تصور کرتے ہیں۔

 ناقص تعلیم ومطالعہ

مدارس کا نصاب تعلیم ایسا ہے کہ طالب علم نہ تو درسیات میں ہی درک حاصل کرپاتا ہے اور نہ ہی خارجی مطالعہ کا ذوق و شوق اس کے اندر پیدا ہو پاتا ہے ۔ خارجی مطالعہ کا جہاں تک تعلق ہے مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ بعض طلبہ آٹھ دس سال کے دوران چند بنیادی کتابیں بھی نہیں پڑھتے یا پڑھ پاتے ہیں۔مدرسہ سے فارغ ہو نے کے بعد نہ تو وہ اسلامیات ہی میں پختہ ہوتے ہیں کہ وہ درس وتدریس کا فریضہ انجام دے سکیں اور نہ ہی عصری تعلیم گاہوں میں ہی پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیشتر طلبہ مکتب ، مدرسہ اور مساجد کا رخ کرتے ہیں بعض گھر کی مصروفیات اور مجبوریوں کی بنا پر مزید تعلیم ترک کر دیتے ہیں۔

احسا س کمتری

وہ طلبہ جو مدارس سے فارغ ہونے کے بعد یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں ان میں بالعموم احساس کمتری پائی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ داخلہ کے بعد سب سے پہلے اپنی وضع وقطع ماحول کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ یہ احساس کمتری نتیجہ ہے اپنے علم میں نا پختگی اور ضعف ایمان کا اس لیے وہ یونیورسٹی کے ماحول سے بہت جلد مرعوب ہوجاتے ہیں ۔یونیورسٹی کے طلبہ کا لب ولہجہ ،فراٹے دار انگریزی اورجینس ،ٹی شرٹ ان کی آنکھوں کو خیرا کردیتی ہے ۔

مسائل ووسائل سے ناواقفیت

فارغین مدارس میں ایک چیز یہ دکھنے میں آتی ہے کہ وہ نہ تو مسائل ہی سے آگا ہ ہوتے ہیں اور نہ ہی مسائل کے حل کرنے کیلئے استعمال ہونے والے وسائل سے واقف ہوتے ہیں ۔ نہ تو انہیں معاشرتی مسائل ،ملکی مسائل اور ملی مسائل سے واقفیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں اپنا رول ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں بیشتر تو ان وسائل سے واقف ہی نہیں ہوتے استعمال کرنا تو دور کی بات ہے ۔ بعض فارغین مدارس کے نقطہ نظرمیں یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ وہ عصر حاضر سے لاتعلقی کو زھد وتقوی سمجھتے ہیں ۔ معاشرہ سے کٹ کر رہنا ،مدرسہ سے مسجد تک سمٹ کا رہنا ہی ان کا شیوہ ہوتا ہے ۔مدرسہ ومسجد ہی ان کی کل کائنات  ہے ۔ اس میں درس وتدریس ،وعظ ونصیحت اور دعا واذکار کرنا ہی وہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔

نامناسب طرز عمل

ایک کمی فارغین مدارس کے اندر جو نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے وہ نامناسب طرز عمل ہے ۔ مدارس میں طویل عرصہ قال اللہ وقال رسول کا درس لینے کے بعد بھی سنجیدہ نہیں ہوپاتے ۔ اگر چند طلبہ مدارس ایک ساتھ جمع ہوجائیںتو کیا گل کھلاتے ہیںدیکھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ فارغین مدارس کے اسی نامناسب طرز عمل کی وجہ سے لوگ ان سے کترا کر نکل جاتے ہیں اور ان سے بدظن رہتے ہیں۔

یہ واضح رہے کہ مذکورہ بالا صورتحال فارغین مدارس کے عمومی صورتحال کو دیکھ کر لکھی گئی ہے ورنہ مدارس سے فارغ ہونے والوں میں بااخلاق وباکردار ، سنجیدہ ،پختہ علم ومطالعہ اورصلاحیت والے طلبہ بھی ہوتے ہیں اور جو قوم وملت کی حتی الوسع خدمت انجام دے رہے ہیں۔

تبدیلی کیلئے لائحہ عمل

فارغین مدارس کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی لا نے کے لیے ضروری ہے کہ مدارس کے نصاب تعلیم ، نظام تعلیم میں جدت پیدا کی جائے ۔اس میں مناسب حذف واضافہ کیا جائے۔ مدارس کی ابتری صورتحال کا تذکرہ مولاناضیاء الدین اصلاحی مدارس کے اجزائے ترکیبی منتظمین، اساتذہ، طلبہ کاذکر کرنے کے بعدان الفاظ میں کرتے ہیں۔چنانچہ رقمطرا زہیں۔

’’یہ تینوں مل کر مدارس کے زوال وانحطاط کا باعث بنے ہوئے ہیں یہ سب عموما دینی روح ، عمل ، اخلاص ، خشیت وانابت ، اسلامی طرز حیات اور اخلاق فاضلہ سے تہی مایہ ہوگئے ہیںاور یہ صر ف ان مدارس کا حال نہیں ہے جن میں جدید طرز تعلیم رائج ہوگیا ہے بلکہ جو اہل اللہ اور مشائخ کے قائم کردہ اور کسی صاحب نسبت بزرگ کے زیر نگرانی چل رہے ہیں‘‘۔(۱۴)

نصاب تعلیم

نصاب تعلیم ونظام تعلیم کے تعلق سے مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے بہت عمدہ بات کہی ہے کہ ’’آج صدیوں سے مسلمانوں کی ذہنی ترقی کو جس چیز نے روک رکھا ہے اس کا ذمہ دار صرف نصاب تعلیم اور نظام تعلیم ہے ‘‘(۱۵)۔اگر یہ کہا جائے کہ فارغین مدارس کی موجودہ صورتحال کا اصل سبب نصاب تعلیم ونظام تعلیم ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔مدارس میں ایسا نصاب رائج ہے جس میں طلبہ کے لیے کوئی کشش ہے اور نہ ہی وہ عصری ضروریات کو پورا کرسکتا ہے ۔ صدیوں قبل لکھی گئی کتابیں آج بھی زیر درس ہیں ۔خشک منطق وفلسفہ کی بحثیں طلبہ کو مجبوراََ اور جبرا پڑھائی جاتی ہیں۔ حالانکہ قدیم منطق وفلسفہ کی موجودہ دور میں کوئی معنویت نہیںہے ۔ فقہ پر لکھی گئی قدیم زمانے کی کتابیں من وعن تاحال جاری ہیں ۔لیکن جدید مسائل جو ابھر رہے ہیں ان پر نہ تو مدارس میں کوئی بحث ہی کی جاتی ہے نہ اس پرکتا بیں لکھی جاتی ہیں ۔البتہ چند شخصیتیں اس تعلق سے انفرادی طور پر کام کررہی ہیں حالانکہ یہ کام اجتماعی کوششوں کاطالب ہے ۔مضامین کا اتنا بوجھ لاد دیا جاتا ہے کہ طلبہ کسی ایک مضمون میں بھی کما حقہ درک پیدا نہیں کر پاتے ۔ اس لیے فی الفور مدارس کے پورے نصاب تعلیم کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور اس میں موزوں ومناسب تبدیلی عمل میں لائی جائے ۔ دینی علوم اور عصری علوم کی تفریق ختم کرکے مدارس کے نصاب میں قدیم صالح اور جدید نافع کو شامل کیا جائے ۔ ورنہ فارغین مدارس کی موجودہ ابترصورتحال مزید ابتر ہوتی چلی جائے گی ۔

ماہر فن اساتذہ کا تقرر کیا جائے

نصاب تعلیم کی خامی کے ساتھ ساتھ مدارس میں اچھے اور قابل اساتذہ کا بھی فقدان ہے ۔ بالعموم غیر علمی ، غیر معیاری اور غیر سنجیدہ اساتذہ تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔جس کا اثر طلبہ کے علم و فکر اور عمل پرپڑ تا ہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس میں باصلاحیت اور صالح اساتذہ کا تقرر کیا جائے ۔ ذمہ داران مدارس کو چاہئے کہ وہ اپنے سالانہ مصارف کی خاطر خواہ رقم اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے مختص رکھیں تاکہ با صلاحیت اساتذہ میسر ہو سکیںاور پورے انہماک کے ساتھ طلبہ کی علمی اور عملی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں ۔

تدریسی منہج میں تبدیلی

مذکورہ بالا خامیوں کے ساتھ ایک خاص کمی مدارس میں تدریسی طریقہ کار ومنہج کی پائی جاتی ہے ۔مدارس کے تدریسی طریقے میں نہ تو کوئی جان ہے اور نہ ہی کو ئی کشش پائی جاتی ہے ۔ مدرس کلاس روم میں آنے کے بعد طالب علم سے سبق پڑھواتا ہے۔ اس کے بعد خود ہی پڑھائے گئے سبق کی تشریح وتوضیح کرتا ہے ۔ اس طریقہ تدریس سے طلبہ کے اندرذرا بھی علمی ذوق وشوق پیدا نہیں ہو تاہے۔ مدارس میں تدریسی منہج ویسا ہی ہو جیسا کالج اوریونیورسٹیوں میںہوتا ہے۔ اب تو جونئر ہائی اسکول میں بھی اسمارٹ کلاس شروع ہوگئے ہیں ۔ ذمہ داران مدارس کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں جلد از جلد پیش رفت کریں۔

جدید ذرائع کا ابلاغ کا استعمال

دینی مدارس میں بالعموم جد ید سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ یہ چیز اگر مدارس میں استعمال کی جانے لگے تو طلبہ کم وقت میں زیادہ سیکھ سکتے اور پڑ ھ سکتے ہیں Internetکی د نیا بہت وسیع ہے کسی بھی چیز کے بارے میں جاننا ہو تو ٹائپ کیجئے اوربٹن پر کلک کرتے ہی اس کے متعلق ساری معلومات فراہم ہوجائے گی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید ذرائع ووسائل کا استعمال مدارس میں طلبہ کے لیے فراہم کیا جائے ۔

علمی ماحول پیدا کیا جائے

فرد کی نشو نما پر ماحول کا بے حد اثر پڑتا ہے ماحومل اگر خوشگوار ،علمی اوردینی ہے تو لامحالہ فرد کا مزاج نرم ، علمی اور دینی ہوگا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو نتیجہ بھی اس کے مطابق ہوگا۔ طلبہ مدارس کے علمی ذوق و شوق کے لیے سم قاتل مدرسہ کا ماحول اور اساتذہ کی باہمی چپقلش ہے ۔ وہاںنہ تو اساتذہ ہی درسیات کے علاوہ غیر نصابی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اورنہ ہی طلبہ کو اس جانب متوجہ کرتے ہیں ۔علمی ماحول کو پیدا کرنے کیلئے کیا چیزیں معاون ہوسکتی ہیں اس سلسلے میں مولاناوارث مظہری رقمطراز ہیں۔’’ غیر نصابی سرگر میوں میں مختلف چیزوں پر توجہ اور ارتکاز کی ضرورت ہے۔ جیسے ماہرین اصحاب علم کے ذریعہ ہفتہ وار ،پندرہ روزہ یا ماہانہ محاضراے کا پروگرام ،تقریری مجالس کی طرح تحریری مقابلوں کا پروگرا م، مختلف موضوعات پر اوپن ڈسکشن کا اہتمام وانتظام ملک اور ملک سے باہر مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اہم اور علمی رسائل ومجلات کی کیٹلاگ سازی اور طلبہ کو ان کی فراہمی مرکزی لائبریری میں ضروری اور بنیادی کتابوں کے ساتھ نئی شائع شدہ کتابوں کا ذخیرہ جن سے طلبہ باآسانی اور بروقت استفادہ کر سکیں اسی طرح طلبہ میں تحریری ذوق کو ابھارنے کے لیے سالانہ طلبہ کی تحریری کوششوں پر انعامات دینے کے علاوہ ان پر نمبرات بھی دیئے جائیںاور انہیں سالانہ مارک شیٹ میں شامل بھی کرنا چاہیے‘‘۔ (۱۶) نیز عصری درس گاہوں کے دانش ور حضرات کے لیکچر س رکھے جائیں تاکہ طلبہ ان لیکچرس سے مستفید ہوں اور مدرسہ کی فضا میں علم واگہی پروان چڑھے۔

لسانیاتی تعلیم :

مدارس کے تعلق سے ایک المیہ یہ ہے کہ فارغین مدارس طویل عرصہ عربی زبان پڑھنے کے باوجود اس قابل نہیں ہوپاتے کہ وہ عربی میں گفتگو کرسکیں عربی میں ایک مضمون لکھ سکیں وجہ وہی ہے نصاب تعلیم اور طرز تعلیم کی خامی ۔اسلئے مدارس میںعربی زبان کے سلسلے میں ہونے والی تعلیم کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو فی الفور دور کرنا چاہیے۔ نیز عربی زبان وادب کے ساتھ انگریزی ، ہندی اور اردوزبان کی بھی تعلیم صحیح معنوں میں ہونی چاہیے ۔بعض مدارس میں تو اس سلسلے میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے البتہ بقیہ مدارس اسی ڈگر پر چل رہے ہیں زبانوں کی تعلیم کے سلسلے میں اضافی کلاسس چلا ئی جائیں ۔ بالخصوص عربی وانگلش کے لیے ایک ایک گھنٹہ مختص کیا جائے تبھی اس سلسلے میں کوششیں بار آور ہوسکتیں ہیں ۔

حرف آخر

آخر میں یہ عرض ہے کہ مدارس جو دین اسلام کے قلعے ہیں اگر ان کے نصاب تعلیم کا بروقت حقیقت پر مبنی جائزہ نہیں لیا گیا اور اس کی اصلاح کے سلسلے میں غفلت برتی گئی تو اس کا خمیازہ ملت ہی کو بھگتنا پڑے گا ۔ملی زوال مزید سے مزید تر ہوتا جائے گا پھر وہی حال ہوگا جواندلس میں ہو اوہاں اسلام کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔ بعد ازاں اس سلسلے میں کو ئی سعی سود مند ثابت نہ ہوگی ۔اس لیے ذمہ داران کو چاہیے کہ باہم مل جل کر مدارس کی صورتحا ل تبدیل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں ورنہ پھر علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر مزید صادق آئیگا ۔

اُٹھا میں مدرسہ وخانقاہ سے غم ناک

نہ زندگی ، نہ محبت ، نہ معرفت ،نہ نگاہ

حوالہ جات

«یہاں یہ واضح رہے کہ مدرسہ نظامیہ اور درس نظامی دونوں الگ الگ چیزیں ہیں مدرسہ نظامیہ اسکول یا کالج کی شکل میں نظام الملک طوسی نے بنوایاتھا۔(نظام الملک طوسی نے بغداد میں مدرسہ نظامیہ شیخ الشیوخ ا بو سعد نیشاپوری کی تحریک پر بنایا ۔ بروز منگل مہینہ ذی قعدہ مطابق ۴ اکتوبر ۱۰۶۵ مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھ گیا۔ عبدالرزاق صاحب کانپوری ’’ نظام الملک طوسی ‘‘ مطبوعہ کانپور پریس ۱۹۱۲ء ص۶۴۷ ) اور درس نظامی نصاب تھا جو ملا نظا م الدین نے بنایا تھا۔

۱۔سنن ابو داؤد حدیث رقم ۳۶۴۲

۲۔ حافظ حسن مدنی ’’دینی مدارس میں تحقیق وصحافت ایک جائزہ ‘‘محدث لاہور ستمبر ۲۰۰۴ء ج ۳۶ ش ۹ ص۳

۳۔ سید محبوب رضوی، مرتب’’ تاریخ دارالعلوم دیوبند‘‘ مطبوعہ بھارت آفیسٹ ۱۹۹۲ء ص۷۱،۷۲ جلد اول

۴۔حافظ حسن مدنی ’’دینی مدارس میں تحقیق وصحافت ایک جائزہ‘‘ محدث لاہور ستمبر ۲۰۰۴ء ج ۳۶ش ۹ ص۴

۵۔سید محبوب رضوی ،مرتب ’’تاریخ دارالعلوم دیوبند‘‘ مطبوعہ بھارت آفیسٹ ۱۹۹۲ء ص۱۴۸،۱۴۹ جلد اول

۶۔ایضاص۱۵۵

۷۔ایضاص۱۴۲

۸۔ جامع اردو انسائکلوپیڈیا ص۴۱۲ جلد دوم مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان وادب

۹۔ ڈاکٹر عبیداللہ فہد ’’مدارس اسلامیہ کی دینی ودعوتی خدمات ‘‘مطبوعہ ادارہ علمیہ جامعۃالفلاح اعظم گڑھ ۲۰۰۶ء ص۶۱

۱۰۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ ’’ندوۃ العلماء اس عہد انقلاب میں اس کاکام اور اس کا پیغام‘‘ مطبوعہ سلسلہ ندوۃالعلماء ۱۹۵۵ء ص۸

۱۱۔پروفیسر رشید احمد صدیقی ’’عزیزان ندوہ‘‘ کے نام مطبوعہ دارالعلوم ندوۃ العلماء ص۱۶

۱۲۔ڈاکٹر عبیداللہ فہد ’’مدارس اسلامیہ کی دینی ودعوتی خدمات‘‘ مطبوعہ ادارہ علمیہ جامعۃالفلاح اعظم گڑھ ۲۰۰۶ء ص۹۶

۱۳۔ سورۃالبقرۃ۱۱۰

۱۴۔ مولانا ضیاء الدین اصلاحی’’ مسلمانوں کی تعلیم ‘‘مطبوعہ معارف پریس اعظم گڑھ ۲۰۰۶ ء ص ۷۹

۱۵۔ بحوالہ شمشاد علی قاسمی’’ تاریخ درس نظامی ‘‘مطبوعہ مجمع البحوث والاسلامیہ بلاسپور مظفر نگر (یوپی )بار دوم ۱۹۹۴ء ص ۷

۱۶۔ مولانا وارث مظہری’’ مدارس میں تصنیف وتحقیق کی صورتحال کا ایک جائزہ ‘‘افکار ملی دہلی اکتوبر ۲۰۱۳ء ج۲۸ ش ۱۰ ص۴۹

ستمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau