معاشرتی تبدیلی میں اسلامی تحریکات کا مطلوبہ کردار

سید احمد مذکر

عام طور پر تحریکات کا ہدف ہوتا ہے معاشرہ میں بنیادی تبدیلی (fundamental social transformation) برپا کرنا جو اس معاشرہ کے رائج پیمانے (paradigm) کو بدل کر رکھ دے۔ ظاہر ہے کہ اسلامی تحریکات یہ تبدیلی اسلامی خطوط پر چاہتی ہیں۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کا منشا اور مقصد کیا ہے، اور اسلامی تحریکات اس حوالے سے کیا اہداف رکھتی ہیں ؟

اسی سے جڑے ہوئے چند مزید نکات کی وضاحت بھی درکار ہے۔ معاشرتی تبدیلی (social transformation) کیسے برپا ہوتی ہے؟ اور تحریکات کا اس ضمن میں کیا کردار ہوتا ہے یا ہونا چاہیے؟ آسانی کی خاطر اگر مذکورہ نکات کی ایک فہرست بنالی جائے تو ربط کے لیے اس کی ترتیب یوں رکھی جا سکتی ہے:

  • اسلام کا مقصد اور منشا کیا ہے؟
  • اسلامی تحریکات کا ہدف کیا ہے؟
  • معاشرتی تبدیلی کیسے برپا ہوتی ہے؟
  • اسلامی تحریکات کا کیا کردار اس ضمن میں ہونا چاہیے؟

اسلام کا مقصد اور منشا

اسلام وہ راستہ ہے جو خالقِ کون و مکاں نے انسان کی فلاح، نجات اور سلامتی کے لیے دیا ہے۔ یہ ایک مکمل نظریۂ وجود و حیات ہے جس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لیے ہدایت و رہ نمائی ہے، چاہے وہ فرد سے متعلق ہو یا اجتماعیت سے۔ الٰہی ہدایت کی اتباع ہی دنیاوی فلاح اور اخروی نجات کی ضامن ہے۔

اسلام کا پیغام یہ ہے کہ انسانوں کا وجود حادثاتی نہیں ، بلکہ ان کا ایک خالق ہے۔ اس خالق نے انسانوں کے وجود کا ایک عظیم مقصد رکھا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہدایت بھی دی ہے اور ساتھ ہی یہ آزادی بھی کہ چاہے مقصد کے حصول کے لیے اپنی زندگی صرف کرے یا اس سے روگردانی کرے۔ لیکن دنیاوی فلاح اور اخروی نجات صرف اور صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں جب الٰہی ہدایت کی اتباع اور بندگیٔ رب کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اور اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے جو ابدی ہوگی اور جس میں اس بات کا حساب دینا ہوگا کہ دنیوی زندگی اس عظیم مقصد کے لیے صرف کی تھی کہ نہیں اور اسی کے مطابق مابعدِ موت کی ابدی زندگی میں جزا یا سزا کا معاملہ کیا جائے گا۔

اسلامی تحریکات کا ہدف

‘اسلام چونکہ اس بات کی بھی ہدایت دیتاہے کہ جب کوئی اس نعمت سے بہرہ ور ہو تو اس پر یہ بات فرض ہوجاتی ہے کہ دوسرے انسانوں کو بھی بندگیٔ رب کی طرف بلائے۔ مزید برآں تمام مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو الٰہی ہدایت کے سانچے میں ڈھال لیں۔

اسلامی تحریکات کا بھی یہی ہدف ہوتا ہے کہ اسلام جو ایک نظریۂ حیات ہے اور جس کا اپنا مکمل اور واضح ضابطۂ زندگی ہے، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق لوگوں کی ذہن سازی اور رویوں کی تربیت کریں اور اس کو پورے معاشرے میں بہ تمام و کمال قائم کرنے میں لوگوں کی مدد کریں۔

معاشرتی تبدیلی

ہر عمل کے اپنے حرکیات (dynamics) ہوتے ہیں اور ان کا صحیح ادراک اس عمل کی درستی و کامیابی کا فیصلہ کرتا ہے۔ معاشرتی تبدیلی کے بھی اپنے حرکیات ہیں۔ ان کاادراک اسلامی تحریکات کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے اور اس سے لا علمی اسلامی تحریکات کے لیے مہلک ہو سکتی ہے۔

معاشرےکی اصل (core) سماج اور اس میں بسنے والے افراد ہیں۔ سیاست اور معیشت سماج کے شاخسانے ہیں۔ اگر کسی سماج میں تبدیلی برپا کرنی ہو تو پھر معاشرے کے عقائد، نظریات، انفرادی اور اجتماعی رویے اور اقدار بدلنے ہوں گے۔ پھر اس تبدیلی کے اثرات کا انعکاس سیاست اور معیشت میں تدریجاً ہونے لگے گا۔ یہاں یہ غلط فہمی نہ پیدا ہو کہ سیاست یا معیشت کا کوئی دخل یا اثر سماج میں نہیں ہوتا بلکہ یہاں بس اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ جڑ اور تبدیلی کا بنیادی عنصر (primary factor of change) معاشرہ ہے۔ اس کی اہمیت آگے اجاگر ہوگی۔

مذکورہ بالا امر کی کئی مثالیں ہیں : جب سرمایہ داری پھیلنےلگی تو ابتدا میں معاشرتی قدروں اور رویوں میں تبدیلی لائی گئی جو سرمایہ داری کے عروج کو ممکن بنا سکی۔ قدروں میں تبدیلی یوں آئی کہ کامیابی اور ناکامی کا معیار مادی علامات اور عناصر پر محمول کیا گیا جس سے مادہ پرستانہ ذہنیت پروان چڑھنے لگی۔ رویوں میں تبدیلی یوں ہوئی کہ مادہ پرستی لوگوں کو صارفیت کی طرف مائل کرنے لگی۔ اسی طرح تاریخ میں ہر تبدیلی کا سرا معاشرتی تبدیلی میں ڈھونڈ نکالا جا سکتا ہے۔

معاشرتی تبدیلی کے برپا ہونے میں بہت سارے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ لیکن پانچ بنیادی عوامل ہیں جو کلیدی حیثیت رکھتے ہیں :

سماجی ارتباط (social engagement): جب کوئی تحریک اپنے پیغام کے فروغ، اس کی قبولیت اور معاشرہ میں نموذجی تبدیلی( paradigm shift) برپا کرنے کے لیے اٹھے تو اس کے لیے سماجی ارتباط شرطِ لازم ہے۔

صلاحیت سازی (capability generation): معاشرے میں ذہن سازی کا کام ہو یا مختلف میدانوں ، محاذوں یا اداروں کی قیادت، اس کے لیے صلاحیت مند افراد کی تیار ی ضروری ہے۔

استعداد سازی (capacity building): پیغام کی نشرو اشاعت مقصود ہو یا ذہن سازی، اس کے لیے پہنچ (outreach) ضروری ہے۔ اور پہنچ بڑھانے کے لیے نیز عوام میں نفوذ اور ان کے درمیان اپنے مقصد کو مستحکم (mobilization) کرنے کے لیے معاشرے کے اندر استعداد سازی لازم ہے۔

استعداد سازی کی دو شکلیں ہیں : ادراہ جاتی استعداد سازی(institutional capacity building) اور سماجی استعداد سازی (social capacity building)۔ اور یہ دونوں ہی یکساں طور پر ضروری ہیں۔

قیادت سازی: معاشرتی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کرنے اور تحریک کے دماغ کا کام کرنے کے لیے قیادت درکار ہے اور بغیر قیادت مہیا کیے معاشرتی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

بیانیہ: سب سے بنیادی تو وہ پیغام ہے جس پر مبنی یہ سماجی تبدیلی لانی ہے۔ اس پیغام کے پیشِ نظر اس معاشرے کے مخصوص ظروف (context) کوملحوظ رکھتے ہوئے ااور اس کی مناسبت سے ایک خاص بیانیہ ترتیب دینا ہوگا اور یہ بیانیہ اس معاشرہ کے لیے معنویت (relevance) کا حامل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بیانیہ استمراری (enduring) بھی ہو ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی معنویت ماند پڑ جائے گی۔

کسی بھی تحریک کو چاہیے کہ ان اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے لائحۂ عمل(strategy) کو تشکیل دے۔ جب معاشرے میں تحریک کی جڑیں مضبوط ہوں گی تو اس سے حاصل ہونے والا سماجی سرمایہ (social capital) استعمال میں لایا جا سکتا ہے اور اس کو سیاسی سرمایہ (political capital) اور معاشی سرمایہ (economic capital) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہیں پہ معاشرتی استعداد سازی اور ادارہ جاتی استعداد سازی سماجی سرمایہ مہیا کرنے کے کام آتی ہے۔

اسلامی تحریکات کا کام

و على العاقل أن یكون بصیراً بزمانه اسلامی تحریکات کی کامیابی کا انحصار نہ صرف ان کے پیغام کی سچائی پر منحصر ہے۔ بلکہ کچھ شرائط اور حرکیات پر بھی ہے جو کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ ان کا عدم ادراک باوجود اپنے پیغام کی سچائی کے، ہماری کاوشوں کو غیر مؤثر اور ادھورا چھوڑ دے گا۔

اسلامی تحریکات اور بالخصوص تحریکِ اسلامی ہند کو کیا کرنا چاہیے؟ اس امر کو طے کرنے سے پہلے جائزہ لینا ہوگا کہ فی الحال تحریکِ اسلامی کیا کر رہی ہے اور وہ مذکورہ بالا حرکیات کی روشنی میں کہاں تک صحیح خطوط پر گامزن ہے۔

مذکورہ بالا پانچ اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو تحریک کے تین حصے بنتے ہیں : بیانیہ، ہیئت (structure) اور لائحۂ عمل (strategy)۔ یہ تینوں باہم مربوط ہیں۔ بیانیہ ہمارے پیغام اور فکر کی ترجمانی کرتا ہے، لائحۂ عمل اس کو مطلوبہ تبدیلی کا جامہ پہناتا ہے، اور تحریک کی ہیئت اس عمل (process) کی تسہیل (facilitation) کا کام کرتی ہے۔

بیانیہ: جہاں تک بیانیے کا تعلق ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ اصل اور فرع۔ بیانیے کی اصل راست ہمارے پیغام سے جڑی ہوتی ہے اور یہ جامد (immutable) ہوتی ہے اور اس میں کوئی لچک نہیں ہو سکتی۔ فروع البتہ سیاق و سباق پر منحصر ہیں جن میں حالات کے حسبِ حال لچک ہو سکتی ہے۔ اصل اور فرع کا فرق داعی اور مدعوین ہر دو کے نزدیک روزِ روشن کی طرح واضح ہونا چاہیے۔ لیکن جب تک کہ یہ توضیح نہیں ہو جاتی کہ اصل اور فرع کے درمیان کہاں خطِ فاصل (line of distinction) کھینچنی ہے، تب تک بدلتے حالات میں تحریک سے یا تو عدم لچک (rigidity) یا پھر حالات کے دباؤ میں متضاد رویے سرزد ہوتے رہیں گے۔ اول الذکر صورت میں ہماری معنویت ختم ہو کے رہ جائے گی اور آخر الذکر میں ہم لوگوں کی نگاہ میں غیر معتبر اور بہروپیہ ٹھہریں گے۔

بیانیے کی درستی کا انحصار جتنا اس کی فکری بنیادوں پر ہے، اتنا ہی علمی بنیادوں پر بھی ہے۔ کہاں اصل اور فروع کے درمیان خط فاصل کھینچنا ہے، یہ بھی علمی طور پر ہی طے ہو سکتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے دنیا بھر کے اسلامی تحریکات میں شاید تحریکِ اسلامی ہند علمی کاوشوں میں سب سے پیچھے ہے اور تحریک کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ا س کی اپنی تاریخ ہے۔ علمی بنیادوں کی کمی یا فقدان بیانیے کی قبولیت پر گہرا منفی اثر ڈالتا ہے۔

تحریک اسلامی ہند کا بنیادی بیانیہ یہ رہا ہے کہ اسلام ہی صحیح راہِ فلاح و نجات ہے اور اس کا اپنا مکمل نظامِ زندگی ہے، اور اس نظامِ زندگی کے قیام (اقامتِ دین) کے لیے لوگوں کو آمادہ اور تیار کرنا ہے۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اقامتِ دین اصلاً پورے معاشرے کا کام ہے، نہ کہ محض جماعتِ اسلامی کا۔

اس اہم نکتہ سے کئی اہم نکات اجاگر ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اقامتِ دین کا کام پورے معاشرے کا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کام کے لیے معاشرے کو (ا) آمادہ، (ب) تیار کرنا جماعت کا کام ہے۔ تیسرا یہ کہ ان کاموں کے لیے ہم معاشرے میں اپنی پہنچ بڑھائیں اور چوتھا یہ کہ پہنچ بڑھانے کے لیے مستقبل ارتباط ضروری ہے۔ مذکورہ بالا کا تعلق لائحۂ عمل سے ہے، جس پر بعد میں آتے ہیں۔ پہلے بیانیے کے متعلق گفتگو سمیٹتے ہیں۔

فلسفے کی زبان میں بات کریں تو اسلام کی قدر اعلیٰ (summum bonum) سلامتی (peace) ہے۔ یہ سلامتی ہمہ جہت اور وسیع المعنی سلامتی ہے جو ہر ایک پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اسلام کا مقصد ہے کہ انسان کو ہر اعتبار سے سلامتی سے ہم کنار کرے۔ چاہے تعلق بندے اور خدا کے درمیان ہو، انسانوں کے مابین ہو، فرد اور اجتماعیت کے مابین ہو، انسان کا اپنے ماحول اور دیگر مخلوقات کے ساتھ ہو یا پھر انسان کا اپنے نفس ہی کے ساتھ ہو، اسلام ہر پہلو سے اس کو سلامتی سے ہم کنار کرانا چاہتا ہے۔

سلامتی کے حصول کے لیے ضروری ہے معاشرے میں انصاف قائم رہے۔ (اسی لیے انصاف کا قیام بھی مقاصدِ اسلام میں سے ایک گردانا گیا ہے۔ ) اور انصاف اسی وقت معاشرے میں قیام پذیر ہوگا جب لوگوں کے دلوں میں رحم کی صفت گھر کرلے۔ اور رحم اور مرحمہ کا سلسلہ صرف اور صرف اسی وقت معاشرے میں دراز ہو سکتا ہے جب انسان خدا کے آگے مکمل سرافندوگی اور سپردگی کرے اور الٰہی ہدایت کے سانچے میں اپنی زندگی کو ڈھالے اور تربیت دے۔ اسی لیے اسلام میں فرد کی تربیت (تہذیب الفرد) کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس سے چار اصول بنتے ہیں جو ہمارے بیانیے کی اصل ہوں گے اور دیگر فروعات انھیں کے گرد گردش کریں گی، نیز ان کے حصول کی تسہیل کا کام انجام دیں گے:

حصولِ سلامتی

  • قیام قسط
  • انشائے رحمت
  • تہذیب الفرد

جب ہم اپنے موجودہ بیانیے کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف ظاہر ہو تاہے کہ کمیاں کہاں رہ گئی ہیں۔ ہمارے ڈسکورس میں اور ہمارے کاموں میں انشاےرحمت والا پہلو بہت محدود اور برائے نام رہتا ہے۔ جبکہ اس کا بہت ہی کلیدی مرتبہ ہے۔ اس پوری گفتگو کی روشنی میں ہمیں اپنے بیانیے کی فکری اور علمی بنیادوں کی درستی پر توجہ دینی چاہیے۔

ہیئت اور لائحۂ عمل

ہمارا کام معاشرتی تبدیلی لاناہے اور اس کا تعلق پورے معاشرے سے ہے۔ چاہے اصلاح و تربیت و دعوت ہو، قیامِ عدل و قسط ہو، انشاے رحمت ہو یا حصولِ سلامتی ہو ان میں سے ہر ایک کا تعلق سبھی انسانوں سے ہے۔ انسانوں تک پہنچنے کےلیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ ربط و ارتباط کا سلسلہ قائم کیا جائے۔ جب تک ارتباط نہ ہو ان کے دلوں میں گھر کرنا اور ان کو اپنے حلقۂ اثر میں لانا ممکن نہیں۔

انسانوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے لیے واقعی ہمارے دلوں میں ہم دردی کا جذبہ پایا جائے۔ جب تک ہم دردی کا یہ مظاہرہ عملاً نہ ہو، تب تک یہ جذبہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم دردی کا عملی مظاہرہ لوگوں کی داد رسی، فریاد رسی، نفع بخشی (نافعیت) کی شکل میں نہ ہو تو ہماری ہم دردی ایک کھوکھلے دعوے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہمارے کاموں کا کتنا حصہ اس پہلو پر صرف ہوتا ہے یہ ہمیں دیکھنا چاہیے۔ بےلوثی کی مہر لوگوں کے دلوں میں اسی وقت ثبت ہو سکتی ہے جب ہم ان کے لیے نافعیت کا پہلو اپنے ارتباط میں اجاگر رکھیں۔

ہمارا ہدف معاشرتی تبدیلی ہے اور ہمارا مخاطب پورا معاشرہ ہے۔ لیکن ہماری مرکزی توجہ ہمیشہ مسلم معاشرے اور ملی مسائل رہے ہیں۔ مزید برآں ہم اس میں بھی زیادہ توجہ سیاسی پہلو کو دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ کام وسیع تر معاشرے میں اور غیر مسلموں کے درمیان ہونا چاہیے تھا وہ بہت ہی محدود اور غیر مؤثر ہو کے رہ گیا۔ اس سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا کہ ملی مسائل بھی تحریک کی سرگرمیوں کا حصہ ہونا چاہئیں۔ چونکہ ہم تکثیری سماج میں رہتے ہیں اور ہمارا پیغام وسیع تر معاشرے کے لیے ہے، اگر ہماری شناخت یہ بن کر رہ جائے کہ تحریک ملی تنظیم ہے تو یہ بات اس وسیع تر معاشرے میں عظیم پیغام کی تبلیغ و دعوت کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے ہمیں یہ کام بحیثیتِ تحریک غیر مرکوز (decentralized) انداز میں کرنا ہوگا تا کہ یہ کام بھی ہوں اور ہماری داعیانہ پوزیشن بھی متاثر نہ ہو۔

ہمارے یہاں ا س بات کی وضاحت ہے کہ اقامتِ دین کا عمل فرد کی تربیت، معاشرے کی اصلاح اور پھر ریاست کی تشکیل کے ترتیب سے ہونا ہے۔ لیکن عملاً ہمارا مرکزِ توجہ طاقت اور سیاست رہا ہے۔ یہاں اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ معاشرہ، معیشت اور سیاست اسلامی تحریکات کی کاوشوں کا ہدف ہونا چاہیے، لیکن بات وہیں پہنچتی ہے کہ کہاں ، کیا اور کتنی توجیہ ہونی چاہیے۔ اس بات کے لیے پھر ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم سیاق و ظروف کے تقاضوں کو سمجھیں اور اس کے ساتھ ساتھ زمانہ کی حرکیات کا ادراک بھی رکھیں تا کہ درست توجیہ کا فیصلہ کیا جائے۔

جن چیزوں کا عدم ادراک ہماری سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے ان میں سے ایک سیاست بھی ہے۔ طاقت اور سیاست کا ہمیشہ سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ جمہوری طرزِ سیاست سے پہلے طاقت کا حصول (zero-sum game) ہوتا تھا۔ مقابل قوتوں میں کسی ایک کی جیت دوسرے کے لیے موت کا پیغام ہوتی تھا۔ جمہوریت نے ا س خونیں حرکیات کو بدل دیا۔ جمہوریت میں یہ ہونے لگا کہ اقتدار اب متبادلانہ (alternating) ہونے لگے۔ اور اس کے لیے مختلف طریقے تجویز کیے گئے۔ اس کا سب سے بڑا اثر یہ پڑا کہ اب مختلف مقابل سیاسی قوتوں کو اب ایک منضبط (controlled) انداز میں اقتدار کے دورانیے کا پابند کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاشرے کا (status quo) برقرار رکھنے اور بار بار انتشار پھیلنے سے معاشرہ کو بچانے کے لیے مقابل سیاسی قوتوں کو(co-opt) کیا گیا۔ اس لیے جمہوریت میں (status quo) کی حفاظت کو اس کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ جمہوریت میں ‘حکومت کی راہ سے ریاست (state) ‘ کی سرشت (basic character) کو بدلنا تقریباً نا ممکن ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس طرزِ سیاست سے بوجوہ استفادہ تو اٹھایا جا سکتا ہے لیکن خاص اسی راہ سے نظام کی تبدیلی نہیں ہو سکتی جس کی خواہاں اسلامی تحریک ہے۔ یہ سمجھناکہ راے عامہ ہموار کر کے اسلامی انقلاب لایا جا سکتا، ایک مغالطہ ہے۔

سیاست یا سیاسی فعالیت (activism) کی کئی پرتیں (layers) ہوتی ہیں۔ سیاست کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ایک انتخابی سیاست (electoral politics) ہے۔ انتخابی سیاست نہ کل سیاست ہے اور نہ ہی سیاسی فعالیت کا سب سے اہم جز۔ اور نہ ہی انتخابی سیاست کی گردش معاشرے کی فکر سازی کی علامت ہے۔ انتخابی سیاست کی اپنی ضرورت اور افادیت ہے لیکن اس پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے۔

جدید جمہوری ریاستوں میں طاقت کا اصل منبع عوام یا معاشرہ ہے۔ اگرچہ ریاست اور سیاسی قوتیں اس بات کی تگ و دو میں رہتی ہیں کہ عوامی قوت کو گھٹایا یا محدود رکھا جائے۔ بہر حال معاشرہ اور عوامی قوت کو مرکزی حیثیت ہے اور جتنی سماجی استعداد سازی کی جائے اور سماجی سرمایہ بڑھایا جائے اتنا ہی سیاسی اور معاشی فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور جب معاشرے کی سرشت تبدیل کی جائے تو اس کا انعکاس سیاسی اور معاشی دائروں میں بھی بڑھے گا۔ یہاں اس بات کا بھی اعادہ ہو جائے کہ سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت سے انکار نہیں لیکن یہاں حرکیات کے پیشِ نظر توجیہات اور ترجیحات پر بحث ہے۔

ظاہر ہے جب اتنا بڑا کام جس میں اتنی ساری گہرائیاں اور نزاکتیں ہوں تو کسی تنظیمی پلیٹ فارم سےنہ سبھی کام ممکن ہیں نہ ضروری۔ اس پر مزید یہ کہ کئی ایسے کام بھی ہیں جو بیک وقت ضروری بھی ہیں لیکن ہمارے بنیادی پیغام کے لیے مہلک بھی۔ ایسے میں بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ہماری تحریکی ہیئت غیر مرکوز (decentralized) ہو اور ہمارے کام بھی غیر مرکوز انداز سے انجام پائیں۔

اس کے کئی فوائد ہیں لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہماری پہنچ بڑھے گی، جس سے ہمارا ارتباط بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں حلقۂ اثر پھیلے گا اور ہماری کاوشیں مؤثرہوں گی۔

ان سارے مباحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے تحریکِ اسلامی کو درپیش بنیادی کام یہ ہیں :

۱.تحریکِ اسلامی، اسلامی تعلیمات پر مبنی جو بیانیہ تیار کرے اس میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اس میں سماجی معنویت (social relevance) ہو۔ ورنہ ہوگا یہ کہ ایک طرف تحریک اپنا بیانیہ الاپتی رہے گی اور دوسری طرف سماج اسے کسی بے سری دھن کی طرح نظر انداز کرتا رہے گا۔

۲.اسی سے جڑی ایک اور بات یہ ہے کہ سماجی ارتباط شماریات تک نہ ہو بلکہ اثرپذیر (impactful) ہو۔ اگر اثر پیدا نہیں ہو رہا ہے تو ہمارے ضوابطِ ارتباط (terms of engagement) پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ اثر پیدا نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جس میں ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہماری کوششوں کا بڑا حصہ تنظیمی کارکردگیوں میں صرف ہو جاتا ہے۔

۳.سماجی استعداد سازی (social capacity building) بھی ہماری کوششوں کا جزوِ لازم ہونا چاہیے۔ معاشرےمیں تحریک کی معنویت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب معاشرہ کو راست ہم سے کوئی فائدہ ملے۔ اور معاشرےکی استعداد سازی، معاشرےکی تعمیر کا اہم اور فطری طریقہ ہے جہاں ہم اپنے آپ کو اور اپنے پیغام کو معاشرہ میں تعلق (relevant) بنا سکتے ہیں۔ اور اگر یہاں اس کام میں اپنے تیار کردہ افراد قیادت کرنے لگیں تو یہ کام اور آسانی سے انجام پا سکتا ہے۔ یہاں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ادارہ جاتی استعداد سازی، صلاحیت سازی، سماجی استعداد سازی وغیرہ صرف ہماری تنظیمی یا ملی ضرورتوں یا فائدے کے لیے محدود نہ ہوں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی مجموعی ضرورتوں کے فائدے کے لیے ہوں۔ جب تک تحریکِ اسلامی معاشرے کی تعمیر میں حصہ نہ لے گی، تب تک وہ نہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتی ہے اور نہ ہی معاشرہ کو اپنے فکری سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔

۴.سارے کام ایک ہی تنظیم کے نہ کرنے کے ہوتے ہیں نہ بس میں ہوتے ہیں۔ سماجی تحریک ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ مختلف عوامل اور عناصر مل کر ایک مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مربوط (coordinated) انداز میں اجتماعی کوشش کریں۔ تحریک کی اصل تنظیم اگر ہر ایک کام کرنے لگے تو کوئی ایک بھی کام کما حقہ انجام نہیں پا سکتا۔ اس لیے لازم ہے کہ غیر مرکوز (decentralized) انداز میں کام ہو جس میں اصل تنظیم بنیادی کام پر توجہ دے اور دیگر کام اس کی مختلف شاخیں اختصاص (specialization) کے ساتھ انجام دیں۔

یہ وہ چند اہم نکات تھے جن کی طرف توجہ مبذول کرانا مقصود تھا۔ درپیش حالات شدت سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تحریکِ اسلامی ہند مستقبل کے لائحۂ عمل پر غور کرے اور بدلتے منظر نامے کی مناسبت سے تبدیلیاں لائے۔ اور اس بات کا خیال رہے کہ یہ تبدیلیاں سطحی قسم کی نہ ہوں بلکہ بنیادی قسم کی ہوں اور اس میں حالات و ظروف اور معاصر دنیا کی حرکیات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔

اپریل 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau