اس وقت ملک میں جو حالات ہیں، ہم انہیں کس زاویۂ نگاہ سے دیکھیں؟ کیا ہم انہیں بہتری کی علامت سمجھیں یا بگاڑ کی؟ کیا یہ تعمیر کا زمانہ ہے یا تخریب کا؟ اگر واقعی معاشرے میں تعمیر ہورہی ہے تب تو یہ خوشی کی بات ہے، لیکن اگر ہر طرف تخریب و انتشار کے آثار نمایاں ہوں تو یہ ہمارے لیے تشویش اور فکرمندی کا مقام ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن بدامنی کے سائے چاروں طرف پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم انصاف کے خواہاں ہیں، مگر ظلم و زیادتی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ محبت اور ہمدردی کا ماحول قائم ہو، لیکن نفرت، تشدد اور سفاکیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ ملک کی موجودہ صورتِ حال بالکل اطمینان بخش نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
ہماری رائے میں موجودہ صورت حال کے تین بڑے اور بنیادی پہلو ہیں:
1۔فکری بحران (Intellectual Crisis)
فکری بحران سے مراد یہ ہے کہ آج ہمارے سماج کی تشکیل افواہوں، جھوٹی خبروں اور منظم پروپیگنڈے کے زیرِ اثر ہورہی ہے۔ لوگوں کے خیالات، رجحانات اور فیصلے حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ سنی سنائی باتوں اور پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی بنیاد پر بن رہے ہیں۔ اس فکری بگاڑ نے سماج کے ذہنی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اسی فکری بحران کی ایک سنگین صورت یہ ہے کہ ہمارا ملک اپنی شناخت کے بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ آزادی کے وقت بڑی محنت اور جدوجہد کے بعد جس قومی شناخت کو تشکیل دیا گیا اور جسے دستورِ ہند میں محفوظ کیا گیا، جس میں انصاف، مساوات، آزادی، اخوت اور انسانی وقار جیسے اعلیٰ اصول شامل کیے گئے، آج اس شناخت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
یہ ملک کس کا ہے؟ کیا یہ صرف ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا ملک ہے یا یہ ان سب لوگوں کا ہے جو یہاں بستے ہیں۔ ہندو، مسلمان، عیسائی، دلت، آدی واسی اور دوسرے تمام مذاہب و طبقات کے افراد؟
دستور تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ یہ ملک اپنے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے، لیکن بدقسمتی سے آج ایک طاقتور طبقہ یہ تصور عام کرنے میں لگا ہوا ہے کہ یہ ملک صرف ایک ہی مذہبی گروہ کا ہے۔ یہ فکری انحراف آج ہمارے اداروں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہو، الیکشن کمیشن ہو، عدلیہ ہو یا تحقیقاتی ایجنسیاں، تمام ادارے اس نفرت انگیز فلسفے کی مہم کی زد میں آتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ فکری بحران صرف ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
2۔اخلاقی بحران (Moral Crisis)
اخلاق و کردار کسی بھی سماج کی اصل بنیاد ہوتے ہیں اور اس بنیاد کا سب سے پہلا مرکز انسان کا اپنا خاندان ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج ہمارے گھروں میں نئی نسل کی کس حد تک تربیت ہو رہی ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کے اندر اخلاص، دیانت، حیا، سچائی اور کردار سازی کا شعور پیدا کر پا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس محاذ پر ہمارا خاندان اور ہمارا معاشرہ دونوں کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا بڑا مرکز ہمارے تعلیمی ادارے ہیں: اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور دوسرے تعلیمی کیمپس۔ یہی ادارے قوم کے معمار تیار کرتے ہیں۔ یہیں سے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، جج، آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران تیار ہوتے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ان اداروں سے نکلنے والے افراد کا عمومی اخلاقی معیار کیا ہوتا جا رہا ہے؟ بعض ڈاکٹروں کا رویہ مریضوں کے ساتھ کیسا ہے؟ بعض افسران کا طرزِ عمل عوام کے ساتھ کیا ہے؟ عدالتی نظام کی ساکھ کس طرح متاثر ہو رہی ہے اور بازار و تجارت میں اخلاقی قدریں کس تیزی سے پامال ہو رہی ہیں؟۔ سیاست داں، جو عوام کے لیے قانون بناتے ہیں، ان کا آج کے سماج میں اخلاقی مقام کیا ہے؟ یہ ان کے موافق و مخالف سب جانتے ہیں۔
3۔معاشی بحران (Economic Crisis)
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور خوش حالی بڑھ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض شعبوں میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ملک کی صرف ایک فیصد آبادی کے پاس ملک کی تقریباً چالیس(40) فیصد دولت جمع ہو چکی ہے۔ دس فیصد آبادی کے پاس چھیاسٹھ(66) فیصد دولت ہے، جبکہ پچاس فیصد آبادی کے حصے میں صرف چھ (6) فیصد دولت آتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف بے گھری، بے روزگاری، تعلیم کے مسائل اور علاج معالجے کی مشکلات ہیں اور دوسری طرف دولت کے انبار ہیں جن پر کچھ مخصوص طبقات قابض ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دولت واقعی ملک کے باشندوں کی ہے، یا چند طاقتور افراد کی جاگیر بن چکی ہے؟ یہ معاشی ناانصافی صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ دلت، آدی واسی، پسماندہ طبقات اور ملک کے دوسرے کمزور طبقے بھی اسی طرح اس ظلم کا شکار ہیں۔ یہ ملک کے تمام شہریوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
منظّم فرقہ وارانہ دباؤ
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی کو منظم طریقے سے ہوا دی جارہی ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ہے کہ ہندوستان کا پورا ہندو سماج برا نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک طاقتور طبقہ ضرور ہے جو یہ نظریہ پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو اس ملک میں کچل دیا جائے، ان کی حیثیت کمزور کردی جائے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے۔
اس کا ایک رخ مسلمانوں کے مادی وجود کو نقصان پہنچانا ہے: تعلیم میں رکاوٹیں، یونیورسٹیوں پر دباؤ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، جوہر یونی ورسٹی، الفلاح یونی ورسٹی جیسے اداروں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔ روزگار، تجارت اور معاشی مواقع میں رکاوٹیں، سوشل اور اکنامک بائیکاٹ اور لنچنگ جیسے واقعات اسی ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔ اس مہلک رویے کی جڑ دراصل یہ سوچ ہے کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے اور وہ ہمارے نہیں ہیں‘‘۔ جب کسی گروہ کو یہ باور کرادیا جائے کہ دوسرا اس ملک کا حق دار نہیں، تو پھر اس پر ظلم کرنا جرم نہیں بلکہ ثواب سمجھا جانے لگتا ہے۔
دینی و تہذیبی شناخت پر حملے
مسلمانوں کے خلاف دباؤ کا دوسرا اور نہایت خطرناک رخ ان کی دینی اور تہذیبی شناخت کو مٹانے کی کوشش ہے۔ یہ روش صرف معاشی یا تعلیمی میدان تک محدود نہیں ہے، بلکہ براہِ راست ان کے دین، عبادت گاہوں، تہذیب، زبان اور مذہبی علامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں مسجدوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ کہیں درگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہیں قبرستانوں پر دعوے کیے جا رہے ہیں۔ کہیں مدارس کے وجود کو مشکوک بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اردو اور عربی جیسی زبانیں، جو مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کی علامت ہیں، ان کے اثر کو کم کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ داڑھی، ٹوپی، حجاب اور مذہبی شناخت کی دوسری علامتیں بھی نشانہ بن رہی ہیں۔ عام آدمی سے اگر ایسی زیادتی ہو تو وہ بھی قابلِ مذمت ہے، لیکن جب کسی ریاست کے ذمہ دار منصب پر فائز شخص کی طرف سے حجاب نوچنے جیسا عمل سامنے آئے تو یہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ پورے نظام کی اخلاقی پستی کی علامت بن جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ قانونی تحفظ حاصل ہے، اسے بھی کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہریت سے متعلق قوانین، یونیفارم سول کوڈ، وقف سے متعلق قوانین اور دیگر قانونی دفعات میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے ادارے، ان کی تہذیب اور ان کی مذہبی خودمختاری بتدریج کمزور ہوتی چلی جائے۔
موجودہ حالات میں صبر اور تقویٰ کی اہمیت
حالات کی اس سنگینی، دباؤ اور آزمائش کے درمیان مسلمان کیا کرے؟ ردِّعمل میں جذباتی ہو جائے؟ جلد بازی میں ایسے فیصلے کرے جو خود اس کے لیے نقصان دہ ہوں؟ یا قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسا راستہ اختیار کرے جو اسے سنبھالا بھی دے اور اس کے کردار کو بلند بھی کر دے؟ قرآنِ مجید میں ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اہلِ ایمان کی رہ نمائی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا (الانفال: 29)
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تمہیں فرقان عطا کرے گا۔‘‘
فرقان نورِ بصیرت ہے، حق اور باطل میں تمیز کی قوت ہے، صحیح اور غلط کو پہچاننے کی صلاحیت ہے اور مومن کی فراست ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے پہلی ضرورت یہی ہے کہ ہمیں فرقان نصیب ہو، یعنی صحیح تجزیہ، درست سوچ اور متوازن فیصلہ۔ یہ تقویٰ کا تقاضا بھی ہے کہ ہم حالات کو اللہ سے ڈرتے ہوئے صحیح صحیح بیان کریں۔ نہ ان کو ضرورت سے زیادہ خوف ناک بناکر پیش کریں اور نہ ان کی سنگینی کو کم کر کے دکھائیں۔ اگر حالات دس درجے کی سردی جیسے ہیں تو ہم انہیں بیس درجے کی سردی نہ بتائیں اور اگر بیس درجے کی سردی ہے تو دس درجے کی نہ کہیں۔ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے کہ حق بات کو نہ بڑھایا جائے اور نہ گھٹایا جائے۔
مشکلات سے نجات کا قرآنی وعدہ
قرآنِ مجید میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا۔ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطلاق: 23)
’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا۔‘‘
یہ تقویٰ صرف عبادت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ صحیح سوچ، صحیح تجزیہ، صحیح ردِّعمل اور صحیح کردار کا نام ہے۔ موجودہ حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ اسی تقویٰ کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر ہم تقویٰ سے محروم ہو گئے تو ہمارے فیصلے بھی غلط ہوں گے اور ہمارے ردِّعمل بھی ہمیں مزید نقصان پہنچائیں گے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (الطلاق: 4)
’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے معاملات میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔‘‘
کیا ہم آسانیاں نہیں چاہتے؟ کیا ہم مشکلات سے نجات نہیں چاہتے؟ قرآن ہمیں صاف بتا رہا ہے کہ اس کا راستہ تقویٰ سے ہو کر گزرتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صبر کمزوری کا نام ہے، لاچاری اور بے بسی کا نام ہے۔ حالانکہ قرآن صبر کو مومن کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں صبر کی تعلیم بار بار دی گئی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (البقرۃ: 153)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔‘‘
صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں ہے، بلکہ حالات کے دباؤ میں ثابت قدم رہنا، جذبات پر قابو رکھنا، اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا اور صحیح راستے سے نہ ہٹنا ہے۔ صبر مومن کو ٹوٹنے نہیں دیتا، بکھرنے نہیں دیتا اور اسے حالات سے مقابلہ کرنے کی قوت عطا کرتا ہے۔ قرآن نے صبر کرنے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ (البقرۃ: 177)
’’اور وہ لوگ جو تنگی میں، تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں۔‘‘
آزمائش کا قانون اور قرآنی رہنمائی
قرآنِ مجید ہمیں صاف صاف بتاتا ہے کہ اہلِ ایمان کو آزمائشوں سے ضرور گزارا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (البقرۃ: 155)
’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے، اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجیے۔‘‘
جب ہم قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہیں اور آج کے ہندوستانی حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت ہمارے ہی حالات کی ترجمانی کر رہی ہو۔ خوف بھی ہے، معاشی دباؤ بھی ہے، روزگار کی پریشانی بھی ہے، گھروں کے اجڑنے کا خطرہ بھی ہے اور جان و مال کے عدمِ تحفظ کا احساس بھی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سب کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ گھبرا جاؤ یا ہمت ہار دو، بلکہ فرمایا ہے کہ صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (آلِ عمران: 186)
’’اور تم ضرور سنو گے ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ بڑے حوصلے کے کاموں میں سے ہے۔‘‘
قرآن ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ طعن و تشنیع، الزام تراشی، بہتان، گالی، تمسخر یہ سب کچھ ہوگا۔ لیکن ایسے حالات میں صبر اور تقویٰ اختیار کرنا کوئی کمزوری نہیں بلکہ بڑے حوصلے اور بڑی ہمت کا کام ہے۔ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ مخالفین کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔ قرآن مجید ہے:
إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ۔ (آلِ عمران: 120)
’’اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو انہیں برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کا کوئی مکر تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے۔‘‘
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دشمن صرف عمل سے ہی نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ سے بھی کام لیتا ہے۔ وہ ہماری ناکامی پر خوش ہوتا ہے اور ہماری کامیابی سے جلتا ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے بڑی حفاظت صبر اور تقویٰ ہے۔ صبر اور تقویٰ صرف وقتی ردِّعمل کا نام نہیں، بلکہ یہ پوری شخصیت اور پوری قوم کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
تقویٰ اور صبرکا مفہوم
تقویٰ اللہ کی محبت، اس کی خشیت، اس کی عظمت اور حدودِ الٰہی کا احترام ہے۔ تقویٰ کا تعلق صرف نماز، روزہ اور عبادت سے نہیں بلکہ اخلاق، معاملات، ردِّعمل اور فیصلوں سے بھی ہے۔ اگر کسی مسلمان کے ساتھ ظلم ہوجائے تو کیا وہ جواب میں کسی بے گناہ کو نقصان پہنچانے کا جواز رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کہیں لنچنگ ہوجائے تو کیا اس کا جواب ایک اور لنچنگ ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ حدودِ الٰہی کا احترام یہی ہے کہ ہم ظلم کا جواب کسی اور ظلم سے نہ دیں۔
اسی طرح صبر پختہ عزم کا نام ہے، حوصلے کا نام ہے، ضبطِ نفس کا نام ہے، جلد بازی سے بچنے کا نام ہے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ صبر کا مطلب خاموش بیٹھ جانا نہیں، بلکہ اپنے مقصد پر ثابت قدم رہتے ہوئے مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلمان ہونا خود ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنا صبر اور تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں۔
جب ہم آج کے حالات کو دیکھتے ہیں اور قرآنِ مجید کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ گویا قرآن آج کے ہندوستانی مسلمانوں سے براہِ راست مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً (النساء: 89)
’’وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے وہ کفر کر چکے ہیں تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔‘‘
وہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے دین سے ہٹ جاؤ، اپنی شناخت چھوڑ دو، اپنی تہذیب سے کٹ جاؤ اور صرف معاشی دوڑ میں لگ کر اپنی روحانی بنیاد کھو بیٹھو۔ یہی اصل منصوبہ ہے۔ ایسے حالات میں قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ صبر کی روش اختیار کرو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آلِ عمران: 200)
(اے ایمان والو! صبر کرو، ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو، مورچوں پر ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔)
آخری بات
ہم کسی قوم پرستی کے قائل نہیں ہیں۔ ہم نہ ہندو قوم پرستی کو درست سمجھتے ہیں اور نہ مسلم قوم پرستی کو۔ کسی قوم کی برتری ہمارا مطمح نظر نہیں ہے۔ ہم صرف اور صرف اللہ کی برتری چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں حق کی برتری ہو، انصاف کی برتری ہو، اخلاق کی برتری ہو، اور انسانیت کی برتری ہو۔
صبر اور تقویٰ صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تعلیمی جدوجہد، سماجی خدمت، قانونی کوشش، سیاسی شعور اور سب سے بڑھ کر دعوتی جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ قرآن ہمیں ایک عظیم اصول دیتا ہے:
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ۔ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (حم السجدۃ: 34۔35)
(برائی کو بھلائی سے دفع کرو، پھر وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوجائے گا جیسے گہرا دوست اور یہ بات صرف انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور بڑے نصیب والوں کے سوا کسی کو نہیں ملتی۔)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس ملک میں صبر بھی عطا فرمائے، تقویٰ کی دولت بھی نصیب کرے، آنے والی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھے اور ہمیں اس ملک کے انسانوں کے لیے رحمت اور خیر کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔







