امت کی صورتِ حال

سلطان صلاح الدین ایوبی سے پہلے اور آج

ترجمہ: اشتیاق عالم فلاحی

تحریر: ڈاکٹر وصفی عاشور ابو زید

طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے سامنے امت جس بے بسی سے دو چار ہے، اس نے امت کے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کو روح فرسا گھٹن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مایوسی اور قنوطیت پھیلانے والے ایسے احساسات ہیں جن کے لیے مومن کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ قرآن نے واضح طور پر بتا یا ہے کہ یہ تو راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کی خاموشی اور عرب مقتدرہ کی سازباز کے زیرِ سایہ، ہمارے غزہ کے بھائیوں کے خلاف چار ماہ سے زائد عرصہ سے صیہونی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے لیکن عامۃ المسلمین کے سامنے آج کوئی ایسی سبیل نہیں ہے جس سے دشمن کی کی جارحیت کو روکا جا سکے اور مظلومین کی مدد کا سامان کیا جا سکے۔

سوال یہ ہے کہ کیا امت کی تاریخ میں پہلے بھی کبھی اس قسم کے حالات پیش آئے ہیں؟ کیا صلاح الدین ایوبی، جنھوں نے بیت المقدس کو آزاد کرایا، ان کے عہد سے پہلے امت کی جو حالت تھی وہ ہمارے آج کے حالات سے کچھ مماثلت رکھتی ہے؟ ارضِ مقدس کی آزادی کے لیے کس طرح کے اقدامات کیے گئے؟ صلاح الدین ایوبی نے مایوسی سے نکالنے کے لیے کیا کیا؟ ان کے عہد میں امت کی جو حالت تھی اس کا مداوا انھوں نے کیسے کیا؟ اس قسم کے سوالات کے جواب کی تلاش کے لیے ہمیں نہ صرف یہ کہ تاریخ کا مطالعہ اور تاریخی واقعات سے آگہی حاصل کرنی ہوگی بلکہ تاریخ کے اوراق سے سیکھے ہوئے سبق کے مطابق سعی وجہد بھی کرنی ہوگی۔ جو تاریخ کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے وہ اپنی عمر میں کئی عمروں کا اضافہ کر لیتا ہے جب کہ جس کا سینہ تاریخ کے شعور سےخالی ہو وہ زندگی کے تلخ و شیریں حقائق سے ناواقف رہ جاتا ہے۔

امت کا افتراق اور صلیبی تسلط

صلاح الدین ایوبی کی آمد سے قبل عالمِ اسلام کے خلاف صلیبی جنگی مہمات کا سلسلہ بہت ہی شدید تھا۔ چار دانگِ عام میں افرنگ (اس نام سے مورخین نے انھیں موسوم کیا ہے) کی چنگیزی، خو نریزی اور غارت گری برپا تھی، کھیتوں کو برباد کرنے اور انسانی نسل کو تباہ کرنے کا اس کا کھیل جاری تھا۔ ان جنگوں کے علی الرغم امت کے انتشار و تفرقہ میں اضافہ ہوتا رہا، بکھری امت سنبھلنے کے بجائے اور بکھرتی رہی اور صرف یہی نہیں بلکہ بعض مسلم حکم رانوں نے اپنی سلطنت کے چھن جانے کے خوف سے اور اہلِ فرنگ سے نوازش کی امید پر امت کے ساتھ خیانت کی اور حملہ آور جارح دشمن کا آلۂ کار بن گئے۔

آج ہم امت کے حال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی صورتِ حال صلاح الدین ایوبی سے پہلے کی صورتِ حال سے کافی مشابہ ہے۔ کم از کم ہماری عرب دنیا پر دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے قابض ہے، ہماری صفوں میں انتشار و افتراق ہے اور اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم مزید اختلاف و انتشار دیکھیں گے۔ یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے تو دسیوں سال پہلے سے تیاری اور منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آج ہمارے مشاہدے میں یہ حقیقت بھی ہے کہ بعض عرب حکمراں امت کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور دشمن کے آلۂ کار بن بیٹھے ہیں۔ چناں چہ آج وہ فلسطین کے خلاف سازشو ں میں مصروف ہیں، متاعِ دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور راہِ خدا میں جہاد کو فراموش کر چکے ہیں۔ ایسے حکم رانوں کو چاہیے کہ یا تو اپنے دین پر نظرِ ثانی کریں یا دینِ حق کی طرف لوٹ آئیں۔

اختلاف سے بالاتر ہو کر ایک مشترک وژن پر کام … مصلحین کی ٹیم

معرکۂ حطین جس میں بیت المقدس کی آزادی کے سفر کی تکمیل ہوئی، اس کا آغاز سلطان صلاح الدین ایوبی نے خلا میں نہیں کیا۔ یہ معرکہ تو ان بہت سی ربانی اور مبارک کاوشوں کا نقطۂ عروج تھا جو اس سے پہلے انجام دی گئیں، جن میں پیہم علمی و تربیتی جہاد، جہدِ مسلسل اور لا متناہی تگ و دو شامل تھی۔

اُس عہد کی نسل کی تیاری میں شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی کاوشوں کا تذکرہ ضروری ہے۔ ان کا سلوگن تھا ’’ الگ الگ فکری اور فقہی مسلک کے باوجود ہمار ا ہدف ایک ہے : صلیبیوں کے تسلط سے بیت المقدس کو آزاد کرانا‘‘، انھوں نے جو مشن اختیار کیا وہ تھا ’’ایمان کے سائے میں انسان کی تیاری‘‘۔ انھوں نے اپنے شیخ ابو حامد الغزالی کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بغداد میں مدرسہ قائم کیا اور ایک ایسی نسل تیار کی جس نے پورے عالمِ اسلامی میں پھیل کر مذکورہ سلوگن اور مشن کے ساتھ مزید 400 مدارس قائم کیے۔ شیخ جیلانی نے اوقاف کی صورت میں پھیلے مدارس کے اس نظام کوجاری رکھنے میں اپنے طلبہ کی مدد کی تاکہ ان اداروں سے عالمِ اسلام کے ایک اہم ہدف کی تکمیل میں مدد مل سکے۔ اس سے اوقاف کی اہمیت اور اہم اہداف کے حصول میں ان سے ممکنہ تعاون و مدد کی اہمیت کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔

پیہم جدو جہد سے وہ مشترک ویژن کی حامل ایک نسل تیار کرنے میں کام یاب ہوئے۔ خواتین کو اس جد وجہد کا لازمی حصہ سمجھا گیا۔ اردن کے مصنف ماجد عرسان کیلانی نے بیان کیا ہے کہ اس مدرسہ سے تقریبا800 خواتین نے تربیت پا کر سندِ فراغت حاصل کی۔ تعلیم و تربیت کی تکمیل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی۔ پھر نور الدین زنگی کا دور آیا۔ انھوں نے اس مبارک سفر کو منزل کی طرف آگے بڑھانے کی جد و جہد کی۔ فلسطین کی آزادی کے لیے انھوں نےصفوں میں اتحاد پیدا کیا اور آزادی کے لیے تربیتی و عسکری پہلو سے مطلوبہ اسباب فراہم کیے، لیکن وہ بھی آزادی کی صبح نہیں دیکھ سکے۔ پھر صلاح الدین ایوبی کا دور آیا۔ انھیں ہمہ جہت تربیت سے آراستہ ایک ایسی نسل میسر آئی جس کا ایک مشترک ویژن تھا، جو مضبوط ایمان کی دولت سے مالا مال تھی اور جسےبیت المقدس کی آزادی کے ہدف نے ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیںکہ آج امت کو عملِ پیہم اور ہمہ پہلو جد و جہد کا راستہ اختیار کرنےکی ضرورت ہے۔ امت کو ضرورت ہے افتراق، تعصبات، قومیتوں اور استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدی لکیروں سے بالا تر ہوکر کام کرنے کی تاکہ وہ مناسب وقت آ سکے جب امت جہاد کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہو اور بیت المقدس کو اسی طرح آزاد کرا سکے جس طرح سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے آزاد کرایا تھا۔

بیت المقدس کی آزادی میں مصراور بلادِ شام کا مرکزی کردار

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بیت المقدس کی آزادی سے پہلے مصر اور بلادِ شام کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ بلادِ شام سے مراد اردن، شام اور لبنان کے علاقے ہیں۔ گوکہ آج صورتِ حال بدل گئی ہے اور جو صورت ظاہر ہو رہی ہے، یا کم از کم جس پر غور ضروری ہے وہ یہ کہ پہلے خود سرزمینِ فلسطین کو آزاد کرا یا جائے، پھر عرب ممالک کو آزاد کرایا جائے۔ گرچہ یہ ایک مشکل ہد ف ہے جس کے راستے میں بہت سی ایسی تاریخی اور واقعاتی رکاوٹیں موجود ہیں جن کا آج ہم خود مشاہدہ کر رہے ہیں اور جن کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔

ابنِ کثیر نے اپنی کتاب (الکامل فی التاریخ: جلد 9، صفحہ 337، دار الکتاب العربی) میں لکھا ہے کہ مصر سے صلیبیوں نے شام کے اپنے بادشاہ جس کا نام مری تھا(شام پر فرنگ کی حکم رانی قائم ہونے کے بعد اس کی صفوں میں وہاں بہادری، چالبازی اور ہوشیاری میں اس جیسا کوئی دوسرا نہ تھا )، اسے یہ پیغام بھیجا کہ آگے بڑھ کر مصر کو بھی فتح کر لیں کیوں کہ مصر میں کوئی ایسی حکومت موجود نہ تھی جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ ان لوگوں نے اس کے سامنے یہ واضح کیا کہ مصر کو فتح کرنا نہایت آسان کام ہے، لیکن اس نے ان کی بات نہ مانی۔ اس کے بعد اس کے پاس فرنگی شہسواروں اور اہل الرائے افراد کا ایک وفد جمع ہوا۔ ان لوگوں نے بھی اسے مصر کا رخ کرنے اور اسے فتح کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس نے ان سے کہا کہ : میں یہ درست نہیں سمجھتا کہ مصر کا رخ کروں، کیوں کہ یوں بھی وہ ہمارے لیے مال کمانے کا ایک ذریعہ ہے،وہاں سے خوب مال ہمارے پاس آرہا ہے جس کی مدد سے ہم نور الدین کے مقابلے میں اپنی طاقت کو بڑھا سکتے ہیں۔ اور اگر مصر کو فتح کرنے کے لیے ہم نے اُدھر کا رخ کیا تو وہاں کا گورنر، اس کی فوج، عوام اور وہاں کے کسان آسانی سے مصر کو ہمارے حوالے نہیں کریں گے بلکہ وہ جنگ کریں گے اور ہمارے خوف سے وہ مصر کو نور الدین زنگی کے حوالے کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ یاد رکھو اگر نور الدین نے مصر کو اپنے زیرِ قبضہ لینے میں کام یابی حاصل کر لی اور وہاں بھی اسد الدین شیرکوہ جیسا کوئی گورنر مقرر کردیا تو یہ فرنگ کی ہلاکت اور سرزمینِ شام سے ان کی بے دخلی کا آغاز ہوگا۔

آپ صلیبی بادشاہ مری کی چالاکی اور ہوشیاری دیکھیں کہ وہ اسلام اور صلیبی صیہونی کشمکش میں مصر کی اہمیت سے کس قدر آگاہ تھا۔ سلطان نور الدین محمود زنگی اس معاملہ میں صیہونی بادشاہ سے کم چالاک اور کم باخبر نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اسد الدین شیرکوہ کو بلا کر مصر کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ جب اسد الدین شیر کوہ نے اہلِ مصر کے دھوکہ کے خوف سے اور اس کی جنگی اہمیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مصر پر قبضہ کرنے سے انکار کیا تو نور الدین زنگی نے اسے مال و سپاہ فراہم کرنے کے بعد اس سے کہا کہ اگر تو مصر کی طرف پیش قدمی سے پیچھے رہا تو مصلحت کا تقاضا ہے کہ خود میں ادھر کا رخ کروں کیوں کہ اگر ہم نے مصر کے معاملہ میں سستی دکھائی تو اس پر افرنگی راج ہوگا، اس کے بعد شام اور دیگر جگہوں پر کوئی علاقہ ان کے تسلط سے باہر نہیں بچے گا‘‘۔ (كتاب الروضتين في أخبار الدولتين: أبو شامة: 2/ 52. مؤسسة الرسالة)

دو سربراہانِ مملکت : مری اور نور الدین زنگی نے شام اور مصر کے باہمی تعلق کے بارے میں جس حقیقت کا اظہار کیا ہےاس پر غور کریں۔ شام کی بقامصر کی بقا سے مربوط ہے۔ مصر کی آزادی شام کی آزادی کی جد و جہد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اگر مصر ہاتھ سے نکل جائے تو شام کے بھی ہاتھ سے نکلنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ کاش کہ 2011 کے انقلاب کے بعد مصر پر جو با اختیار لوگ رہے وہ تاریخی تجربہ سے سیکھی گئی اس حقیقت کا ادراک کر پاتے۔

مصر پر صلاح الدین ایوبی کی حکومت قائم ہوئی اور وہاں سے فاطمی حکومت کے وجود کو اکھاڑ پھینکا گیا۔ اس کے بعد شام پر بھی ان کی حکم رانی قائم ہوئی، پھر فلسطین کے اطراف کے علاقو ں کو ایک حکومت کے زیرِ سایہ جمع کر کے انھوں نے سرزمینِ فلسطین کا محاصرہ کیا تاکہ آزادی کے اس عظیم معرکہ کی طرف پیش قدمی کی جائے جو فلسطین میں ناصرہ اور طبریہ کے درمیان حطین کے مقام پر 25 ربیع الآخر 583ہجری، 4 جولائی 1187 عیسوی کو پیش آیا۔

آج ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

فلسطین کی لڑائی ایک یا دو جنگوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک لمبی لڑائی ہے جو 90 سال قبل شروع ہوئی ہے اور آج بھی جاری ہے اور جب تک شام اور مصر کی موجودہ حالت برقرار ہے یہ لڑائی جاری رہے گی۔ آج ہم مصر میں تبدیلی کی بہت سی علامتیں دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہاں ایسے اہم واقعات پیش آئیں گے جو ہو سکتا ہے پہلے یہاں کبھی پیش نہ آئے ہوں۔ ہمیں لگتا ہے کہ مصر ایک بڑے فساد، افراتفری، انتشار و افتراق سے دو چار ہوگا۔ باخبر اور باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کریں، اس امید کے ساتھ تیاری کریں کہ مصر آزاد ی اور وحدت کی فضا میں سانس لے تاکہ اس کے بعد شام کی مبارک سرزمین بھی آزاد ہو اور غاصب صیہونی دشمن کا محاصرہ کر کے اسے ہم اپنی مقدس سرزمین سے نکال باہر کریں۔ اس کے لیے تربیتی جد و جہد، فکری تیاری اور ایک ایسی منصوبہ بند کوشش مطلوب ہے جس میں واضح مشن اور ہدف کو مرکزیت حاصل ہو۔ امام غزالی سے شروع ہو کر القائد المظفر سلطان صلاحی الدین ایوبی پر ختم ہونے والے اس مبارک تاریخی سلسلہ سے عزم و حوصلہ پاتے ہوئے اس منصوبے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اپریل 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau