زمین کی گواہی

غلام حقانی

عام طورپر یہی باور کیاجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرانسان پر صرف دو فرشتے مامور فرمائے ہیں، جو اُس کے ہر عمل کی نگرانی کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی اس کانامۂ اعمال تیار بھی کرتے رہتے ہیں، جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس طرح دی ہے:

اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدo مَا یَلْفِظُ مِن قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ  ﴿ق:۱۷،۱۸﴾

’جب دوکاتب دائیں اور بائیں بیٹھے ہربات ثبت کررہے ہوتے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتاکہ جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہوتاہو۔‘

لیکن اس امکان کے پیش نظرکہ انسان اپنے نامۂ اعمال میں بتائے ہوئے گناہوں کااقرار کرنے کے معاملے میں ہٹ دھرمی سے بھی کام لے سکتا ہے اوراپنے نامۂ اعمال ہی کوجھٹلانے کی کوشش بھی کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مزید ایسے مخبروںکا انتظام فرمارکھا ہے جو حشر کے دن انسان کے ہر عمل پر اپنی گواہی پیش کریںگے اور ان کی گواہی کو انسان جھٹلانے کی جرأت ہی نہیں کرپائے گا۔ ان مخبروںمیں ایک اہم مخبر ہماری اپنی زمین ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بناکر بھیجا ہے۔ انسان کی رہائش، انسان کا لباس، انسان کے آرایش و آسایش کے سارے سامان اس کے لیے ہمہ اقسام کی غذائوں اور میووں کی فراہمی، انسان کی آمد ورفت کے لیے جملہ سہولتیں، مختلف قریبی یا پھر دور دراز مقامات تک سفر کی سہولتیں، انسان کے علاج معالجے کے لیے درکار ساری طبی ضروریات غرض کہ انسان کی ہر ضرورت صرف اور صرف زمین سے پوری ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِن فَوْقِہَا وَبَارَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَا أَقْوَاتَہَا فِیْ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ سَوَائ لِّلسَّائِلِیْنَ ﴿حٰم السجدہ:۱۰﴾

اور اوپر سے پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں ﴿انسانی ضرورت کاہر ہر سامان مہیا فرمادیا﴾ اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب وحاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کاسامان مہیا کردیا۔ یہ سب کام چار دن میں پورے ہوگئے۔‘

اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کی ساری اشیاء کے استعمال یا ان اشیاء کے طریقۂ استعمال کے تعلق سے اپنی پسند اور رضا اور اپنی ناپسندیدگی اور ناراضی کاواضح اظہار بھی اپنے رسولوں، نبیوں، کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے ہر زمانے میں فرمادیا۔ اب یہ بات انسان پر منحصر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسند اور رضا کاپورا پورا خیال کرتے ہوئے اُن اشیاء کا کس حد تک صحیح استعمال کرتا ہے۔

انسان کی ایک اہم ضرورت اُس کی رہائش ہے۔ ابتدائ میں انسان نے اپنی رہائش کے لیے جھونپڑیاں بنائی ہوںگی تو بھی اِسی زمین پر اور جھونپڑیاں بنانے کے لیے جو کچھ بھی استعمال کیاہوگا وہ سب کچھ زمین ہی سے حاصل کیاہوگا۔ آج ایک منزلہ عمارت سے لے کر ایک سو اسّی ﴿۱۸۰﴾ منزلہ یا اس سے بھی زیادہ اونچی عمارتیں بن رہی ہیں تو اسی زمین پر اور ان عمارتوں کی تعمیر میں جو کچھ بھی استعمال کیاجاتاہے، وہ سب کچھ اسی زمین میں ہی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا ہر سامان، زمین ہی سے برآمد کیے ہوئے خام مواد سے تیار کیاجاتا ہے۔ یہاں غورطلب امور یہ ہیں:

۱- جس زمین پر مکان یا مکانات تعمیر کیے گئے ہوں،وہ جائز طریقے سے حاصل کی گئی یا ناجائز ذرائع سے؟

۲-زمین پر کہیں غاصبانہ قبضہ تو نہیں کیاگیا؟

۳-کسی کی حق تلفی کرکے تو زمین نہیں حاصل نہیں کی گئی؟

۴-کہیں قانون وراثت کی مخالفت تو نہیں کی گئی؟

۵-مکان کی تعمیر میںاستعمال ہونے والا سامان جائز آمدنی سے خریدا گیا یا ناجائز آمدنی سے؟

۶-مزدوروں کو جائز آمدنی سے مزدوری دی گئی یا ناجائز آمدنی سے؟

۷-عمارت یا عمارتوں میں استعمال ہونے والا انسان کی ضرورت یا انسان کی آسایش کا سامان جائز آمدنی سے خریدا گیا یا ناجائز آمدنی سے؟

اگر ان سوالات کے جواب میں ’ناجائز ،ناجائز‘کی صدائیں سنائی دیتی ہیں تو ہمیں یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ہم زمین اور زمین سے نکلے ہوئے خام مواد سے تیار کردہ ہماری اپنی ضرورت اور آسایش کے سامان کی مخبری کی زد میں ہوتے ہیں، ہم اپنے ہی فراہم کردہ جاسوسوں کے نرغے میں ہوتے ہیں اور حشر کے دن زمین اپنے ان سارے جاسوسوں سمیت انسان کے خلاف گواہی دینے والی ہے۔

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَہَا ﴿الزلزال:۴﴾

’اس روز زمین اپنی ساری خبریں بیان کردے گی۔‘

رہایشی عمارتوں کے علاوہ دُکانیں، بزنس سنٹراور آفس بلڈنگوںکی تعمیر بھی انسان کی ضرورتوں میں شامل ہے۔ ان سب کی تعمیر اور فرنشنگ کے تعلق سے انسان کو اُن سارے سوالات کا سامنا تو کرنا ہی ہے جو کہ رہایشی عمارتوں سے متعلق ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی جواب دہی کرنی ہے کہ اُن عمارتوں کامقصد کیاہے؟ کیا عمارتیں نیک اور جائز مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، بعض دکانوں یا آفسوں میں سودی کاروبار بھی کیاجاسکتا ہے، بعض عمارتوں میں کلبوں کا قیام بھی عمل میں لایاجاسکتا ہے، بعض عمارتیں فحاشی کے اڈوں کے طورپر بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، بعض عمارتوں میں فتنہ وفساد ، قتل وغارت گری اور ظلم وزیادتی کے منصوبے بھی بنائے جاسکتے ہیں اور بعض آفسوں میں ناانصافی اور رشوت خوری زوروں پر ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ زمین پر ہی تو ہوتاہے اور زمین ہی سے حاصل کردہ ہرہرمواد اور ہر ہر سامان کے روبہ رو نہ زمین سے کچھ چھپایاجاسکتا ہے نہ خود اپنی ضرورت اور آسایش کی اشیاء سے۔ لیکن انسان کو ہوش ہی کہاں کہ یہ سب اس کے خلاف گواہی دینے والے ہیں۔

اِسی طرح کارخانے یا فیکٹریاںجائز طریقے سے بھی قائم کیے جاسکتے ہیں اور ناجائز طریقے سے بھی۔ ان کارخانوں یا فیکٹریوں میں انسان کی جائز ضرورت کی اشیاء بھی تیار کی جاسکتی ہیں اور ناجائز ضرورت کی بھی۔ جیسے شراب، عریاں لباس، گانے بجانے وغیرہ کاسازو سامان وغیرہ۔ اس طرح کے کارخانوں یا فیکٹریوں کے مالک زمین اور زمین سے حاصل کردہ اشیاء کی گواہی سے کس طرح بچ پائیں گے؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کی سترپوشی کے لیے لباس کابھی انتظام فرمایاہے۔ لباس سادہ اور معمولی قیمت کابھی ہوسکتاہے اور شاندار اور بڑی سے بڑی قیمت کابھی۔ لباس چاہے جس طرز کا یا جتنی بھی قیمت کاہو اس کی تیاری میں زمین سے حاصل کی ہوئی ان اشیاء کو ایسا لباس تیار کرنے کے لیے استعمال کیاجائے جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی یا غضب کا باعث ہو یا لباس کی تیاری یا خریداری کے سلسلے میں حرام وحلال کالحاظ نہ کیاگیاہو تو یہ ساری باتیں انسان کے خلاف گواہی کے لیے ریکارڈ میں ضرور آجائیں گی۔

سائیکل ہو یا موٹر سائیکل، رکشا ہو یا آٹو رکشا، کار ہو یا جیپ، بسیں ہوں یا لاریاں یا بڑے بڑے ٹریکٹر ٹریلر سب زمین سے حاصل کردہ خام مواد ہی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل ، آٹو رکشا، کار، جیپ، بسیں ، لاریاں ، ٹریکٹرٹریلر سب زمین سے نکلے ہوئے پیٹرول یا ڈیزل ہی سے چلتے ہیں۔ اگر ان سب کی تیاری ، خریداری یا ان کے استعمال میں حلال و حرام کا خیال رنہ رکھاگیاتو یہی انسان کو آرام پہنچانے والی چیزیں انسان کے خلاف گواہی دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گی۔

یہ سڑکیں جن پر ہم گھومتے پھرتے ہیں، اپنی سائیکلیں، موٹر سائیکلیں، کاریں یا جیپ کاریں دوڑاتے ہیں، جن پر بسیں چلتی ہیں، جن پر لاریاں، ٹریلر دوڑتے رہتے ہیں، اسی زمین ہی پر تو بنائی جاتی ہیں اور ان کو بنانے کے لیے اسی زمین سے حاصل کی ہوئی اشیا ہی تو استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ان سڑکوں کے بنانے میں کسی طرح کی دھاندلی سے کام لیاگیاہوتو وہ زمین سے چھپی نہیں رہ سکتی اور اگر ان سڑکوں پر ناجائز اور بُرے افعال انجام دینے کی غرض سے سفر کیاجاتاہے یا ان سڑکوں کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز یا حرام سامان منتقل کیاجاتاہے تو کیا یہ ساری باتیں زمین کی گواہی میں شامل نہیں ہوںگی؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کی غذاکابھی نہایت ہی شاندار انتظام فرمارکھا ہے۔ لیکن اس کے لیے انسان کو کہیںاور جانانہیں پڑتا، اس کی مطلوبہ ہر غذا اسی زمین سے فراہم ہوتی ہے چاہے وہ اناج کی شکل میں ہو،ترکاریوں کی شکل میں ہو، میوؤں کی شکل میں ہو یا پھر پرندوں یا جانوروں کے گوشت کی شکل میں۔ اناج، ترکاریوں، میوؤں کے اُگانے کے لیے زمین کو مسامدار بنادیاپھر بارش، ندیوں، دریائوں، تالابوں اور نہروں کے ذریعے پانی کاانتظام فرمادیا۔ فضا میں آکسیجن کی مناسب مقدار رکھ دی، سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچادیا تاکہ کلوروفل بننے کاعمل انجام پاتارہے۔

گوشت کے لیے چوپایوں، مرغیوں، مچھلیوں کاانتظام فرمایا۔ چوپایوں کی غذا چارے کی صورت میں، مرغیوں کی غذا دانے اور فیڈ کی صورت میں زمین پر رکھ دی اور مچھلیوں کی غذا تالابوں، سمندروں وغیرہ ہی میں فراہم فرمادی جو کہ زمین ہی پر واقع ہوتے ہیں۔ پکوان کے لیے برتن اور دیگ کا انتظام فرمادیا چاہے آگ لکڑی سے حاصل ہوتی ہو ، کوئلے سے حاصل ہوتی ہو، گیس سے حاصل ہوتی ہو یا الیکٹریسٹی سے حاصل ہوتی ہو۔ انسان کو اس قابل بنادیاکہ پکوان کے سینکڑوں طریقے اختیار کرسکے۔

لیکن اگر زمین، چاہے وہ کاشتکاری کی ہو یا باغبانی کی کسی ناجائز طریقے سے یاناجائز ذرائع آمدنی سے حاصل کی گئی ہو، زمین پر غاصبانہ قبضہ کیاگیاہو ہو یا زمین کسی کی حق تلفی کرکے حاصل کی گئی ہو یا زمین حاصل کرتے ہوئے قانونِ وراثت کی مخالفت کی گئی ہو یا پھر کاشتکاری اور باغبانی کے لیے خرچ کی ہوئی رقم جائز ذرائع سے حاصل نہیں کی گئی ہو تو ان ساری باتوں کی شہادت اللہ رب العالمین کے حضور پیش کردی جائے گی۔

اِسی طرح غذا کی کسی بھی شے کے حصول یا تیاری میں حرام، حلال کا خیال نہ رکھاگیاہو تو انسان اپنے خلاف گواہی سے کس طرح بچ پائے گا؟

الغرض انسان ہر دم ایسے مخبروں میں گھِرا ہوتا ہے جن کو وہ اپنا سمجھتاہے اور جن سے بظاہر راحت حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے۔ لیکن انسان کی ڈھٹائی کہ وہ ان کے درمیان اور ان ہی کے ذریعے بُرے اور حرام کام کیے چلاجاتاہے۔ اس بات سے بے خبر کہ وہ سب اس کے خلاف شہادت کی فائل تیارکرنے میں لگے ہوتے ہیں۔حشر کامہیب دن ہر کسی پر ہیبت طاری ، اللہ ذوالجلال کا جلال ناقابل بیان۔انبیائ و رسل بھی سہمے سہمے۔ ہر کسی کو اپنے پروردگار کے روبہ رو حاضری اور جواب دہی۔ ایسے میں وہ زمین جس پر انسان رہتابستاتھا، جس سے وہ محبت کرتاتھا،ئ جس کی ہر چیز سے اس کو لگائو تھا، انسیت تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنی ہر ہر ضرورت پوری کرتاتھا، اپنے آرام و آسایش کا سامان بہم پہنچاتاتھا، وہی زمین وہی ساری چیزیں اُس کے خلاف اپنی خبریں بیان کرنے لگیں، اپنی شہادت پیش کرنے لگیں تو حیرت اور صدمے کاکس قدر زبردست جھٹکا اس کو لگے گا؟

انسان بھی تو زمین ہی سے پیدا کیاگیاہے:

مِنہَا خَلَقْنٰکُمْ ﴿طہٰ :۵۵﴾        ’اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیاہے‘

انسان کے ہاتھ پیر، کان ، آنکھیں اور جلد یا کھال بھی اسی زمین کی مٹی سے بنے ہوتے ہیں اور انسان کے خلاف مخبری کرنے والوں میں یہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے حشر کے دن جب انسان کے اپنے ہاتھ پیر ، کان،آنکھیںاور جِلد اُسی کے خلاف گواہی دینے لگ جائیںگے تو ناقابل بیان صدمے کی بجلی ہی اُس پر گرپڑے گی اور صدمے سے بے حد نڈھال انسان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل پڑیںگے: لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا؟ ’تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟‘ اور یہ اپنے اعضاء   کے خلاف کسی غصے کااظہار نہیںہوگا،بل کہ مایوسی کی دلدل میں دھنستے ہوئے انسان کی ڈوبتی ہوئی آواز ہوگی، اس کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے:

حَتَّیٰٓ اِذَا مَا جَآؤُوہَا شَہِدَ عَلَیْْہِمْ سَمْعُہُمْ وَأَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ oوَقَالُوا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدتُّمْ عَلَیْْنَا قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّہُ الَّذِیْ أَنطَقَ کُلَّ شَیْْئ ٍ وَہُوَ خَلَقَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَاِلَیْْہِ تُرْجَعُونَo  وَمَا کُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ یَشْہَدَ عَلَیْْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُودُکُمْ وَلَکِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْراً مِّمَّا تَعْمَلُونo ﴿حٰم السجدہ:۲۰-۲۲﴾

’یہاں تک کہ جب وہ اُس کے ﴿جہنم کے﴾ قریب آجائیں گے تو اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور ان کی جلد یا کھالیں اُن پر اُن کے اعمال کی گواہی دیں گی اور ﴿اُس وقت﴾ وہ لوگ اپنی جلد یاکھالوں سے کہیںگے کہ ’تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟‘ وہ جواب دیں گے کہ ہم کو اُس اللہ نے گویائی عطاکی ہے جس نے ہر ﴿گویا﴾ چیز کو گویائی عطا کی اور اُسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیاتھا اور اُسی کے پاس پھرلائے گئے ہو اور تم دنیا میں گناہ کرتے وقت اپنے کانوں، آنکھوں اور جلد یا کھالوں سے اپنے آپ کو چھپاتے ہی نہ تھے اور تمھیں یہ گمان ہی نہ تھاکہ تمھارے کان، تمھاری آنکھیں اور تمھاری کھالیں تمھارے ہی خلاف گواہی دیںگی۔ بل کہ تمھارا تو گمان تھاکہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے بہت سارے اعمال کی خبر ہی نہیں۔‘

ہاتھو ںاور پیروں کی گواہی کے تعلق سے سورۂ یٰسین کی آیت نمبر۶۵ میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

’آج ہم اُن کے منہ پر مہر لگادیں گے اور اُن کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ﴿ان کے خلاف﴾ شہادت دیں گے۔‘

یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ گواہی کے معاملے میں تو ہاتھ پیر، کان، آنکھیں سب ہی شامل ہوں گے، لیکن انسان سوال کرے گا صرف اپنی جلد یا کھال سے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جسم کاکوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہوتا جہاں کہ جلد نہ پائی جاتی ہو۔ ہاتھ، پیر، دھڑ، سر، گردن، چہرہ، ناک، کان، آنکھیں، زبان ہر ایک پر جلد کاہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ کہ جلد کی نوعیت میں فرق ہوتاہو۔ زبان کی جلد مختلف ہوتی ہے، جبڑوں کی جلد مختلف، ہتھیلیوں اور تلوئوں کی جلد مختلف۔ انسان کے سارے اعضاء   جلد کے بغیر کسی بھی کام کے نہیں رہ جاتے۔ جلد کے بغیر ہاتھ بھی بیکارہوجاتے ہیں۔ پیربھی، ناک ، کان، آنکھیں بھی، حتیٰ کہ زبان بھی۔ جلد ہی کی وجہ سے ہاتھ محسوس کرسکتے ہیں، کسی بھی چیز کو چھوسکتے ہیں یا کسی بھی چیز کو پکڑسکتے ہیں۔ گرم، ٹھنڈے اور سرد میں فرق محسوس کرسکتے ہیں اور اسی احساس کی بدولت ہاتھوں سے ہزاروں کام لیے جاتے ہیں۔ کام کے لیے ہتھیلیاں زیادہ استعمال میں آتی ہیں، اسی لیے ہتھیلیوں کی جلد اُسی مناسبت سے مختلف ہوتی ہے۔ یہی حال پیروں کاہے۔ پیر جلد ہی کی وجہ سے چلنے، پھرنے ،دوڑنے، کھیلنے یا ٹھہرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ چوں کہ اس مقصد کے لیے تلوے استعمال ہوتے ہیں، اسی لیے تلوئوں کی جلدمختلف ہوتی ہے۔ یہی حال جسم کے دوسرے اعضاکابھی ہے۔

یہاں قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ گناہ، بُرے کام اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی انسان کے اعضا ہی سے سرزد ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنے ہی کیے ہوئے بُرے اعمال کی گواہی خود اپنے ہی خلاف یعنی انسان کے خلاف کیوں دیں گے؟ ان اعضاء   کی انسان کے خلاف اپنے ہی کیے ہوئے بُرے اعمال کی گواہی کا تو مطلب یہی ہوگاکہ وہ اپنے طورپر کسی گناہ کیے لیے آمادہ نہیں ہوتے، بل کہ کوئی اور ہی انھیں گناہ اور جرائم کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی لیے جب حشر کے میدان میں انھیں اپنی مجبوری سے چھٹکارا حاصل ہوگا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے گویائی عطا کی جائے گی تو وہ فوراً اُن سے جبراً کروائے ہوئے سارے بُرے اعمال اور گناہوں کی تفصیل اپنے مالک حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردیں گے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau