نظریۂ ارتقا: رد،قبول اور متبادل امکانات

(زندگی شروع کیسے ہوئی؟) (2)

ڈاکٹر محمد رضوان

گذشتہ سطروں میں عرض کیا گیا تھا کہ نظریۂ ارتقا اصل میں زندگی اور اس کے وجود سے براہ راست بحث نہیں کرتا بلکہ اپنی طبیعت اور اصل .کے اعتبار سے یہ انسان سمیت تمام انواع کے ظہور سے متعلق ہے۔ لیکن زندگی کی ابتدا کے دائمی سوالات میں سے سب سے اہم سوال پر، یعنی زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی، ڈارون کے یہاں معنی خیز خاموشی ہے، یا چیدہ چیدہ اور بسا اوقات گنجلک خیالات ہیں۔

زندگی کی ابتدا پر ڈارون کے نظریات اس کے خطوط میں شامل ہیں۔ وہ خطوط جو اس نے اپنے ہم عصروں اور شاگردوں کو لکھے تھے۔ ان خطوط کو اب کیمبرج یونیورسٹی نے شائع کردیا ہے (1)۔  ان خطوط کی تعداد 1884ہے، اور یہ ڈارون کی غیر معمولی دستاویز نگاری کے مظہر بھی ہیں۔

تاہم مندرجہ بالا مشاہدے (کہ نظریۂ ارتقا زندگی کی ابتدا سے بحث نہیں کرتا، بلکہ انواع کے ظہور سے متعلق ہے) پر ڈاروینیت کے حاملین شدید تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نظریۂ ارتقا اور تصور ارتقا میں فرق کرنا ضروری ہے۔ نظریۂ ارتقا بحیثیت ایک نظریہ تصور ارتقا کی وضاحت ہے۔ چنانچہ تصور ارتقا یہ ہے کہ زندگی کی ابتدا کچھ پیچیدہ تعاملات سے ہوئی اور سادہ خلیہ بتدریج تبدیلیوں سے گزر کر پیچیدہ جان داروں میں تبدیل ہوا۔ نظریۂ ارتقا تصور ارتقا کے (mechanistic) پہلووں سے بحث کرتا ہے، انواع کا ظہور کیسے ہوا، انواع میں فرق کیسے وقوع پذیر ہوا؟ نئی انواع کیسے تشکیل پائیں، چنانچہ تصور ارتقا ایک مستقل شے ہے۔ ارتقا ایک سلسلہ وار عمل، جب کہ نظریۂ ارتقا اس تسلسل کی وضاحت کی ایک کڑی ہے۔ اس لیے نظریۂ ارتقا میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اس کے کچھ مشمولات غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ جدید ڈارونسٹ مکتب فکر کا بیانیہ ہے۔ جب کہ تصور ارتقا مجرد انداز میں جانداروں کی غیر سمتی پیچیدگی کے مظہر کا، جو انہیں اپنے ماحول میں زندہ رہنے کا جواز اور قوت عطا کرتی ہو، غماز ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے (2)۔

جدید ڈاروینیت (Neo-Darwinism)کے حاملین حیات کی بالکل الگ تعریف کرتے ہیں۔ بالعموم عوامی ذہن میں زندگی کا تصور، حرکت، میٹابولزم یا افزائش نسل کے حوالے سے ہے۔ یعنی جان دار وہ شے ہے جس میں ارادی حرکت پائی جاتی ہے یا جو افزائش نسل کرسکتا ہو، یا زیادہ سائنسی تعبیر میں تحول ((metabolizeکرسکتا ہو۔

جدید ڈاروینیت حیات کی تعریف یوں کرتا ہے:

حیات وہ ہے جو ارتقا کرے(Life is what that evolves) (3) وہ کہتے ہیں کہ بیکٹیریا، پودے، جانور اور انسان حیات کے ارتقائی تصور ہیں، اس لیے جہاں سے ارتقا شروع ہے اس نکتے سے بدء الحیات کا سوال ہی ختم ہوجاتا ہے، کیوں کہ حیات کو جس شکل میں ہم دیکھتے ہیں وہ بجاے خود ارتقا کا ضمیمہ ہے۔

بالفاظ دیگر جب ابتدائی کیمیائی مادے مثلا آر این اے ایک بار تشکیل پاگئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ خود کار طور پر ترتیب پاتے رہیں اور پھر وہ کیمیائی مادے جو ابتدائی زمین کے ماحول میں باقی رہ پائے وہ مزید بہتر ہوتے گئے، اس طرح سب سے پہلے ایسے کیمیائی مادوں کی ترسیل وترتیب کی وجہ سے ابتدائی خلیے کا وجود ہوا جو موجود خلیہ کے مقابلے میں لاکھوں گنا سادہ تھا۔ پھر یہ ابتدائی خلیہ وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتا گیا اور ارتقا کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ بالآخر زمین پر موجود تمام حیاتیاتی تنوع کا ضامن بنا اور یہ ارتقا اب بھی جاری وساری ہے۔

یعنی ارتقا کے ذریعے حیات کا وجود ہوا اور حیات مستقل ارتقا پذیر ہے۔

گوکہ مندرجہبالا مقدمہ خاصا اپیل کرنے والا ہے لیکن کئی سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں، مثلاً خود کار طرز پر ترتیب اگر توانائی کے طبعی قوانین کی وجہ سے ہو بھی جائے تو یہ ترتیب ایک خول میں کیسے قید ہوئی؟ یہ ایک خالص سائنسی سوال ہے، جس کا جواب ہنوز باقی ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک بار خول میں قید ہونے کے بعد اس خول کے، جسے پروٹوسیل (protocell) کہا گیا، ثبات کی ضمانت کن عوامل نے دی؟ یعنی زمین کے ابتدائی غیر معمولی حالات میں اس کا باقی رہ پانا کیسے ممکن ہوا؟ کیوں کہ ایک بار خول میں بند ہوجانے کے بعد ابتدائی حیاتیاتی مادے ایک بند نظام (closed system)کے قوانین کے تابع ہوگئے۔

تیسرا اور سب سے اہم سوال جس پر اب بھی تحقیق انتہائی ابتدائی درجے میں ہے وہ یہ کہ اس پروٹوسیل کی تقسیم کیسے وجود میں آئی؟ اس تقسیم کے لیے تحریک کیسے ملی؟ اور یہ تحریک بے ربط  (random)تھی یا ساختی تھی۔

چوتھا سوال یہ کہ لنکن اور جوائس نامی محققین نے ایک ایسا بند نظام بنایا جو خود کار نقل سازی (replication) کے عمل سے گزرتا تھا جسے انہوں نے ’’ڈاروینی ارتقا کرنے کی قابلیت کا حامل خودکفیل کیمیائی نظام‘‘ (self-sustaining chemical system capable of Darwinian evolution) قرار دیا۔ اس نظام میں انہوں نے جینیاتی مادے ڈی این اے کے بارہ سالمے لیے اور ان میں خود کار نقل سازی کے عمل کا مشاہدہ کیا۔ پایا گیا کہ یہ نظام خود کار طریقے سے نقل سازی کے عمل سے گزرنے میں ناکام ہے۔ کیوں کہ حسابی ماڈل کے ذریعے تخمینہ لگایا گیا کہ ارتقائی عمل کی ابتدا کے لیے درکار معلومات (bits of information) کے حصول میں یہ نظام ناکام رہا۔ (4) کیا یہ ناکامی خود کار نقل سازی کے عمل سے ابتدائی حیاتیاتی مادوں کے ارتقا پر سوالیہ نشان لگاتی ہے؟

پانچواں سوال: خود کار نقل سازی کے عمل سے گزرنے کے قابل ابتدائی کیمیائی مادوں والے ماڈل کی ارتقائی صلاحیت پر جدید سائنسی تحقیقات مزید سوالیہ نشان لگارہی ہیں۔

اور ارتقائی نقل کے ماڈل (evolutionary simulation model)، جو اعلی ترین کمپیوٹروںپر بنائے جاتے ہیں، اس طرح کے ماڈلوں کو فطری انتخاب کی صلاحیت سے عاری بتاتے ہیں۔ یعنی جب فطری انتخاب ہی نہ ہوگا تو ارتقا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بدء الحیات کے سلسلے میں یہ بھی ایک جہتی تبدیلی مانی جارہی ہے کیوں کہ خود کار نقل سازی کے عمل سے گزرنے والے ابتدائی کیمیائی مادے ارتقا کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے (5) ۔

چھٹا سوال: دور جدید میں ماقبل حیاتیاتی ارتقا (prebiotic evolution)کے متعلق کیے گئے تجربات، ان تجربات کے سائنسی ڈیزائن، ان سے حاصل ہونے والے نتائج، ان نتائج کے استنباط اور استخراج کے اضافی ہونے اور ان تجربات میں انسانی دخل کے ذریعے پہلے سے اندازہ شدہ نتائج کے حصول کا غیر معمولی اعتراف غالباً سائنسی دنیا کے ایک معتبر اور تسلیم شدہ محقق نے پہلی بار کیا ہے۔

کلیمنٹس رچرڈ نے، جو سٹٹ گارٹ یونیورسٹی جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں، موقر جریدے نیچر کمیونکیشنز میں جو لکھا ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

’’ہم (محققین) ماقبل حیاتیاتی ارتقاکے تمام تجربات بہترین سائنسی نہج پر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ معنی خیز نتائج کے حصول کے لیے ہمیں ان تجربات میں دخل دینا پڑتا ہے۔ مثلا مرکبات معلوم اوزان مین ملائے جاتے ہیں، وہ خالص ہوتے ہیں۔ تعاملات کے مختلف عوامل منضبط ہوتے ہیں۔ جب کہ زمین کے مقابل حیاتیاتی ماحول میں یہ خاص حالات ناممکنات میں سے لگتے ہیں۔ ہرچند کہ اس طرح کے عمومی تجربات سادہ قسم کے مادوں کی تشکیل کے لیے گو کہ مناسب ہوں لیکن پیچیدہ مرکبات کے لیے اس طرح کے تجربات کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ ‘‘ (6)

مندرجہ بالا تمام مشاہدات کے بعد جدید دور میں بدء الحیات سے متعلق ڈاروینی تصور حیات پر مبنی دو یکسر مختلف مکتب فکر ظہور پذیر ہوئے۔

پہلا اس کا قائل ہے کہ خود کار نقل سازی والے جینیاتی مادے پہلے وجود میں آئے اور پھر ارتقا پاکر اولین خلیے (پروٹوسیل )میں تبدیل ہوئے، اسے آر این اے ورلڈکہا جاتا ہے۔

دوسرا اس کا قائل ہے کہ سب سے پہلے پروٹو میٹابولک نیٹ ورک وجود میں آئے، جن پر فطری انتخاب کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یہ سائنسی اصطلاح میں GARD ماڈل کہلاتا ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ خود کار نقل سازی والے مادے حسابی ماڈل کے اعتبار سے فطری انتخاب کے ڈھانچے میں پورے نہیں اترتے اس لیے ان کی مقبولیت اب کم ہورہی ہے۔ اور ثانی الذکر نیٹ ورک چونکہ فطری انتخاب کے لیے مناسب ہیں، چنانچہ ان پر فطری انتخاب کے بیانیےکا انطباق ہوسکتا ہے، اور وہ تصور ارتقا (نا کہ نظریۂ ارتقا) کے عین مطابق ہیں۔ اس لیے سائنس کی اس شاخ (ماقبل حیاتیاتی سائنس) میں پچھلے آٹھ سے دس برسوں کے لٹریچر کا مطالعہ یہ دکھاتا ہے کہ اول الذکر پر تنقید بڑھی ہے اور ثانی الذکر کے اثبات کے لیے دلائل میں اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے (7)

بدء الحیات کے بیانیے میں ان دو مکاتب فکر کے محققین کی تحقیقات کی بنیاد پر جو مختلف نظریات وجود میں آئے ان کا تذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے۔ یہ تذکرہ تنقیدی نکات کے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے قاری ذہن میں تازہ کرلیں کہ سائنسی تحقیقات اپنی تمام تر غیر جانب دارانہ ہونے کے دعوے کے باوجود اپنے ارد گرد کے سماجی، سیاسی، تمدنی اور تہذیبی ماحول سے متاثر ہوتی ہیں۔ اور اسی لیے محققین اپنی تحقیقات کے سلسلے میں تنقید اور تشکیک کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔ چنانچہ مشہور ہے کہ سائنس حقیقت تک پہنچنے کے لیے راستے کی تلاش ہے، سائنس بجاے خود حقیقت ہونے کا دعوی نہیں کرتی۔

اسی لیے سائنسی تحقیق کو غیر جانب دار بنائے رکھنے کے لیے قدغنی توازن (checks and balances) کا پورا نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ لیکن ہر نظام کی طرح اس نظام میں بھی خامیاں ہیں۔ اس نظام کو پرکھنے، برتنے، چلانے اور ترقی دینے کا کام بھی انسان ہی کرتے ہیں۔ اس لیے اس میں خامیاں ہونا ایک فطری امرہے۔

زندگی کی ابتدا سے متعلق ماڈلوں پر محققین کے پس منظر کے حوالے سے بھی تنقید کی جاتی ہے۔ مثلاً مسلک تخلیق کے قائلین (بائبل کے نظریہ تخلیق کو ماننے والے) ڈاروینیت کے قائلین پر جانبداری کا الزام لگاتے ہیں، اور ڈاروینیت کے قائلین تخلیق پسندوں پر، اسی لیے مشہور ہے کہ سائنس خلا میں وجود پذیر نہیں ہوسکتی (science cannot be done in vacuum)!

مندرجہ بالا مشاہدےکے بعد زندگی کی ابتدا کے متعلق سائنسی حلقوں میں قابل اعتنا، مستند، مشہور ومعروف نظریات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ نظریات قارئین کے سمجھنے کے لیے نہایت سادہ الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور ان پر تنقید قصداً تخلیق کے قائلین کی تنقید سے مختلف رکھی گئی ہے۔ ان نظریات کی تعداد سات یا بعض لوگوں کے نزدیک آٹھ ہے۔

اول، غیر حیاتیاتی عناصر سے ابتدائی حیاتیاتی سالمات کی تخلیق (abiogenesis)کا نظریہ: اس نظریے کو بدء الحیات (origin of life) کے میدان میں کام کرنے والے تین بڑے محققین نے پیش کیا۔ گو کہ اس وقت ماقبل حیاتیاتی کیمیا باقاعدہ سائنس کی شکل میں نہیں تھا۔ ان محققین نے بتایا کہ زندگی کی ابتدا گرم سوپ والے چھوٹے چھوٹے تالابوں میں یا سمندر میں ہوئی۔ اس نظریے کی بنیاد پر 1953 میں مشہور سائنس داں ملر اور یورے نے تجربات کیے اور اپنے نتائج کو مقالےکی شکل میں پیش کیا۔ (اس کی تفصیلات آگے کی سطور میں آرہی ہیں۔ )

دوم، تحت الثلج (Beneath the ice)کانظریہ: اس نظریےکے مطابق زندگی کی ابتدا گرم سمندر میں نہیں بلکہ سمندری برف کے نچلے حصوں میں ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے پہاڑی سلسلے میں کچھ چٹانوں پر کی گئی تحقیق جو کہ موقر جریدے سائنس ایڈوانسزمیں شائع کی گئی ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ چٹانیں ساڑھے تین سو کروڑ سال پہلے دبیز برف سے ڈھکی ہوئی تھیں، اور حیات کی ابتدا کے لیے درکار مرکبات کی تشکیل کے لیے بہترین ماحول مہیا کراسکتی تھیں۔ اس نظریےکے مطاق سمندر میں موجود یہ چٹانیں برف کے گلیشیر کے مانند تھیں۔ اس تحقیق کو سائنس کی دنیا میں قدر کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ دیکھیے (8)

سوم، ماوراے ارض نظریہ (extraterrestrial theory): اس نظریہ کو panspermia نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ زمین پر زندگی کی ابتدا کے قدیم نظریات میں سے ایک ہے۔ اس نظریےکے مطابق زمین پر از خود زندگی کی ابتدا نہیں ہوئی تھی، بلکہ زمین کے بننے کے بعد اس پر فضا سے مختلف سیارچے اور شہاب ثاقب، کائناتی دھول، شمسی دھول وغیرہ کے ذریعے ابتدائی حیاتیاتی مادے زمین میں داخل ہوئے اور پھر وہ ارتقائی عمل کے ذریعے حیات کی اساس بنے۔

سائنسی حلقوں میں اس نظریےکو مزید تقویت سولہ جنوری 2018 کو ملی جب Q. H. S. Chan اور دیگر نے سائنس ایڈوانسز میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ یہ محققین ناسا کے ما وراےارض مادوں کے ماہرین ہیں۔ انہوں نے زیگ اور موناہنس نامی شہابی پتھروں کے اندر موجود بعض قلموں کا کیمیائی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ماوراے ارض شہابی پتھر وں میں، جو 1998 میں زمین پر گرے تھے، ایسے کیمیائی مادے موجود ہیں جو ابتدائی حیاتیاتی سالمات کی تشکیل دیگر مختلف ماڈلوں سے بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں۔

اس دریافت نے ماوراے ارض مادوں پر تحقیق کرنے والوں میں زبردست ہلچل مچادی۔ حالانکہ ہر سائنسی دریافت کی طرح اس پر بھی نقد وجرح کا سلسلہ جاری ہے، لیکن بلاشبہ اس نظریے کو تقویت پہچالنے اور ابتدائی حیاتیاتی مادے کی تشکیل میں ماراےارض عوامل کے در انداز ہونے کا ایک مضبوط ثبوت حاصل ہوا ہے۔ (9)

چہارم، شرار حیات کا نظریہ (spark of life theory):  اس نظریے کے مطابق زمین کی ابتدائی حالت میں ایک برقی شرارےکے ذریعے کیمائی مادوں میں حیات کا ظہور ہوا۔ اس نظریے کو اٹلی کے ماہر طبیعیات لوجی گلوانی نے پیش کیا۔ یہ نظریہ اس نے اس مشاہدے کی بنیاد پر پیش کیا کہ اتفاقی طور پر ایک مینڈک پر تجربے کے دوران مردہ مینڈک کے پانو پر برقی تار چھوجانے سے حرکت پیدا ہوئی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تجربے کے بعد کئی مردہ انسانوں پر اس تجربے کو دوہرایا گیا، اس امید کے ساتھ کہ وہ زندہ ہوجائیں گے۔ سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل میں اس نظریےکو غیر معمولی قبول عام حاصل ہوا۔ عوام میں برقی شرارے کو لے کر زبردست قسم کی بحثیں چھڑیں، کیوں کہ اس وقت تک زندگی کا تودر حرکت سے جڑا ہوا تھا، یا زیادہ صحیح الفاظ میں حرکت کا مطلب زندگی تھا۔

حتی کہ خود ڈارون نے اپنے ہم عصر نباتیاتی ماہر جوزف ہوکر کو ایک خط میں لکھا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

’’بلاشبہ اصلی برقی شرارے سےچھوٹے گرم تالاب میں، جس میں ہر قسم کا امونیا، فاسفورک نمک، برقی رو، حرارت وغیرہ موجود تھے، یہ بات یقینی ہوئی کہ ایک پروٹین مرکب تیار ہو جو مزید پیچیدہ تبدیلیوں سے گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ‘‘ (10)

مندرجہ بالا خط سے تحریک پاکر ہی جے بی ایس ہیلڈین اور آئی اوپارن نے ماقبل حیاتیاتی تشکیل کا نظریہ پیش کیا۔ اسی تسلسل میں ملر اور یورے کے مشہور تجربے کو بھی دیکھا جانا چاہیے جس میں اس نے مذکورہ اشیاکو ملا کر ایک بند فلاسک میں برقی شرارہ پیدا کیا۔ اور حاصل شدہ سالمات کی کیمیائی شناخت کی۔ اس نے پایا کہ اس محلول میں امونیائی ترشے جو پروٹین بناتے ہیں، تشکیل پائے۔

پنجم، آر این اے ورلڈ کا نظریہ: رائبوو نیو کلیک ایسڈ ایک کیمیائی مادہ ہے جو اہم ترین حیاتیاتی سالمات میں سے ایک ہے۔ آر این اے کی دنیا کا نظریہ جدید ہے، یعنی اس کے بنیادی خدوخال پچھلے چالیس برسوں میں خاصے واضح ہوئے ہیں۔ اس کی رو سے سب سے پہلے آر این اے کا وجود ہوا جو بحیثیت خامرہ (enzyme) بھی کام کرتا ہے، اور جینیاتی تغیر سے بھی گزر سکتا ہے۔

لیکن اس تصور میں بہت سی خامیاں ہیں۔

(۱) سالمات کی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں طبعی قوانین کے تحت اس طرح سالمے ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب سالم حالت ہی میں نہ رہیں گے تو مزید پیچیدگی کی طرف کیسے پیش قدمی کریں گے۔

(۲)سالماتی تشکیل کے لیے درکار اوزان کی ترتیب کا ضامن کیا تھا؟ کیوں کہ مخصوص اوزان کی ترتیب ہی سالماتی تشکیل کی ضامن بن سکتی تھی۔ ابتدائی زمین کے حالات بے ساختہ طرز پر بھی اوزان کی تشکیل کے ضامن نہیں تھے۔

(۳)آر این اے پیچیدہ ترین سالمات میں سے ایک ہے۔ جو ماقبل حیاتیاتی تناظر میں تشکیل پاسکتا ہے یا نہیں، اس ضمن میں جواب نفی میں ہے، سالماتی پیچیدگی کے تناظر میں۔

(۴) آر این اے ایک نسبتاًایک طویل سالمہ ہے (سالماتی تناظر میں) چنانچہ اسے ثبات حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

(۵) آر این اے سالمے کی تعامل کی شرح کو بڑھانے کی صلاحیت محدود ہے (چنانچہ خود کار عمل انگیزی (catalysis) ایک امر محال ہے، اس لیے آر این اے ورلڈ حیات کی ابتدا کے لیے ایک دور کی کوڑی لانے کے مصداق ہے۔ (11)

آر این اے ورلڈکے حق اور رد میں بہت سے دلائل ہیں، اور سائنسی حلقوں میں دونوں قسم کے مکتب فکر کے محققین پائے جاتے ہیں۔ تاہم جیسا کہ آگے آئے گا، آر این اے ورلڈکا نظریہ بتدریج دوسرے مزید جدید قسم کے ماڈوںکے لیے جگہ بنارہا ہے۔ جس میں لحمیات اولی(ماقبل تحولی شبکے )، یا تحولاتی شبکے (میٹابولک نیٹ ورک) کے نظریات اور ماڈل شامل ہیں۔

ششم: سادہ تحولاتی تعاملات (simple metabolic reactions) کا نظریہ:

اس نظریےکے مطابق ابتدائی آمیزہ (پرائی مورڈیل سوپ) مستقل کیمیائی تعاملات سے گزرتا رہا۔ اور اس میں بے ربط طرز پر کیمیائی مادے تشکیل پاتے رہے۔ ہزاروں لاکھوں سال میں ان کیمیائی مادوں میں ترتیب وترسیل کے شبکے وجود میں آئے جن میں شبکاتی تعاملات سے ابتدائی حیاتیاتی سالمے چاہے وہ آر این اے ہو ںیا ڈی این اےیا پروٹین، وجود میں آئے۔ اور یہ سالمے بعد میں ارتقا کے عمل سے گزرے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں (12)

سائنسی حلقوں میں اس نظریے کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔ تاہم اس پر تنقیدیں بھی ہیں۔ خاص طور پر سادہ تحولاتی تعاملات کے لیے درکار توانائی کا اس انداز میں مستقل حصول کہ تعاملات خاص سمت میں جاری رہ سکیں۔ یہ ایک تناقض ہے۔

ہفتم: گارہ مٹی (صلصال) بحیثیت میدان تخلیق (clay breeding ground) کا نظریہ

اس نظریہ کے مطابق گارے جیسی شے جو کہ ابتدائی زمین کے حالات میں موجود رہی ہوگی جس میں مختلف نامیاتی مادے اور معدنیات رہے ہوں گے، ایسا گارا ابتدائی حیاتیاتی سالمات کی تشکیل میں ممد ومعاون ثابت ہوا ہوگا۔ گو کہ یہ نظریہ بھی خاصا قدیم ہے، خاص طور پر قدیم یونانی فلاسفہ کے یہاں یہ تصور عام تھا۔ اور اسی بنیا پر سائنس میں بھی بہت سے تجربات کیے گئے، اور گارے اور سڑی گلی اشیامیں کیڑے (maggot) بننے کے عمل کو یہ باور کیا گیا کہ حیات مٹی اور گارے سے وجود میں آتی ہے۔ حالانکہ بعد میں یہ مفروضات غلط ثابت کیے گئے۔

بائبل اور عہد نامہ عتیق میں بھی مٹی سے تخلیق کے سلسلے میں واضح بیانات موجود ہیں، اس لیے بھی اس نظریہ کو قبول عام حاصل ہوا۔ ابھی حال میں ہی میں کورنیل یونیورسٹی امریکہ کے محققین نے اپنے تحقیقی مقالے میں یہ بتایا کہ clay hydrogelنے ابتدائی حیاتیاتی سالمات کے لیے خول کا کام کیا اور اس کے ذریعے یہ ابتدائی حیاتیاتی سالمات باہر کے اثرات سے محفوظ رہے۔ (13)

ہشتم: ہائیڈرو تھرمل وینٹ نظریہ: یہ نسبتا ًجدید نظریہ ہے اور اس کا شمار زندگی کی ابتدا سے متعلق اہم نظریات میں ہوتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق شروع میں سمندر کی اوپری سطح تیزابی تھی، جب کہ اندرونی ماحول اساسی تھا۔ ان دو مختلف کیمیائی ماحول کے درمیان کا حصہ کیمیائی تعاملات کے لیے اہم ثابت ہوا اور سادہ کاربن اور ہائیڈروجن رکھنے والے سالمات کی تشکیل ہوئی (14)

یہ بات عام ہے کہ حیات کے لیے درکار تمام سالمات بالآخر نائٹروجن، آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن اور سلفر پر جاکر منتج ہوتے ہیں، اس لیے ان عناصر اور ان کی ہیئت ترکیبی ‘زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی ‘اس عنوان سے ہورہی تحقیق میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

ان سطور کے رقم کیے جانے تک اس نظریےاور اس کے مشمولات اور اس کے ضمنی پہلوؤں پر 1381 سائنسی مقالے لکھے جاچکے ہیں۔

تحت الثلج نظریےاور ہائیڈروتھرمل وینٹ نظریے کے مجموعے کو زندگی کی ابتدا کے لیے ایک اہم متبادل کے طور پر جانا جارہا ہے۔

غیر حیاتیاتی عناصر سے حیاتیاتی سالمات کی تخلیق چونکہ ماقبل حیاتیاتی کیمیا میں اہم ترین مقام رکھتی ہے، اس لیے سائنس کی اس شاخ کی داغ بیل ڈالنے والے تجربے کا تذکرہ اس پر تنقیدی نقطہ نظر سے علیحدہ درج کیا جاتا ہے۔

مشہور زمانہ ملر اور یورے کا تجربہ

سائنسی حلقوں میں یہ بات اب مقبول ومعروف ہے کہ کائنات کی ابتدا ایک عظیم دھماکے (بگ بینگ) کے ذریعے ہوئی۔ اس بگ بینگ سے تمام سیارے، سیارچے وجود میں آئے۔ زمین ان اربوں کھربوں سیاروں میں سے ایک ہے۔ ابتدا میں زمین ایک شدید،گرم ترین گیس کے گولے کے مانند تھی، جو بتدریج ٹھنڈی ہوئی۔ اس نسبتاً ٹھنڈی ہوتی ہوئی زمین پر خلائی دھول، سیارچوں اور شہاب ثاقب کی بوچھار ہوتی رہی۔ شروع میں زمین کا ماحول کسی بھی قسم کی زندگی اور اس کی نمو کے قابل نہ تھا، پھر بتدرج کیمیائی تبدیلیوں سے ابتدائی عناصر ظہور پذیر ہوئے،، پھر ان میں سے بہت سے عناصر باقی نہ رہ سکے۔ (یہاں یہ دل چسپ بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ ڈاروینی نظریے کے قائلین یہ مانتے ہیں کہ تصور ارتقا (نا کہ نظریۂ ارتقا) کی رو سے صرف وہی عناصر باقی رہے یا رہ سکے یا رہ سکتے تھے جو خلیے اور اس کی بنیادی ساخت کے لیے درکار تھے۔ یعنی یہ زمین میں بدء الحیات کی ڈاروینی توجیہ ہےاور اسی بنیاد پر ڈاروینی فکر کے حاملین یہ کہتے ہیں کہ نظریۂ ارتقا اور تصور ارتقا میں فرق کیا جانا چاہیے)

زمین کی تشکیل کے بعد اس کے ابتدائی ماحول کی قریب ترین نقالی کی کوشش کا سہرا ملر اور یورے کے سر جاتا ہے(15) ، ملر اور یورے کا یہ تجربہ پوری دنیا میں اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں داخل ہے۔ اور زمین پر بدء الحیات کے ضمن میں ’’ثابت شدہ‘‘  حقیقت کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے تجربے، اس کے مشمولات، اس کے نتائج، اس کے مندرجات پر زبردست تنقید بھی ہوئی ہے۔ اور ابتدائی حیاتیاتی سالمات کی تخلیق کے متبادل ماڈل بھی پیش ہوئے ہیں، (جن کا تذکرہ بدء الحیات کے نظریات کے ضمن میں اوپر آچکا ہے) جو سائنسی گہرائی وگیرائی کے عنوان سے اس نظریہ کے برابر ہیں، لیکن چونکہ وہ تجربات اور نظریات ڈاروینی توجیہ پر پورے نہیں اترتے اس لیے انہیں وہ قبول عام حاصل نہیں ہوا۔

ملر اور یورے نے مختلف گیسوں کا مجموعے اور مختلف کیمائی مرکبات کو لے کر برقی شرارے کے ذریعے تجربہ گاہ میں ابتدائی زمینی حالات کی نقالی کرکے امونیائی ترشے (ایمینو ایسڈ) کی تشکیل کو ثابت کیا۔ امونیائی ترشے اہم ترین حیاتیاتی سالمے پروٹین (لحمیات) بناتے ہیں۔ ایک لحمیاتی سالمہ پروٹین کی امونیائی ترشوں (اکائیوں) سے مل کر بنتا ہے۔

اس تجربے نے غیر حیاتیاتی مادوں سے ایسے سالمات کی تشکیل کو ثابت کیا جو تقریباً ہر جاندار کے خلیات میں موجود ہیں۔ اور غیر حیاتیاتی تخلیق کے نظریہ کی بنیاد بھی ڈالی اور اسے تقویت بھی پہنچائی۔ واضح رہے کہ ملر اور یورے نے یہ تجربہ اس اشارے کی بنیاد پر کیا تھا جو ڈارون نے hot little pond سے ابتدائی حیات کے وجود میں آنے کے متعلق دیا تھا۔

ملر اور یورے کے اس تجربے کو خوب سراہا گیا اور ابھی تک اس کی مدح سرائی جاری ہے۔

جیفرے ایل بیڈ نے لکھا ہے کہ ملر کے سائنسی مقالے کا حلقہ اثر محض اکادمی حلقوں تک نہیں رہا، بلکہ اس نے عوامی ذہن تک رسائی کی۔ ماقبل حیاتیاتی سوپ کی اصطلاح نے کامکس، کارٹون، ناول اور ہالی وڈ کی فکشن فلموں میں خوب دھوم مچائی۔ خود اردو میں پنڈت برج نرائن چکبست کا یہ شعر معروف ہے:

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتبب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

یہ شعر ملر کے تجربے اور اس کے بعد اس تجربے کے استنباط اور استخراج اور نظریۂ ارتقا کے ذریعے دیے گئے زندگی کے تصور کا عوامی تخیل میں نفوذ وتاثیر کا واضح ثبوت ہے۔

اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خالص سائنس بھی عوامی ڈسکورس کا حصہ بنائی جاسکتی ہے، یا بنی ہے۔ اور مجرد سائنس اور سائنسی تحقیقات کو معتدل رکھنا یا غیر جانبدار رکھنا ایک مشکل امر ہے۔

اس مدح سرائی کے علاوہ جیسا کہ سائنس اور سائنسی تحقیقات کا خاصہ ہے، اس تجربے پر زبردست تنقیدیں بھی ہوئیں۔ اور حیاتیاتی سالمات کی تشکیل کے لیے متبادل ماڈل بھی پیش ہورہے ہیں۔

اولاً: سب سے اہم اور غالباً جوہری نوعیت کی تنقید یہ ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ تجربے میں استعمال شدہ گیس اور تعاملات کی حالتیں بعینہ وہی ہیں جو ابتدائی زمین پر تھیں۔ کیوں کہ تعاملات کی ذرا سی تبدیلی یکسر دوسری قسم کے کیمیائی مرکبات پر منتج ہوتی ہیں یا ہوسکتی ہیں۔

ثانیاً: ملر نے اپنے تجربے میں غیر تکسیدی ماحول رکھا تھا، جب کہ موجود ہ ماہرین اب اس بات پر متفق ہورہے ہیں کہ یہ ماحول تکسیدی تھا۔

یہ ایک جہتی تبدیلی (paradigm shift) ہے، یعنی اگر ابتدائی زمین کا ماحول تکسیدی تھا تو بعد کے تمام تعاملات یکسر دوسرے کیمیائی تعاملات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اور ان کیمیائی تعاملات کے نتیجے میں یکسر دوسری قسم کے کیمیائی مادوں کی تخلیق ممکن ہے۔

ثالثاً: ابتدائی امونیائی ترشے اور چند کیمیائی مادے خلیہ میں موجود پیچیدگی کی وضاحت کیسے کرپاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ابتدائی امونیائی ترشے خود کار طور پر ایک فعال لحمیاتی مادے یعنی پروٹین میں کیسے تبدیل ہوئے۔ (واضح رہے کہ ہم یہاں تخلیق پسند حضرات کے ذریعے کی گئی تنقیدوں کا تذکرہ نہیں کررہے ہیں جو حسابی ماڈل کے ذریعے امونیائی ترشوں یا کیمیائی مادوں میں ترتیب کو امکان غالب کے اصولوں پر یکسر ناممکن قرار دیتے ہیں۔ یہ خالص سائنسی سوالات ہیں، ان کے جتنے جوابات آئے ہیں، ان جوابی تجربات نے پھر نئے قسم کے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ چنانچہ خلیات میں موجود تین ہزار قسم کے لحمیاتی مادوں (پروٹین) کو ان کی موجودہ ترتیب میں آنے کے لیے درکار وقت زمین کی موجودہ عمر سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اور یہ محض لحمیاتی ماوں سے متعلق ہے، خلیے کی ساخت اتنی پیچیدہ اور گوناگوں قسم کے تعاملات اور ہیئیات کی حامل ہے کہ ایک خاص سطح تک جاکر ان تعاملات اور ساختیات کی توجیہ وتشریح موجودہ سائنسی ماڈل کے دائرہ کار ہی میں نہیں آپارہی ہے۔

پھر مختلف خلیات کی ترتیب، ان سے نسیج بننے کے عمل اور مختلف نسیجوں کے باہمی تعاملات اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کا احاطہ ابھرتے ہوئے جدیدد ماڈل بھی نہیں کرپارہے ہیں۔

(جاری)

حوالے

(1)   www.darwinproject.ac.uk

(2)   Espinosa, Avelina. “On the theory of evolution versus the concept of evolution: three observations.” Evolution: Education and Outreach 4, no. 2 (2011): 308.

(3)   Miller, Stanley L. “A production of amino acids under possible primitive earth conditions.” Science 117, no. 3046 (1953): 528-529.

(4)   Joyce, Gerald F. “The RNA world: Life before DNA and protein.” Extraterrestrial: Where are they 2, Cambridge university press Cambridge UK.

(5)   Takeuchi, N., P. et al. “Conceptualizing the origin of life in terms of evolution.” Philosophical Transactions of the Royal Society A: Mathematical, Physical and Engineering Sciences 375, no. 2109 (2017): 20160346.

(6)   Joyce, Gerald F. “Bit by bit: the Darwinian basis of life.” PLoS biology 10, no. 5 (2012): e1001323.

(7)   Vasas, Vera, et al. “Primordial evolvability: Impasses and challenges.” Journal of theoretical biology 381 (2015): 29-38.

(8)   Richert, Clemens. “Prebiotic chemistry and human intervention.” Nature communications 9, no. 1 (2018): 5177.

(9)   Vasas, Vera, et. al. “Lack of evolvability in self-sustaining autocatalytic networks constraints metabolism-first scenarios for the origin of life.” Proceedings of the National Academy of Sciences 107, no. 4 (2010): 1470-1475.

(10)  de Wit, Maarten J., and Harald Furnes. “3.5-Ga hydrothermal fields and diamictites in the Barberton Greenstone Belt—Paleoarchean crust in cold environments.” Science advances 2, no. 2 (2016): e1500368.

(11)  Francis, Darwin. “The life and letters of Charles Darwin, including an autobiographical chapter.” Ed. Francis Darwin 3 (1887): 3.

(12)  Chan, Queenie HS, et al. “Organic matter in extraterrestrial water-bearing salt crystals.” Science advances 4, no. 1 (2018): eaao3521.

(13)  Yang, Dayong, et al. “Enhanced transcription and translation in clay hydrogel and implications for early life evolution.” Scientific reports 3 (2013): 3165.

(14)  Markus A Kellar, et al. 2014; Non enzymatic glycolysis and pentose phosphate pathway like reactions in Archean Ocean . Mol.Sys. Biol 2014,10:725

(15)  Miller, Stanley L. “A production of amino acids under possible primitive earth conditions.” Science 117, no. 3046 (1953): 528-529.

 

دسمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau