مسالک کے درمیان اتحاد

شوکت عبد القادر

مسلمانوں کے مابین مختلف انداز کی فرقہ بندیاں، گروہ بندیاں اور اختلافات ہیں ۔ ان میں مسالک کااختلاف نمایاں ہے۔ ان کے انتشار و تفرقے کاانداز اس بات سے بہ خوبی لگایاجاسکتا ہے کہ انھوںنے مساجد کو اپنے فرقے کی طرف منسوب کررکھا ہے اور ان میںدیگر فرقوں کے افراد کو پسند نہیں کیاجاتا۔ ضروری ہے کہ جہاں آگ لگے وہاں پانی ڈالنے والے کچھ لوگ بھی موجود رہیں، اگر وہ کوتاہی اور تساہل برتتے ہیں تو آگ پوری بستی کو اپنا لقمہ بنالے گی۔ اس طرح موجودہ صورت حال میں ارباب حل و عقد، ملی قائدین، سماجی ذمہ دار، اہل علم ودانش، علمائ و مشائخ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کے اسباب وعوامل کو سمجھ کر اس کے انسداد کی تدابیر اختیار کریں اور ان کے تدارک کی طرف متوجہ ہوں۔

قرآن و سنت میں اتحاد و اتفاق کی تعلیم

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ﴿آل عمران:١۰۳﴾

’’’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘’’’

مسلمانوں کو یاد دلایاگیاکہ ایمان کے بعد سب سے عظیم نعمت، اخوت و محبت کی نعمت ہے جس کاحصول دنیا کی ساری دولت کے انفاق کے بعدبھی ناممکن تھا:

وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ اِذْ کُنتُمْ أَعْدَآئ فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہٰ  اِخْوَاناً  ﴿آ ل عمران:١۰۳﴾

’’’’اور اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیاہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمھارے دل جوڑدیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔‘’’’

دوسری جگہ ارشاد ہے:

لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً مَّآ أَلَّفَتْ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ وَلٰ کِنَّ اللّٰہَ أَلَّفَ بَیْْنَہُمْ  ﴿انفال:۴۳﴾

’’’’اے نبی! اگر آپ زمین کی ساری دولت خرچ کرڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جڑتے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان کے دل باہم جوڑدیے‘’’’

اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اوران کے علمائ اور مشائخ کے اختلافات اور کردار کے پیش نظر مسلمانوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ وہ دین میں اختلاف و تفرقہ نہ کریں ۔ ارشاد ہے:

وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآئ ہُمُ الْبَیِّنَاتُ   ﴿آل عمران:١۰۵﴾

’’’’تم ان لوگو ں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی اورواضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔‘’’’

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْئ ٍ ﴿انعام:١۴۰﴾

’’’’بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور فرقہ فرقہ ہوگئے ان سے تمھارا کوئی سروکار نہیں۔‘’’’

اللہ کے رسول نے بھی اتحاد و اتفاق پر زور دیاہے۔ آپﷺ  نے فرمایا:

علیکم بالجماعۃ وایاکم والفرقۃ ﴿ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجائ فی لزوم الجماعۃ حدیث نمبر :۲١۴۵﴾

’’’’جماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہو اور انتشار سے پوری طرح الگ رہو۔‘’’’

جماعتی زندگی سے علاحدگی اختیار کرنا اسلام سے دور ہوجانے کے مترادف ہے، ارشاد ہے:

من فارق الجماعۃ قید شبر فقد خلع ربقۃ الاسلام من عنقہ  ﴿ابودائود، کتاب السنۃ، باب فی الخوارج﴾

’’جو شخص اجتماعیت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا کوئی شک نہیںکہ اس نے اسلام کاقلادہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔‘‘

دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

من خرج الطاعۃ وفارق الجماعۃ فمات میتۃ جاہلیۃ ﴿صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین، حدیث نمبر:١۸۴۸﴾

’’جو کوئی امام کی اطاعت سے کنارہ کشی اختیار کرے گا اور جماعت مسلمان سے الگ ہورہے گا اور اسی حال میں مرجائے گا اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘

امام نوویؒ اس طرح کی حدیثوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ھذہ الأحادیث فی الحث علی السمع واطاعۃ فی جمیع الأحوال و سببہا اجتماع کلمۃ المسلمین فان الخلاف سبب لفساد أحوالہم فی دیہنم ودنیاہم ﴿صحیح مسلم لشرح النووی ج:۴،ص:۵۲۲﴾

’’یہ حدیث اس امر کی تاکید کے بارے میں وارد ہوئی ہے کہ اولوالامر کے احکام ہر حال میں سنے اور مانے جائیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کااتحاد برقراررہے کیوں کہ اختلاف ان کے لیے دینی اور دنیوی دونوں قسم کی خرابی احوال کاموجب ہے۔‘’

اسلام نے عباداتمیں بھی اجتماعیت و اتحاد کی روح کو سمویاہے۔ کوئی بھی عبادت اجتماعیت و وحدت سے بے نیاز ہوکر کماحقہ ادا نہیں ہوسکتی۔نماز،روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ میں اجتماعیت کی روح کارفرماہے۔

اختلاف و انتشار کی مذمت

اللہ تعالیٰ اختلاف کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ     ﴿انفال:۴٦﴾

’’اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تم پسپا ہوجائوگے اور تمھاری ہوا اکھڑجائے گی۔‘’

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اختلاف و تشتت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ارشاد ہے:

من اراد أن یفرق أمر ہذہ الأمۃ وہی جمیع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان                ﴿صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب حکم من فرق امرالمسلمین﴾

’’جو شخص اس امت کو جب کہ وہ متحد ہو منتشر کرنا چاہے تواسے تلوار پر رکھ لو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔‘’

دوسری حدیث میں ہے آپﷺ  نے فرمایا:

لایحل لثلاثۃ یکونون بفلاۃ من الأرض الاامرو علیہم احدھم  ﴿نیل الأوطار، ج:۹،ص:۷۵۱﴾

’’ایسے تین آدمیوں کے لیے جو کسی بیابان میں ہوں جائز صرف یہ بات ہے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو اپنا امیر بناکر رہیں۔‘’

مدت سفرجیساعارضی اور موقت وقت بھی بغیر نظم و ضبط کے گزارنا روحِ اسلام کے منافی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپﷺ  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس طرزِ عمل کو ناپسند کیا، جس پر وہ پڑائو ڈالتے وقت عمل کیاکرتے تھے۔ وہ یہ ہے کہ آرام کے لیے اپنی پسند سے مختلف جگہیں انتخاب کرلیتے تھے۔ اس تفرقے کو دیکھ کر آپﷺ  نے سرزنش کرتے ہوئے فرمایا:

ان تفرقکم فی ہذہ الشعاب والأودیۃ انما ذلکم من الشیطان

﴿ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب مایؤمر من انضمام العسکر﴾

’’تمہارا اس طرح مختلف کھائیوں میں منتشر ہورہنا صرف شیطان کی وجہ سے ہے۔‘’

معلوم ہواکہ پورا سفر تو درکنار دوران سفر ہلکی سی جدائی جس کو وہ گوارا نہیں کرتا اور اس کو شیطان کی پیروی گردانتا ہے۔علامہ شوکانیؒ ان حدیثوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے:

’’یہ حدیثیں اس بات کی دلیل ہیں کہ جہاں کہیں بھی تین یا تین سے زائد مسلمان ہوں ان کے لیے حکم شریعت یہ ہے کہ وہ اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا امیر منتخب کرلیں۔ کیونکہ اِسی طرح باہمی اختلافات سے محفوظ رہاجاسکتا ہے۔ اگر تین افراد کے لیے جو کسی جنگل میںہوں یا ایک ساتھ سفر کررہے ہوں، حکم شریعت یہ ہے تو اس سے بڑی تعداد کے مسلمانوں کے لیے جو کسی گائوں یا شہر میںایک ساتھ رہتے ہوں یہ بدرجہ اولیٰ مشروع ہوگا۔‘’      ﴿نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار، محمد بن علی ابن محمد الشوکانی ج:۹، ص:١۵۷﴾

قرون اولیٰ میں مذکورہ تعلیمات کی پاسداری کی مثالیں

اختلاف انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اسی لیے ایک حد اور دائرے کے اندر اختلاف امت کے لیے رحمت کامظہرہے۔ انسانی زندگی کادائرہ ایسا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے امت پر رحمت کے پیش نظر سکوت اختیار فرمایاہے اور تفصیلی ہدایات نہیں دی ہیں۔ اس دائرے میں صحابہ کرام اور تابعین کے درمیان جزوی و فروعی احکام ومسائل میں باہم اختلاف ہوئے ۔ ایک نے دوسرے کی رائے و اجتہاد کے مقابلے میں دلائل و براہین سے اپنے موقف کی حقانیت ثابت کی اور اپنی رائے و اجتہاد کااحسن طریقے سے دفاع بھی کیا۔ حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعے وہ اپنے رب کی طرف دعوت بھی دیتے رہے لیکن جزئیات میں ان کا یہ اختلاف ان کے درمیان نفرت وعداوت کاسبب نہ بنا اور نہ کبھی یہ سناگیاکہ ان میں سے کسی نے دوسرے کو بدنیت کہا ہو یا اس پر کوئی بہتان لگایاہو نہ انھوںنے اپنی اختلافی رایوں اور اجتہادات کو اسامیات ایمان اور اصول شریعت کادرجہ دیااور نہ اپنی اجتہادی رائے سے اختلاف کرنے والوں کو کافر یا گنہگار قرار دیا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ دین کے کس دائرے میں اختلاف فتنہ ہے اور کس دائرے میں یہ ایک ضرورت، وسعت اور رحمت ہے۔ انھوںنے امت کی وحدت، عزت، سربلندی اور فتنوں کے سدباب کے لیے حضورﷺ  کی سنت اور طریقے کو پوری قوت کے ساتھ پکڑ رکھاتھا۔ جس کی وجہ سے انھیں اس دنیا میں بھی قوت، عزت اور سربلندی حاصل تھی۔ بعض فروعی امور میں رضاکارانہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان امور اور دائروں میں اللہ نے اس امت کے لیے آسانی اور وسعت کا فیصلہ کیاہے۔ امت پر اللہ کی طرف سے آسانی اس کی رحمت کی دلیل ہے۔ صحابہ کرام کے اختلافات نے اجتہادی و فروعی مسائل میں اخلاف کے حدود بھی ہم پر واضح کیے ہیں کہ وہ اختلاف کے باوجود باہم محبت کرنے والے بھائی کی طرح رہتے تھے۔ اختلافات کو گوارا کرنے اور انھیں تنازعے اور تفرقے کی بنیاد نہ بنانے کا سبق ہمیں صحابہ کرام کے بعد کے ائمہ و علمائ کے رویے سے بھی ملتاہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اسلاف کی رواداری سے متعلق جو مثالیں بیان کی ہیں وہ ہمارے لیے نمونہ عمل اور مشعل راہ ہیں۔ مثال کے طورپرچند باتیں پیش کی جاتی ہیں :

’’بعض علماقرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھتے تھے، بعض نہیں پڑھتے تھے، کچھ لوگ زور سے پڑھتے تھے، کچھ آہستہ سے۔ بعض لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ بعض نہیں پڑھتے تھے۔ ایک جماعت قے کرنے، پچھنا لگوانے یا نکسیر پھوٹنے کے بعد تجدید وضو کو ضروری خیال کرتی تھی تو دوسری جماعت مطلقاً ضرورت نہیں سمجھتی تھی۔ کچھ شرم گاہ کے چھودینے یا عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگادینے کو مناقص وضو سمجھتے تھے تو کچھ کاطریقہ کار اس سے مختلف تھا۔ بعض لوگ آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد ازسرنو وضو کو ضروری خیال کرتے تھے تو بعض اس کے برخلاف۔ کسی کے نزدیک اونٹ کا گوشت مناقص وضو تھا تو دیگر کے نزدیک نہیں تھا۔

﴿ججتہ اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ١۳۷۴ھ، کتاب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۱/١۵۹﴾

خلیفہ ہارون رشید نے فصد کھلوانے کے بعد تجدید وضو کے بغیر نماز پڑھائی۔ امام ابویوسف نے ان کے پیچھے نماز پڑھی اور بعد میں اسے دہرایا نہیں۔ ﴿حالاں کہ ان کے نزدیک فصد ناقص وضو ہے﴾ ﴿ایضاً﴾

امام احمدبن حنبل رعاف ﴿نکسیرپھوٹنا﴾ اور حجامت کو ناقص وضو کہتے تھے لیکن جب ان سے پوچھاگیاکہ آپ اس امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے جس نے خون نکل جانے کے بعد نیا وضو نہ کیا ہو؟ تو انھوںنے جواب دیاکہ میں امام مالک اور سعید بن سیب کے پیچھے نماز نہ پڑھوں ﴿ان دونوں کے نزدیک نکسیر پھوٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا﴾ ﴿ایضاً﴾

امام شافعی نے امام ابوحنیفہ کے مقبرے کے قریب فجر کی نماز پڑھی اور انھوں نے قنوت نہیں پڑھا۔ وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا: امام ابوحنیفہ کاادب مانع تھااور مزید فرمایا: ربما انحد رنا الی مذہب اہل العراق یعنی کبھی کبھی اہل عراق کے مسلک پر بھی عمل کرلیتے ہیں۔ ﴿امام اعظم کے نزدیک فجر میں دعائے قنوت نہیں ہے﴾ ﴿ایضاً﴾

خلیفہ ہارون رشید نے جب امام مالک سے مشورہ طلب کیاکہ مؤطا کعبہ میں لٹکادی جائے اور لوگوں کو اس پر عمل کے لیے آمادہ کیاجائے تو انھوں نے اس سے منع کیا اور کہاکہ صحابہ کرام فروعی معاملات میں اختلاف کرتے تھے اور اب وہ ﴿مدینے سے نکل کر﴾ مختلف شہروں میں آباد ہوئے برسوں گزرچکے ہیں اور وہ لوگ اجتہادی و فروعی امور میں اپنے اپنے علم و اجتہاد پر عمل کررہے ہیں، ایسے امور میں سب کو اپنے علم و اجتہاد پر عمل کی آزادی کا حاصل رہنا ہی منشائے الٰہی ہے۔ ﴿ایضاً، ص:١۴۵﴾

امام ابویوسف کے متعلق البزازیہ میں ہے کہ انھوںنے جمعے کے دن حمام میں غسل کیا اور لوگوں کی امامت کی نماز کے بعد لوگ ادھر ادھر منتشر ہوگئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ حمام کے کنویں میں چوہا مرا ہواموجود ہے تو امام موصوف نے یہ سن کر فرمایا: تو پھر ہم اس وقت مدنی بھائیوں ﴿مالکیوں﴾ کے مسلک پر عمل کرتے ہیں کہ جب پانی کی مقدار دوقلہ ہوتو وہ نجس نہیں ہوتا۔ ﴿ایضاً، ص:١۵۹﴾

فروعی امور میںاختلاف امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمدبن حنبل، امام ثوری اور امام اوزاعی رحتہم اللہ کے زمانوں میں بھی موجود تھا، لیکن ان جزوی اختلافات میں نہ تو ان کو کسی قسم کاکوئی شر نظرآیا اور نہ ان میں سے کسی نے یہ کوشش کی کہ دوسرے بھی ان کی اجتہادی رائے کو لازماً قبول کرلیں۔ انھوں نے اپنی اجتہادی رائے سے اختلاف کرنے والوں کے علم اور دین میں کوئی عیب نہیں نکالا نہ کسی پر تہمت لگائی۔ بل کہ اس کے برعکس ان قابل قدر ائمہ نے اجتہادی و فروعی امور میں باہمی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کی اتنی بلند اور اعلیٰ مثال قائم کی جو ساری امت کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔

اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کیا کیاجائے؟

اب یہ سوال خود بہ خود ذہن میں ابھرتا ہے کہ موجودہ حالات میں اتحاد امت کاخواب کس طرح شرمندۂ تعبیر ہوسکتاہے؟ اس سلسلے میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اگر مندرجہ ذیل امکانات کو عملی جامہ پہنایاجائے تو امت باہم شیر و شکر اور متحد ہوسکتی ہے اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت مل سکتی ہے۔

متفق علیہ امور میں باہمی تعاون

آج امت کی حالت پر نظرڈالیے تو عقیدے کی کمزوری، دین و شریعت سے دوری، بداخلاقی، بے راہ روی، دعوت دین سے غفلت، رشوت ستانی اور محرمات کا ارتکاب، عورتوں کی بے پردگی اور عریانی عام ہے۔ یہ وہ امور ہیں جن کی اصلاح و درستی میں کسی کااختلاف نہیں۔ آج ازحد ضروری ہے مسلمان متحد ہوکر اپنی کوششوں اور کاوشوں کو ان امور پر مرکوز کردیں۔

اختلافات کاتحمل اور رواداری و عدم تشدد کامظاہرہ

جہاں متفق علیہ امور میں باہمی تعاون واجب ہے، وہیں مختلف فیہ امور میں باہمی نرمی اور درگزر بھی ضروری ہے۔ اجتہاد میں صحیح اور غلط کا امکان بہرحال رہتاہے اور کسی بھی رائے کو حتمی، یقینی اور حرف آخر تسلیم نہیں کیاجاسکتا ہے۔ایک ہی بات کو کئی نقطہ نظر سے دیکھاجاسکتا ہے یعنی حق و صواب مختلف اور متعدد ہوسکتے ہیں۔ مسلک و مشرب کو بنیاد بناکر اختلاف میں شدت کا رویہ اختیارکرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقے اور مسلک سے بالاترہوکر اختلافات کو غیرجانب دارانہ انگیزکیاجائے اور عدم تشدد کامظاہرہ کیاجائے۔

دینی و ملی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح

اختلاف کابنیادی سبب خودپسندی اور خواہش نفس کا اتباع ہے۔ بارگاہ ایزدی میں وہی عمل مقبول اورباوزن ہے جو اخلاص وللہیت کے ساتھ انجام پائے۔ نہایت افسوس کامقام ہے کہ آج مختلف مکاتب فکر جماعتوں اداروں اور ان سے متعلق شعبوں کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان میں اکثر ذاتی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ان کو اسلام کا نام دیاجاتاہے۔ اگر دینی وملی مفاد عزیزہوتو انسان بڑی سے بڑی قربانی دینے میں بھی تامل نہیںکرے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذاتی غرض سے اٹھ کر دین کی خاطر ہر اختلاف کو پس پشت ڈالنے والے بنیں۔ تب ہی اختلاف کی خلیج کوپاٹنے میں کام یابی مل سکتی ہے۔

الزام تراشی سے اجتناب

مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور وحدت کو توڑنے میں الزام تراشی اور باہمی تکفیر نے بنیادی کردار ادا کیاہے۔ اسوہ نبوی سے معلوم ہوتاہے کہ آپﷺ  نے تاکید کے ساتھ اس سے منع کیاتھا۔ چناںچہ حضرت عبداللہ ابن عمر مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا قال الرجل لأخیہ یا کافر فقد بائ بہ أحد ھما ﴿صحیح بخاری، کتاب الادب، باب من اکفر أخاہ بغیر تاویل فہو کما قال﴾

’’اگر کسی شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو اے کافر کہاتو ان دونوں میں کوئی ایک کافر ہوا۔‘’ ﴿یعنی پس جس کو کافر کہا اگر وہ کافر نہیں ہے تو کافر کہنے والے نے کفر کا ارتکاب کیا﴾

ومن رمی مؤمنا بکفر فہو کقتلہ ﴿صحیح بخاری، کتاب الادب، باب من أکفر أخاہ﴾

’’جس کسی نے مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا۔‘’

افسوس کہ آج ذرا ذرا سی بات پر لوگ دوسروں کو اسلام سے خارج کردیتے ہیں۔ صحابہ و سلف نے خوارج جیسے گم راہ فرقے کو کافر نہیں کہاتو کسی کے لیے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے گروہ کو کافر کہے جو کلمہ لاالہ الااللہ کا اقرار کرتاہو۔ صحابہ کرام جنگ جمل اور صفین میں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے،اس کے باوجود انھوںنے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی۔ اس قتال کی وجہ سے وہ مذموم گروہ بندی کاشکار نہیں ہوئے۔ نہ انھوںنے اپنی مسجدیں الگ الگ بنائیں نہ ایک دوسرے کو کافر اور ضال ومضل کہا۔ لیکن اللہ، رسول، صحابہ اور سلف کی محبت واطاعت کا دعویٰ کرنے والے آج جادہ مستقیم کو چھوڑکر باہم دست و گریباں ہیں اور مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور اپنی اپنی مسجدیں بنالی ہیں۔

حسن ظن سے کام لیں

حسن ظن متحد و متفق رکھنے میں نہایت ہی موثر و معاون عنصر ہے۔ سو ئ ظن سے اللہ تعالیٰ نے یوں خبردار کیاہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ﴿حجرات:١۲﴾

’’اے ایمان والو! زیادہ گمان کرنے سے بچو ۔ حقیقت میں بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔‘’

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایاکم والظن اکذب الحدیث ﴿صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب یاایھاالذین اٰمنوا اجتنبو کثیرا﴾

’’بدگمانی سے بچو اس لیے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔‘’

معلوم ہواکہ مومن کو دوسرے کے ظاہری عمل کو دیکھ کر بدگمان نہیں ہوجانا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو اس کو خیر پر محمول کرے۔ بڑا تعجب ہوتاہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے نام لیوا اور دعوت کافریضہ انجام دینے والے اس برائی میںمبتلا ہیں۔

جدال احسن

اتحاد ناممکن ہو اور اختلاف ناگزیر ہو تو اس کے آداب میں سے یہ ہے کہ جدال احسن پر عمل کیاجائے۔ اس کااشارہ قرآن کریم کی اس آیت سے ملتاہے ۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

ادْعُ اِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ ﴿نحل:١۲۵﴾

’’اے اپنے رب کی طرف دعوت و حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث وگفتگو کرواحسن طریقے سے۔‘’

اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ جدال احسن کاحکم دیاہے:

وَلَا تُجَادِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ ﴿عنکبوت:۴٦ ﴾

’’اہل کتاب کے ساتھ بحث ومباحثہ اس طریقے پر کروجو احسن اور بہترین ہو۔‘’

اہل کتاب کے ساتھ جدال احسن اور بحث ومباحثے کی تعلیم دی گئی تو اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ایک مسلمان ور عفوو درگزر کا کیسامظاہرہ کرناچاہیے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس پر انبیائ ورسل اور سلف صالحیکو دوسرے مسلمان بھائی کے ساتھ باہمی اختلافی امور میں بحث ومباحثے کے وقت نرمی، فیاضی ان نے عمل کا نمونہ چھوڑا ہے۔

اگرمتذکرہ بالا رہنما اصولوں پر عمل کیاجائے تو امت اتحاد و اجتماعیت سے ہم کنار ہوسکتی ہے اور اس کے درمیان پائے جانے والے اختلاف و انتشار کو کم سے کم کیاجاسکتا ہے۔

جولائی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau