نقد و تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

آسماں ایسے ایسے

مصنف: جناب فاخر  جلال پوری

صفحات:  ۱۷۶    ٭ قیمت : ۔/۱۵۰روپے

ناشر:   ڈاکٹرآفاق فاخری ، محلہ قاضی پورہ، جلال پور ضلع امبیڈکر نگر ﴿یوپی﴾

جناب فاخر  جلال پوری ایک کہنہ مشق وبزرگ شاعر بھی ہیں اور خوش ذوق ومشّاق ادیب بھی۔انھیںاس وقت اُستادِ سخن کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوکر ارباب نقد و نظر سے دادو تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ زیر نظرکتاب ’آسماں ایسے ایسے‘ اُن کے اڑتیس﴿۳۸﴾ وفیاتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں ان مرحوم شعرا، ادبا، علما اور سماج کے دوسرے لوگوں کے سانحۂ ارتحال پر ان کے تاثرات ہیں، جن سے ان کی زندگی میں کسی نہ کسی درجے میں ان کے مراسم رہے ہیں اور وہ ان کی علمی ، ادبی اور سماجی حیثیت سے متاثر بھی رہے ہیں۔ ان میں فاخر صاحب کے بہ قول کچھ شخصیتیں ایسی بھی ہیں، جن سے ان کی ملاقاتیں تو بس دوچار ہی رہی ہیں، لیکن انھوں نے ان کے دل پر اپنی شخصیت کے جو نقوش چھوڑے ہیں، وہ انھیں کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ان میں علما میں مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی، مولانا عبدالحلیم جون پوری، مولانا عبدالعزیز مبارک پوری، مولانا عزیزالحق کوثر ندوی، مفتی شریف الحق، مولاناضیائ الدین اصلاحی، اور قاری احمد ضیائ ازہری، شعرا و ادبا میں حضرت عارف عباسی، نازش پرتاب گڑھی، آسی رام نگری، نذیر بنارسی، وامق جون پوری، کیفی اعظمی، عمر انصاری، علامہ ابوالمجاہدزاہد ، فضا ابن فیضی، اقبال عظیم، ساغر خیامی اور ناقدوں اور دانش وروں میں پروفیسر عبدالمغنی، مرزا جاوید مرتضیٰ،پروفیسر مجتبیٰ حسین، سبط محمد نقوی، نذیر الحسن انصاری، حیات اللہ انصاری اور محمد امین انصاری خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

یہ وہ شخصیتیں ہیں جنھوں نے علمی ،ادبی، مذہبی اور سماجی دنیا میں اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور علم وادب کے حوالے سے انھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے یا کیا ہے اس کااپنا ایک مقام ہے۔علامہ ابوالمجاہد زاہد  کے یہ دو شعر زبان زد خاص وعام ہوچکے ہیں

دھوپ کے ماروں کوجس کی چھاؤں میں راحت ملے

ریگ زارِ زندگی میں وہ شجر ہوجائیے

لوگ چن لیں جس کی تحریریں حوالوں کے لیے

زندگی کی وہ کتاب معتبر ہوجائیے

جناب فاخر نے جس عالم، ادیب، شاعر یا فن کار پر بھی لکھا ہے، اُنھوں نے اس کی علمی، ادبی اور دانش ورانہ شخصیت کو بالکل سامنے کھڑا کردیا ہے۔ قاری کچھ دیر کے لیے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس رجل عظیم سے ملاقات کا شرف حاصل رہا ہوتا۔ بلاشبہ اس کتاب کو وفیاتی ادب میں ایک اضافہ قرار دیاجاسکتا ہے۔

جنوری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau