گپتا جی کی عیادت

ایک بار میرا میرٹھ شہر جانا ہوا۔ وہاں ہمارے ایک عزیز گپتا جی بھی رہتے تھے۔ وہ کافی دنوں سے علیل تھے۔ ان پر فالج کا حملہ ہوگیا تھا۔میں نے سوچا کہ میرٹھ آنا ہوا ہے تو گپتا جی سے مل کر ان کی عیادت بھی کرلی جائے۔ چناں چہ میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ مجھے اس طرح اچانک اپنے گھر دیکھ کر گپتا جی کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔  مجھے فوراً اندر کمرے میں لے گئے اور بچوں سے کہا کہ ان کی تواضع کے لیے چائے ناشتے کا انتظام کرو۔ گپتا جی کی زبان پر فالج کا خاصا اثر تھا اس لیے انھوں نے بچوں سے جو کچھ کہا اور کہنا چاہا ان کے بچے سمجھ نہ سکے اور انھوں نے وضاحتی سوال کیا۔ گپتا جی نے پھر وہی بات دہرائی۔ چوں کہ ان کی زبان میں لڑکھڑاہٹ تھی اور بات بھی واضح نہ تھی اس لیے بچے پھر وہ بات نہ سمجھ سکے۔ گپتاجی نے قدرے غصے اور جھنجھلاہٹ میں پھر وہی بات دہرائی۔ ایک لمحے کے لیے ماحول کچھ ناخوش گوار سا ہوگیا۔ چوں کہ میں سامنے موجود تھا اس لیے ان کے بچوں نے تحمل سے کام لیا اور خاموش ہوگئے۔ البتہ وہ سمجھ گئے کہ میری تواضع کی بات ہورہی ہے۔

حقیقت میں گپتا جی اور ان کی بیوی بچے دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صحیح تھے۔ فالج کے مریض اور گھر والوں کے درمیان بات نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ناخوش گوار ماحول پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ بہرحال پرتکلف ناشتہ میرے سامنے لایا گیا۔ چائے ناشتے کے دوران مجھے خیال ہوا کہ گپتاجی کی اس بیماری کی وجہ سے گھر کے لوگ اکثر ان کی بات سمجھنے سے قاصر رہتے ہوں گے اور اس طرح کی ناخوش گوار صورتِ حال پیدا ہوتی رہتی ہوگی۔ میری موجودگی کی وجہ سے تو گھر والوں نے گپتا جی کو کوئی تلخ جواب نہیں دیا ہے، لیکن ممکن ہے کہ ان کی باتوں سے پریشان ہوکر گھر کے لوگ ان پر جھنجھلاہٹ اور تلخی کا اظہار کرتے ہوں۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے گپتا جی کی اہلیہ سے کہا کہ ناشتے کے بعد میں مغرب کی نماز پڑھوں گا۔ اس لیے صاف ستھری چادر کا انتظام کردیں۔ نماز کے بعد میری خواہش ہے کہ گھر کے سب لوگوں کو آپ یہاں جمع کردیں۔ میں ان سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔

نماز ادا کرنے کے بعد میں پھر گپتا جی کے کمرے میں آگیا اور میری خواہش کے مطابق گھر کے سبھی لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ وہ سب تجسس میں تھے کہ نہ جانے میں ان سے کیا بات کرنے والا ہوں۔

سب سے پہلے میں نے گپتا جی کی علالت پراظہار افسوس کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ ہم سب کے خالق، مالک اور پروردگار کی کتاب قرآن میں گپتا جی کے بارے میں اور آپ لوگوں کے بارے میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے کچھ باتیں آپ لوگوں کے سامنے رکھ دوں۔

میری اس بات پر ان لوگوں نے بڑی حیرت کے ساتھ پوچھا کہ قرآن میں ہم لوگوں کا تذکرہ ہے؟!

میں نے عرض کیا ہاں! بالکل۔ قرآن تو سارے انسانوں کی ہدایت کے لیے سارے انسانوں کے رب کے پاس سے آئی ہوئی کتاب ہے تو پھر بھلا آپ لوگوں کو اس میں کیوں نظر انداز کیا جائے گا۔ اس کے بعد میں نے قرآن کی سورہ بنی اسرائیل کی چند آیات ’’وَقَضیٰ رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا…‘‘ سے تلاوت کیں اور پھر ان کا تشریحی ترجمہ تقریری انداز میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے اور آپ کے پروردگار کا یہ فیصلہ اور حکم ہے کہ اس کے ساتھ نہ تو کسی کو شریک کیا جائے اور نہ اس کے سوا کسی کی عبادت و بندگی کی جائے۔ اس حقیقت کو قرآن میں طرح طرح سے واضح کیا گیا ہے اور اس بات کو سمجھانے کے لیے واضح دلائل دیے گئے ہیں۔ خدا کے اس حکم کو ماننے والوں کے لیے کیا کیا انعامات ہیں یہ بات بھی بتائی گئی ہے، ساتھ ہی اس بات سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اس حکم کو نہ ماننے والوں کا آخرت میں کتنا دردناک انجام ہوگا۔

اس ہدایت کے بعد خدا نے اپنے بندوں کو، آپ کو اور ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھے سے اچھا سلوک کیا جائے۔ اور اگر وہ بوڑھے ہوجائیں (یا بیمار ہوجائیں جیسے کہ گپتا جی بیمار ہیں) تو اولاد کا اور گھر والوں کا فرض ہے کہ ان کی کسی بات پر، ان کی کسی جھنجھلاہٹ پر انھیں اُف تک نہ کہا جائے اور نہ انھیں جھڑکا جائے۔ بلکہ دل و جان سے نرمی اور محبت کے ساتھ ان کی خدمت اور اطاعت کی جائے اور اپنے پروردگار خدا سے ان کی بھلائی، رحمت اور سلامتی کی دعا کی جائے اور اس حقیقت کو اپنے سامنے رکھا جائے کہ ایسا کرکے ہم ان پر کوئی احسان نہیں کررہے ہیں، بلکہ الٹے ان کے ہم پر اتنے زیادہ احسانات ہیں جن کا حق ہم ادا نہیں کرسکتے۔ انھوں نے ہمیں ہمارے بچپن میں پالا پوسا اور ہماری پرورش کی ہے۔ اگر ہم اور آپ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں گے تو ہمارا رب آخرت میں ہمیں اس کا بہترین بدلہ دے گا اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں سزا دے گا۔

توحید، آخرت اور والدین کی خدمت (حقوق العباد) پر مختصراً روشنی ڈالنے کے بعد میں نے گپتا جی کے گھر والوں سے، جو کہ میری گفتگو بڑی خاموشی اور دل چسپی سے سن رہے تھے، عرض کیا کہ قرآن میں ہمارے رب نے آپ کو یہ ہدایت دی ہے کہ آپ گپتا جی کی خوب خوب خدمت کریں اور اگر ان کی کوئی بات آپ کو ناگوار ہو تو اسے برداشت کریں اور اس کا اظہار ان پر نہ کریں۔

گپتاجی کے اہلِ خانہ عام ہندوؤں کی طرح شعوری یا غیر شعوری طور پر آواگمن کے عقیدے کے ماننے والے تھے۔ اس لیے میں نے اس حوالے سے بھی ان کے غور و فکر کے لیے کچھ باتیں رکھیں۔ میں نے عرض کیا کہ ’کچھ لوگ‘ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو سکھ، دکھ ہیں وہ ہماری پچھلی زندگی کے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اُن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو شخص بیمار، پریشان اور مصائب کا شکار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے پچھلی زندگی میں برے کام کیے تھے جس کی سزا اسے اس دنیا میں مل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے کئی بار ایسا ہوجاتا ہے کہ بیمار کے گھر والے بیمار کے ساتھ ہم دردی سے پیش آنے کے بجائے اسے اپنی بیماری کا قصور وار سمجھنے لگتے ہیں۔ میں نے ذرا زور دے کر کہا کہ اگر ان لوگوں کی یہ بات درست تسلیم کرلی جائے کہ اس دنیا میں بیمار، پریشان اور دکھی انسان پچھلے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے تو سوچیے کہ بھلا ہمارے ان گپتا جی کی خدمت کون کرے گا؟ پھر تو یہ مجرم ٹھہریں گے۔ آواگمن کے عقیدے کو تسلیم کرنے کے بعد کسی پریشان کی مدد کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا۔ میں نے بات کو آگے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گپتا جی نے پچھلی زندگی میں کوئی برا کام نہیں کیا ہے۔ یہ ان کا پہلا ہی جنم ہے۔ اس لیے آپ لوگ گپتا جی کو مجرم نہ سمجھیں بلکہ اپنے رب کا حکم سمجھ کر ان کی خدمت کریں اور کرتے رہیں۔

میں نے دیکھا کہ وہ سب سنجیدگی اور دل چسپی سے میری باتیں سن رہے تھے۔ ان کے چہروں پر تفکر کی علامات تھیں۔ میں نے آگے عرض کیا کہ آپ لوگوں کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہورہا ہوگا کہ جب دنیا میں سکھ، دکھ پچھلی زندگی کے اعمال کا نتیجہ نہیں ہیں تو پھر اس کا راز کیا ہے؟ اس سوال کا بھی جواب قرآن میں دیا گیا ہے۔ قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ دنیا میں انسان امتحان اور آزمایش کے لیے بھیجا گیا ہے اور اسے سکھ اور دکھ دونوں طرح سے آزمایا جاسکتا ہے۔ جو لوگ اپنے خالق و مالک پر ایمان لائیں گے، اس کے احکام کے مطابق عمل کریں گے اور سکھ اور دکھ ہر حال میں خدا کے احکام پر چلیں گے وہ لوگ مرنے کے بعد آنے والی زندگی میں اس کا انعام پائیں گے۔ اور جو ایسا نہیں کریں گے وہ سزا کے مستحق ہوں گے۔

یہاں گپتا جی کو بیماری میں مبتلا کرکے آزمایا گیا ہے۔ اب اگر یہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، صرف خدا ہی سے مدد مانگیں اور اسی کی بندگی کریں، بیماری میں صبر سے کام لیں تو خدا ان سے راضی ہوگا اور یہ اس کے انعامات کے مستحق ہوں گے۔ اسی طرح آپ لوگ اگر خدا کی بندگی کرتے ہوئے گپتاجی کی دل و جان سے خدمت کریں گے تو آپ لوگوں سے خدا رحمن و رحیم خوش ہوگا اور آپ لوگوں کو بھی آخرت کی زندگی میں اپنے انعامات سے نوازے گا۔ خدا نے ایسے نیک لوگوں کو یہ خوش خبری بھی دی ہے کہ وہ ان کے اہل و عیال کے ساتھ انھیں جنت میں داخل کرے گا۔

میں نے اسلام کے عقیدہ آخرت پر مختصراً چند مثالوں اور دلائل کے ساتھ روشنی ڈالی اوراپنی گفتگو ختم کی۔ اس سے زیادہ گفتگو کا اس وقت موقع بھی نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ میری گفتگو گپتاجی اور ان کے گھر کے سبھی لوگوں نے بڑی سنجیدگی اور یکسوئی سے سنی۔ آخر میں میں نے عرض کیا کہ میری خواہش اور گزارش ہے کہ آپ لوگ قرآن مجید کا ہندی ترجمہ اور اسلامی کتب کا مطالعہ ضرور کریں۔ مجھے امید ہے کہ اس سے آپ لوگوں کے سامنے زندگی کا مقصد واضح ہوگا اور آپ وہ روشنی پاسکیں گے، جس سے آپ کی دنیا اور آخرت منور ہوجائے گی (ان شاء اللہ)۔ ان لوگوں نے مجھ سے یہ چیزیں فراہم کرنے کی درخواست کی اور ان کا مطالعہ کرنے کا یقین دلایا۔

کچھ دیر کے بعد میں نے جانے کی اجازت چاہی۔ گھر کے سبھی لوگ مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آئے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ان کے یہاں بار بار آتا رہوں۔

اللہ کے نبیؐ کا طریقہ تھا کہ جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے تو حسبِ موقع مریض کو نصیحت فرماتے اور حق کا پیغام پہنچانے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ایک بار آپؐ ایک یہودی لڑکے کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس کی صحت یابی کی دعا کی اور اسے حق کی دعوت دی۔ اس لڑکے کے والدین بھی وہاں موجود تھے۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جاننے والوں، چاہے وہ عزیز ہوں یا پڑوسی، کاروباری تعلق ہو یا دفتر اور آفس کا، بیماری اور پریشانی میں ان کے پاس جائیں اور ہر ممکن تعاون کی پیش کش کریں۔ انشاءاللہ اس سے معاشرے میں خوش گوار تبدیلی آئے گی اور اللہ ہم سے راضی ہوگا۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

گپتا جی کی عیادت

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223